Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 16
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 16
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
کشف بیڈ پہ نیم دراز موبائل چیک کر رہی تھی جب ارحم اس کے پاس آ کے بیٹھ گیا ۔۔ کشف موبائل سائیڈ پہ رکھ کے اسے دیکھنے لگی ” ایم سوری کشف ” ارحم نے اس کے ہاتھ تھام کے کہا کشف اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی ” کس لئے ؟”
” مما کی باتوں کے بعد سے تم کافی ڈسٹرب لگ رہی ہو ” ارحم افسردہ نظر آ رہا تھا کشف اس کے چہرے پہ ہاتھ رکھ کے مسکرائی ” میں بلکل بھی ڈسٹرب نہیں ہوں ارحم ۔۔ میں ٹھیک ہوں الحمدللہ میرے پاس میرا شوہر ہے ۔۔ میرا بیٹا ہے ۔۔ میری فیملی ہے تو میں کیوں کسی کی بات پہ ڈسٹرب ہوتی پھروں ۔۔ ڈونٹ بی سوری ” ارحم نے اس کے ہاتھ اپنے لبوں پہ رکھ لیے ” میرے ساتھ خوش تو ہو نا کشف ” کشف کی آنکھوں میں پہلے حیرت در آئی پھر شرارت ۔۔ ” کیوں پھر چھوڑ جانے کا ارادہ ہے ؟'” ارحم اسے شاکی نظروں سے دیکھنے لگا ” میں نے تمہیں پہلے بھی نہیں چھوڑا تھا کشف اور نہ اب چھوڑ رہا ہوں ” وہ چپ ہو گیا تھا کشف نے آگے بڑھ کے اس کے گال چوم لیے ۔۔ ٫ “مذاق کر رہی تھی ایم سوری ارحم ” ارحم اسے ناراضگی سے دیکھنے لگا لیکن کشف کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کے اس کی ناراضگی ختم ہو گئی ۔۔ کشف کو اپنی بانہوں میں بھر کے اس نے ایک گہری پرسکون سانس کھینچی ۔۔
••••••••••••“““““`•••••••••••
عباس آفس سے جلدی گھر آ گئے تھے انھیں کوئی فائل چاہئیے تھی ۔۔ وہ اپنے کمرے کے پاس پہنچے تو اندر کمرے سے مہک کی ہنسی کی آوازیں آ رہی تھی عباس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو دروازہ کھلتا چلا گیا سامنے کا منظر دیکھ کے عباس مشتعل ہو گیا ۔۔ مہک اور ہمدان بیڈ پہ ایک دوسرے کے بہت نزدیک تھے مہک ایکدم سے اٹھ کے خود کو چھپانے لگی ۔۔ عباس غصے سے آگے بڑھا ۔۔ مہک جلدی سے آگے بڑھی ” ع۔۔۔عباس ” عباس نے اسے تھپڑ مارا ۔ ” یہ ہے تمہاری اوقات مہک یہ ۔۔۔ “
” عباس میں ۔۔۔ ” اس نے کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب عباس نے اسے روک دیا ” ان عورتوں کو طوائف کہہ کہہ کے تم خود یہاں گندگی پھیلا رہی ہو ۔۔ پانچ منٹ ہے تمہارے پاس ۔۔ اپنا سب گند اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔ اور جاتے جاتے سن لو طلاق کے پیپرز بھی مل جائیں گے تمہیں۔ کل تک ” اس نے آگ برساتی نظر ہمدان پہ ڈالی پھر مڑ کے کمرے سے نکلنے والا تھا جب اچانک مڑا ” نہیں ۔۔ نہیں ۔۔ اپنا تحفہ لیتی جاؤ ۔۔۔ ” مہک اسے شرمندہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” عباس غرایا تھا
” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” مہک ساکت آنکھوں سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔ “اب دفع ہو جاؤ” کہہ کے وہ اپنے اسٹڈی میں آگئے اور کرسی پہ ڈھے سے گئے ۔۔ مہک اتنی بدکردار ہو سکتی ہے یہ تو ان کے خیال کو بھی چھو کے نہیں گزری تھی ۔۔ انھوں نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھا ۔۔ کچھ دیر بعد انھوں نے اپنی ملازمہ کو آواز دی ۔۔ وہ جلدی سے کمرے میں آئی ” یس سر ؟”
” وہ لوگ چلے گئے ؟” وہ پوچھنے لگے
” یس سر ” زینب نے سر جھکائے کہا
” جائیے روم کی صفائی کیجئیے ۔۔ بیڈ شیٹ سب چینج کر دیں ” عباس نے اس کی طرف دیکھ بنا کہا
” اوکے سر ” وہ کہہ کے کمرے سے نکل گئی جبکہ عباس کنپٹی پہ سر رکھ کے وہ کچھ سوچنے لگے ۔
•••••••••“““““•••••••••
وہ کمرے میں بند ہی ہو گئے تھے نہ کسی سے بات کرتے نہ کوئی کال اٹینڈ کر رہے تھے ۔۔ انھیں کسی سے بات نہیں کرنی تھی ۔۔ انھیں کافی حد تک دکھ پہنچا تھا شرم سے وہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہے تھے ۔۔ ارحم کافی دفعہ انھیں فون کر چکا تھا لیکن انھوں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ ارحم کو پریشانی ہو رہی تھی کہ عباس فون کیوں نہیں اٹھا رہے اس کا ۔۔ کشف نے کمرے جھانکا ” ارحم پاپا نہیں آئے ؟” ارحم نے نفی میں سر ہلایا ” کال نہیں ریسیو کر رہے “
” ڈنر پہ سب ویٹ کر رہے ان کا ۔۔ انھوں نے کل کہا بھی تھا کہ آئے گیں ” کشف نے پریشانی سے کہا ۔ ارحم اسے پرسوچ نظروں سے دیکھ رہا تھا ” میں گھر پہ جا رہا پاپا کو دیکھنے “
” ابھی ؟” کشف نے پوچھا تھا
” ہاں ابھی ۔۔ ٹینشن ہو رہی مجھے ۔۔ ” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔۔ کشف بھی اس کے ساتھ دروازے تک آئی ۔۔ ” مجھے بھی انفارم کر دینا ” کشف کے کہنے پہ ارحم نے پلٹ کے اسے دیکھا پھر سر اثبات میں ہلاتا باہر نکل گیا ۔۔ کشف کچن میں آئی تو آسیہ اور سحر اسے دیکھ رہی تھیں ۔۔ اس کے چہرے پہ پریشانی دیکھ کے آسیہ پوچھنے لگی ” کوئی پریشانی ہے بیٹا ؟”
” پتہ نہیں مما پاپا کال ریسیو نہیں کر رہے ارحم کی ۔۔ تو ارحم انھیں دیکھنے گیا ہے ” اس نے پریشانی سے بتایا ۔۔ آسیہ کا دل ڈوب کے ابھرا تھا ” اللہ بہتر کرے گا ۔۔ “
••••••••••••““““`•••••••••
ارحم نے جب بنگلے میں قدم رکھا تو ہر طرف خاموشی کا راج تھا ۔۔ ” مما ۔۔۔ مما ۔۔۔ پاپا ” زینب اس کے پاس آئی ” گڈ ایوننگ ارحم سر ” ارحم نے اس کی طرف دیکھا ” گڈ ایوننگ ۔۔ مام کہاں ہے ؟”
” شی از ناٹ ہئیر ارحم سر ” اس نے سر جھکائے جواب دیا ” کہاں ہے ؟” وہ پوچھنے لگا ” سر نے انھیں گھر سے نکال دیا ” زینب کے کہنے پہ ارحم نے چونک کے اسے دیکھا تو وہ سر جھکا گئی۔ ” ڈیڈ نے گھر سے نکال دیا ۔۔ وائی ؟” وہ چپ رہی
