359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 3

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

” بیشک اللہ بڑا مہربان ہے ۔۔ اللہ توبہ کے دروازے ہمیشہ اپنے بندوں کے لئے کھلے رکھتا ہے ۔۔ جب جب اس کا بندہ گناہ کرتا ہے اور پھر اللہ کی پناہ مانگتا ہے ۔۔ اور استغفار کرتا ہے تب تب اللہ اسے سنتا ہے ۔۔ اسے بخشتا ہے ۔۔ پس اے انسانوں اس سے بڑھ کر عشق اور کیا ہوگا عشق حقیقی سے بڑھ کر کوئی عشق نہیں ۔۔ اپنے رب سے محبت کرو ۔۔ اپنے رب کی عبادت کرو اپنے رب سے دعا مانگو ۔۔ دنیا و آخرت کی کامیابی تمہاری ہے ” آسیہ کہہ رہی تھی اور کشف کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئی تھی ” کیا ہوا میری بچی ؟” آسیہ اس سے پوچھنے لگی ” مما کیا میں بخشی گئی ہوں؟” وہ پوچھ رہی تھی آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے آسیہ مسکرائی ” جب تم اللہ کی بارگاہ میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو اس کا مطلب پتہ ہے کیا ہے ؟ اس کا مطلب ہے کہ اللہ خود تمہیں دعوت دے رہا ہے ۔۔ جب تم عبادت کرتی ہو تب تمہارے قلب کو سکون ملتا ہے اس کا مطلب ہے اللہ تمہیں سن رہا ہے ۔۔ جب تم تلاوت قرآن پاک کرتی ہو تو اس کا مطلب ہے تمہارا اندر نور سے بھرا جا رہا ہو اور جب تم دعا کرتی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم اس سے مانگو ۔۔ میرے بچے یہ سب آسان نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے ۔۔ یہ سب اللہ چاہتا ہے جو تم ہدایت کے راستے پہ ہو ۔۔ بیشک اللہ مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے ۔۔ ” کشف روتے روتے مسکرا پڑی ” آپ بہت اچھی باتیں کرتی ہے دل کو سکون ملتا ہے ۔۔ میرا دل چاہتا ہے میں سوال کرتی جاؤں اور آپ جواب دیتی جاؤ “

” پوچھا کرو میری بچی ۔۔ سب پوچھا کرو جو دل کرے پوچھا کرو۔ اللہ پوچھنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور یہ تمہارے اندر کا وہ مومن ہے جو بار بار چاہتا ہے کہ وہ سب کچھ جان لیں ۔۔ ” کشف سر جھکائے بیٹھی رہی ” کیا سوچ رہی ہو کشف ؟”

آسیہ کے پوچھنے وہ سر اٹھا کے دیکھنے لگی ” احد کے بارے میں سوچ رہی ۔ اللہ مجھے ہمت دے کہ میں اس کی صحیح تربیت کر سکوں “

” انشاللہ تم ایک اچھی ماں ہو کشف ۔۔ اور احد ایک فرمانبردار بیٹا ہے تمہارا ۔۔ اس سے بڑی خوش نصیبی ایک ماں کے لئے اور کیا ہوگی کہ اس کی اولاد فرمانبردار ہو ۔۔ یہ اللہ کا انعام ہے ۔۔ رحمت ہے اللہ کی تمہارے اوپر ” کشف خوشدلی سے مسکرائی ” بیشک مما احد بہت اچھا بچہ ہے ۔۔ میں نماز پڑھ لوں ” وہ اٹھنے لگی آسیہ نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ” اللہ قبول فرمائے ” ” امین ” کشف کہہ کے جائے نماز لے کے نماز پڑھنے چلی گئی ۔۔

√√√√√√√√√√√√

ارحم آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب ڈھرام سے دروازہ کھول کے میرال اندر آئی ۔۔ اس کے پیچھے ارحم کی سیکریٹری بھی تھی جسے ارحم نے واپس جانے کا اشارہ کیا اور اپنی جگہ سے کھڑا ہوکےمیرال کو دیکھنے لگا ۔۔ وہ پچھلے ایک ہفتے سے میرال کے پاس نہیں گیا تھا میرال نے قریب آتے ہی اس کا گریبان پکڑ لیا ” کیوں نہیں آتے ملنے مجھ سے ؟ کیوں مجھ سے دوری اختیار کی ہوئی ہے ” اس کی کاجل بھری آنکھوں میں آنسو تھے ارحم اسے دیکھے گیا ” میں بزی تھا ۔۔ آؤٹ آف کنٹری تھا “

