359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 6

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

اور وہ ارحم کے بدلتے رویے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ رات کو دیر سے گھر آتا ۔۔ اکثر نشے میں ہوتا ۔۔ کھبی کچھ حسین پل میرال کے نام کرتا اور کھبی ایسے ہی آ کے سو جاتا ۔۔ میرال خاموشی سے ارحم کو دیکھ رہی تھی وہ کچھ نہیں کہہ رہی تھی اور نہ کچھ کہنا چاہتی تھی ۔۔ اسے معلوم تھا وہ سب جو اس نے کہا وہ سب جھوٹ تھا ۔۔ سب دھوکا تھا ۔۔ نئے رشتے نئے احساسات ۔۔ جب پرانے ہونے لگے تو احساسات بھی مر جاتے ہیں ۔۔ وہ بھی خاموشی سے ارحم کے خود کے لئے مرتے احساسات کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ابھی ابھی وہ نشے میں چور گھر میں آتے ہی بیڈ پہ گر سا گیا تھا میرال خاموشی سے ہمیشہ کی طرح اس کے جوتے نکالنے لگی ۔۔ پھر اسے ٹھیک سے لٹا کے اس پہ بلینکیٹ ڈالا ۔۔ اس کے چہرے کو کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔ ایک آنسو کا قطرہ اس کی آنکھ سے پھسلا تھا ۔۔ ارحم عباس اس کی محبت تھی ۔۔ اس کا عشق ۔۔ وہ اس سے کھبی نفرت کر ہی نہیں سکتی تھی بس اس کا دل ٹوٹا تھا چھن سے !!! لیکن کوئی بات نہیں ایک دل ہی تو ہے بس !!!

صبح ارحم کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر اپنے پاس سوتی میرال پہ پڑی ۔۔ وہ اسے دیکھے گیا ۔۔ کچھ بدلا نہیں تھا وہی میرال تھی ۔۔ وہی چہرہ ۔۔ وہی خوبصورت سی میرال ۔۔ تو پھر کیا بدلا تھا ؟ کیوں اتنے دور ہو گئے تھے دونوں ایک دوسرے سے ۔۔ کیوں اتنے فاصلے آ گئے تھے ان کے بیچ ۔۔۔ کہ ایک دوسرے کو مخاطب کرتے بھی وہ بار بار ہچکچاتے تھے ۔۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اس کے چہرے کو چھونے کے لئے پھر کچھ سوچ کے اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔۔ اور اس کے صبیح چہرے کو دیر تک دیکھتا رہا ۔۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھ کے وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔ میرال جو اپنی سانس روکے تھی ایکدم سے آنکھیں کھول کے گہری سانس لی ‘ مان لو ارحم عباس تمہیں مجھ سے دلچسپی نہیں رہی اب ۔۔ تمہارا دل نہیں چاہتا اب مجھے چھونے کو ۔۔ تمہارا دل بدل گیا ہے ۔۔ ‘ ایک اداس مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پہ آن ٹھہری اور دھیرے سے اپنی پلکوں سے وہ آنسو چننے لگی ۔۔

√√√√√√√√√

آج احد کو اپنے ساتھ کشف بوتیک لے کے آئی تھی اور اس کے کو ورکرز سارا کام چھوڑ کے احد کے ساتھ لگے ہوئے تھے ۔۔ ” کشف آئی مست سے یور بوائے از سو ہینڈسم ” الزبتھ کے کہنے پہ وہ مسکرا پڑی جبکہ احد اچانک سے چہکا ” آئی لک لائک مائی پاپا “

” واوووووووووو ” سب نے شور مچا دیا تو کشف جھینپ ہی گئی ۔۔ جبکہ احد منہ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسنے لگا ۔۔ ” احد بیٹا کم ۔۔ کام کرنے دو انھیں ” کشف نے احد کو ٹوکا وہ جلدی سے اپنی ماں کے پاس آیا ” اوکے مام “

