359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 5

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

شاور کے نیچے بجھے دل کے ساتھ کھڑی وہ آنسو بہا رہی تھی ۔۔ نہ جانے کیوں !!! وہ خوش تھی ارحم کی بیوی بن کے وہ خوش تھی ۔۔ خوش نصیب سمجھ رہی تھی خود کو ۔۔ لیکن کیوں اس کا دل بجھا ہوا تھا کیوں وہ اداس تھی ۔۔ کیوں اداسی نہیں جا رہی تھی اس کی آنکھوں سے ۔۔ جب واشروم۔سے باہر نکلی تو ارحم کی نظر اس پہ پڑی ۔۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑی بجھے دل کے ساتھ اپنے بال سنوار رہی تھی ۔۔ ارحم نے پاس آ کے پیچھے سے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کر دیے ” کتنی حسین لگ رہی ہے میری بیگم صاحبہ آج ” میرال نے آئینے میں اپنا اور اس کا عکس دیکھا وہ مسکرا رہا تھا ۔۔ دلفریب مسکراہٹ اس کے لبوں پہ تھی میرال بھی دھیرے سے مسکرا پڑی شاید یہ وہم ہو اس کا ۔۔ شاید ارحم خوش ہے اس سے نکاح پہ ۔۔ شاید وہ بھی سرشار ہے میرال کو اپنا بنا کے ۔۔ ارحم نے اس کے گال پہ اپنے لب رکھے ۔۔ ” آج کا دن تمہارے نام ۔۔ ہمممم کہاں چلیں ؟” ارحم کے کہنے پہ میرال مسکرا پڑی ” جہاں تم لے چلو ” ارحم اس کے گیلے بال سنوارتے بولا ” تو بی ریڈی۔۔۔ ہم ابھی چلتے ہیں ” اسے کہہ کے وہ واشروم چلا گیا ۔۔ میرال آئینے میں اپنا عکس دیکھتی رہی پھر تیار ہونے لگی ۔۔

πππππππππππ

گاڑی شہر سے باہر کی طرف جاتے دیکھ کے میرال ارحم سے پوچھنے لگی ” ہم کہاں جا رہے ہیں ؟”

” اسلام آباد ” ارحم زیر لب مسکراتا بولا تو میراب حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی ” اسلام آباد ؟؟ بتایا کیوں نہیں ۔۔ میں نے تو کپڑے بھی نہیں لیے ” وہ پریشان ہو گئی

” ریلیکس ڈارلنگ ۔۔ ہم وہیں سے شاپنگ کر کے لے لیں گے ” وہ اس کے گال اپنے ایک ہاتھ سے چھوتا بولا ۔۔ ” میں بس چاہتا تھا کہ میری میرال کے چہرے پہ مسکراہٹ آئے ” میرال اسے دیکھے گئی اتنا خیال ارحم کو اس کا اور وہ کیا کیا سوچ رہی تھی ۔۔ ” اینڈ ایم سکسیزفل ” وہ خوشدلی سے مسکرا رہا تھا جبکہ وہ پیار بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ اب صحیح معنوں میں خود کو خوش نصیب سمجھ رہی تھی۔ ۔ اسے لگا تھا شاید ارحم اس سے دوری برتے گا ۔۔ سب سے چھپائے گا اپنا اور اس کا رشتہ ۔۔ لیکن وہ پبلک میں اسے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا ۔۔ رات گئے اس نے اسلام آباد کے معروف ہوٹل کے سامنے گاڑی روکی ۔۔ اور کمرے میں آ کے اس نے وہیں کھانا آرڈر دیا ۔۔ کھانے سے فارغ ہو کے ارحم واشروم فریش ہونے کے لئے گیا تھا جب واپس آیا تو میرال کو بیڈ پہ سوتے پایا اس کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔۔ اس نے میرال پہ بلینکیٹ صحیح کیا ۔۔ میرال کے ساتھ اس کا نیا رشتہ جڑا تھا اور اس رشتے پہ وہ خوش تھا ۔۔ وہ میرال سے محبت کرتا تھا ۔۔ وہ اسے کوئی دکھ بھی نہیں پہنچانا چاہتا تھا کھبی ۔۔ وہ اس کی بیوی تھی آج نہیں۔ تو کل وہ سب کو اس بارے میں بتا دیتا بس وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا ۔۔ اور میرال کو لگ رہا تھا ارحم عباس اس رشتے سے ناخوش ہے ۔۔ وہ سوچ کے زیر لب مسکرا پڑا ۔۔

