359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 8

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

اسکے وجود میں ایک ننھا وجود پنپ رہا تھا ۔۔ اسے خود سے محبت ہو رہی تھی ۔۔ اسے خود سے عقیدت کااحساس ہو رہا تھا ۔۔ اس کے دل میں خود کے لئے احترام بڑھ رہا تھا ۔۔ ” اے میرے رب ۔۔۔ آپ نے کہا مجھے آواز دے ۔۔ مجھ سے مانگ ۔۔ سکون مانگ ۔۔ سیدھا راستہ مانگ ۔۔ مجھے پکار ۔۔ اور جب میں نے اپنے رب کو پکارا تو میرے رب نے مجھے اپنی اتنی بڑی نعمت سے نواز دیا ۔۔ میں اپنے رب کی شکر گزار ہوں ۔۔ ” اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔۔ ” آگے بھی میرے پروردگار میرے لئے وہی فرما دے جو میرے لئے بہتر ہے ۔۔ میں آپ سے اپنے لئے بہتری مانگتی ہوں ۔۔ ارحم ۔۔ ” وہ چپ ہو گئی کیا مانگے وہ کیا ؟؟ ” ارحم کو اپنے نیک بندوں میں شامل فرما میرے رب میرے ارحم کو ہدایت عطا فرما ” اس نے ارحم کے لئے بھی وہی مانگا جو وہ اپنے لئے مانگتی ہے ۔۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں نا ۔۔ ہم اس کی اچھی زندگی کی دعا کرتے ہیں ۔۔ اس کی خوشیوں کے لئے دعا کرتے ہیں ۔۔ اور اس کے لئے اچھا مانگتے ہیں اپنے رب سے یہی مانگتے ہیں کہ ہمارا محبوب ہمیشہ سیدھے راستے پہ چلیں ۔۔ اللہ کے دیے ہوئے احکامات کے مطابق چلے ۔۔ کشف بھی ارحم کے لئے اس کی بہتری مانگ رہی تھی ۔۔ اس کی دنیا و آخرت سنوارنا چاہ رہی تھی ۔۔

√√√√√√√√√√√√

آئینے کے سامنے کھڑا وہ خود کو دیکھ رہا تھا ۔۔ اسے اپنے چہرے سے گھن آ رہی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے ۔۔ اس کے لب گلابی نہیں تھے بلکہ سیاہ ہو چکے تھے رہے تھے زیادہ نشے کی وجہ سے ۔۔ اس کے چہرے پہ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی ۔۔ نیند کی کمی کی وجہ سے اس کا رنگ عجیب ہو رہا تھا ۔۔ اسے اپنے وجود سے گھن آ رہی تھی ۔۔ اسے لگ رہا تھا وہ برسوں جا نہیں نہایا حالانکہ وہ صبح ہی شاور لے چکا تھا ۔۔۔ اسے اپنے وجود سے بدبو کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔وہ شاور کھول کے اس کے نیچے کھڑا ہو گیا اور آنکھیں بند کر کے گرتے گرم پانی کو خود پہ محسوس کرتا رہا ۔۔ وہ رو رہا تھا ۔۔ اس کی بند آنکھوں کے سامنے اس کے سارے گناہ ایک فلم کی طرح چل رہے تھے ۔۔ وہ خود سے شرمندہ ہو رہا تھا ۔۔ وہ خود سے متنفر ہو رہا تھا ۔۔ اس کے کانوں میں وہی بوڑھے آدمی کی باتیں گونج رہی تھی ۔۔ ” تیرا سکون تیرے اندر ہے ۔۔ تیرا رب تجھ سے تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔۔ جھانک اپنے دل میں جھانک ۔۔ اپنی روح میں جھانک ۔۔ تجھے تیرا رب تیرے پاس ہی ملے گا ۔۔ اور جب تو اپنے رب کو پا لے گا تو تو اپنے سکون کو پا لے گا ۔۔ پکار اپنے رب کو پکار۔۔ مانگ اپنے رب سے مانگ ۔۔ تیرے رب کو تیرا ہاتھ پھیلا کے مانگنا پسند ہے ” وہ دیر تک وہیں کھڑا روتا رہا ۔۔

