Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 12
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 12
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
دروازے پہ بیل ہوئی تو سحر نے دروازہ کھولا لیکن اپنے سامنے کھڑے شخص کو وہ حیران نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔ ارحم اس کے سامنے کھڑا تھا لیکن جو تصویر کشف نے اسے دکھائی تھی وہ اس سے کافی مختلف تھا ۔۔ ” آ۔۔۔آپ ” وہ اسے جانتی تھی ارحم کو خوشگوار حیرت ہوئی ۔
” کشف ہے ؟” اس کے پوچھنے پہ وہ بےاختیار اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔ کشف نے اسے اتنا کچھ ارحم کے بارے میں بتایا تھا کہ سحر کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا اس سے جھوٹ بولے ۔
” مجھے ملنا ہے اس سے پلیز ” وہ منت بھرے لہجے میں بولا تھا ۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے سحر نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا ۔۔ دروازہ بند کر کے وہ اسے کشف کے کمرے تک لے گئی جہاں سے تلاوت کی آواز آ رہی تھی ۔۔ اس نے سحر کو دیکھا تو اس نے مسکرا کے سر سے اثبات میں ہلایا اور وہاں سے چلی گئی ۔۔ ارحم کچھ دیر اس کی خوبصورت آواز میں تلاوت کو سنتا رہا وہ اس کی آواز
کی سحر میں کھو گیا تھا جیسے ۔۔۔۔۔پھر آہستگی سے دروازہ کھول کے اندر گیا ۔۔ کشف کی پیٹھ تھی اس کی طرف ۔۔ وہ نیچے بیٹھی قرآن کریم کی تلاوت کر رہی تھی ۔۔ ارحم کچھ قدم چل کے وہیں اس کی پشت پہ بیٹھ گیا ۔۔ اور اسے سننے لگا ۔۔ وہ اسے اتنی محویت سے سن رہا تھا کہ اسے احساس ہی نہیں۔ ہوا کہ کب اس کے آنسو نکلنے لگے ۔۔ وہ رو رہا تھا بے آواز ۔۔۔ اس کی بیوی جس سے وہ بے حد ۔۔ بےشمار محبت کرتا تھا اس سے کچھ فاصلے پہ تھی وہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا ۔۔ سسکی پہ اس نے مڑ کے دیکھا اور اس کی آنکھیں ساکت ہو گئی ۔۔ اس کے سامنے اس کا مجازی خدا ۔۔ اس کا شوہر ارحم عباس بیٹھا ہوا رو رہا تھا ۔۔ وہ منہ موڑ کے قرآن پاک بند کر کے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے اپنی سانسیں بحال کرنے لگی ۔۔۔۔۔ ارحم !!! اس کا ارحم تھا یہ تو ۔۔۔ وہ دوبارہ سے مڑ کےاسے دیکھنے لگی بنا پلکیں جھپکے ۔۔ وہ تو کوئی اور ہی ارحم لگ رہا تھا سلیقے سے بال بنائے ۔۔ خوبرو چہرے پہ ہلکی سی ڈارھی ۔۔ اس کی رنگت اتنی شفاف ہو چکی تھی ۔۔کہ جیسے نور برس رہا ہو ۔۔ ” ک۔۔۔کشف ” کشف کا دل دھک سے رہ گیا کتنے سالوں بعد وہ یہ آواز سن رہی تھی ۔۔ اس نے اپنی آنکھیں دھیرے سے بند کر لیں ایک گہری سانس کھینچ کے اس نے دوبارہ سے آنکھیں کھولی ۔۔ یہ خواب نہیں تھا ۔۔ حقیقت تھی ۔۔ اس کا ارحم اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اس کے لبوں پہ مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں آنسو تھے ” ا۔۔۔ ارحم ” ارحم رو پڑا ۔۔ ” کیوں چھوڑ کے آگئی تھی مجھے کشف کیوں ۔۔ میرا انتظار تو کر لیتی ۔۔ میں نے آ جانا تھا تمہارے پاس ہی ۔۔ 4 سال سے ڈھونڈ رہا ہوں میں تمہیں ۔۔ “