” بزی تھے ۔۔ میسجز تک نہیں دیکھے تم نے ۔۔ ” وہ شکایت کر رہی تھی ارحم اس کے چہرے سے اس کے بکھرے بال ہٹانے لگا ” بہت بزی تھا سوری ” میرال نے قریب ہو کے اس کے لبوں پہ اپنے تشنہ لب رکھ دیے اور آنکھیں موندے اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتارتی رہی ۔۔ ارحم جو اتنے عرصے اس سے دور رہا تھا میرال کی بےباکی پہ اسے اور اپنے قریب کر لیا ۔۔ پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” یہاں نہیں فلیٹ چلتے ہیں ” وہ اسے لیے آفس سے نکلا اور گاڑی میں بیٹھ کے فلیٹ کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔ دونوں کے بیچ خاموشی بول رہی تھی ۔۔ فلیٹ میں آ کے اس نے دروازہ لاک کیا اور میرال کو دیوار کے ساتھ لگا کے اس کی گردن پہ جھکا ۔۔ میرال کا دل بے قابو ہو رہا تھا اس کی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگی ۔۔ ارحم میرال کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” اتنا یاد کرتی ہو مجھے ؟” میرال دیوانہ وار اسے دیکھ رہی تھی ” تمہاری سوچ سے بھی زیادہ ” ارحم اسے لیے بیڈ پہ آگیا اور اس پہ جھک کے اسے دیوانہ وار چومنے لگا اور میرال اس کی دیوانگی ۔۔ اس کی جنونیت کے آغوش میں مدہوش ہوتی چلی گئی ۔۔

ببببببمیرال بیٹھی چاکلیٹس کھا رہی تھی جب ارحم اس کے لئے اور اپنے لئے کافی بنا کے لے آیا ۔۔ ” تھینک یو ” کہہ کے اس نے ایک کپ لیا ۔۔ ارحم بھی اپنا کپ لیے اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔ میرال کپ سے اٹھتے بھاپ کو غور سے دیکھ رہی تھی ” میری یاد نہیں آئی آپ کو ارحم ؟” وہ اسے بنا دیکھے پوچھ رہی تھی ” بتایا نا میں بزی تھا ” ارحم اس کے چہرے کو دیکھتا بولا

” ایک سیکنڈ کو بھی میری یاد نہیں آئی ” میرال پھر بھی اپنے سوال پہ بضدتھی ۔۔ ارحم اسے دیکھتا رہا ” آئی تھی ۔۔ لیکن ٹائم نہیں ملا ” میرال استہزائیہ ہنسی ” ہونہہ صاحب بزی تو ہم بھی ہوتے ہیں ۔۔ لیکن آپ کی یاد سے کھبی تغافل نہیں برتتے ” وہ کپ سے نظریں ہٹا کے ارحم کو دیکھنے لگی اب ۔۔ ارحم کی نظریں اسی پہ تھی ” سوری ۔۔ میری وجہ سے تم ہرٹ ہوئی میرال ” ارحم شرمندہ سا تھا ۔۔ وہ اس لڑکی کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ دنیا جہان کی برائیاں تھی اس میں لیکن میرال پھر بھی عشق کرتی تھی اس سے اور یہ بات ارحم کو اس سے دور ہونے نہیں دیتی تھی ۔۔ میرال مسکرا رہی تھی ” اٹس اوکے ارحم ” پھر سے کپ پہ نظریں جما دی اس نے ۔۔ ارحم کو لگا وہ زیادہ ہرٹ ہوئی ہے اداسی تھی اس کے چہرے پہ ۔۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کے میرال کو اپنے قریب کر لیا ۔۔ میرال نے اس کے کندھے پہ اپنا سر رکھ کے آنکھیں موند لیں ۔۔ ” کیا ہے تم میں ارحم ۔۔ ایسا کیا ہے جو میرال تمہیں دل دے بیٹھی ہے اپنا ” وہ کھوئی کھوئی سے کہہ رہی تھی ۔۔ ارحم نے اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دیے ” بتا دو میرال ایسا کیا دکھا تمہیں مجھ میں ؟” میرال سر اٹھا کے ارحم کے خوبصورت چہرے کو ایک جذب کے عالم میں دیکھ رہی تھی ۔۔ پھر اس کے لبوں کے قریب اپنے لب کر کے دھیرے سے بولی ” میرال عشق کرتی ہے اپنے ارحم سے ۔۔ عشق ” ارحم کو حیرت ہوتی تھی کہ ایسا عشق بھی ہو سکتا ہے کسی کو کسی سے ۔۔ مانا کہ ارحم کو پسند تھی میرال ۔۔ وہ بس اسی کے لئے وہاں جاتا ۔۔ ان گلیوں میں لیکن میرال جیسا عشق اسے کھبی محسوس نہیں ہوا تھا ۔۔

