359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 10

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

” پتہ چلا کچھ میرال کا ؟” اس کا دوست آریان اس کے پاس بیٹھا پوچھ رہا تھا وہ سر جھکائے بیٹھا تھا سر نفی میں ہلانے لگا ” نہیں ۔۔ کچھ نہیں پتہ چلا ۔۔ سارا شہر دیکھ لیا ۔۔ جہاں جہاں جا سکتی تھی وہاں وہاں پتہ کیا لیکن وہ کہیں نہیں ہے ” اداسی اس کے چہرے پہ رقم تھی ۔۔ آریان اس کا بجھا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔ ” ہر نماز میں اس کے ملنے کی دعا کرتا ہوں ۔۔ بس ایک بار ۔۔ ایک بار مل جائے مجھے میری میرال ۔۔ میں اسے خود سے کھبی دور نہیں ہونے دوں گا ۔۔ جو فاصلے ہمارے بیچ آ گئے تھے وہ سب مٹا دوں گا بس ایک بار وہ مجھے مل جائے ۔

۔ایک بار میرا رب مجھے اس سے ملا دے ” دکھ اس کے لہجے میں عیاں تھا آریان نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ” جب تمہارا ایمان اتنا پختہ ہو چکا ۔۔ جب اللہ پہ یقین تمہارا کامل ہو چکا تو دعا کرتے رہو تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی انشا اللہ ” ارحم۔اسے دیکھنے لگا پھر دھیرے سے مسکرا پڑا ” انشا اللہ ” پھر اپنی آنکھوں کو انگلیوں سے مسلتا اٹھا ۔۔ ” میں کافی لاتا ہوں ۔۔ ” آریان نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔ تو ارحم کچن میں۔ کافی بنانے چلا گیا

πππππππππππππππππ

اور یونہی پر لگا کے تین سال گزر گئے ۔۔ اس نے پھر بھی میرال کی تلاش جاری رکھی لیکن میرال اسے کہیں نہیں ملی ۔۔ اس نے اپنی امید نہیں چھوڑی تھی ۔۔ ” شادی کا کوئی پلان ہے کہ نہیں ؟” مہک عباس اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔ ارحم عباس نے ایک نظر اپنی ماں پہ ڈالی ” میں میرڈ ہوں مما ” مہک نے نخوت سے سر جھٹکا ” اوہ کم آن مائی بوائے ۔۔ وہ چھوڑ گئی ہے تمہیں ۔۔ طوائف کسی کی نہیں ہوتی انھیں عزت کی زندگی ۔۔۔۔ “

” اسٹاپ اٹ مام ” ارحم چلایا تھا مہک ایکدم چپ ہو گئی تھی ” آپ کو کوئی رائٹ نہیں کہ آپ یوں میری بیوی کے بارے میں کچھ بھی بولو ۔۔ اللہ اس کی حفاظت فرمائے ۔۔ ” ارحم۔اپنی بات کہہ کے رکا نہیں ۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتا کمرے سے نکل گیا ۔۔ مہک کچھ دیر سوچتی رہی پھر اپنی جگہ سے اٹھ کے وہ ارحم کے پیچھے باہر نکلی ” تو کیوں نہیں ہے تمہارے پاس وہ ۔۔ جب اتنی پاکیزہ عورت ہے وہ ” مہک کی آواز پہ ارحم کے قدم رکے ۔۔ اپنی پیشانی کو کچھ دیر مسلتا رہا پھر اپنی ماں کی طرف مڑا ” کیونکہ آپ کا بیٹا اس پاکیزہ عورت کے لائق نہیں۔ تھا تبھی اللہ نے اسے مجھ سے چھین لیا ۔۔ اب میں اپنے رب کو راضی کر رہا اور جس دن میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے گا ۔۔ میرے گناہ بخش دے گا اس دن اللہ اس پاکیزہ عورت کو دوبارہ میری زندگی میں لے آئے گیں ۔۔ ” وہ کچھ دیر مہک کو دیکھتا رہا پھر مڑ کے لمبے ڈگ بھرتا وہ وہاں سے نکل گیا ۔۔ مہک چپ رہ گئی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی ایسا کون سا جادو کر دیا ہے اس طوائف نے اس پہ جو اسے کوئی اور نظر ہی نہیں آتا ۔۔

