359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 13

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

ارحم نے عباس پاشا کو اپنی کشف اور احد کی تصویریں واٹس ایپ پہ سینڈ کی تھی ۔۔ ” پاپا میرا یقین نہیں ٹوٹنے دیا اللہ نے ۔۔ دیکھئے میرا ایک بیٹا بھی ہے احد ۔۔ مجھ پہ گیا ہے بلکل ۔۔ ہی از سو کیوٹ ۔۔ ” عباس پاشا اپنے بیٹے کے میسجز دیکھ کے مسکرا رہے تھے ۔۔ خوشی ارحم کے ہر لفظ سے جھلک رہی تھی ۔۔ انھوں نے ارحم کو کال کی ۔۔ فون کے دوسری طرف ارحم کی خوشی بھری آواز ابھری ” ہیلو ڈیڈ ۔۔ “

” ہیلو مائی سن ۔۔ ایم ہیپی فار یو ” عباس پاشا مسکرا کے بولے تھے ” ڈیڈ تھینک یو سو مچ ۔۔ ” ارحم خوش تھا

” میں بھی کچھ دنوں میں نیویارک ا رہا ہوں ایک میٹنگ کے سلسلے میں وہی ملاقات ہوگی پھر اپنے بیٹے ۔۔ بہو اور اپنے پوتے سے ” عباس نے اسے بتایا تو ارحم خوش ہوگیا ” انشاء اللہ ڈیڈ ۔۔ آئی ول ویٹ “

” چلو پھر ٹیک کئیر ۔۔ سی یو ” انھوں فون ڈسکنیکٹ کر دی ۔۔ انھیں اپنا وقت یاد آیا اگر وہ بھی ارحم کی طرح کامل یقین رکھتے اپنے خدا پہ ۔۔ اگر ثابت قدم ہوتے ۔۔ بہادر ہوتے تو آج وقت ان کے بھی ہاتھ میں ہوتا ۔۔ وہ دھیرے سے مسکرا پڑے ۔۔ گزرا وقت کھبی ہاتھ نہیں آتا بس اپنی خوبصورت یادیں چھوڑ جاتا ہے ہمارے ذہنوں پہ ۔۔

•••••••••••••••~~~~~~~••••••••

ب۔” اسلام علیکم بھابی ” کشف جو ارحم اور احد کے ساتھ باہر لنچ کر رہی تھی جب ایک مردانہ آواز پہ اس نے چونک کے دیکھا تو سامنے آریان کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔ ارحم اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور اس سے ملنے لگا ” ارے آریان ۔۔۔ ” کشف نہ سمجھنے والے انداز میں انھیں دیکھ رہی تھی احد بھی چہک کے اس کے گلے لگا تھا ” ہیلو انکل “

” آپ دونوں جانتے ہو ایک دوسرے کو ؟” کشف حیرت سے دیکھ رہی تھی ارحم مسکرانے لگا ” یہ میرا دوست ہے آریان “

” اوہ تو ایسا ہے ” کشف نے کہا تو آریان سر کھجانے لگا ” سوری بھابی ۔۔ پہلے کی باتوں کے لئے “

” نو ایکچوئیلی ایم سوری میں زیادہ بول گئی تھی ” کشف شرمندہ تھی

” ارے نہیں پلیز ۔۔ ” آریان نے کہنا چاہا تو ارحم نے روک دیا

” سوری چھوڑو آپ دونوں ۔۔ کم جوائن از ” وہ مسکراتا ہوا ان کے ساتھ بیٹھ گیا ” انکل یہ میرے ہینڈسم پاپا ہے ” احد کے کہنے پہ سب ہنس پڑے جبکہ آریان کہنے لگا ” مجھ سے تھوڑا کم ہینڈسم ہے آپ کے پاپا ” احد منہ بسورنے لگا تو آریان نے اس کے بال بکھیر دیے ” اوکے ینگ مین آپ کے پاپا ہینڈسم ۔۔ ہیپی ؟؟” تو احد اثبات میں سر ہلانے لگا ۔۔ کشف احد کو دیکھ رہی تھی اس سے ہوتے ارحم پہ اس کی نظر پڑی ۔۔ اس کے چہرے پہ بہت خوبصورت اور پر سکون مسکراہٹ تھی ۔۔ طمانیت کشف کے اندر تک پھیل رہی تھی ۔۔ اس کی چھوٹی سی فیملی خوش ہیں ایک ساتھ ۔۔

••••••••~~~~~~~•••••••••••

ب بب” جو اسٹیپ میں پاسٹ میں میں نہ اٹھا سکا وہ اسٹیپ میرے بیٹے نے اٹھایا ہے اور میں خوش ہوں اور اس کے ساتھ ہوں ” عباس پاشا کی بات پہ مہک عباس سیخ پا ہو گئی ” اوہ تو پہلا عشق سر چڑھ کر یاد آ رہا ہے مسٹر عباس پاشا کو ” وہ اونچی آواز میں بولی تھی عباس اسے دیکھنے لگے ” مہک سوچ سمجھ کے بولا کرو “

” یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ نشے میں ہو یا ہوش میں ؟” وہ نخوت سے کہہ رہی تھی ” باپ تو تھا ہی طوائف کا دیوانہ ۔۔ ایک بیٹا بھی ملا وہ بھی باپ کی طرح طوائف کے ساتھ فیملی بنانے چلا ہے “

” شٹ اپ ” عباس چلائے تھے لیکن مہک پہ ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑا ۔۔ وہ یونہی بیٹھی اپنے ناخن کتر رہی تھی ۔۔ عباس کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر کمرے سے ہی باہر نکل گئے ۔۔ مہک نے نخوت سے سر جھٹکا ۔۔ وہ آج تک اپنے فیصلے پہ افسوس ہی کرتے آ رہے تھے ۔۔۔۔۔ ہمیشہ خود کو ہی کوستے کہ اگر تب انھوں نے سوچ سمجھ کے کوئی فیصلہ کیا ہوتا تو آج وہ بھی خوش ہوتے ۔۔۔

•••••••••~~~~~~~~~••••••••

دونوں ہاتھوں میں ہاتھ دیے نیویارک کی سڑکوں پہ قدم سے قدم ملا کے چل رہے تھے ۔۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے جب جب ٹکراتا وہ خود میں سمٹ سی جاتی ۔۔ ارحم زیر لب مسکرا رہا تھا پھر دھیرے سے اسے بازوؤں کے حصار میں لے کے خود کے قریب کیا ۔۔ کشف مسکرا پڑی ۔۔ ” اب نہیں لگے گی سردی ” ارحم نے نرمی سے سرگوشی کی تھی ۔۔ ” اور اگر لگ گئی تو ؟” کشف شرارت سے بولی ۔۔

” تو اور قریب کر لوں گا ” ارحم نے اسی کے لہجے میں شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔۔ کشف مسکرا کے جھینپ گئی ” پھر تو نہیں لگے گی نا سردی بیگم صاحبہ ؟” وہ تھوڑا جھک کے اس سے پوچھ رہا تھا کشف بلش کر گئی ۔۔ اس کے چہرے پہ حیا کے رنگوں کو دیکھتا وہ مسکرانے لگا ۔۔ میرال کے روپ میں جس عورت کو اس نے دیکھا تھا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کے اسے دیوانہ وار عشق جتاتی اور کشف کے روپ میں وہ جس عورت کو دیکھ رہا تھا وہ نرمی سے پلکیں جھکائے شرمیلی مسکان لبوں پہ سجائے ۔۔ حیا کے رنگوں میں ڈوبی ارحم کو اس سے اور عشق کرنے پہ اکساتی ۔۔ کشف ادھر ادھر دیکھنے لگی تو وہ پوچھ بیٹھا ” کیا ڈھونڈ رہی ہو ؟”

” پانی ۔۔ ” کشف کے کہتے ہی اس کی نظر سامنے شاپ پہ پڑی ۔۔ وہاں سے مینرال واٹر کی بوتل لیے وہ باہر آیا تو کشف سینے پہ ہاتھ باندھی کانپتی ہوئی سردی کی شدت کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔ ریڈ اسکارف کے ہالے میں اس کے گال گلابی ہو رہے تھے ۔۔ اس کی نازک سی ناک بھی گلابی ہو رہی تھی ۔۔ ارحم مسکراتا اس کے پاس آیا اور اسے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا کشف اسے دیکھنے لگی تو بوتل کشف کے منہ سے لگا کے اسے پانی پینے میں مدد دینے لگا ۔۔ کشف جب پانی پی چکی تو ارحم کیپ بند کرنے لگا اور کشف اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ ارحم نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ کے اپنی محبت کی مہر ثبت کی ۔۔ کشف دھیرے سے مسکرا پڑی ۔۔

•••••••~~~~~~••••••••

عباس پاشا میٹنگ سے جیسے ہی نکلے ارحم ان کا منتظر تھا عباس پاشا اپنے بیٹے کے گلے لگے ان کے اندر ایک سکون سا پھیل گیا تھا ۔۔ ” ویلکم ڈیڈ “

” تھینک یو مائی سن ۔۔ چلو اب جلدی سے مجھے میری بہو اور میرے پوتے سے ملاؤ ویٹ نہیں ہو رہا ۔۔ ” عباس خوشدلی سے بولے

