Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 11
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 11
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
” کشف ” انھوں نے ڈرتے ڈرتے اسے آواز دی ۔۔ وہ جو سنجیدگی سے کتاب پڑھ رہی تھی آسیہ کو دیکھنے لگی ” کشف بیٹا وہ سچ کہہ رہا تھا ‘
” آئی نو ” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔ ” مجھے احد نے بتا دیا سب “
آسیہ اس کے پاس بیٹھ گئی ” بہت باتیں سنائی تم نے اسے “
” ہممممم لیکن مما وہ کیوں ہر جگہ مجھ سے ٹکراتا ہے ۔۔ کھبی بوتیک کے سامنے ۔۔ کھبی شاپنگ مال ۔۔ کھبی ریسٹورانٹ ۔۔چاہتا کیا ہے وہ ” وہ سر پکڑ گئی اپنا ۔۔
” سوچو اگر وہ نہ ہوتا تو آج احد کو کہاں کہاں ڈھونڈ رہی ہوتی تم ” آسیہ اسے سمجھا رہی تھی
” ہمممم ” کشف نے پرسوچ انداز میں انھیں دیکھا ۔۔ ” اب تو سنا دیا ۔۔ کیا کر سکتی میں۔۔ ” وہ کندھے اچکا کے بولی ۔۔ تو آسیہ مسکرا پڑی ” کھبی سامنا ہوا اس سے تو معذرت کر لینا ” کشف انھیں دیکھنے لگی ” ہممم اچھا ” پھر کتاب پہ نظریں جما دی لیکن اس کا ذہن آریان میں الجھا ہوا تھا ۔۔ کون تھا کہاں سے آیا تھا کیوں اس کے پیچھے پڑا ہے ۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔ آسیہ بھی کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر وہاں سے اٹھ کے کچن کی طرف بڑھ گئی
√√√√√√√√√√√√√√√√√√
” اے میرے رب ۔۔ اے میرے پاک پروردگار ۔۔ اے میرے مالک ۔۔ اے تمام جہانوں کے پالنے والے ۔۔ چار سال ہونے کو آ رہے ہیں ۔۔ آپ کا یہ گنہگار بندہ آج بھی آپ سے ایک ہی دعا مانگ رہا میرے اللہ مجھے میری میرال سے ملا دے مجھے ۔۔ میری میرال کی حفاظت فرما ۔۔ اسے مجھ سے ملا دے ۔۔ میں بس آپ کے کن کا منتظر ہوں میرے رب ۔۔ مجھے میری میرال سے ملوا دے ۔۔ میں نے جو بھی غلطیاں کی وہ سب ٹھیک کر دوں گا ۔۔ آپ تو دلوں کے بھید تک جانتے ہیں میرے دل کا بھید بھی جانتے ہیں ۔۔ میں شرمندہ ہوں اپنی ہر غلطی پہ ۔۔ مجھے اس سے ملوا دے میں اس سے معافی مانگ لوں گا ۔۔ میں اپنی تمام غلطیوں کو سدھار دوں گا میری مدد فرما ۔۔ مجھ پہ رحم فرما دے اپنا ۔۔ ” ارحم عباس دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اپنے خدا سے محو گفتگو تھا ۔۔ وہ چار سال سے میرال کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔ اسے اللہ سے مانگ رہا تھا لیکن اسے کوئی سرا نہیں مل رہا تھا پھر بھی اس کا یقین نہیں ٹوٹا ۔۔ وہ آج بھی میرال کو اپنے اللہ سے مانگ رہا تھا ۔۔ اسے امام احمد رضا کی باتیں یاد آئی ” بھکاری دو طرح کے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ جیسے ایک بھکاری دروازے پہ دستک دیتا ہے اور بھیک مانگتا ہے ۔۔