” وئیر از ڈیڈ ؟” وہ عباس کا پوچھنے لگا۔ ” ہی از ان اسٹڈی روم ” زینب کے کہنے پہ وہ آگے بڑھ گئے ۔۔ ” ارحم سر ۔۔۔ سر نے دو دن سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے “
“وہاٹ ؟” ارحم چونک کے مڑا تھا ” مجھے کیوں انفارم نہیں کیا آپ نے ؟” زینب سر جھکا گئی تو وہ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ اسٹڈی روم کے دروازے تک پہنچ کے اس نے دروازے پہ دستک دی کوئی آواز نہ آئی تو ارحم نے آہستہ سے دروازہ کھولا ۔۔ عباس نے دیکھے بنا کہا ” زینب آئی ٹولڈ یو ڈونٹ ڈسٹرب می “
” پاپا میں ہوں ارحم ” عباس نے چونک کے اپنے سامنے کھڑے بیٹے کو دیکھا ” آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ڈیڈ ۔۔ ” عباس نے نظریں چرائی ۔ ارحم ان کے پاس بیٹھ گیا ” ڈیڈ کیا ہوا ہے بتائے تو ۔۔ مما کہاں ہے ۔۔ لڑائی ہوئی ہے آپ دونوں کی ؟”
” میں نے طلاق دے دیا اسے ” انھوں نے دھیمے لہجے میں کہا تو ارحم نے حیرت سے انھیں دیکھا ” وہائی ڈیڈ ؟”
” میں نے اسے ۔۔۔ ” وہ چپ ہو گئے ۔۔ ارحم کی سوالیہ نظروں میں دیکھنے لگے ۔۔ پھر نظریں جھکا گئے ۔۔ ” کچھ باتیں ان کہی رہے تو بہتر ہے بیٹا ۔۔ ” ارحم چپ رہا کچھ دیر اپنے فاڈر کے جھکے سر اور جھکے کندھوں کو دیکھتا رہا پھر ان کا ہاتھ تھام کے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ” گیٹ اپ ڈیڈ ۔۔ سب ویٹ کر رہے ہیں آپ کا ڈنر پہ “
“آئی کانٹ گو بیٹا ۔۔ اکیلا رہنے دو مجھے کچھ دن ” ان کے لہجے میں دکھ بول رہا تھا ۔۔ ” پاپا پلیز ۔۔ احد بھی آپ کو یاد کر رہا ۔۔ چلئیے اٹھئے ” ارحم کے اصرار پہ عباس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے ۔۔ ارحم انھیں لیے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔۔
•••••••“““““`•••••••••
ارحم عباس کے ساتھ اندر آیا تو احد بھاگتا ہوا عباس کے پاس آیا ” بابا آگئے ۔۔ ” عباس نے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔ کشف بھی مسکرائی ” آپ کا ہی ویٹ کر رہے تھے ہم آئیے پاپا ” عباس نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ۔۔ سحر بھی اپنے پاپا کے گلے لگی ۔۔ آسیہ بھی انھیں مسکرا کے دیکھ رہی تھی۔ ۔ اتنی محبت دیکھ کے وہ آبدیدہ ہو گئے ۔۔ آسیہ انھیں غور سے دیکھ رہی تھی۔۔ کچن کی طرف بڑھ گئی ” میں کھانا لگاتی ہوں ” کشف اور سحر بھی مدد کرنے چلی گئی ۔۔ عباس بھی ارحم۔کےںساتھ بیٹھ گئے ۔۔ احد بھی ارحم کی گود میں بیٹھ چکا تھا اور کھانے کا انتظار کرنے لگا ۔۔ ارحم نے ایک نظر عباس پہ ڈالی وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے ۔۔ ارحم کو اچنبھا ہوا کہ ایسی کیا بات ہوئی ہوگی جو عباس اتنے سنجیدہ ہے لیکن اس موضوع پہ پھر سے ان سے بات کرنا اسے مناسب نہ لگا