مسجد کے آگے کھڑا وہ دیر تک اپنے سامنے کھڑی اس عمارت کو دیکھتا رہا ۔۔ وہ کیسے جائے اندر یہی سوچ رہا تھا وہ ۔۔ جب اذان کی آواز گونجنے لگی ۔۔ ” اللہ اکبر اللہ اکبر “وہ شاید آج پہلی بار اذان کو غور سے سن رہا تھا ۔۔ اسے لگا اس کا رب اسے پکار رہا ۔۔ اسے بلا رہا اپنی طرف ۔۔ لیکن وہ کھڑا تھا ساکت ۔۔ اس میں سکت نہیں تھی ہلنے کی آگے جانے کی ۔۔ اس کے ارد گرد لوگ جا رہے تھے مسجد کی طرف اور وہ وہیں کھڑا رہا ۔۔ جب کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اس نے چونک کے دیکھا اس کی آنکھیں ویران تھی ۔۔ اس کے چہرے پہ دکھ رقم تھی ۔۔ بالکونی تھی جسے اس انسان نے پڑھ لیا تھا ۔۔ اس کے سامنے ایک نورانی چہرے والے انسان کھڑے تھے جن کی ڈارھی میں کچھ کچھ سفیدی جھلک رہی تھی ۔۔ ” آؤ بیٹا نماز کو دیر ہو رہی ہے ” وہ انھیں دیکھ رہا تھا بنا کچھ کہے ۔۔ انھوں نے اس کو کندھے سے تھام کے مسجد کی طرف بڑھ گئے پھر اپنے جوتے اتارے تو اسے بھی کہا ” اپنے جوتے اتارو بیٹے ” اس نے جوتے اتار دیے اور ان کے ساتھ مسجد میں چلا گیا ۔۔ وہ مسجد کے امام صاحب تھے ان کا نام امام احمد رضا تھا انھوں نے ارحم کو اپنے پیچھے صف میں کھڑا کیا اور خود آگے کھڑے ہو کے نماز کی نیت کرنے لگے ۔۔ وہ ان سب کے ساتھ نماز پڑھتا رہا جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھے تو اس کی سسکی امام احمد رضا کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔ وہ محویت سے دعا پڑھ رہے تھے اور ارحم کی سسکی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔ اسے لگ رہا تھا جیسے ابھی دل اس کے سینے سے باہر آ جائے گا ۔۔ انھوں نے دعا ختم کی تو سب ایک ایک کر کے اپنی جگہ سے اٹھ کے مسجد سے باہر جانے لگے جبکہ ارحم وہیں بیٹھا رہا ۔۔ ہاتھ دعا میں اٹھائے وہ رو رہا تھا ۔۔ احمد رضا اس کی طرف مڑے اور اسے خاموشی سے دیکھتے رہے ۔۔ وہ دعا ختم کر کے اپنے آنسو صاف کرنے لگا وہ مسکرا رہے تھے پھر ٹھہر کے بولے ” بیٹا کیا نام ہے تمہارا ؟” وہ انھیں دیکھنے لگا ” ارحم “

” ماشاءاللہ ۔۔ کیوں رو رہے ہو؟ میں پوچھ سکتا ہوں ؟” وہ پوچھ رہے تھے وہ سر جھکا گیا ” مجھ سے میرا سکون کھو گیا ہے مجھے میرا سکون چاہئے ” انھوں نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ” یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ کو سکون ملے گا بیٹا “

” میں نے کھبی غور سے اذان نہیں سنی تھی ۔۔ آج سنی تو میں اپنی جگہ سے ہل نہ پایا ” وہ نہ جانے کیوں شرمندہ ہو رہا تھا ۔۔

” کوئی بات نہیں بیٹے یہ وقت مجھ پہ بھی آ چکا ہے ۔۔ یہ وقت سب پہ آتا ہے ۔۔ کسی کو جلدی ہدایت ملتی ہے اور کسی کو دیر سے ۔۔ تم خوشنصیب ہو بیٹا جو تم اللہ کی ہدایت پا چکے ہو ۔۔ بھٹکنے سے بچ گئے ہو” وہ بول رہے تھے ” میری بیوی کھو گئی ہے ۔۔ مجھ سے دور ہو گئی ہے ۔۔ مجھے چھوڑ کے چلی گئی ہے ۔۔ میں ۔۔۔ میں اچھا شوہر نہ بن پایا تھا وہ تھک کے چلی گئی ۔۔ کہاں ڈھونڈوں اسے ” وہ پھر سے رو رہا تھا احمد رضا اسے دیکھتے رہے اور پھر سکون سے بولے ” اپنے رب سے مدد مانگو ۔۔ اپنے رب کو پکارو ” وہ چونک کے انھیں دیکھنے لگا ” مانگو اپنے رب سے بیٹا ۔۔ سجدے میں گڑگڑاؤ ۔۔ دعا میں پکارو اپنے خدا کو ۔۔۔ تم اپنا مقصد پا لو گے ۔۔ ” وہ مسکرا رہے تھے اور ارحم عباس انھیں آنسو بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔ اسے اپنے دل میں سکون پھیلتا محسوس ہو رہا تھا۔

√√√√√√√√√√•••••••••√√√√√√√√√√

” ماشاءاللہ آپ پہ تو روپ آ گیا ہے کشف ” سحر کشف کو دیکھتی بولی تھی تو کشف بےساختہ مسکرا پڑی ” تھینک یو ۔۔ “

” مما کشف اتنا پیارا تلاوت کرتی ہے آئی سوئیر مما ان کو سن کے میں آپ کو بھول جاتی ہوں ” سحر اب کی بار آسیہ کی طرف دیکھ کے بولی تھی کشف جھینپ ہی گئی ” ایسے نہیں کہتے سحر ۔۔ ماشاءاللہ مما کی کیا بات ہے ان کا جتنا ہونے کے لئے مجھے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے “

” کشف سچ میں تمہاری آواز میں ایک خاص کشش ہے میری جان ۔۔ ” آسیہ کی تعریف کے انداز پہ کشف مسکرائی ۔۔ ” چلو آج ہم تینوں باہر چلتے ہیں ڈنر کرنے ” آسیہ کے کہتے ہی سحر شور مچانے لگی ” یسس ۔۔۔ یو آڑ آ سوپر مام ” کشف ہنسنے لگی سحر کو دیکھ کے ۔۔ وہ ان کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی ۔۔ اور وہ دونوں بھی اس کا دل و جان سے خیال رکھتے تھے ۔۔ اور اب تو وہ جب سے پریگنینٹ ہوئی تھی تب سے اسے ایک پل کے لئے بھی دکھی ہونے نہ دیتے ۔۔ کام کرنے نہ دیتے ۔۔اس نے جاب بھی ڈھونڈ لی تھی اپنے لئے ۔۔ اب وہ شام تک وہی بوتیک میں مصروف ہوتی ۔۔ شام کو بھی آ کے وہ آسیہ اور سحر کے ساتھ لگی ہوتی پھر رات کو سونا اور صبح اٹھ کے پھر سے وہی روٹین ۔۔ اس کے 4 مہینہ چل رہا تھا زندگی اس کے لئے اب بہت بامعنی ہو گئے تھے ۔۔ وہ اکیلی نہیں تھی اب ۔۔ اسکے ساتھ اسکا بیٹا بھی تھا جو اس کی کوکھ میں پل رہا تھا اور کچھ مہینوں کے بعد دنیا میں آ کے کشف کی زندگی کو رنگینیاں بخشنے والا تھا ۔۔

وہ اپنے ساتھ مسکرائے جا رہی تھی جب سحر نے اسے آواز دی ” کشف ” وہ مڑ کے سحر کو دیکھنے لگی جس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا باکس تھا ” جی؟” پہلے اس کے ہاتھ میں موجود اس باکس کو دیکھا پھر اسے .

” آپ آئیے نا ادھر ” وہ اس کے پاس آگئی ” بیٹھئے ” وہ اسے دیکھتی بیٹھ گئی تو سحر نے باکس اس کے سامنے رکھا اور خود بھی پاس ہی بیٹھ گئی ” یہ ہمارے بے بی کے لئے ” کشف نے اسے حیرت سے دیکھا ” آئی نو جلدی ہے بٹ میری پاکٹ منی فضول میں اینڈ ہو جاتی ۔۔ سوچایہ لے لوں ” اتنی محبت پہ کشف کی آنکھوں میں آنسو آگئے اس نے آگے بڑھ کے سحر کو گلے لگایا ” تھینک یو سو مچ ڈئیر ” سحر نے اس کے گال چومے ۔۔ ” مت رویا کرے آپ کشف “

” اتنی محبت پہ آنکھیں بھر آتی ہے میری ۔۔ آپ دونوں بہت اچھی ہو ۔۔ میرا بیٹا بہت لکی ہے جو اتنی لونگ اور کئیرنگ فیملی ملے گی اسے ۔۔ ” وہ جذباتی ہو گئی تھی سحر مسکرا پڑی ” میں آنی ہونگی اس کی اینڈ موسٹلی آنی پیار کرتی اپنے نیفیو کو ” کشف نے اس کے گال چومے ۔۔ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی تھی کہ اسے یہ فیملی ملی تھی ورنہ ارحم کے بعد تو ایسے لگ رہا تھا جیسے زندگی تنگ ہی ہوگئی ہو اس پہ !!!

√√√√√√√√√√√√√

سب عشا کی نماز پڑھ کے جا چکے تھے لیکن وہ یونہی اپنی جگہ پہ بیٹھا رہا ۔۔۔ وہ دیر تک سجدے کی حالت میں پڑا رہا۔۔۔ جب اٹھا تو اس کی آنکھیں اشک بار تھی ۔۔ اس کے لب بے آواز ہل رہے تھے ۔۔ اس نے اپنے ہاتھ اٹھائے ” اے میرے رب ۔۔ اے میرے اللہ۔۔ جس طرح سے مجھ پہ اپنی ہدایت کے دروازے کھول دیے تھے ۔۔ جس طرح سے مجھ پہ توبہ کے دروازے کھولے اے پروردگار ویسے ہی میرال کو پھر سے میرا نصیب بنا دے ۔۔ اس کی جدائی مجھے بےسکون کر رہی ہے ۔۔۔ اسے میرا نصیب بنا دے ۔۔ آپ کے آگے ہاتھ پھیلا کے میرال کو مانگ رہا ہوں میں ۔۔ میری بخشش فرما دے میرے گناہوں کی بخشش فرما دے ۔۔ میرال کو میرا نصیب بنا دے ” وہ دیر تک اپنے رب کے آگے گڑگڑاتا رہا ۔۔ روتا رہا ۔۔ مانگتا رہا ۔۔۔ اسے کسی کا ہوش نہیں تھا کون اسے دیکھ رہا ہے ۔۔ کون کیا سوچ رہا ہے وہ بس اپنے رب کے آگے جھولی پھیلائے اس سے ہم کلام تھا ۔۔