Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 14
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 14
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
سب اپنے کمروں میں سو رہے تھے آسیہ کچن میں اپنے لئے چائے بنا رہی تھی جب پیچھے سے کھانسنے کی آواز آئی اس نے مڑ کے دیکھا عباس پاشا کھڑے تھے پھر دوبارہ سے چائے بنانے لگی ” چائے بنا رہی ہوں آپ کے لئے بھی بنا دوں ؟ “
” جی ” کہہ کے وہ وہیں بیٹھ گئے ۔۔ اور آسیہ کو چائے بناتے دیکھنے لگے چائے بنا کے آسیہ ان کے پاس آئی اور چائے کا کپ ان کے سامنے رکھ کے دوسرا کپ اپنے لئے رکھ کے وہیں بیٹھ گئی ۔۔ آسیہ چائے کی پیالی کو گھور رہی تھی اور عباس انھیں دیکھ رہے تھے ۔ ” سحر کون سی کلاس میں ہے ؟ ” عباس نے بات شروع کی ۔۔
” کالج جاتی ہے ” آسیہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔۔ ” یہاں کب آئی ؟” عباس کے سوال پہ آسیہ نے ایک نظر انھیں دیکھا پھر نظریں جھکا دی ” جب آپ چھوڑ گئے تھے ” بےساختگی میں کہنے والی بات پہ انھوں نے عباس کو دیکھا وہ اپنے لب بھینچ رہے تھے ۔۔ انھیں شرمندگی ہوئی ” ایم سوری میرا مطلب آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا ۔۔ “
” سوری تو مجھے کہنا چاہئے آسیہ تم کیوں کہہ رہی ہو ۔۔ اتنے سال ایک بار بھی تم دونوں کی خبر نہیں لی میں نے اور آج تمہارے گھر یوں تمہارے سامنے بیٹھا ہوں ” عباس نے دھیمے لہجے میں کہا تو آسیہ انھیں دیکھنے لگی ” مجھے کوئی شکایت نہیں آپ سے عباس ۔۔ یہ سب اللہ کی طرف سے امتحان تھا” عباس خاموشی سے انھیں دیکھنے لگے ” ارحم کافی تعریف کر رہا تھا “
” ارحم خود بہت نیک بچہ ہے ماشاءاللہ ” آسیہ نے مسکرا کے کہا ۔۔ ” کشف اور احد بہت خوش ہیں ارحم کے آنے سے ۔۔ اللہ مزید خوشیاں ان کے نصیب کرے “
” آمین ” عباس نے دھیرے سے کہا ۔۔
” کافی دل لگا ہوا ہے ہمارا ان کے ساتھ اب وہ لوگ بھی پاکستان چلے جائے گیں تو پھر سے وہی ہم ماں بیٹی رہ جائیں گے ” آسیہ آبدیدہ ہو گئی
” تم لوگ نہیں جا رہے پاکستان ؟” عباس کے پوچھنے پہ آسیہ نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ نظریں چرا گئے ” وہاں ہمارا ہے ہی کون ” آسیہ نے آہستگی سے کہہ کے چائے کی پیالی ختم کی اپنی ۔۔ ” سو جائیں آپ بھی ۔۔ رات زیادہ ہو گئی ہے ۔۔ شب بخیر ” آسیہ نے اٹھتے ہوئے کہا اور عباس کی طرف دیکھے بنا وہاں سے چلی گئی عباس کچھ دیر سر جھکائے خاموشی سے وہاں بیٹھا رہا پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔ آسیہ نے اپنا کمرا انھیں دیا تھا اور خود سحر کے کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔
•••••••••••••••••••••••••••
صبح ناشتے کی ٹیبل پہ سب تھے ۔ کشف نے محبت سے سب کا جائزہ لیا ایک مکمل فیملی تھی ۔۔ جب عباس نے ارحم سے پوچھا ” پاکستان کب جانا ہے ارحم ؟” آسیہ اور سحر نے چونک کے عباس کو دیکھا جبکہ کشف ارحم کو دیکھنے لگی ” جب کشف کو مناسب لگے ” ارحم نے کشف کی طرف دیکھ کے کہا تو کشف مسکرا پڑی ۔۔ جبکہ آسیہ اور سحر کا چہرہ بجھ سا گیا جسے ارحم نے دیکھ لیا تھا ” لیکن ہم اکیلے نہیں جائیں گے میرے کشف اور احد کے علاوہ مما اور سحر بھی جائیں گی ” ارحم کے کہنے پہ سحر نے مسکرا کے اپنے بھائی کو دیکھا جبکہ آسیہ نظریں جھکا گئی ۔۔ کشف آسیہ کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہی تھی لیکن کہا کچھ نہیں۔ ۔۔ ” اور میرا کالج ؟” سحر اداس ہو گئی تھی ” کسی بھی اچھے سے کالج میں ایڈمیشن مل سکتا تمہیں۔۔ ڈونٹ وری ” ارحم نے مسکرا کے کہا
” یو مین ہم ہمیشہ کے لئے جا رہے ۔۔ مما ؟” وہ حیرت سے ارحم کو دیکھ رہی تھی پھر اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگی ۔۔ آسیہ وہاں سے اٹھ آئی انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا فیصلہ کرے اب ۔۔ کشف نے سب پہ ایک نظر ڈالی پھر اٹھ کے آسیہ کے پیچھے ان کے کمرے میں آئی وہ بیڈ پہ بیٹھی ہوئی تھی کچھ سوچتی ہوئی ۔۔ کشف کو انھیں دیکھ کے دکھ ہوا ” مما ” وہ ان کے پاس بیٹھ گئی آسیہ خالی نظروں سے انھیں دیکھنے لگی ” آپ کیا چاہتی ہے مما ؟”