” پاپا بھی اتنے اہبیڈینٹ ہے ؟” ارشا پوچھنے لگی تو کشف اسے آنکھیں دکھانے لگی تو ارشا سر جھکا کے اپنا کام کرنے لگی ۔۔ ” مام ایم ہنگری ۔۔ کم آن گیٹ اپ ؟ ” احد اسے اٹھانے لگا تو وہ سب سے اجازت لے کر احد کو لے کے ساتھ والے ریسٹورانٹ میں لے گئی ۔۔ جہاں دونوں لنچ کرنے بیٹھ گئے ۔۔ ساتھ ہی اس کی نظر اسی آدمی پہ پڑی جو کچھ دن پہلے شاپنگ کرتے ہوئے اسے ملا تھا اسے گھبراہٹ کا احساس ہوا لیکن خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔ کچھ دیر بعد دوبارہ اسی طرف دیکھا وہ نہیں تھا ۔۔ اس نے نظریں دوڑائی وہ کہیں نہیں تھا اسے پریشانی لاحق ہو گئی کہ یہ کون ہے اب جو یوں اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔۔ اس نے اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کیا ۔۔ ایسے ہی آسیہ پریشان ہو جاتی ۔۔

ππππππππππ

انٹرنیٹ چیک کرتے میرال کی نظر ایک نیوز پہ ٹھہری ۔۔ ارحم کی منگنی ملک کے معروف بزنس مین چوہدری جاوید کی بیٹی حورین سے متوقع ہے نیکسٹ ویک ۔۔ اس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا وہ پھٹی آنکھوں سے ایک ہی نقطے کو گھورے جارہی تھی ۔۔ اس کا ارحم اب اس کا نہیں رہا تھا وہ کسی اور کا ہونے جا رہا تھا ۔۔ چھن سے کچھ ٹوٹا ۔۔ اس کا مان۔۔ اس کا یقین ۔۔ وہ ساکت بیٹھی رہی ۔۔اس کا دل چاہا وہ روئے ۔۔ چیخ چیخ کے روئے ۔۔ لیکن وہ ساکت بیٹھی رہی یونہی ایک گھنٹے ۔۔ دو گھنٹے ۔۔ ارحم نہیں آیا تھا ۔۔ نہ اس نے آنا تھا شاید !!! وہ اسے چھوڑ چکا تھا ۔۔ اس کا دل بھر چکا تھا ایک ناکارہ چیز کی طرح وہ اسے پھینک چکا تھا وہ منہ کے بل گری تھی اور بہت زور سے گری تھی ۔۔

صبح وہ انہی گلیوں میں گئی جہاں سے ارحم اسے نکال کے اپنی خوبصورت دنیا میں لے کے آیا تھا وہ سیدھی ریحانہ بیگم کے پاس گئی تھی ۔۔ ریحانہ سب سن کے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ” آپو ۔۔ مجھے یہاں نہیں رہنا اگر میں یہاں رہی وہ مجھے طلاق دے دےگا میں اس کے نام کے ساتھ اپنی ساری زندگی گزار دوں گی ۔۔ اس کے سامنے کھبی نہیں جاؤں گی وہ جس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے رہ لیں ۔۔ کر لیں شادی بس مجھ سے اپنا نام نہ چھینے ۔۔ مجھے یہاں سے دور بھیج دیں پلیز آپو ” وہ رو رہی تھی ریحانہ اسے پرسوچ نظروں سے دیکھ رہی تھی ” نیویارک جائے گی تو ؟” میرال اسے حیرت سے دیکھنے لگی ” وہاں میں کس کے پاس جاؤں ؟”

” میری بچی ۔۔ تجھ سے میں بہت پیار کرتی ہوں تو میری اولاد سے بھی بڑھ کے ہیں میرے لئے ۔۔ وہاں میری ایک سہیلی ہے آسیہ ۔۔ اپنی بیٹی کے ساتھ رہتی ہے ۔۔ بہت اچھی انسان ہے ۔۔ تو اسی کے پاس جا ۔۔ تو وہاں سکھ سے رہے گی ۔۔ ” ریحانہ اسے پیار سے سمجھا رہی تھی

