Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 7
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 7
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تو آسیہ اور سحر ساتھ کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں ۔۔ میرال انھیں دیکھنے لگی ۔۔ وہ مڑ کے واشروم گئی اور وضو کر کے واپس آئی تو آسیہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی اپنی خوبصورت آواز میں ۔۔ وہ سر پہ دوپٹہ باندھے مضطرب سی کھڑی انھیں دیکھتی رہی ۔۔ کتنا سکون تھا ان کی آواز میں ۔۔ وہ خوبصورتی سے تلاوت کر رہی تھی ۔۔ میرال کے دل کو جیسے سکون مل رہا تھا ۔۔ اس کے تنے اعصاب جیسے ڈھیلے پڑ رہے تھے ۔۔ وہ سنتی رہی جب آسیہ کی نظر اس پہ پڑی ۔۔انھوں نے رک کے قرآن پاک بند کیا تو میرال اس کیفیت سے نکل کے انھیں دیکھنے لگی ” میرال بیٹا ۔۔ ” وہ شرمندہ سی ہو گئی ” مجھے ن۔۔۔نماز پڑھنی تھی ” آسیہ مسکرائی ” آؤ میری بچی ۔۔ ابھی قضا نہیں ہوئی ۔۔ ” وہ ان کے پاس آئی اور آسیہ اسے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھانے لگی ۔۔ میرال ان کے پاس بیٹھی رہی دیر تک ۔۔ ” مما ۔۔ میں اپنا نام چینج کرنا چاہتی ہوں ۔۔ ” آسیہ مسکرائی ” اتنا اچھا نام تو ہے تمہارا تو ” میرال سر جھکا گئی ۔۔ ” ماضی کے سب دروازے بند کرنے ہو خود پہ تو ماضی کا کچھ بھی نہ رکھو اپنے پاس ۔۔ ایون نام بھی ” آسیہ اس کے جھکے سر کو دیکھتی رہی ” کشف نام کیسا ہے ؟ ” میرال نے سر اٹھا کے انھیں دیکھا وہ اب بھی سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی میرال مسکرائی اور ان کے گلے لگ گئی ” آپ بہت اچھی ہے ” آسیہ ہنس پڑی ” تم بھی اچھی ہو میری بچی ۔۔ ” اور یوں میرال نے اپنا نام کشف رکھ کے ماضی کے سب دروازے بند کرنے کی کوشش کی ۔۔
√√√√√√√√√√√√√√√√
ارحم گھر میں داخل ہوا پانچ دن ہوئے تھے وہ گھر نہیں آیا تھا ۔۔ آج آیا تو میرال اسے کہیں نظر نہیں آئی ” میرال ۔۔ میرال ” اس نے الماریاں چیک کی اس کے سارے کپڑے ویسے ہی تھے ۔۔ اس کی دی ہوئی جیولری جو وقتا فوقتاً وہ میرال کو دیتا رہتا تھا سب موجود تھا لیکن وہ نہیں تھی ۔۔ وہ کچھ سوچتا ہوا میرال کا نمبر ملانے لگا لیکن نمبر بند تھا ۔۔ وہ بیٹھ کے انتظار کرنے لگا کہ شاید مارکیٹ تک گئی ہوگی آ جائے گی لیکن شام ہو گئی وہ نہیں آئی ۔۔ وہ کچھ سوچ کے اٹھا اور باہر نکلا
ریحانہ اسے یوں یہاں دیکھ کے حیراں رہ گئی ” میرال کہاں ہے ؟”
” یہ آپ مجھ سے پوچھ رہے ؟ مجھے آپ سے یہ پوچھنا چاہئے کہ میری بچی کہاں ہے ؟” وہ الٹا اس سے سوال کرنے لگی تو وہ نظریں ادھر ادھر دورانے لگا
” وہ یہاں نہیں آئی ؟” وہ پوچھ رہا تھا
” نہیں ۔۔ کیوں اسے آنا تھا کیا یہاں ؟ ” ریحانہ اس کا چہرہ غور سے دیکھتی پوچھ رہی تھی ۔۔ جبکہ ارحم کے چہرے پہ پریشانی واضح تھی ” اس کا نمبر بند ہے ۔۔ وہ کہاں ہے ؟ مجھے لگا یہاں آئی ہوگی میں کچھ دن گھر نہیں گیا تو لگا یہاں آئی ہوگی “