ایک وہ جو ایک دو دفعہ دروازے پہ دستک دیتا ہے اور جب ہم دروازہ کھول کے اسے کچھ نہیں دیتے تو وہ چلا جاتا ہے اور دوسری طرح کے بھکاری ہوتے ہیں جو تب تک دروازے پہ دستک دیتے رہتے ہیں جب تک ہم مجبور ہو کے دروازہ کھول کے اس کو کچھ دے نہیں دیتے ۔۔ دعائیں بھی ایسی ہی ہوتی ہے ۔۔ کچھ لوگ دعا مانگ تو لیتے ہیں لیکن اگر ٹائم۔پہ پوری نہ ہو تو چھوڑ دیتے ہیں دعا مانگنا اور کچھ لوگ ہوتے ہیں جس کی دعا قبول ہو نہ ہو ۔۔ اسے فرق نہیں پڑتا وہ پھر بھی دعا مانگتے رہتے ہیں ۔۔ مانگتے رہتے ہیں ۔۔ کھبی نہیں تھکتے ۔۔ ان کا یقین کامل ہوتا ہے ۔۔ انھیں یقین ہوتا ہے جو بھی ہو جائے اللہ کو ان کی دعا سننے ہی ہے ۔۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کا یقین دیکھ کے اس کی دعا ایک دن قبول فرماتا یے ۔۔ اس بندے کی آزمائش ختم ہو جاتی ہے ۔۔ اور اسے اس کے صبر کا پھل مل جاتا ہے “
ارحم کو بھی یقین تھا اس کا یقین ابھی نہیں ڈگمگایا تھا اور نہ وہ ڈگمگائے گا کھبی ۔ وہ ہر نماز میں اپنی میرال کو مانگتا اور اسے یقین تھا کہ جس دن اللہ نے اس کے گناہ بخش دئیے اسے میرال پھر سے مل جائے گی !!
√√√√√√√√√√√
کھڑکی کے پاس کافی کا کپ ہاتھوں میں لیے وہ باہر پڑتی برف کو دیکھ رہی تھی ۔۔ احد بیڈ پہ سو رہا تھا ۔۔ اس نے ایک نظر احد پہ ڈالی ۔۔ وہ مکمل ارحم کی کاپی تھا ۔۔ کوئی بھی اسے دیکھ لیتا تو سمجھ جاتا کہ احد اسی کا ہی بیٹا ہے ۔۔ اس نے پھر سے باہر پڑتی برف باری پہ نظریں جما دی ۔ اسے ارحم کی یاد آ رہی تھی
” ارحم ۔۔ تم خوش ہونگے اپنی بیوی اپنی نیو فیملی کے ساتھ ۔۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش بھی رکھے بس دکھ اس بات کا ہے کہ اتنے سال ساتھ رہنے کے باوجود بھی تمہیں۔ مجھ سے ایک بار بھی محبت نہ ہو پائی ۔۔ کاش ہو جاتی محبت ۔۔ کاش مجھ سے ایک لمحے کے لئے صحیح لیکن محبت کر تو لیتے ۔۔۔ آج میں تم۔اور احد ساتھ ہوتے لیکن ” اس کی آنکھ سے آنسو پھسلا ” ارحم عباس میں آج بھی تمہاری بیوی کی حیثیت سے تم۔سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔ تم میرے شوہر ہو یہ خیال مجھے سرشار کرتا رہتا ہے لیکن …” وہ کیا سوچتی اور ۔۔۔ سوچیں اس کی ہمیشہ ایک نقطے پہ آ کے رک جاتی ۔۔ لیکن !!! وہ خالی نظروں سے باہر دیکھتی رہی ۔۔ نیند اس کی آنکھوں سے گم تھی آج رات اسے نیند ہی نہیں ا رہی تھی ۔۔۔۔ اسے آج شدت سے ارحم کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ گزرا ہر لمحہ ۔۔۔۔ وہ بس دعا گو تھی کہ وہ خوش رہے اپنی نئی زندگی میں لیکن کاش اس کی نئی زندگی وہ خود ہوتی یہ خیال ۔۔۔ یہ خواہش اسے دکھی کر دیتا !!!
