359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 2

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

وہ ابھی ابھی اٹھا تھا جب مہک عباس ہائی ہیل پہنے کھٹ کھٹ کرتی اس کے کمرے میں آئی ” مارننگ ارحم ” ارحم نے ایک نظر اپنی نٹ کھٹ سی تیار ماں پہ ڈالی ” مارننگ مام “

” اٹھو جلدی آفس سے لیٹ ہو رہے تم ۔۔ اور مجھے بوتیک جانا ہے سو ایم السو گیٹنگ لیٹ ” مہک نے عجلت میں کہا ارحم اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا ” آپ جائیے میں بھی ریڈی ہو کے جا رہا آفس ” مہک مسکراتی کمرے سے گئی تو ارحم نے موبائل اٹھایا میرال کا میسج تھا ” آج آپ آ رہے ہیں نا ” ارحم کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔۔ ” جی جناب ” اسے ریپلائے دے کے وہ بیڈ سے اٹھا اور واشروم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔

آفس پہنچتے ہی عباس پاشا اس کے کمرے میں آیا ” گڈ مارننگ ڈیڈ ” وہ فائلز چیک کر رہا تھا ” گڈ مارننگ ” عباس پاشا بھی جواب دے کے ادھر ادھر دیکھنے لگے ” آج میٹنگ ہے تمہاری یزدانی لوگوں سے “

” یس ڈیڈ ۔۔ آئی ول بی ڈئیر ” ارحم نے انھیں دیکھتے ہوئے کہا تو عباس پاشا بھی سر ہلا کے ایک نظر اپنے خوبرو بیٹے پہ ڈال کے کمرے سے چلے گئے ۔۔ انھیں اپنے اس بیٹے کی ذہانت پہ فخر تھا لیکن اس کی رات دیر تک باہر رہنے کی عادت سے انھیں چڑ تھی ۔۔

ππππππππππππ

” آج مجھے اتنا سجاؤ کہ ارحم عباس کی آنکھیں میرے علاؤہ کسی کو دیکھے ہی نا ” میرال خود کو آئینے میں دیکھتی کہہ رہی تھی ۔ ” وہ تو ویسے بھی دیکھتا نہیں ہے آپ کے علاؤہ کسی کو ” ٹینا اسے دیکھتی بول رہی تھی میرال نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اپنے خاص ادا سے بالوں کو جھٹکا دے کے بولی ” بس جیسے بھی ہو آج مجھے ایسے سجانا کہ پہلے کھبی ایسی سجی ہی نہ ہوں میں ۔۔ ” ٹینا ہنس کے اس کے بال بنانے لگی ۔۔۔ سی گرین ساڑھی میں ۔۔۔ سی گرین ہی جیولری کے ساتھ ۔۔ بلیک اور گرین آئی شیڈ کا خوبصورت امتزاج کیے ۔۔ لائٹ پنک لپ اسٹک کے ساتھ وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے قیامت خیز سراپے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اپنے لمبے سلکی بال اس نے کھلے چھوڑ دیے تھے ۔۔ وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔ ریحانہ بیگم نے آگے بڑھ کے اس کی نظر اتاری ۔۔ ” میری امراؤ جان ادا تو آج میرا دل اتھل پتھل کر رہی ہے ” میرال دھیرے سے مسکرائی ” آپ بھی نا آپو ” کسی نے ارحم عباس کے آنے کی اطلاع دی تو میرال کو اپنا دل باہر آتا محسوس ہوا تھا ۔۔ وہ ریحانہ بیگم کے ساتھ سہج سہج کے قدم اٹھاتی باہر آئی ۔۔ ہر اٹھتی نظر اس پہ ٹھہر سی گئی اور وہ ارحم کی نظروں کو دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں میں اس کے لئے ستایش تھی ۔۔ وہ اپنی جگہ پہ آ کے بیٹھ گئی اور ہاتھ کے اشارے سے اداب بجالائی ۔۔ کتنے امیرزادے دل تھام گئے اس کی ادا پہ ۔۔

لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نہ ہو

شاید پھر اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو ۔۔

اس نے گانا شروع کیا ۔۔ اس کی پرسوز آواز ۔۔ دل موہ لینے والی ادائیں ۔۔ ارحم کی نظریں اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھی ۔۔ اس کی خاموش بہکی نگاہیں میرال کے سنورے روپ میں الجھ ہی گئی تھی ۔۔ گانے کے اختتام پہ ارحم اپنی جگہ سے اٹھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے چلتا اس کے پاس آ بیٹھا ۔۔ ” میں ہمیشہ تمہارا مہمان رہا آج چاہتا ہوں آپ میری مہمان رہو “میرال اسے حیرانی سے دیکھنے لگی ” کہاں ؟”