” کیوں نہیں گئے تھے گھر ؟” ریحانہ اسے جانچتی نظروں سے دیکھتی پوچھ رہی تھی وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہا تھا پھر نظریں چرانے لگا ” بزی تھا “
” تو بزی ہونے پہ بیوی کے پاس نہیں جاتے ؟” ریحانہ کے طنز پہ ارحم اسے کچھ دیر دیکھتا رہا پھر وہاں سے نکل گیا ۔۔ اور فلیٹ آ گیا لیکن میرال اب بھی غائب تھی ۔۔ وہ پریشان ہی ہو گیا ۔۔ اسے افسوس ہونے لگا کہ کاش وہ گھر آ جاتا ۔۔ کاش میرال کو اکیلے نہ چھوڑتا ۔۔ کاش وہ اسے نظر انداز نہ کرتا ۔۔ ” کہاں ہو میرال “
وہ اسے ڈھونڈتا رہا جہاں جہاں اسے لگا کہ میرال جا سکتی ہے وہ وہاں وہاں گیا لیکن میرال کہیں نہیں تھی ۔۔ اسے میرال کے علاؤہ کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔ اس کے اندر اداسی پھیل چکی تھی ۔۔ اسے میرال کی تلاش تھی لیکن میرال کہیں نہیں مل رہی تھی وہ میرال کی بانہوں میں سکون پاتا تھا لیکن میرال اس کا سکون چین سب ختم کر کے جا چکی تھی ۔۔
” کسے ڈھونڈ رہے ہو ارحم ؟” ایک سفید پوش بوڑھا آدمی اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔ ہر طرف تاریکی تھی اور اس بوڑھے انسان کے وجود سے جیسے روشنیاں پھوٹ رہی تھی ۔۔ وہ انھیں دیکھنے کی کوشش کرنےلگا لیکن وہ نور اسے کچھ دیکھنے نہیں دے رہا تھا وہ دھیرے سے بولا ” میری میرال کھو گئی ہے “
” ملی ؟ ” وہ پوچھ رہے تھے ارحم نے نفی میں سر ہلایا ” نہیں “
” کیسے ملے گی ؟” وہ نرمی سے پوچھ رہے تھے ارحم سر جھکا گیا ” پتہ نہیں ۔۔ نہیں مل رہی “
” کیوں ڈھونڈ رہے اسے ؟” وہ پوچھنے لگے
” سکون ۔۔۔ مجھے سکون نہیں مل رہا ۔۔ ” ارحم نے بےچارگی سے کہا تو وہ مسکرائے ۔۔
” کھبی اللہ سے مانگا ؟” ارحم اس نور کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا ” بولو ؟؟ اللہ سے مانگا کھبی ؟ ” دوبارہ سے پوچھا تھا انھوں نے ۔۔
” کیا ؟” ارحم کو کچھ نہ سمجھ آیا تو پوچھ بیٹھا
” میرال کو ؟ سکون کو ؟؟ کچھ بھی ؟ کھبی مانگا؟” ان کے استفسار پہ وہ سر جھکا گیا ” نہیں “
” اے میرے بندے مجھ سے مانگو ۔۔ ” ارحم انھیں دیکھ رہا تھا تو انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا ” تیرا رب تجھے پکار رہا ہے ۔۔ اس سے مانگو ۔۔ اللہ سے مانگو ۔۔ ” وہ کہہ رہے تھے اور ارحم اوپر کی طرف دیکھنے لگا ۔۔ آسمان کی طرف ۔۔ اندھیرا جو پھیلا تھا ہر طرف اس کے دیکھتے ہیں اندھیرا چھٹنے لگا ۔۔ اسے نیلا آسمان واضح نظر آ رہا تھا “اللہ ” اس کے لب ہلے تھے ۔۔۔