√√√√√√√√√√√
وہ ابھی ابھی نیند سے جاگا تھا آج اتوار تھا صبح کی نماز پڑھ کے وہ پھر سے سو گیا تھا اور اب جاگ کے اس نے اپنا موبائل اٹھایا ۔۔ موبائل اسکرین پہ بہت سے میسجز جگمگا رہے تھے اس نے واٹس ایپ پہ آریان کا میسج کھول کے دیکھا ۔۔ کچھ ویڈیوز اور تصاویر تھی ۔۔ اس نے اوپن کرنی شروع کی ۔۔ اس کی آنکھیں ساکت ہی رہ گئی ۔۔ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔۔ اس کی سانسیں جیسے رک رک کے آ رہی تھی ۔۔ بلیک حجاب میں میرال کا خوبصورت دمکتا چہرہ ۔۔ ایک کے بعد ایک تصویر ۔۔ میرال کی تصویریں ۔۔ اس کا چہرہ اسکارف میں پرنور لگ رہا تھا ۔۔ ایک بچے کی تصویر پہ اس کی نظریں ٹھہر گئی۔۔ ارحم کی فوٹو کاپی ۔۔ ارحم تمہاری فیملی مل گئی ۔۔ میرال نے اپنا نام چینج کر دیا ہے ان کا نام کشف ہے اور یہ تمہارا بیٹا ہے احد ۔۔ نیچے آریان کا میسج تھا ۔۔ ارحم آبدیدہ نظروں سے ان تصویروں کو دیکھ رہا تھا وہ موبائل کی اسکرین کو چومنے لگا ” اے اللہ میں شکر گزار ہوں آپ کا ۔۔ ” وہ رو رہا تھا ۔۔ خوشی سے ۔۔ اس کی میرال مل گئی تھی اور بلکل محفوظ تھی ۔۔ اس کا یقین کھبی نہیں۔ ڈگمگایا تھا تبھی اللہ نے بھی اس کے یقین کو نہیں ڈگمگانے دیا ۔۔۔۔ اس کے گناہ بخش دیے گئے تھے ۔۔۔۔ اس کی دعائیں سن لی گئی تھی ۔۔۔۔ اس کی آزمائش ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ وہ خوشی سے رو رہا تھا
√√√√√√√√√√√√√√√
“ایم اسٹرونگ لائک مائی ڈیڈ ” احد سپر مین کے کاسٹیوم میں ملبوس ادھر ادھر گھوم رہا تھا کشف اسے دیکھ کے مسکرا رہی تھی ۔۔ ” مائی بوائے از مور اسٹرونگ ” احد اس کی گود میں چڑھ گیا ” بٹ یو ٹولڈ می آئی لک لائک مائی ڈیڈ “
” یس یو آڑ مائی بوائے ” کشف اسے پیار کرتی بولی ۔۔ آسیہ اور سحر بھی آگئے تھے مارکیٹ سے اور اب پیکٹس کچن میں رکھ رہی تھیں ” احد لک ۔۔ آنی کیا لائی ہے آپ کے لئیے ” سحر اسے بلانے لگی وہ بھاگتا ہوا سحر کے پاس گیا ” واٹ آنی ؟” وہ مسکرا کے اسے چاکلیٹ کپ کیکس دکھانے لگی ” سرپرائز ” احد خوشی سے چہکنے لگا ” واؤ آنی ۔۔ ” سحر نے اسے بازوؤں میں بھر لیا اور اسے پیار کرنے لگی اسے چیئر پہ بٹھا کے اس کے سامنے پلیٹ میں کپ کیک رکھا ۔۔ تو وہ مزے سے کھانے لگا ۔۔ کشف بھی ان کے پاس آ گئی اور ان کے ساتھ کچن کا سامان اس کی جگہ پہ رکھنے لگی ۔۔ ” احد کافی خوش ہو رہا ہے ” کشف نے سحر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
” ہاں کپ کیکس پسند ہے احد کو بہت ” سحر مسکرا رہی تھی ۔۔ کشف بھی مسکرائی ” ہاں ۔۔ تھینک یو ” سحر اسے گھورنے لگی ” کشف بس کردے تھینکس بولنا مجھے”
کشف نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا ” اوہ منہ سے نکل گیا ” سحر ہنس پڑی ” آپ بھی نا “