” آپ چلئیے تو ” ارحم نے کہہ کے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔ میرال نے ریحانہ کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھ کے اشارے سے اسے اجازت دے دی ۔۔ وہ اپنا پلو سنبھالتی اٹھی اور ارحم کے ساتھ قدم اٹھاتی باہر کی طرف بڑھ گئی ۔۔ سجاول ریحانہ کے پاس آیا تھا ” ادھر ہم آتے ہیں میرال کو دیکھنے اور میرال ایک نظر کرم ہم پہ نہیں ڈالتی ” ریحانہ مسکرا کے اسے دیکھنے لگی ” اتنی لڑکیاں تو ہیں کسی پہ بھی ہاتھ رکھ دیں آپ کے قدموں میں ہوگی “

” مجھے میرال چاہئیے ” سجاول بضد تھا ۔۔ ریحانہ نے اس کی طرف دیکھا ” میرال بس ارحم عباس کی ہے “

” طوائفیں کسی کی نہیں ہوتی ۔۔ دل اٹھا تو پھینک دیتے یے اسے ” سجاول کی بات پہ ریحانہ نے گھور کے اسے دیکھا ” صاحب ہم کچھ کہتے نہیں تو اپنی حد میں رہنا سیکھئے ۔۔ ” یہ کہہ کے وہ آگے بڑھ گئی جبکہ سجاول پیچ و تاب کھاتا رہا ۔۔

فلیٹ کا دروازہ کھول کے ارحم اسے اپنے ساتھ اندر لے آیا اور دروازہ لاک کر دیا میرال اسے ہی دیکھ رہی تھی ” یہ کیا ؟”

” ہمارا ہی ہے ۔۔ میرا اور تمہارا ” وہ میرال کو اپنی طرف کھینچتا بولا ۔۔ اس کی گردن پہ اپنے لب رکھ کے اس کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا ۔۔ ” آج سے ہم یہاں آیا کرے گیں ” میرال مسکرا کے اس کے اور قریب ہوئی ۔۔ اس کے لئے سب کچھ تو اس کا ارحم ہی تھا مادی چیزوں سے اسے کوئی مطلب نہیں تھی۔۔

صبح اس کی آنکھ کھلی تو وہ ارحم کے سینے پہ سر رکھے سو رہی تھی خود ارحم موبائل چیک کر رہا تھا

میرال نے ایک گہری سانس لے کے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے ۔۔ ارحم نے بھی اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔ ” میری آج میٹنگ ہے تو میں جلدی آفس جا رہا ۔۔ تم جب جانا چاہو تو ڈرائیور تمہیں چھوڑ دے گا ۔۔ میں گاڑی نہیں لے کے جا رہا دوسری گاڑی میں جاؤں گا ” میرال کا دل بجھ سا گیا تھا ” اور ہاں ” ارحم سائیڈ ٹیبل سے ایک سرخ رنگ مخملی ڈبہ اٹھا کے اس کی طرف بڑھایا ” یہ تمہارے لئے ” میرال اٹھ کے بیٹھی اور ڈبہ کھول کے دیکھا تو قیمتی نگینوں سے مزین نیکلس اس کے سامنے تھا ” اتنا قیمتی ” میرال کی آنکھیں پھیل گئی ارحم نے اٹھ کے اس کے گال کو چھوا ” تم سے کم جانم “

” ایم گیٹنگ لیٹ ” وہ اٹھنے لگا میرال نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنی طرف کھینچا ” پھر کب آئیے گیں “

” جب تم کہو ” ارحم اس کی گردن کو چھوتا بولا ” لیکن ابھی جلدی جانا ہے “

” اچھا جائیے ” وہ ایک ادا سے اسے اجازت دیتی بولی تو ارحم مسکراتا ہوا واشروم کی طرف بڑھ گیا جبکہ میرال دھیرے سے مسکرا پڑی۔

√√√√√√√√√√√√√√

وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی ۔۔ اس کی روح تک کو سکون مل رہا تھا ۔۔ طمانیت اس کے اندر تک پھیل رہی تھی ۔۔ جب تین سال کا احد اس کی گود میں آ کے بیٹھنے لگا تو کشف نے مسکرا کے اسے اپنی گود میں بٹھایا ۔۔ اس کے گال پہ پیار کر کے وہ دوبارہ سے تلاوت کرنے لگی چار سالہ احد خاموشی سے بیٹھا اپنی ماں کو سن رہا تھا ۔۔ تلاوت قرآن پاک ختم کر کے کشف نے قرآن پاک بند کر کے احد کو اپنی بانہوں میں لے کے پیار کرنے لگی ” میرا بیٹا اٹھ گیا ۔۔ ” احد مسکرانے لگا ” مما “

” جی مما کی جان ” کشف نے پیار سے اس کے بال بکھرائے ” مما اسنو فال ہو رہی ہے کیا ؟”