” لیکن کیسے ؟” وہ ابھی تک پریشان تھی کہ ادھر کس کے پاس جائے گی ۔۔ کیسے جائے گی

” وہ تو مجھ پہ چھوڑ دے ۔۔ تو چھوڑ دے یہ ملک ۔۔ چھوڑ یہ عشق وشق ۔۔ بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ دیتا یہ ۔۔ مرد ذات پہ کوئی بھروسہ نہیں۔ ۔۔ میں تجھے بھیجوں گی تو بس تیاری کر جانے کی ” ریحانہ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی اتنی محبت پہ میرال کی آنکھوں میں ممنونیت کے آنسو آ گئے تھے۔۔ وہ وہاں سے گھر آئی لیکن ارحم آج رات بھی نہ آیا ۔۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھی لیکن اسے رونا آ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔ اپنی کم مائیگی کا احساس ۔۔ اپنی تذلیل کا احساس اسے رلا رہا تھا وہ صبح تک روتی رہی ۔۔ اور صبح ہوتے ہی وہ یہ جگہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کے چلی گئی ۔۔ ہمیشہ کے لئے اس نے یہ دروازے بند کر دیے ۔۔ ریحانہ نے اسے سمیٹ لیا اپنی بانہوں میں ۔۔ وہ میرال کے لئے کچھ بھی کر سکتی تھی کچھ بھی ۔۔ اس کے سارے پیپرز وہ بنوا رہی تھی وہ جلد سے جلد اسے یہاں سے بھیجنا چاہ رہی تھی جب ایک رات سجاول خان وہاں آیا نشے میں دھت وہ میرال کو بلائے جا رہا تھا تب ریحانہ میرال کو روک کے خود باہر آئی ” کیا ہے ؟” وہ ہنسنے لگا قہقہے لگانے لگا ” بلا اپنی اس طوائف زادی کو “

” اےےےےےےےے زبان کو لگام دیں ” ریحانہ چیخی تھی وہ ہنسنے لگا ” میں نے بولا تھا نا ۔۔ یاد ہے تجھے کہ طوائفیں کسی کی نہیں ہوتی ۔۔ کوئی انھیں نہیں اپناتا ۔۔ بس اپنے استعمال کے لئے امیرزادے انھیں اپنے پاس رکھتے ہیں پھر پھینک دیتے ہیں ۔۔ ارحم عباس نے بھی اسے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا . لے کے آ اسے میرے پاس میں قدر کروں گا اس کی ۔۔ ” ریحانہ نے اسے تھپڑ مار دیا اور اپنے گارڈز کو بلانے لگی ” دھکے دیے کے نکال اس حرامزادے کو ” سجاول خان ہنسے جارہا تھا اور گارڈز نے اسے باہر پھینک دیا ۔۔ لیکن اس کی آوازیں اب بھی میرال کے کانوں میں گونجتی رہی تھی ۔۔ وہ رو رہی تھی ۔۔ بےاواز آنسو اس کی گال پہ پھسل رہے تھے ۔۔ ارحم نے اسے چھوڑ دیا تھا ۔۔ وہ اب اس کی طرف نہیں پلٹے گا ۔۔ میرال اس کے لئے اب ناکارہ شے بن کے رہ گئی ہے یہ احساس اسے خود سے نفرت کرنے پہ مجبور کر رہا تھا

