Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 4
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 4
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
وہ کب سے ایک ڈریس ڈیزائن پیپر پہ اسکیچ کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس سے کچھ بن ہی نہیں رہا تھا ۔۔ کوئی دس پیپرز وہ پھاڑ کے ڈسٹ بن میں پھینک چکی تھی ۔۔ ڈینی کب سے اسے نوٹ کر رہی تھی آخر اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی ” کشف آڑ یو اوکے ڈئیر ؟”
کشف سر پکڑ کے بیٹھ گئی ” نو ۔۔ ایم ناٹ فائن ۔۔ ” ڈینی نے سارے پیپرز اس کے سامنے سے اٹھا لیے کشف چونک کے اسے دیکھ رہی تھی ” جسٹ لیو ڈیم ۔۔ اینڈ ٹرائی ٹو بی ریلیکس ” ڈینی اسے مسکرا کے کہہ رہی تھی کشف بھی اپنا آپ ریلیکس کرتی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔۔ ” ایم فائن ناؤ تھینک یو ڈئیر ” ارشا بھی اسی وقت برگر کے پیکٹس لیے آ گئی ” لنچ ٹائم ایوری ون ” وہ خوش مزاج سی لڑکی تھی ہمیشہ چہکتی رہتی ۔۔ ڈینی الزبتھ کے پاس جا کے بیٹھ گئی جبکہ ارشا کشف کے پاس بیٹھ گئی ” آؤ میری جان من بھوک لگی ہے مجھے بہت ” کشف دھیرے سے ہنس پڑی ۔ اور اپنا برگر کھول کے کھانے بیٹھ گئی ۔۔ ” یہ پیپرز ؟؟” ارشا پیپرز کا ڈھیر دیکھ کے پوچھنے لگی ۔۔ کشف نظریں چرانے لگی ” ڈیزائن نہیں بن پا رہا تھا مجھ سے ۔۔ “
” کیوں؟” وہ بائٹ لیتے پوچھ رہی تھی
” مائنڈ ڈسٹرب ہے ” کشف سر جھکا کے بولی تھی اس کا چہرہ اترا ہوا تھا ” اٹس اوکے ہوتا ہے یار ۔۔ ٹیک آ چھل پھل ” ارشا ایک ادا سے بولی تو کشف بھی مسکرائی تھی ” ایک ٹائم میں بھی تمہارے جیسے ہی تھی ہر بات لائٹلی لیتی اور اب لگتا زندگی رک گئی ہے “
‘ زندگی نہیں رکی تم رک گئی ہو ۔۔ زندگی تو ویسے ہی گزر رہی ہے ۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے تم زندگی کو گزار رہی تھی اب زندگی تمہیں گزار رہی ہے ” کشف اسے چونک کے دیکھنے لگی ۔۔ تو ارشا مسکراتی ہوئی بولی “کلوز یور آئز اینڈ ٹیک آ ڈیپ بریتھ ” کشف چپ رہی ” کم آن ڈو اٹ ” ارشا کے اصرار پہ کشف نے اپنی آنکھیں بند کی اور گہری سانس کھینچی ۔۔ پھر آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگی ” اللہ از وڈ یو کشف ۔۔ سب بہتر ہی ہوگا تمہارے اور احد کے حق میں انشاللہ ” کشف ارشا کو ممنون نظروں سے دیکھنے لگی ” انشا اللہ ” اور اپنا برگر کھانے لگی وہ سب کافی ہلکا خود کو محسوس کر رہی تھی ۔۔
√√√√√√√√√√√√