” م۔۔مجھے ڈھونڈ رہے ؟” وہ زیر لب بڑبڑائی ۔ اس کی سوالیہ نظریں ارحم پہ تھی ۔۔۔ ارحم نے آگے بڑھ کے اس کے ہاتھ تھام لیے ” کوئی ایسا دن نہیں ۔۔ کوئی ایسی نماز نہیں جس میں میں نے تم کو نہ مانگا ہو اپنے خدا سے ” وہ رو رو کے بتا رہا تھا اور کشف حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ” میں نے تمہیں ہر جگہ ڈھونڈا کشف ہر جگہ ۔۔ پھر آواز آئی کہ اپنے رب کے پاس ڈھونڈ اسے ۔۔ میں اپنے رب سے مانگتا رہا تمہیں۔ ۔۔ میں مایوس نہیں ہوا تمہیں مانگتا رہا ۔۔ مانگتا رہا اور تم ۔۔۔۔ کیوں کشف مجھے چھوڑ کے آگئی ۔۔ تم تو محبت کرتی تھی ۔۔ عشق کرتی تھی پھر ۔۔۔ ” وہ اس سے پوچھ رہا تھا حساب مانگ رہا تھا
” تھی ؟؟ کرتی ہوں ارحم بہت کرتی ہوں ۔۔ تم میرے شوہر ہو میں کیسے تم سے محبت نہیں کروں گی ۔۔ لیکن ” وہ اپنے چہرے سے آنسو صاف کرنے لگی ” ت۔۔۔ تم نے مجھے چھوڑ دیا تھا نا ۔۔ تمہاری منگنی ہو رہی تھی اس لڑکی سے ۔۔ تم نہیں آئے تھے میرے پاس ۔۔۔ مجھ سے کچھ نہیں۔ کہا کچھ نہیں۔ ۔۔ م۔۔مجھے لگا تم نہیں آؤ گے اب ۔۔ تمہارا دل بھر گیا ہے مجھ سے ۔۔۔ ” وہ رو پڑی ” میں ت۔۔۔تمہارے راستے سے ہٹ گئی ۔۔ “
” شوہر ہوں تمہارا کہہ کے محبت کرنا نہیں چھوڑی تو یقین کیسے چھوڑا تم نے کشف ؟” ارحم اس کے آنسو صاف کر رہا تھا
” ت۔۔ تم آئے ہی نہیں ” وہ اتنی معصومیت سے بولی کہ ارحم کو اس پہ پیار آ گیا ” میں تمہارے علاؤہ کسی کا ہو سکتا ہوں کیا ؟ میں تمہارا تھا کشف ۔۔ تمہارا ہوں اور تمہارا رہوں گا ۔۔ میں تو اپنے پیرنٹس کو تمہارے بارے میں بتانے گیا تھا
۔ میں شادی سے انکار کرنے گیا تھا اور تم نے سوچا کہ ” کشف پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ارحم نے آگے بڑھ کے اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” میں نے یہ چار سال کیسے گزارے کشف کیسے ۔۔ یہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا ” کشف اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ ” اللہ نے مجھے تم سے ملا ہی دیا ” اس نے اسے بانہوں میں بھر لیا کشف بھی رو رہی تھی ۔۔ اس کا ارحم اسی کا ہی تھا وہ کسی کا نہیں ہوا تھا ۔۔ یہ بات اسے اندر تک سرشار کر رہی تھی ۔۔ جب ڈھرام سے دروازہ کھلا اور احد اندر آیا پہلے حیران نظروں سے ارحم کو دیکھتا وہ اس کے قریب آیا ۔۔ اسے غور سے دیکھنے لگا ارحم اس بچے کو پیار سے دیکھ رہا تھا وہ تو مجمل۔