√√√√√√√√√

اور آج وہ جا رہی تھی ہمیشہ کے لئے یہ ملک چھوڑ کے ۔۔ ارحم کوہار کے جا رہی تھی ۔۔ اپنا سب ہار کے جا رہی تھی وہ ۔۔۔ وہ خالی دامن ہی رہی ۔۔ ارحم کو اتنی محبت دے کے ۔۔ اسے کسی بھی شکایت کا موقع دیے بنا بھی وہ ارحم کو ہار گئی ۔۔ وہ ریحانہ کے گلے لگ کے خوب روئی تھی ۔۔ ریحانہ نے بھی اسے پیار کیا ۔۔ ڈھیروں دعائیں دی اور اسے رخصت کر دیا ۔۔ وہ جب نیویارک ائیرپورٹ پہ اتری تو اسے آگے جا کے آسیہ اور سحر نظر آئی ۔۔ آسیہ نے لمبا اریبک ڈریس پہنا تھا اور دوپٹہ سر پہ لیا ہوا تھا جبکہ سحر لانگ شرٹ اور جینز میں تھی اور اپنے سر پہ حجاب لیا تھا ۔۔ وہ خود شرٹ اور ٹائٹ جینز میں تھی ۔۔۔ اسے اپنا آپ عجیب سا لگا ان کی شخصیت کے سامنے ۔۔۔ میرال کو ان سے مل کے بہت اچھا لگا ۔۔ وہ ان کے گھر آئی تو سلیقے سے سجا گھر اسے بہت پسند آیا میرال کے لئے جو کمرا انھوں نے سیٹ کیا تھا وہ بھی بہت خوبصورت تھا میرال کو اس ماں بیٹی سے مل کے بہت اچھا لگا تھا ۔۔ عجیب محبت کا ۔۔ طمانیت کا احساس ہو رہا تھا انھیں ان کے پاس ۔۔

√√√√√√

صبح جب وہ نیند سے جاگی تو تلاوت قرآن پاک نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔ کوئی بہت خوبصورت آواز میں دل سے قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی ۔۔ وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تو لاؤنج میں اسے آسیہ نظر آئی جو تلاوت کر رہی تھی ۔۔ میرال وہیں بیٹھ کے سنتی رہی ۔۔ وہ اتنا کھو گئی تھی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے ۔۔اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی ۔۔ آسیہ نے چونک کے اسے دیکھا وہ سر گھٹنوں میں دیے رو رہی تھی ۔۔ اس نے قرآن مجید بند کی اور اسے آواز دی ” میرال ” وہ روتی رہی ” میرال ” اس نے سر اٹھا کے آسیہ کو دیکھا ” ادھر میرے پاس آؤ “

” نہیں میں بہت گندی ہوں ۔۔ آپ بہت پاک ہے اور مجھ جیسے گندے وجود کو قرآن پاک اپنے پاس آنے کب دے گا ” وہ روتے روتے بولی تھی

” نا میرے بچے نا ۔۔” آسیہ نے محبت سے اسے ٹوکا ” تمہیں پتہ ہے اسلام سے پہلے انسانوں کی حالت بہت خراب تھی ۔۔ وہ ہر گندے سے گندے کام کا مرتکب ہوئے تھے لیکن جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئیں تو آپ نے چند خاص لوگوں کو اسلام کی دعوت نہیں دی تھی بلکہ سب کو دی تھی ۔۔ کسی کو کسی پہ بھی فوقیت نہیں دی سب کے لئے دعوت اسلام ایک جیسا ہی تھا ۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے میری بچی کہ اللہ کہ ہدایت کے دروازے تمام بندوں پہ ایک جیسے ہی کھلے ہیں ۔۔ پھر اللہ جسے چاہے ہدایت دے ۔۔ تم پہ بھی کھلے ہیں توبہ کے دروازے ۔۔ ہدایت کے دروازے ۔۔ یہ قرآن پاک صرف میرے لئے نہیں ہیں یا صرف سحر یا کچھ گنے چنے لوگوں کے لئے ۔۔ نہ میری بچی قرآن پاک سب کے لئے ہیں تمہارے لئے بھی ہیں ۔۔ اللہ کی عبادت میں جو سکون اور کامیابی ہے وہ کہیں نہیں ” وہ کچھ دیر رک کے میرال کو دیکھنے لگی ۔ ” م۔۔میں ناپاک ہوں ۔۔ میرا جسم گندا ہے ۔۔ میں کیسے پاک ہونگی ۔۔ کیسے قابل ہونگی قرآن پاک کو چھونے کے ” وہ پست آواز میں بولی تھی ” تمہارا دل گندا نہیں ہے ۔۔ تمہارا دل پاک ہے کیونکہ وہاں تمہارا رب ہے ۔۔ تمہاری روح پاک ہے کیونکہ تم شرمندہ ہو اپنے گناہوں پہ ۔۔ تمہارا جسم ہی تو گندا ہے نا تو وہ ہر انسان کا ہوتا ہے اور غسل۔اور وضو سے پاک ہو جاتے ہیں ۔۔ ” وہ سمجھا رہی تھی اور میرال سن رہی تھی