” میں ؟” وہ سوچنے لگی لیکن کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا ” مما میرا اور احد کا آپ دونوں کے بنا وہاں دل ہی کب لگے گا ۔۔ ” کشف محبت سے انھیں دیکھتی کہہ رہی تھی
” بیٹا میں وہاں کہاں رہوں گی ۔۔ میرا وہاں ہے ہی کون ۔۔ وہاں وہ بھی ہوگی عباس کی بیوی ۔۔ میں وہاں کیا کروں گی جا کے ” آسیہ دکھی لہجے میں کہہ رہی تھی ان کا کون سا دل لگنا تھا یہاں اب ان دونوں کے بنا ۔ ” آپ بھی تو بیوی ہیں ان کی ” کشف نے انھیں جتایا وہ استہزائیہ مسکرائی۔
” مما آپ میرے ساتھ رہے گی میرے گھر ۔۔ میرے اور ارحم کے گھر ۔۔ آپ کا احد سے اب دو رشتے بن رہے آپ نانی بھی ہے اور دادی بھی ” کشف آنسو بھری آنکھوں سے مسکرا رہی تھی ۔۔ ” اور سحر تو احد کی آنی بھی ہے اور پھوپھو بھی ۔۔ آپ میرے بیٹے سے اتنے رشتے نہیں چھین سکتی مما ۔۔ ” آسیہ رو پڑی ” میری بچی ۔۔ “
” آپ میری مما بھی ہے ۔۔ میری ٹیچر بھی ۔۔ اور اب تو میری مما ان لا ۔۔۔ آپ سے میں نے بہت کچھ سیکھا عبادت کرنا ۔۔ قرآن پاک پڑھنا ۔۔ خود کو اسٹرونگ بنانا ۔۔ ایک اچھی ماں کیسے بنتے آپ نے مجھے سکھایا ۔۔ آپ میری استاد ہے پھر ۔ آپ کیسے مجھ سے احد سے اتنے رشتے چھین سکتی ہے ” کشف کو رونا آ گیا اس کا دل ڈوب رہا تھا ان سے الگ ہونے کا سوچ کے ہی ۔۔ آسیہ نے اسے گلے سے لگا لیا ” میری بچی ۔۔ میری جان ” دونوں دیر تک روتی رہی ۔۔ مسکراتی رہی ۔۔
••••••••••••••••••••••••
” عباس وہ اٹینشن نہیں دیتا مجھے جو میں چاہتی ہوں ” مہک اپنی پیشانی سہلاتے بول رہی تھی ۔۔ نشے میں ہونے کی وجہ سے اس کی زبان بھی لڑکھڑا رہی تھی ۔۔ اس کا کزن ہمدان غور سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ” میری نیڈز کیا ہیں ۔۔ میں کیا چاہتی ہوں ۔۔ ایک عورت کیا چاہتی ہے وہ سمجھتا ہی نہیں ۔۔ اسے اپنا پہلا عشق ہی نہیں۔ بھولتا اس طوائف کو بھول ہی نہیں پا رہا وہ ۔۔ کمینی نیچ عورت ۔۔ اپنی زندگی سے تو نکال دیا اسے لیکن ابھی بھی موجود ہے وہ ہمارے بیچ ۔۔۔ عباس کو میرے قریب آنے نہیں دیتی وہ اب بھی ” مہک دل کی بھڑاس نکال رہی تھی ۔۔ ہمدان جو اسے پسند کرتا تھا اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ” تو چھوڑ دو اسے ۔۔ سمپل ” ہمدان اسے بتا رہا تھا مہک نے چونک کے اسے دیکھا ” تا کہ پھر اس عورت کے پاس چلی جائے ۔۔ ” اس نے اپنے دانت پیسے
” تو جانے دو ۔۔ تم میرے پاس آ جاؤ ۔۔ ” ہمدان کے کہنے پہ مہک اسے دیکھنے لگی تو موقع کا فایدہ اٹھاتا ہمدان اس کے اور قریب ہو گیا ۔۔ ” میں تمہیں کب سے پسند کرتا ہوں یہ بات تو تم بھی جانتی ہو ۔۔ جتنی محبت چاہو گی میں دوں گا تمہیں ۔۔ جتنا عباس کی قربت کے لئے ترسی ہو اس سے زیادہ سکون پاؤ گی تم میری قربت میں ” مہک اسے اپنی خمار آلود آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جو ہمدان کو بہکا رہا تھا اس نے دھیرے سے مہک کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کر دیے اور اسے اپنے قریب کیا ” میرے پاس آجاؤ مہک ہمیشہ کے لئے ” اس کے کان کے پاس سرگوشی کی ۔۔ مہک کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔۔ اس کی بھی خواہشات جاگنے لگی ۔۔ ہمدان کی قربت میں وہ بھی بہک رہی تھی ۔۔ اسے اس لمحے کچھ نہیں سوچنا تھا بس یہی کہ وہ بہک رہی ہے اسے ہمدان کی قربت میں سکون مل رہا ہے ۔۔ ہمدان نے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دیے وہ تھوڑا جھجکی پھر رکی ” لیکن ۔۔ “
” ہشششششش کچھ مت سوچو ۔۔ بس اس لمحے کو محسوس کرو ۔۔ ” ہمدان نے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ کے سرگوشی کی اور مہک نے بہکے انداز میں خود کو اس کے حوالے کر دیا ۔۔ اسے اس لمحے کچھ نہیں سوچنا تھا نہ عباس کا ۔۔ نہ ارحم کا ۔۔ وہ بس اپنا سوچ رہی تھی جس طرح سے وہ ہمدان کی بانہوں میں مدہوش ہو رہی تھی ۔۔ یہی اس کا بہترین لمحہ تھا
