359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 1

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

کشف اچانک نیند سے جاگی تھی ۔۔ اس کا چہرہ ۔۔ پورا وجود پسینے سے بھرا ہوا تھا اس کی نظر گھڑی پہ پڑی رات کے دو بج رہے تھے ۔۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔ گھنگھروؤں کا شور اب بھی اس کے کانوں میں تھا ۔۔ اس کی اداؤں کو سراہتی آوازیں ۔۔۔ اس نے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے ” نہیں ۔۔۔ نہیں ” اس کا پورا وجود لرز رہا تھا ۔۔ اس شور سے بچنے کے لئے وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور واشروم جا کے وہ کچھ دیر خود کو آئینے میں دیکھتی رہی ۔۔ وہ کتنا بدل گئی تھی ۔۔ اس میں پہلے جیسا کچھ نہیں بچا تھا ” پھر کیوں یہ آوازیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتی ۔۔ کیوں یہ خواب میرا پیچھا نہیں چھوڑتے ۔۔ کیوں ؟” اس کی آنکھوں سے آنسو قطار کی صورت بہنے لگیں ۔۔ اس نے وضو کیا اور کمرے میں آ کے تہجد کی نماز پڑھنے لگی ۔۔ نماز میں بھی رو رہی تھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھے تو اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگا ” میرے رب ۔۔میرے پروردگار ۔۔۔ اے تمام جہانوں کے پالنے والے ۔۔ میں آپ کی گنہگار ہوں ۔۔ بہت گنہگار ۔۔ میرے گناہوں کو اب تو معاف فرما دے میرے مالک ۔۔ مجھ پہ اپنا رحم فرما دے ۔۔ میرا ماضی میری ذندگی کے سیاہ ورق ہیں میرے پروردگار ۔۔ میں انھیں ہر روز پلٹتے پلٹتے تھک گئی ہوں ۔۔ میں تھک گئی اے میرے رب میری مدد فرما ۔۔ میری بخشش فرما ۔۔ مجھ پہ اپنا رحم فرما ” وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے روتی رہی دیر تک

۔ اللہ کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائے وہ اللہ سے بخشش مانگتی رہی ۔۔ اللہ کی پناہ مانگتی رہی ۔۔

ππππππππππππππππππ

آؤ حضور تم کو ستاروں میں لے چلوں ۔۔

میرال کی پرسوز آواز پہ وہاں بیٹھے سب عش عش کر رہے تھے ۔۔ کمر بلکاتی دوشیزائیں وہاں بیٹھے امیر زادوں کی نظروں کو بہکا رہی تھی ۔۔ میرال کی پرسوز آواز ان کے دل کو لگ رہی تھی اور سب سے بے نیاز اس کی نظریں ارحم عباس پہ تھی جو نشے میں غرق اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ وہاں بیٹھا ہر امیر زادہ یہی چاہتا تھا کہ میرال اسے دیکھے ۔۔ اس کے پاس آئے ۔۔ میرال کا نظر کرم اس پہ پڑے اور میرال کو تو ارحم عباس کے علاؤہ کچھ نظر ہی کہاں آتا تھا وہ جب سے آئی تھی پہلے دن سے اس نے ارحم عباس کو ہی دیکھا تھا اسے ہی سوچا تھا اور اسی کی ہی ہو کے رہ گئی تھی ۔۔ گانے کے اختتام پہ وہ اٹھی اور دھیرے دھیرے ارحم عباس کے پاس آنے لگی ۔۔ اس کے گھنگھروؤں کی چھن چھن کا شور سب کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا لیکن وہ ارحم عباس کے پاس جاکے بیٹھ گئی اور اسے محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگی ۔ ارحم بھی اسے ہی اپنی مخمور نظروں سے دیکھ رہا تھا ” آپ آئے در پہ ہمارے ۔۔ ہمارے تو نصیب ہی جاگ گئے ” میرال اپنے خاص انداز سے اس سے کہہ رہی تھی ۔۔ ” بہت خوبصورت لگ رہی ہو آج میرال ” ارحم عباس اپنی بھاری آواز میں کہتا اس کے دل کے تار چھیڑ رہا تھا وہ ایک ادا سے مسکرائی ” آپ کا نظر کرم ہے سرکار ” ارحم اسے دیکھتا رہا میرال اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ تھام لیا ” آئیے ارحم ۔۔۔ ” وہ بھی لڑکھڑاتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے ساتھ جانے لگا وہاں بیٹھے سارے امیرزادے اپنا دل تھام کے رہ گئے ۔۔ انھیں ارحم کی قسمت پہ رشک ہونے لگا ۔۔

کمرے میں آ کے وہ بیڈ پہ گرا اور میرال کو بھی خود پہ گرا دیا وہ اس کے سینے سے جا لگی اور محبت پاش نظروں سے ارحم کو دیکھے گئی ۔۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے ارحم کے لئے اپنا کمرہ موم بتیوں سے اور خوبصورت پھولوں سے سجایا ہوا تھا ۔۔ ریڈ کلر کی ساڑھی میں ۔۔ ہلکے میک اپ کے ساتھ ریڈ لپ اسٹک لگائے وہ دل موہ لینے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ ارحم عباس اس کے گردن کو اپنے لبوں سے چھونے لگا میرال کا دل جیسے اچھل کے حلق میں ا گیا ۔۔ ارحم کے ہر بار چھونے پہ اس کی یہی کیفیت ہوتی ۔۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ۔۔ اس کی سانسیں بہکنے لگتی ۔۔ اسکا روم روم ارحم کے ہر لمس کو محسوس کرتا ۔۔ اس کا وجود ارحم کی خوشبو سے مہک جاتا۔۔ ابھی بھی وہ ارحم کو خود میں جذب ہوتا محسوس کر رہی تھی ۔۔ وہ اسی کے لئے اتنا سجی تھی ۔۔ سجتی بھی کیوں نا اسے عشق تھا ارحم عباس سے ۔۔ تبھی اس کے ہر لمس پہ وہ بےساختہ اور بھی سمٹتی جا رہی تھی ارحم عباس کے وجود میں ۔۔ اور ارحم میرال کے خوشبو سے بسے نازک سے وجود کو اپنی بے باکیوں کی بارش میں بھگو رہا تھا