” کیسے کرتے ہیں؟ مجھے نہیں آتا ” وہ شرمندہ سی تھی ۔۔ آسیہ اٹھ کے اس کے پاس آئی اس کا ہاتھ تھاما ۔۔ اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا ” میں تمہاری بھی ماں ہوں میرال “۔ میرال انھیں دکھ رہی تھی ” م۔

میں نے کھبی ماں نہیں دیکھی ۔۔ کسی کو ماں نہیں کہا ۔۔ میری ماں تھی ہی نہیں ۔۔ ” اس نے سسکی سی لی ” میں سحر کی طرح تمہاری بھی ماں ہوں ۔۔ “

” ماں ۔۔۔ ماں تو جنم دیتی ہے نا” وہ پوچھ رہی تھی

” ہاں لیکن کھبی کھبی آپ کو اپنی بیٹی سمجھنے والی بھی ماں ہوتی ہے ۔۔ سحر کی طرح مجھے ماں بول دیا کرو ” آسیہ کی اتنی محبت پہ وہ جیسے پگھل سی گئی اس نے اپنی ساری زندگی اس کے سامنے رکھ دی ۔۔ آسیہ نے اسے بانہوں میں بھر لیا اس کو میرال کا دکھ اپنا دکھ لگا ۔۔ میرال کی کہانی بھی آسیہ جیسے ہی تھی ۔۔ وہ بھی تو یہ راستے چھوڑ کے یہاں آ گئی تھی ۔۔ اور پھر اس نے مڑ کے نہیں دیکھا پیچھے ” پتہ ہے میرال تم اور میں ایک جیسے ہی ہے ۔۔ میں بھی انہی گلیوں میں پلی بڑھی ہوں ۔۔ پھر یونہی کسی سی ٹکرا گئی تھی میں ۔۔ شادی ہوئی ۔۔ بیٹی ہوئی اور وہ مجھ سے کھنچا کھنچا رہنے لگا اور میں اپنی بیٹی کو لے کے یہاں آ گئی ۔۔ وہ اب خوش ہوگا اپنی فیملی کے ساتھ اور میں یہاں اپنی بیٹی کے ساتھ خوش ہوں اپنی زندگی میں ” میرال انھیں حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔ آسیہ اپنے آنسو صاف کرتی مسکرا پڑی ” میں تمہیں سکھاؤں گی جیسے میں نے سحر کو سکھایا ۔۔ اگر تم بدلنا چاہو تو اللہ تمہارے ساتھ ہے بیشک “

” میں وہ راستے اور وہ زندگی پیچھے چھوڑ آئی ہوں م۔۔۔م۔۔۔۔مما ” میرال نے کہتے کہتے سر جھکا لیا ” میرال جو بھی کہنا ہو کہہ دیا کرو کھبی سر مت جھکاؤ ۔۔ کھبی اپنے کہے سے مت شرماؤ ۔۔ ” میرال انھیں دیکھے گئی ۔۔ کتنے دکھ تھے ان کے بھی وہ سوچتی رہی گئی بس ۔۔