ارحم ہی تھا پھر ایکدم چلایا ” مما یہ تو پاپا ہے ” ارحم نے شدت جذبات سے احد کو بانہوں میں بھر لیا اور اسے چومنے لگا ” میں آپ کا پاپا ہی تو ہوں” وہ روتے ہوئے بولا تھا ۔۔ ” رو کیوں رہے ہیں آپ ۔۔ مما ٹولڈ می یو آڑ ا بریو مین ۔۔ تو بریو مین نہیں روتے ” ارحم روتے روتے ہنسا تھا احد اپنے ننھے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرنے لگا ” اور کیا کہا ہے آپ کی مما نے ” وہ شرارتی انداز سے کشف کو دیکھتا احد سے پوچھ رہا تھا ” یہی کہ ون ڈے آپ کے پاپا بھی آ جائے گیں اینڈ آپ کو آرمز میں لے کے پیار کرے گیں ۔۔ ” احد نے اسے بتایا تو وہ حیرت سے کشف کو دیکھنے لگا کشف نے مسکرا کے نظریں جھکا دی ۔۔ اتنا خوبصورت منظر دیکھ کر آسیہ نے باہر کھڑے ہی اللہ کا شکر ادا کیا ۔۔
√√√√√√√√√√√√√√
ڈنر پہ سب ٹیبل کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ کشف بار بار مسکرا کے ارحم کو دیکھتی اور ارحم کی نظر بھی اس سے ملتی تو ہزاروں رنگ کشف کے چہرے پہ پھیل جاتے ۔۔ احد ارحم کی گود میں بیٹھا ہوا تھا وہ اسے کھانا کھلا رہا تھا ۔۔ سحر بھی خوش تھی وہ کشف کو دیکھ دیکھ کے خوش ہو رہی تھی جبکہ آسیہ پیار سے کشف کے چہرے پہ کھلتے رنگوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔اس کا یقین نہیں ٹوٹا ۔۔ یہ خیال آسیہ کو طمانیت بخش رہا تھا ۔ ” پاپا کل میں آپ کو پارک لے کے جاؤں گا ۔۔ وہاں ایسکریم بھی ہے بٹ مما نہیں لینے دیتی ” وہ منہ بسور کے کہہ رہا تھا ۔۔ ارحم نے ایک نظر کشف کو دیکھا پھر احد کو ۔ ” مما کیوں نہیں کھانے دیتی ہمارے پرنس کو ؟”
” مما ٹولڈ می میں بیمار ہو جاؤں گا ” وہ ابھی بھی منہ بسور رہا تھا ارحم نے مصنوعی حیرت سے اسے دیکھا ” اوہ ۔۔ مما تو ٹھیک کہتی ہے “
” آپ بھی مما کے سائیڈ ہو ” وہ ناراض ہی ہو گیا ۔۔
” احد ۔۔ ” کشف اپنے بیٹے کو تنبیہہ کرنے لگی تو وہ ارحم کے سینے میں چھپنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ سب کو ہنسی آگئی اس پہ ۔۔ آسیہ ارحم کو دیکھنے لگی ۔۔ ” کھانے کے بعد چائے پیو گے یا کافی ؟”
” جی کافی ” اس نے مسکرا کے جواب دیا ۔۔ کشف اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ کتنا بدلاؤ آیا تھا اس میں ۔۔ کوئی دوسرا ارحم۔اس کے سامنے تھا ۔۔ ارحم کی نظر اس پہ پڑی تو اس نے مسکرا کے نظریں جھکا دی ۔۔ارحم کے دیکھنے پہ اس کی پلکیں لرزنے لگی تھی ۔۔ ارحم نے کشف کے اس روپ کو دلچسپی سے دیکھا ۔ اس کے لئے کشف کا یہ روپ بہت دلکش تھا
•••••••••√√√√••••••••••••