ππππππππππππππ

آج کی صبح بہت خوبصورت تھی ۔۔ ارحم اسے مختلف شاپنگ مال میں لے کے گیا ۔۔ اس کے لئے بھرپور شاپنگ کی ساتھ میں اپنے لئے بھی کی ۔۔ پھر دونوں ریسٹورانٹ میں لنچ کرنے گئے ۔ میرال ارحم کے سنگ خوش تھی ۔۔ اسے ارحم سے کچھ نہیں چاہئیے تھا نہ پیسہ نہ اس کا بینک بیلنس ۔۔ کچھ نہیں وہ بس ارحم کو چاہتی تھی ۔۔ اور یہ بات ارحم بھی جانتا تھا کہ میرال اس سے کس حد تک عشق کرتی ہے ۔۔ تبھی وہ اس کا دل توڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔

وہ بیڈ پہ نیم دراز ارحم کے کندھے پہ سر رکھے ہوئے تھی ” میرال ” ارحم نے دھیرے سے اسے پکارا

” ہمممم؟”

” میرال میں جانتا ہوں کہ تم نے اس جگہ پہ رہتے ہوئے بھی ہمیشہ سب سے فاصلہ رکھا ۔۔ تم نے خود کو صرف مجھے ہی سونپا ۔۔ مجھے تم پہ پورا یقین ہے ۔۔ ” وہ دھیرے دھیرے اسے بتا رہا تھا ” اور میں کچھ دنوں میں ہی سب کو بتا دوں گا اپنے اور تمہارے رشتے کا ۔۔ اس کے بعد کوئی تمہیں میرے ساتھ ایکسیپٹ کرے نہ کرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔ میں تمہیں جانتا ہوں یہی کافی ہے میرے لئے ۔۔۔ ” اس کے گرد اپنے بازو حائل کر کے وہ بولنے لگا ” میں کون سا پاک ہوں میرال ۔۔ دنیا کا ہر برا کام میں کر چکا ہوں ۔۔ ہر برے سے برا کام ۔۔ ” پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” میرال تم میرے لئے بہت امپورٹنٹ ہو اور ہمیشہ رہو گی اور اب تم میری بیوی ہو ۔۔ میرے دل میں تمہارے لئے احترام ۔۔ محبت ۔۔ عزت ہمیشہ رہے گا ۔۔ ” میرال آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ” ارحم ۔۔ میرے لئے اتنا کچھ کرنے کے لئے شکریہ ۔۔ اتنی عزت اور احترام کے لئے شکریہ ۔۔ عورت ذات کو محبت سے زیادہ احترام ایٹریکٹ کرتی ہے اور ” ارحم نے اس کے لبوں پہ اپنی انگلی رکھ دی ” ہشششش رونا نہیں ہے میرال ۔۔ ہم کھبی الگ نہیں ہوگیں ۔۔ میں تمہیں کھبی ہرٹ نہیں کروں گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے ” میرال نے مسکرا کے اپنا سر اس کے چوڑے سینے پہ رکھ دیا ۔۔

ππππππππππ

” اسلام علیکم ” کشف جو احد کے ساتھ شاپنگ میں مصروف تھی جب کسی مردانہ آواز پہ چونک کے مڑی ” وعلیکم السلام ” اجنبی نظروں سے اس شخص کو دیکھتی اس نے سلام کا جواب دیا ۔۔ سامنے والے شخص نے اسے گہری نظروں سے دیکھا ۔۔ حجاب میں اپنے سر کو ڈھانپے وہ اسے ایک خوبصورت اور مکمل خاتون لگی ۔ ” ڈو آئی نو یو ؟” وہ پوچھ رہی تھی ۔۔