√√√√√√√√√√√√√√

وہ جیسے ہی بوتیک سے باہر نکلی تو اسے سامنے ہی وہ شخص نظر آیا جو کچھ دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔ کشف کو اپنی طرف دیکھتا پا کے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔ کشف اس کی گاڑی کے پاس گئی اور اس کی گاڑی کا شیشہ بجانے لگی ۔۔ اس نے چونک کے اسے دیکھا تو کشف نے اشارے سے اسے باہر نکلنے کو کہا وہ باہر نکل کے احترام۔سے کھڑا ہو کے اسے دیکھنے لگا ” کیوں فالو کر رہے ہیں آپ مجھے ؟ ” وہ سپاٹ لہجے میں اس سے پوچھ رہی تھی ۔۔ وہ شخص ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا ” میں آپ کو فالو ؟ نہیں تو ” کشف کے چہرے پہ ناگواری آگئی تھی ” میں پولیس میں کمپلین کر دوں گی آپ کے اگینسٹ ۔۔ ” ” آپ مائنڈ کر گئی ایم سوری میرا نام آریان ہے اور میں پاکستان سے آیا ہوں ۔۔ ایم رئیلی سوری کہ آپ میری وجہ سے پریشان ہو رہی ۔۔ نیکسٹ ایسا نہیں ہوگا ” آریان اس سے معذرت کر رہا تھا ” ہممممم” کشف بھی سر ہلا کے وہاں سے آگے بڑھ گئ ” ایکسکیوزمی میم ؟” آریان کے پکارنے پہ وہ مڑی “یس ؟”

” میں آپ کو ڈراپ کردوں ایف یو ڈونٹ مائنڈ ؟” آریان کی بات پہ کشف نے اسے کچھ دیر سنجیدہ نظروں سے دیکھا پھر ” نو تھینکس ” بول کے آگے بڑھ گئی ۔۔ آریان بالوں میں ہاتھ پھیر کے رہ گیا ۔۔

√√√√√√√√√√√√√

” مما احد کہاں ہے ۔۔ کب سے میں آئی ہوں نہیں نظر آیا مجھے ” کشف پورا گھر دیکھ کے اب آسیہ کے پاس آ کے پوچھ رہی تھی ” نہیں ہے مطلب ؟ اپنے روم میں تو تھا ” آسیہ کے کہنے پہ کشف کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ ” س۔۔سحر کدھر ہے ؟ اس کے ساتھ ہوگا “

” ارے نہیں سحر تو کالج سے آئی نہیں ابھی تک ” آسیہ کے کہتے ہی کشف کو لگا کہ وہ ابھی چکرا کے نیچے گر جائے گی ۔۔” ا۔۔۔احد ” وہ روتے ہوئے باہر کی طرف بھاگی تھی ۔۔ آسیہ بھی اس کے پیچھے باہر کی طرف بھاگی تھی ۔۔ ” احد ۔۔ احد ” وہ چاروں طرف بھاگ رہی تھی ۔۔ احد کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔ ” کشف رکو بیٹا آرام سے ۔۔ یہیں کہیں ہوگا ” آسیہ ہانپتی کانپتی اس کے پیچھے تھی ” نہیں مما وہ کہیں نہیں ہے ۔۔ وہ کہیں نہیں ہے ۔۔ م۔۔میرا بیٹا ” وہ بھاگتی بھاگتی روڈ پہ گر ہی گئی ” احد میرا بیٹا ..” ایک دو لوگ رکے بھی تھے اس کے پاس ۔۔ آسیہ اسے اٹھانے لگی ” کشف ۔۔ میری بچی مل جائے گا احد ۔۔ “

” ن۔۔نہیں ۔۔ اسے لے گئے ۔۔ میرا احد ” وہ روئے جا رہی تھی جب احد کی آواز نے اسے چونکا دیا

” مما ” وہ گھبرا کے سامنے دیکھنے لگی جہاں احد آریان کے ساتھ روڈ کراس کر رہا تھا ۔۔ کشف کو لگا جیسے اس کو سانس لینے میں مشکل پیش آ رہی ہو ۔۔ احد بھاگتا ہوا اس کے گلے لگا وہ اسے چومنے لگی ۔۔ ” کہاں تھے ۔۔ کہاں گئے تھے مما کو بنا بتائے “