ارحم نماز پڑھ رہا تھا جب کشف کمرے میں آئی ۔۔ وہ بیڈ پہ بیٹھ کے اسے نماز پڑھتا دیکھنے لگی ۔۔ اس لمحے کے لئے اس نے دعائیں کی تھی ۔۔ وہ ارحم کو ایسے ہی نماز پڑھتا دیکھنا چاہتی تھی ۔۔ سلام پھیر کر ارحم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔۔ دعا پڑھ کر اس نے جائے نماز تہہ کر کے اس کی جگہ پہ رکھ دی پھر کشف کی طرف مڑا ۔۔ اس نے گھبرا کے پلکیں جھکا دی۔۔ وہ کشف جو ہمیشہ ارحم کے لئے اپنی محبت کے اظہار میں بےباک تھی آج وہی کشف ارحم سے نظریں ملتے ہی پلکیں جھکا دیتی ۔۔ ارحم کے لئے اس کا یہ روپ نیا تھا ۔۔ وہ اس کی طرف ا رہا تھا کشف گھبرا کے اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی ۔۔ تو ارحم بھی رک گیا ۔۔ ” وہ ۔۔۔ وہ سو جائیے یہاں ” وہ سائیڈ پہ ہو کے اسے کہنے لگی ارحم زیر لب مسکرا پڑا ۔۔ اس کے قریب آیا کشف کا دل باہر نکلنے کو تھا ارحم نے اس کے ہاتھ تھام لیے اس کا ہاتھ لرز رہا تھا ” یہ کون سا روپ ہے میری جانم کا ” اس نے کشف کی ٹھوڑی پی انگلی رکھ کے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا کشف کی نظریں اس سے ایک پل کو ملی پھر جھکا دی ۔۔اس کی پلکیں لرز رہی تھی ” کشف ۔۔۔ ” ارحم کی سانسیں اس کے چہرے کو چھو رہی تھی اس نے گھبرا کے اپنا سر ارحم کے سینے پہ رکھ دیا ایک طمانیت سی ارحم کے وجود میں پھیل گئی ۔۔ اس نے کشف کو نرمی سے بانہوں میں بھر لیا ” آج میں تمہیں سننا چاہتا ہوں کشف ” وہ اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا کشف دھیرے سے مسکرا پڑی ۔ ارحم نے اسے خود سے الگ کر کے بیڈ پہ بٹھایا اور خود بیڈ پہ لیٹ کے اس کی گود میں سر رکھ دیا ۔۔ ” اس سکون کے لئے میں چار سال سے تڑپ رہا تھا ” کشف اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔ ارحم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔ اسکی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا کشف نے اپنی انگلی کی پور میں اس قطرے کو جذب کر لیا ۔ ” ارحم ۔۔ ” ارحم آنکھیں کھول کے اسے دیکھنے لگا اس کی آنکھیں نم تھی ۔۔ ” کیوں رو رہے ہو ؟”
” خوشی کے آنسو ہے کشف ۔۔ تم سے ملنے کی خوشی میں ” وہ دھیرے سے بولا تھا
” اتنی محبت کرتے ہو مجھ سے ارحم ۔۔ ” وہ پوچھ رہی تھی
ارحم نے اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پہ اپنے لب رکھے ۔
” کیسے یقین کر لوں ارحم کیسے ” کشف اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ارحم کچھ دیر اسے دیکھتا رہا
” جیسے دل کرے ۔۔ لیکن میں تمہیں اب کھبی خود سے الگ نہیں ہونے دوں گا ۔۔ “
” اگر پھر سے ویسے ہی کھو گئے ؟ چلے گئے ؟ غائب ہو گئے ؟ تو کیا ؟” کشف کا ڈر اس کے لبوں پہ آیا تھا ارحم اٹھ کے بیٹھ گیا اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” میں نے واپس آنا تھا کشف ۔۔ میں آ رہا تھا واپس ۔۔ تم رک تو جاتی “