” شیور چلیں ” ارحم انھیں لیے عمارت سے باہر نکلیں۔ ۔ گھر کے سامنے گاڑی رکی تو دونوں باپ بیٹا مسکراتے ہوئے گاڑی سے نکلے ۔۔ بیل بجانے پہ احد اور کشف نے دروازہ کھولا ” اسلام علیکم ۔۔ خوش آمدید ” کشف نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا عباس نے بھی اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ” وعلیکم السلام بیٹی ۔۔ ” احد کھڑا انھیں دیکھ رہا تھا تو ارحم بولے ” بیٹا ہی از یور گرینڈ فاڈر ۔۔ ” احد نے بھی اپنی ماں کی طرح سلام کیا انھیں تو عباس نے اسے گلے لگا لیا ” وعلیکم السلام مائی پرنس “

” نو کال می اسپائیڈر مین ۔۔ ” اس کی بات پہ سب مسکرا پڑے ۔۔ سب اندر چلے گئے ۔۔ عباس نے جیسے ہی سامنے دیکھا تو ماضی کا ہر پل ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گیا ۔۔ وہ ساکت آنکھوں سے سامنے کا منظر دیکھ رہے تھے یہی کیفیت آسیہ کی بھی تھی ۔۔ پرانی یادیں ۔۔ پرانے خوبصورت لمحوں کے کچھ مناظر ۔۔ آسیہ نے گھبرا کے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ لیا ” آسیہ ۔ ” سحر ناسمجھی سے اپنی ماں کو دیکھا اور پھر سامنے کھڑے شخص کو ۔۔ اس نے اپنی ماں کو تھام لیا ” مما ؟” آسیہ اپنی بیٹی کو دیکھنے لگی ان کی آنکھوں میں آنسو تھے عباس نے سامنے کھڑی سحر کو دیکھا ان کی آنکھوں میں دکھ ۔۔ محبت آنسو تھے ۔۔ ” یہ ۔۔ یہ میری بیٹی ہے نا ؟” عباس آنکھوں میں آنسو لیے سحر کو دیکھ رہے تھے ۔۔ آسیہ کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ آگئی ۔۔ ” کون سی بیٹی ؟ جسے آپ چھوڑ کے چلے گئے تھے ” آسیہ آنسو دھکیلتی کہہ رہی تھی ۔۔ ارحم ۔۔ کشف اور سحر حیرت سے انھیں دیکھ رہے تھے ۔۔

” ہاں اپنی غلطی کی سزا بھی پا چکا ہوں میں ۔۔ پچھتاؤں کے بیچ کچلا جا چکا ہوں میں پل پل ۔۔ ڈھونڈا بھی لیکن نہیں مل سکا تم سے دوبارہ ” عباس سر جھکائے کہہ رہے تھے جبکہ آسیہ کی سپاٹ نظریں ان پہ تھی ” چھوڑا ہی کیوں تھا جو ڈھونڈنے نکل پڑے تھے عباس پاشا ” سحر کی نم آنکھیں بھی اپنے باپ پہ تھی ۔۔ جبکہ ارحم حیرت سے دیکھ رہا تھا سحر اس کی چھوٹی بہن تھی ۔۔ عباس ہاتھ جوڑے ان دونوں کے سامنے کھڑے تھے ” مجھے معاف کردو آسیہ ۔۔ محبت تو کر بیٹھا تھا میں لیکن مجھے محبت نبھانے کا سلیقہ نہ آیا ۔۔ میں ہاتھ جوڑے تم سے معافی مانگ رہا ہوں ۔۔ مجھے معاف کردو ۔۔ تمہیں اپنی بیوی بنایا لیکن بیوی کے حقوق کیا ہیں یہ نہیں جان پایا ۔۔ بیٹی کا باپ بنا لیکن بیٹی پہ شفقت کا ہاتھ نہ رکھ پایا ۔۔ ” وہ اپنے گھٹنوں پہ ہاتھ جوڑے نیچے بیٹھ گیا آسیہ اتنی بھی ظالم نہ تھی ان کا دل ہی تڑپ اٹھا آگے بڑھ کے انھوں نے عباس کے ہاتھ تھام لیے ” ایسے مت کرے ۔۔ اٹھئیے ۔۔ “

وہ رو رہے تھے ” میں گنہگار ہو تمہارا ۔۔ مجھے معاف کر دو “

” میں کب کا آپ کو معاف کر چکی ۔۔ اٹھئیے پلیز ۔۔ ” وہ انھیں اٹھانے لگی ۔۔ وہ کھڑے ہوئے تو سحر بھی نم آنکھوں کے ساتھ آگے بڑھی عباس نے تڑپ کے اپنی بیٹی کو گلے لگا لیا ۔۔ کشف کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے جبکہ ارحم مسکراتا ہوا عباس کے پاس آیا تھا ” مجھے معلوم نہیں تھا میری ایک چھوٹی بہن بھی ہے ۔۔ ” سحر اسے دیکھ کے مسکرا پڑی تو ارحم نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ۔۔ بچھڑی محبتوں ۔۔ بچھڑے رشتوں کا یہ ملاپ سب کو آبدیدہ کر گیا لیکن ساتھ میں سکون سا بھی ملا ۔۔