√√√√√√√√√√√√√

” فبأی الاء ربکما تکذبان” کشف نے تلاوت ختم کی ۔۔ قرآن پاک کو اپنی جگہ پہ رکھ کے وہ لاؤنج میں آئی جہاں احد کے لئے سحر اس کے فیورٹ کوکیز بنا رہی تھی ۔۔ کشف کو دیکھ کے احد کھلکھلانے لگا ” مما آنی کوکیز بنا رہی میرے لئے ” کشف وہیں آ کے بیٹھ گئی ” ارے واہ جناب مزے ” سحر اسے دیکھ کے پوچھنے لگی ” کافی بنا دوں آپ کے لئے ؟”

” ہاں پلیز ۔۔ ہیڈک ہو رہا آج تو” کشف اپنا سر دباتی بولی ۔۔ سحر اس کے لئے کافی بنانے لگی کشف ادھر ادھر دیکھنے لگی ” مما کدھر ہے ؟”

” مما مارکیٹ تک گئی ہے ساتھ والی سارہ آنٹی کے ساتھ ۔۔ کچن کا سامان لینے ” سحر کے بتانے پہ کشف اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔ پھر اپنا موبائل لے کے وہ چیک کرنے لگی ۔۔ احد کوکیز دیکھ کے چہک رہا تھا کشف نے مسکراتے ہوئے ایک نظر احد پہ ڈالی ۔۔ سحر بھی اس کے ناز اٹھا رہی تھی کشف دوبارہ سے موبائل کو دیکھنے لگی سحر کافی کا کپ اس کے پاس رکھ کے اسی کے پاس بیٹھ گئی ” کشف آپ کی کافی “

” تھینک یو سحر ” وہ کپ منہ سے لگا کے کافی کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگی سحر اسے دیکھ کے مسکرائی ” آپ کو کافی کی اسمیل بہت اٹریکٹ کرتی ہے کشف ؟”

” ہاں بہت ” وہ دھیمے سے مسکرا کے احد کو دیکھ رہی تھی جو کوکیز بھی کھا رہا تھا اور ٹی وی پہ کارٹون بھی دیکھ رہا تھا ” تھینک یو سحر میرے بیٹے کے اتنے نخرے اٹھانے کا ” سحر اسے گھورنے لگی ” وہ میرا بھی بیٹا ہے ۔۔ آنی ہوں میں اس کی ” وہ خفگی سے بولی تھی ” سوری ” کشف شرمندہ ہونے لگی ۔ ” میرا ایسا مطلب نہیں تھا ” سحر نے اس کے ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ رکھا ” اٹس اوکے کشف ۔۔ بٹ میں احد سے بہت پیار کرتی ہوں اور جو کرتی ہوں وہ اپنی خوشی سے کرتی ہوں ۔۔ ” کشف اس کی محبت پہ ممنون سی ہو گئی اسی وقت بیل بجی سحر اٹھ کے دروازہ کھولنے چلی گئی ۔۔ ” مما ہوگی ” دونوں بہنیں اٹھ کے آسیہ کے ہاتھ سے پیکٹس لے کے کچن میں لا کے شیلف پہ رکھنے لگی