” میں ڈر گئی تھی ارحم ۔۔ کہ کہیں تم آ کے مجھ سے اپنا نام نہ چھین لو ” کشف خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
” اور میں تمہیں کھو کے پاگل ہو گیا تھا ۔۔ کھبی کھبی لگتا ہے شاید ہمارے نصیب میں ہی تھا یہ سب تا کہ ہم ہدایت پا سکے اللہ کی طرف چل سکے ” ارحم کھوئے ہوئے انداز میں بول رہا تھا ۔۔
” تم خوبصورت تو تھی ہی کشف اب تم حسین ہو گئی ہو ۔۔ اور تمہیں پا کے میں مکمل ہو گیا ہوں اب ” اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا ارحم نے ” آئی لو یو کشف ۔۔ بہت چاہتا ہوں تمہیں ۔۔ عشق کر بیٹھا ہوں تم سے ” اس کی آنکھوں میں آنسو جگمگا رہے تھے ۔۔ کشف نے آگے بڑھ کے ارحم کی آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا ۔۔ اس کے لئے ارحم کا اظہار بہت معنی رکھتا تھا ۔۔ اللہ کا جتنا شکر وہ ادا کرتی کم تھا اس کے لئے ۔۔ اللہ تعالٰی نے اسے اس کے صبر کا پھل بہت خوبصورت انداز میں دیا تھا ۔۔ وہ اندر تک سرشار ہو رہی تھی اپنے ارحم کو ۔۔ اپنے مجازی خدا کو دوبارہ سے پا کے !!!
آج کی صبح خوشگوار تھی ۔۔ دونوں نے ساتھ میں نماز ادا کی پھر تلاوت قرآن پاک کی دونوں نے ۔۔ کشف کے چہرے پہ بکھرے ہزاروں حیا کے رنگ اس کے اندر کی خوشی بتا رہے تھے اور ارحم کی محبت پاش نظروں نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ہوا تھا ۔۔ ” کشف “
” جی ؟” کشف اسے دیکھنے لگی ۔ ارحم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر لیا اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” ” اسی دن ۔۔ اسی لمحے کی دعا کی تھی میں نے کشف اپنے رب سے ۔۔ کہ تم یونہی میرے پہلو میں میرے ساتھ عبادت کرو اور ہم اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کے دعا مانگیں۔۔” کشف مسکراتی آنکھوں سے اپنے محبوب شوہر کو دیکھ رہی تھی ۔۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پھر سے اس کے روبرو لاکھڑا کیا تھا ۔۔ وہ سجدوں میں گر کے جتنا شکر گزار ہوتی کم تھا ۔۔ ” میں نے بھی ارحم ۔۔ یہی خواہش تھی میری کہ میرا ارحم بھی غلط راستے سے توبہ کر لیں اور سیدھے راستے پہ چلے ۔۔ پتہ کیا ارحم ہم جس سے محبت کرتے ہیں نا ۔۔ ہم اس کے لئے وہی پسند کرتے ہیں یا چاہتے ہیں جو اپنے لئے چاہتے ہیں اور میں نے بھی تمہارے لئے وہی چاہا جو اللہ نے میرے لئے چاہا تھا ۔۔ اور اللہ کی شکر گزار ہوں میں کہ میرے رب نے مجھے ناامید نہیں کیا اور میرا ارحم میرے پاس ہے آج ” ارحم نے بےساختہ اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔ ” اللہ نے ہمیں اپنی ہر نعمت سے نوازا ہے کشف ۔۔ احد میرے رب کی سب سے بڑی نعمت ہے جو ہمارے پاس ہے “
” بیشک ۔۔ ” کشف مطمئن تھی وہ مکمل ہو چکی تھی ۔۔ اس کا محبوب ۔۔ وہ اور اس کا بیٹا احد ۔۔