” نو ۔۔ ایکچوئیلی میں یہاں نیو ہوں ۔۔ سو یہاں کا زیادہ آئیڈیا نہیں مجھے ۔۔ سوچا آپ سے کچھ ہیلپ ہی مانگ لوں ” اس نے جواب دیا تو کشف اسے معذرت طلب نظروں سے دیکھنے لگی ” ایم سوری ۔۔ میں یہاں اپنے بیٹے کے ساتھ شاپنگ پہ آئی ہوں سو آئی کانٹ دو اینی فیور ۔۔ آپ کسی اور سے بات کر لیں ” کشف بات ختم کر کے احد کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔ اس شخص نے چونک کے اس بچے کو دیکھا وہ ہوبہو اپنے فاڈر جیسا ہی تھا وہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جب بولا تو لہجے میں بھی حیرت تھی ” آپ کا بیٹا بھی ہے ؟” کشف اسے ناگواری سے دیکھنے لگی ” ایکسکیوزمی ؟” تو وہ سنبھل گیا

” آئی مین آپ میرڈ لگتی نہیں “

” الحمدللہ میں میرڈ ہوں اور میرا ایک بیٹا بھی ہے ۔۔ آپ اتنی انفو کیوں لے رہے مجھ سے ۔۔ کون ہے آپ ؟” اس کے لہجے میں ناگواری تھی وہ سنبھل کے بات بنانے لگا ” آئی مین ۔۔ چلیں میں چلتا ہوں ۔۔ اللہ حافظ “

” اللہ حافظ ” اسے کہہ کے وہ احد کی طرف مڑی ” احد کم بیٹا ” وہ آگے بڑھ گئی جبکہ وہ شخص وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا ” احد ” اس نے زیر لب نام دہرایا ۔۔ اسکے لبوں پہ بڑی نرم سی مسکراہٹ تھی ۔۔

√√√√√√√√√

” کون تھا ؟” ساری بات سن کے آسیہ پوچھنے لگی ” نو آئیڈیا عجیب سا لگا مجھے بہت وہ ” کشف کھانے کھاتے ہوئے بتا رہی تھی ۔۔ سحر بھی احد کو دیکھ کے پریشان ہو گئی ” میں اب احد کو کھبی اکیلا نہیں چھوڑوں گی کہیں۔۔ وہ اسے کڈنپ نہ کر لیں “

” کون آنی ؟” آسیہ نے گھور کے سحر کو دیکھا ” دیکھ کے بات کرتے ہیں سحر ” وہ سر جھکا گئی ” سوری مما ” آسیہ کشف کی طرف متوجہ ہوئی ” تم اپنے دماغ میں اب یہ باتیں گھسا کے فضول سوچنا مت اسٹارٹ کر دینا ۔۔ تھا کوئی بات ختم ۔۔ ” کشف مسکرا پڑی ” جی مما ۔۔ میں نہیں سوچ رہی کچھ بھی غلط “

” گڈ ” آسیہ مسکرا پڑی تو سحر شرارتی نظروں اسے دیکھنے لگی ” ہماری کشف اتنی خوبصورت ہے کہ کوئی بھی ٹھٹھک کے ان سے پوچھنے لگا جاتا ہے ایکسکیوزمی آپ میرڈ ہے یا کوئی چانس ہے اور ہماری میڈم منہ پہ بول دیتی ہے ۔۔ ایم میرڈ الحمد اللہ ” سحر نے اسی کے انداز میں کہا تو کشف اور آسیہ کی ہنسی بےساختہ تھی ۔۔ ” ہاں تو میرڈ ہوں اور میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں ” بےساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا پھر اچانک سر جھکا گئی ” مما میں بھی اپنے پاپا سے بہت پیار کرتا ہوں ہی لکس لائیک می ” احد کی بات پہ سب مسکرا پڑے ۔۔ جبکہ کشف جھینپ ہی گئی تھی ۔۔ یہ کیا بول گئی تھی وہ بےساختہ ۔۔ جس بات کو ماننے سے وہ اکیلے میں ڈرتی ہے آج سب کے سامنے اس کے منہ سے نکلا تو اسے شرم سی آنے لگی ” ویسے ڈونٹ بی شائی ۔۔ ” اس نے سحر کو گھور کے دیکھا تو وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی ” بھئی ہبی ہے آپ کا ۔۔ دل سے محبت کرے آپ “

” سحر ” آسیہ کی گھوریاں عروج پہ تھی تو وہ خفت سے سر جھکا کے کھانا کھانے لگی ۔۔