” ہمممم لیٹس گو دیکھتے ہیں ” اسے لیے وہ کھڑکی کے پاس آئی اور پردہ ہٹا کے دونوں باہر دیکھنے لگے۔ باہر برفباری ہو رہی تھی ۔۔ کشف احد کا چہرہ دیکھنے لگی جہاں خوشی جھلک رہی تھی ۔۔ ” ارے واہ اسنو فال ۔۔” کشف ایکسائیٹمنٹ ظاہر کر رہی تھی احد بھی خوش ہو گیا ” مما اسنو فال ” وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسنے لگا کشف نے محبت سے اس کا چہرہ چوم لیا ۔۔ وہ اسے پیار سے دیکھنے لگی چار سال کا احد ہو بہو اپنے پاپا کی طرح تھا ۔۔ وہیں آنکھیں ۔۔ وہی ناک وہی ہونٹ ۔۔ وہ سر جھٹک کے احد کو گود میں اٹھانے لگی ” چلو بیٹا بریک فاسٹ ٹائم ” ” اوکے مما ” وہ بھی مسکرایا تھا ۔۔ دونوں جب لاونج میں آئیں تو آسیہ ناشتے کی ٹیبل پہ انہی کی راہ تک رہی تھی ۔۔ ” صبح بخیر مما ” آسیہ انھیں دیکھ کے مسکرائی ” صبح بخیر میرے پیارے بچوں ” احد بھاگتا ہوا ان کے گلے لگا ” مارننگ نانو ماں ۔۔۔ اسنو فال ہو رہی ہے باہر ” آسیہ نے اسے گال پہ پیار کیا ” ارے واہ تو آفٹر بریک فاسٹ میں اور احد اسنو فال دیکھنے جائے گیں ۔۔ ” کشف مسکرا رہی تھی جب سحر ناشتہ لے کے ٹیبل پہ رکھ کے خود بھی وہیں بیٹھ گئی ” کیسی ہو سحر ؟”

” الحمدللہ آپ کیسی ہے ؟” سحر بھی اسے پوچھنے لگی ” الحمدللہ ” کشف بھی مسکرائی ۔۔ ” آج بوتیک پہ جانا ہے کشف ؟” آسیہ بیگم پوچھ رہی تھی کشف نے ناشتہ کرتے ہوئے ایک نظر انھیں دیکھا ” جی مما ۔۔ “

” میری بھی بس آنے والی ہے ” سحر کالج جانے کے لئے ریڈی تھی ۔۔ گرے اسکارف میں اس کا چہرہ دمک رہا تھا کشف نے پیار سے اسے دیکھا پھر اپنا اسکارف بھی ٹھیک کرتی اپنی جگہ سے اٹھی ” میں بھی ساتھ ہی نکلتی ہوں ” احد کو ڈھیر سارا پیار کر کے وہ اپنا لانگ جیکٹ پہن کے بلیک اسکارف ٹھیک کرتے شوز پہن کے باہر نکلی ۔ جنوری شروع ہو چکی تھی اور نیویارک میں جنوری کی برفباری شروع ہو چکی تھی ۔۔ اس نے آسمان کی طرف ایک نظر دیکھا ۔۔ پھر چلنے لگی اس کا رخ میٹرو کی طرف تھا ۔۔ چلتے چلتے ایک پل کو وہ رکی تھی ۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کچھ پل یونہی رکی رہی پھر سر جھٹک کے آگے بڑھ گئی ۔۔ آج بھی اسے اپنے 24 گھنٹوں میں سے وہ کئی بار اپنے پاس محسوس کرتی ۔۔ آج بھی اس کی یاد پہ کشف کا دل زور سے دھڑکتا ۔۔ آج بھی وہ اس کی خوشبو اپنے قریب محسوس کر کے چونک جاتی ۔۔ اسے دیر ہو رہی تھی سو وہ جلدی جلدی قدم اٹھانے لگی

بوتیک پہنچ کے ہانپتی کانپتی وہ اندر داخل ہوئی ” اسلام علیکم ” سب نے اسے دیکھا وہاں مسلم اور غیر مسلم دونوں تھے لیکن کشف کی عادت تھی وہ داخل ہوتے ہی سلام کرتی اور سب اسے سلام کا جواب دیتے یہاں تک کہ اس کے غیر مسلم کو ورکرز بھی اسے وعلیکم السلام کہتے ۔۔ بوتیک کے اندر اسے حرارت کا احساس ہوا تو کرسی پہ آرام سے بیٹھ گئی ” ہاؤ آڑ یو کشف ؟”

” ایم فائن الحمدللہ ڈینی ۔۔ وہاٹ اباؤٹ یو ؟” کشف مسکرا کے اسے دیکھ رہی تھی ” سیم ہئیر ڈئیر ” وہ اپنی جگہ پہ بیٹھ چکی تھی تب ارشا اسے دیکھنے لگی ” سردی لگ رہی ؟”

” اب بہتر ہوں باہر سردی ہے بہت ” کشف نے آپس میں اپنے دونوں ہاتھ ملتے کہا تو ڈینی اور الزبتھ ہنس پڑی ۔ تو کشف بھی اپنے کام میں مصروف ہو گئی ۔۔ اسے یہاں کام کرتے تین سال ہو چکے تھے اور ان سب کے ساتھ وہ کافی گھل مل گئی تھی ۔۔