” مجھے پارک میں ملا تھا احد ۔۔ رو رہا تھا ” آریان کی آواز پہ کشف اس کی طرف متوجہ ہوئی اور اٹھ کے جارحانہ انداز میں آگے بڑھ کے اسکا گریبان پکڑ لیا ” کون ہو تم ۔۔ کیوں میرے اور میرے بیٹے کے پیچھے پڑ گئے ہو ۔۔ کیا چاہتے ہو مجھ سے ۔۔ کیا چاہئیے تمہیں ” وہ اسے دھکا دے کے اپنا سر پکڑ کے چیخنے لگی آسیہ نے آگے بڑھ کے اسے تھامنا چاہا لیکن اس نے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔ وہ آریان کو دیکھ کے وارننگ والے انداز میں چیخی تھی ” کہا تھا تم سے نیکسٹ مجھے اپنے آس پاس بھی نظر نہ آنا ۔۔ کیا چاہئیے تمہیں ۔۔ دفع ہو جاؤ میرے بیٹے کو کچھ ہو جاتا میں زندہ گاڑ دیتی تمہیں ” وہ چپ چاپ اس کی باتیں سن رہا تھا ۔۔ احد حیران و پریشاں اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا ” مما ..” وہ آگے بڑھ کے کشف کا بازو کھینچنے لگا تو کشف اس کی طرف متوجہ ہوئی پھر خود کو ریلیکس کرتی اس کے پاس بیٹھ گئی ۔۔ ” مما کی جان ۔۔ نیکسٹ ایسے مت کرنا پلیز ہنی ” وہ اثبات میں سر ہلانے لگا کشف احد کو لیے گھر کی طرف جانے لگی ۔۔ آسیہ آریان کو دیکھ رہی تھی وہ شرمندہ سا مسکرا رہا تھا ” ایم سوری ۔۔ احد رو رہا تھا پارک میں تو میں ۔۔۔ ” وہ سر جھکا گیا

” اٹس اوکے بیٹا ۔۔ کشف جلدی گھبرا جاتی ہے اپنے بیٹے کے میٹر میں ” آسیہ اسے وضاحت دے رہی تھی

” اٹس اوکے آنٹی ۔۔ میں چلتا ہوں ” وہ سر جھٹک کے آگے بڑھ گیا ۔۔ تو آسیہ بھی اپنے گھر کی طرف جانے لگی ۔۔

√√√√√√√√√√

” میں نے سنا ہے تم شادی سے انکار کر رہے ۔۔ ” عباس شاہ اپنے بیٹے سے پوچھ رہے تھے ۔۔ ارحم نے ایک نظر انھیں دیکھا ” آپ نے صحیح سنا میں میرڈ ہوں اور دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا میں ” اس نے ٹھہرے لہجے میں جواب دیا عباس شاہ اپنے بیٹے کو دیکھتے رہے ۔۔ ” آڑ یو شیور وہ مل جائے گی تمہیں ؟”

” یس ڈیڈ ۔۔ انشاء اللہ ” ارحم نے اطمینان سے جواب دیا ۔۔

” اتنے مطمئن کیسے ہو سکتے ہو تم ارحم ” عباس غور سے اسے دیکھ رہے تھے

” مجھے اپنے رب پہ کامل یقین ہے ڈیڈ ۔۔ وہ مجھے ناامید نہیں ہونے دیں گے ” اس کے لہجے کا یقین بول رہا تھا

” اور اگر نہ ملی تو ؟” وہ پوچھ رہے تھے

” تو بھی میرا یقین نہیں ڈگمگائے گا ۔۔ میرال مجھے ضرور ملے گی ایک دن ” وہ مکمل یقین کے ساتھ بول رہا تھا عباس نے اپنے بیٹے کے چہرے پہ نظر ڈالی وہ بہت بدل گیا تھا ۔۔ ایک ٹھہراؤ سا آیا تھا اس کے چہرے پہ ۔۔ اس کی باتوں میں ۔۔ اس کے ہر عمل میں ۔۔ بےاختیار انھیں اپنا آپ یاد آ گیا لیکن وہ اتنے مضبوط نہیں تھے تب جتنا مضبوط ان کا بیٹا ہے ۔۔ اس کا یقین ڈگمگا گیا تھا لیکن ارحم کا ایمان اتنا پختہ ہے کہ وہ اپنی بات سے ایک انچ بھی نہیں ہلا اتنے سالوں میں۔ ۔۔