ارحم گھبرا کے نیند سے جاگا تھا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا کوئی نہیں تھا وہ اپنے بیڈ پہ تھا ۔۔ نہ کوئی اندھیرا تھا ۔۔ نہ کوئی نور ۔۔ نہ کوئی آسمان ۔۔ نہ کوئی آواز ۔۔۔ اس نے ایک لمبی سانس خارج کی ۔۔ اس خواب کو سوچنے لگا ۔۔ پھر آنکھیں موند کے لیٹا ۔۔ وہ نیند کی آغوش میں جا رہا تھا جب پھر ایک آواز گونجی ” تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے ۔۔ ڈر اس ذات سے ۔۔ اپنے رب سے مانگ ۔۔ ہدایت کے راستے تیرے لئے کھلے ہیں ” وہ چونک کے اٹھا تھا ۔۔ یہ کیا ہو رہا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔ وہ سو نہیں پا رہا تھا آنکھیں بند کرتا تو بہت سے آوازیں اس کا پیچھا کرنے لگتی ۔۔ اس کی سمجھ سے باہر تھی کہ اسے ہو کیا رہا ہے ۔۔ یہ آوازیں کیسی ہے ۔۔ نظر کوئی نہیں آتا اسے خواب میں لیکن جیسے ہی آنکھیں بند کرتا ہے آوازیں اس کا پیچھا کرنے لگتی ہے ۔۔ اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔۔ لیکن اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے سوئے ۔۔ کیسے سکون پائے !!!!
••••••••••••••••••••••••••√√√√√√√√••••••••
اسے کب سے الٹیاں ہو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے ہو کیا رہا ہے ۔۔ ابھی بھی وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی جب اسے متلی آئی وہ ایکدم سے واشروم کی طرف بڑھی ۔۔ آسیہ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔۔ وہ واشروم سے آئی تو آسیہ کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی ” مجھے کیا ہو رہا کچھ دنوں سے ” وہ نڈھال سی بیٹھ گئی آسیہ نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا ” آج ہم ڈاکٹر کے پاس جا رہے ہیں ۔۔مجھے لگتا خوشخبری ملنے والی ہے ہمیں ۔۔ شاید تم۔ماں بننے والی ہو میری جان ” کشف پہلے حیران ہوئی یہ کیا ؟ وہ ماں بننے والی ہے ؟ کوئی ننھا وجود اس کے وجود میں جان لے رہا ہے ۔۔ اس کے ہونٹ مسکرانے لگے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ” م۔۔۔میں ماں ۔۔۔ ” وہ رونے لگی ” میں ارحم کے بچے کی ۔۔۔ کاش میں ارحم کو یہ خوشخبری دے پاتی ” وہ رو رہی تھی آسیہ نے اسے گلے سے لگا لیا وہ ان کے بازوؤں میں پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی ” کاش ۔۔ ارحم تمہیں بھی مجھ سے میری جتنی محبت ہو پاتی کاش ” وہ بس سوچ کے رہ گئی ۔۔ کچھ باتیں سوچیں ہی جا سکتی ہے حقیقت بن نہیں پاتی یا شاید حقیقت بھی بن جاتی بس ہم جلد بازی میں اس حقیقت سے چشم پوشی کر جاتے ہیں ۔۔
••••••••••√√√√√√√√•••••••••√√√√√√√√•••••••