احد اس کے قریب بیڈ پہ سو چکا تھا ۔۔ کشف کتاب بند کر کے اسے دیکھنے لگی ۔۔ کتنا معصوم لگ رہا تھا وہ سوتے ہوئے ۔۔ اس نے احد کے بالوں میں اپنی انگلیاں نرمی سے پھیری ۔۔ اس کے اوپر بلینکٹ ٹھیک کر کے وہ کتاب سائیڈ پہ رکھ کے اس کے پہلو میں لیٹ گئی ۔۔ اس کے پاس احد ہی تو تھا اس کا سب کچھ ۔۔ وہ سوتے احد کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے معصوم چہرے پہ اسے پیار آ رہا تھا اس نے احد کے ہاتھ کی پشت پہ پیار کیا ۔۔ ” کاش میں تمہیں ملوا سکتی تمہیں تمہارے بیٹے سے ۔۔ تم بھی دیکھتے کہ تمہارا بیٹا تمہاری ہی فوٹو کاپی ہے لیکن ۔۔ ” اس کا دل زور سے دھڑکا تھا ” تمہیں تو شاید میں یاد بھی نہ ہونگی ۔۔ تم اپنی دنیا میں مگن ہوگے اپنی بیوی کے ساتھ ” اس کی آنکھ سے آنسو لکیر کی صورت اس کے گال پہ پھسلے تھے ” کاش ایک بار ہی سہی لیکن تمہیں بھی مجھ سی میرے جیسی ہی محبت ہو پاتی ۔۔ کاش “
” اور تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ” ایک آواز گونجی تھی اس کے ذہن میں ۔۔ اور اس آواز کے آتے ہی اس نے اپنے آنسو صاف کر لیے ” اے میرے پروردگار میں خوش ہوں ۔۔ آپ نے مجھے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اور احد تو آپ کی سب سے بڑی نعمت ہے میرے لئے بیشک ۔۔ مجھے ہمیشہ اپنی شکر گزار بندوں میں سے بنائے رکھنا اور مجھ پہ اپنا رحم فرما دے ” اس دعا کے ساتھ اس نے اپنی آنکھیں موند لیں ۔۔ اور نیند کی وادیوں میں چلی گئی ۔۔
√√√√√√√√√√
ب” تم ایک طوائف ہو میرال ۔۔ خود کو کیا سمجھ رہی ہو تم ۔۔ کوئی شہزادی ؟ ملکہ ؟ ارحم تمہیں استعمال کر کے پھینک دے گا تب میں پوچھوں گا تمہیں ۔۔۔۔ ” ایک زور دار تھپڑ سجاول خان کے منہ پہ پڑا تھا سجاول نے چونک کے دیکھا تو ارحم اسے شعلہ بار نگاہوں سے دیکھ رہا تھا میرال ساکت آنکھوں سے سجاول خان کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں پانی تیر رہا تھا ۔۔ ” آئیے آئیے آپ بھی آئیے ارحم عباس “
” ایک لفظ نہیں ” ارحم نے انگلی اٹھا کے اسے روکا تھا ” میرال کے خلاف اب اپنی گندی لینگویج یوز کی تو زبان کھینچ لوں گا ” سجاول خان ہنسنے لگا ” اس احساس کو کیا نام دوں ۔۔ اتنا ہی حق جتاتے ہو اس طوائف پہ تو نکاح کیوں نہیں کر لیتے اس سے ۔۔ اوہ ہاں طوائف سے کون شادی کرتا ہے ۔۔ اسے تو بس ” ارحم نے اسے گریبان سے پکڑ لیا تھا اور زور سے اس کے منہ پہ مکہ مارا تھا ۔۔ ” انسانیت کی زبان سمجھ نہیں آتی سجاول ۔۔ ” میرال کا وجود جیسے زلزلوں کی زد میں آ گیا تھا وہ طوائف ہی تو تھی ۔۔ مانا کہ ارحم کے علاؤہ کسی نے اسے نہیں دیکھا تھا کسی نے اسے نہیں چھوا تھا لیکن پھر بھی وہ ایک طوائف تھی جسے جب چاہے ارحم پھینک سکتا تھا وہ اسے دھکا دے کے میرال کے پاس آیا تھا ” میں ابھی اور اسی وقت میرال سے نکاح کر رہا ہوں ۔۔ ” میرال کی پھٹی آنکھیں ارحم پہ تھی ” میرال بولو کرو گی مجھ سے نکاح ؟” میرال آنسو بھری آنکھوں سے اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔ سجاول خان اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے آئی ہر چیز کو ٹھوکر مارتا وہاں سے نکل گیا ۔۔ جبکہ وہاں میرال اور ارحم کی نکاح کی تیاریاں ہونے لگی ۔۔ میرال کے گال دہک اٹھے تھے وہ اس وقت خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی تصور کر رہی تھی ۔۔ ارحم اس سے نکاح کر رہا ہے وہ مکمل ہو رہی ہے ۔۔ یہ خیال اسے سرشار کیے جا رہا تھا
نکاح کے بعد میرال ارحم کے ساتھ اس کے فلیٹ پہ آئی تھی ۔۔ وہ بیڈ پہ بیٹھی اپنی انگلیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ کئی بار اس فلیٹ پہ آئی تھی ارحم کے ساتھ ۔۔ لیکن آج اس کے احساسات مختلف تھے ۔۔ پہلے وہ ارحم کی محبوبہ کی حیثیت سے اس کا دل لبھانے کے لئے یہاں آتی تھی اور آج ۔۔۔ آج وہ ارحم کی بیوی کی حیثیت سے وہاں آئی تھی ۔۔ ان کے بیچ اب پاکیزہ رشتہ استوار ہو چکا تھا ۔۔ وہ اب نکاح کے بندھن میں تھے ۔۔ پھر بھی میرال کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو ۔۔ اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔ اس پہ اداسی چھائی ہوئی تھی ۔۔ ارحم اس کے پاس آ کے بیٹھ گیا ” کیا سوچ ہی ہو میرال ؟” وہ سر اٹھا کے خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگی ” کیا بات ہے ؟ اب تو تم میری بیوی بھی بن گئی ہو ” وہ مسکرا کے بولا تھا
” کیا سچ میں تم نے مجھے اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ارحم۔؟” ارحم چونک کے اسے دیکھنے لگا ۔۔ میرال کی آنکھیں اداس تھی ۔۔ اس کے چہرے پہ خوشی کا کوئی تاثر نہیں تھا وہ غمزدہ سی تھی ۔۔ ” نکاح کیا ہے تم سے میرال ۔۔ تین بار قبول ہے بولا ہے تو یہی مطلب ہے نا کہ تمہیں اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول کیا ہے میں نے ” ارحم کی بات پہ وہ مسکرائی تھی ۔۔ اس کی مسکراہٹ بھی اداس تھی ” تم میری بات نہیں سمجھے ارحم ” ارحم اسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہا تھا ” تمہارے گھر والے مجھے ایکسیپٹ کر لیں گے ؟” میرال کا ڈر اس کی زبان پہ آ ہی گیا تھا ارحم نظریں چرانے لگا ” ہاں “
“کب ؟” وہ پوچھ رہی تھی ۔۔ ” ابھی نہیں ۔۔ کچھ دن رک کے بتاؤں گا انھیں ” ارحم اسے ٹال رہا تھا اس کی آنکھوں کا کونہ بھیگا تھا جسے اس نے چھپا لیا تھا ” ہممم” وہ پھر کچھ نہ بولی اسے جواب مل گیا تھا اپنے سوال کا ۔۔ اور کیا پوچھتی وہ ۔۔ ارحم نے اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا تھا اور میرال نے چپ چاپ خود کو اس کے سپرد کر دیا ۔۔ کوئی مزاحمت نہیں۔ کی اس نے ۔۔ جو بھی تھا ارحم سے وہ عشق کرتی تھی ۔۔ بےپناہ عشق اور اب تو وہ اس کا مجازی خدا تھا ۔۔