√√√√√√√√√√√√√

صبح وہ آئینے کے سامنے بیٹھی مسکراتی لبوں سے اپنے چوڑیوں سے کھیل رہی تھی۔۔ اس کے گیلے بال اس کی پشت پہ تھے ۔۔ بلیک ڈریس میں اس کا گورا رنگ کھل رہا تھا ۔۔ کچھ ارحم کی صحبت کا بھی اثر تھا ۔۔ اس کی بےباکیاں یاد کر کے وہ خود میں مگن مسکرا رہی تھی ۔۔ جب ریحانہ بیگم اندر آئی ” ہائے ہائے بڑی خوش نظر آرہی میری امراؤ جان ادا ” میرال ہنس پڑی ” آپ بھی نا “

” کچھ تو ہے ارحم عباس میں ۔۔ جو ہماری امراؤ جان ادا کے ہونٹوں سے ہنسی گم نہیں ہوتی کھبی ” ریحانہ بیگم کے معنی خیز انداز پہ میرال مسکرا پڑی ” ایک نشہ ہے ۔۔ ایک خمار ہے جو مجھے بے خود کیے رکھتا ہے ” اس کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ تھی ” دھیان رکھ وہ ہے نا سر پھرا سا امیرزادہ سجاول خان ۔۔ وہ بڑا ہنگامہ مچاتا رہتا ہے کہ میرال کو بس ارحم عباس کی دکھتا ہے ۔ ” ریحانہ بیگم سرگوشی میں بولی تو میرال اپنے خاص ادا سے ہنسنے لگی ” جائے صاحب سب سے کہہ دے میرال صرف اپنے ارحم کی ہے ۔۔ ارحم کے علاؤہ وہ کسی کو ہاتھ لگانے نہیں دے گی ۔۔ میرال سر تا پا ارحم عباس کی ہے بس ” ریحانہ بیگم کی وہ لاڈلی تھی تبھی وہ اسکی بلائیں لینے لگی ” جب تک میں ہوں کوئی تیری طرف بری نگاہ بھی ڈال دیں آنکھیں نکال کے ہاتھ میں نہ دے دوں ” میرال اتنی محبت پہ آبدیدہ ہو گئی ” آپ تو میری جانو ہے آپو بی ” اور اٹھ کے اس کے گلے سے لٹک گئی ” ارے ارے بس بس ہوگئی شروع تو ” ریحانہ بیگم خود کو اس سے بچاتی بولی جبکہ میرال اسے چومے جا رہی تھی ۔۔

√√√√√√√√√√√√

گھنگھروؤں کی چھن چھن میں ۔۔ اس کا نازک سا وجود ہر تاپ پہ لہک رہا تھا ۔۔ وہ اپنے رقص کے ذریعے اپنے ہر ادا سے ارحم عباس کے لئے اپنا عشق ظاہر کر رہی تھی ۔۔ وہ عشق جو اسے ارحم سے تھا ۔۔ بنا کسی لالچ کے وہ ارحم کے عشق میں پور پور ڈوبی ہوئی تھی اور ارحم کو اس سے عشق تھا یا نہیں تھا وہ لاعلم تھا ۔۔ شاید کھبی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے عشق ہے کہ نہیں ۔۔ یا عشق کہتے کسے ہیں اسے بس میرال کی قربت میں سکون ملتا تھا ۔۔ میرال رقص چھوڑ کے اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی ۔۔ ارحم اس کے بال سنوارنے لگا ۔ اپنی انگلی کی پور سے اس کے چہرے کو چھونے لگا میرال آنکھیں بند کیے اس کے لمس کو محسوس کر رہی تھی ۔۔ وہ اندر تک سرشار ہو رہی تھی ۔۔ آنکھیں کھول کے اسے دیوانہ وار دیکھنے لگی ” جانتے ہو عشق کیا ہے ارحم عباس ؟” وہ اسے دیکھ رہا تھا ” کیا ہے ؟”

” ارحم عباس ۔۔۔ عشق ارحم عباس ہے میرے لئے” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی مسکرائی تھی ۔۔ وہ اسے اپنی خوبصورت آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔ میرال ہنس پڑی تھی ” اور میرال کو اس ارحم عباس سے عشق ہے ۔۔ ” وہ ارحم کے سینے پہ اپنی انگلی رکھ کے بولی ” انتہائے عشق ” ارحم عباس اسے دیکھے گیا ۔۔ ” اتنا پیار کرتی ہوں مجھ سے میرال کیوں ؟”

” پیار ؟ ” وہ تمسخرانہ انداز میں مسکرائی تھی ” پیار بہت چھوٹا لفظ ہے ارحم عباس ۔۔ بہت حقیر سا ہے میرے احساسات کے لئے ۔۔ میں انتہائے عشق پہ ہوں ” وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے ہر نقش کو وہ ہر دفعہ اپنے انگلیوں سے چھو کے محسوس کرتی ۔۔ ارحم نے آگے بڑھ کے اس کے گلابی لبوں پہ اپنے لب رکھے ۔۔ آنکھیں بند کیے وہ اپنی تشنگی مٹا رہا تھا اور میرال اس کی بانہوں میں مدہوش سی اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتار رہی تھی ۔۔۔