” میرال ۔۔۔ میرال کہاں ہو میری جان کہاں ہو ۔۔ کاش میں تمہیں یوں اگنور نہ کرتا میرال ” اس کی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا وہ حیرت سے اس آنسو کو اپنی انگلی کی پور میں لے کے دیکھنے لگا ” ارحم آپ کو بھی مجھ سے عشق ہو جائے تو میں تو اپنی خوشنصیبی پہ رونے ہی لگ جاؤں ” اس کے کانوں سے میرال کی آواز ٹکرائی تھی ۔۔ اسکا وجود کانپنے لگا ۔۔ اس کے ہاتھ لرزنے لگیں ۔۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔۔ اس کی بےچینی بڑھ گئی ۔۔ اسے لگا وہ پاگل ہو جائے گا ۔۔ ” ارحم عشق کی آخری حد پتہ ہے کیا ہوتی ہے؟ جنونیت ۔۔ دیوانگی اور پھر موت ” میرال کی آواز پھر سے گونجی تھی اس کی آنکھوں میں وحشت تھی۔۔
” ارحم عباس کاش تمہیں بھی مجھ سے عشق ہو جائے ۔۔ ” اسے میرال کی آنکھیں یاد آئی جب دیوانہ وار اسے دیکھتی تھی وہ ۔۔
” ارحم عباس ان مادی چیزوں سے مجھے کوئی مطلب ہی نہیں ۔۔ مجھے تو بس تم چاہئیے ۔۔ میرے چارہ گر تو تم ہو ۔۔ میرے محرم تم ہو ۔۔ میری زندگی کے محرم ہمراز تم ہو ۔۔ ” اور ارحم بس سنتا اور مسکرا دیتا اور آج ۔۔۔۔
اسے وحشت ہونے لگی تھی ۔۔ اس کمرے کی در و دیوار سے ۔۔ اسے لگا وہ میرال کے بنا مر جائے گا ۔۔ اسے میرال نہیں مل رہی تھی ۔۔ اس کا سکون نہیں مل رہا تھا اسے ۔۔ وہ کہاں ڈھونڈے اسے کہاں ۔۔ اسے لگا اس کے دماغ کی شریانیں پھٹ جائے گی ۔۔ ” میرال ۔۔۔ ” وہ چیخا تھا ” میرال میں مر رہا ہوں ۔۔ یہ بےسکونی یہ بےچینی مجھے مار ڈالے گی۔۔ م۔۔۔ ۔یں یونہی سسکیاں لیتے لیتے مر جاؤں گا ” وہ رو رہا تھا جب اس کے اندر سے آواز آئی ” اے میرے بندے مجھ سے مانگ ” وہ چونکا تھا ۔۔ ” اے میرے بندے تجھے سکون صرف اللہ کے پاس ملے گی پس پناہ مانگو اپنے رب سے ۔۔ ” وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا
” نظام ِحق کو چھوڑ دینے کے بعد گمراہی اور جہالت کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے، تو تم کہاں بہکے جاتے ہو”
اسے اس خواب والے بوڑھے آدمی کی آواز آئی تھی ۔۔ اس نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے ۔۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔ اس کا وجود لرز رہا تھا ۔۔ وہ خود کو بےچارگی کی آخری حد پہ محسوس کر رہا تھا ۔۔
” اپنے رب کی طرف لوٹو ۔۔ اپنے رب کی پناہ مانگو ۔۔ اپنے رب کے آگے جھکو ۔۔ بیشک تمہیں سکون سجدوں میں ملے گا ” وہ رو رہا تھا ۔۔ گڑگڑا رہا تھا ” مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔ ” اس نے زور سے اپنا سر پکڑ کے اپنے رب کو پکارا تھا ” اے اللہ ” اس نے اپنا سر گھٹنوں میں رکھا ” مجھے سکون چاہئے ۔۔ مجھے سکون چاہئے ۔۔ مجھے سکون چاہئیے ” اس کی لرزاہٹ کم ہو رہی تھی ۔۔ اسکی بےچینی کو قرار مل۔رہا تھا ” یا اللہ مجھے سکون چاہئیے ” اسے لگا اس کی بےچینی کو قرار مل رہا ہے ۔۔ ارحم عباس نے آج پہلی بار اپنے رب کو پکارا تھا ۔۔ پہلی بار اس کی زبان سے لفظ ‘اللہ’ ادا ہوا تھا پھر کیسے اس کا رب اس کی نہ سنتا ۔۔ کیسے اس کے بےچین دل کو چین نہ دیتا ۔۔ کیسے اس کی آواز ان سنی کر دیتا ۔۔ کیسے اس کے پھیلے ہاتھ ٹھکرا دیتا جو وہ سوالی بن کے اسے پکار رہا تھا
