Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 17 (Last Episode)
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 17 (Last Episode)
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
” کیا ؟” آسیہ ساری بات سن کے حیرت سے اب عباس کو دیکھ رہی تھی ۔۔ کھانے کے بعد وہ دونوں بالکونی میں بیٹھے ہوئے تھے جب عباس نے آسیہ کو مہک سے متعلق بات بتائی ۔۔ آسیہ کو دکھ بھی ہو رہا تھا عباس کو یوں دکھی دیکھ کے ۔۔ ” عباس “
“ہمم ؟” وہ انھیں دیکھنے لگے ۔۔ ” جو قسمت میں ہوتا ہے انسان وہ دیکھ کے ہی رہتا ہے ۔۔ آپ پریشان مت ہو اللہ بہتر کرے گا سب ” عباس پرسوچ نظروں سے انھیں دیکھ رہے تھے ۔۔ ” بیشک ۔۔” وہ زیر لب بڑبڑائے تھے ۔۔ کچھ دیر سامنے دیکھنے کے بعد وہ آسیہ سے کہنے لگے ” کل سحر کو ایڈمیشن کروانے بھی لے کے جانا ہے ” آسیہ چونک کے انھیں دیکھنے لگی ” میں سوچ رہی تھی کہ میں اور سحر پھر سے نیویارک چلے جائیں ” عباس نے چونک کے انھیں دیکھا ۔ ” کیوں آسیہ ؟ یہاں کوئی پریشانی ہے ” وہ گھبرا ہی گئے تھے ” نہیں عباس ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔ یہاں ارحم اور کشف کی اپنی زندگی ہے ۔۔ ہم کب تک ان کے گلے لٹکے رہے گیں ۔۔ ہماری وہیں زندگی ہے ۔۔ ہم یہاں آپ سب کے بیچ مس فٹ ہیں ۔۔ ” آسیہ سمجھانے والے انداز میں بولی ۔۔ عباس پھر بھی مضطرب تھے ” آسیہ سحر میری بیٹی ہے ۔۔ تم میری بیوی ہو ۔۔ کیسے چھوڑ کے جا سکتی ہو تم مجھے ۔۔ کیسے سحر کو دور کر سکتی ہو مجھ سے آسیہ ۔۔ یہ ٹھیک نہیں ہیں ” وہ دل برداشتہ ہو رہے تھے ۔۔ “عباس یہی بہتر ہے ہم سب کے لئے ” آسیہ مطمئن تھی ۔۔ عباس نے بےساختہ ان کا ہاتھ پکڑ لیا آسیہ چونک کے انھیں دیکھ رہی تھی ” آسیہ مت جاؤ پلیز ۔۔ ” عباس منت سے بولے تھے ” اب جب ملی ہو مجھے تو اب چھوڑ کے مت جاؤ پلیز” آسیہ نے دیکھا ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔ آسیہ نظریں چرا گئی ۔۔ مبادا آسیہ کی آنکھوں میں چمکنے والے آنسو عباس کو نظر نہ آئے ۔۔ اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ عباس کے ہاتھ سے نکالا۔ عباس بس اسے دیکھ کے رہ گئے ۔
√√√√√√√√√
کشف نے جیسے ہی نماز ادا کی اور اٹھ کے جائے نماز اپنی جگہ پہ رکھنے لگی ۔۔ جیسے ہی مڑی ارحم نے اسے اپنی بازوؤں کے حصار میں لے لیا ۔۔ کشف مسکرا کے اسے دیکھنے لگی ” جناب آج فرصت مل گئی مجھ پہ اپنا نظر کرم کرنے کی ” ارحم ہنسنے لگا اس کی آنکھوں میں کشف کے لئے محبت ہی محبت تھی ” سوچا آج کچھ تو ہونا چاہیے ” کشف اس کے بال سنوارنے لگی ” آہاں ۔۔ یہ مہربانی ۔۔ سرکار کہئیے کیا خدمت کی جائے آپ کی ” ارحم مسکراتا ہو آبرو اچکانے لگا ” بتا دوں مہارانی ؟” کشف نے آبرو اچکا کے اسے دیکھا ” بتائیے ؟” ارحم نے جھک کے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے ۔۔ کشف آنکھیں بند کر کے اسے محسوس کرنے لگی جب کہ ارحم نے اسے اور اپنے قریب کر لیا ۔۔ کچھ دنوں کی ٹینشن وہ محسوس کر رہا تھا کہ کشف اور اس کے بیچ دوری آ رہی ہے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کے بیچ پھر سے کوئی فاصلہ آئے تبھی اس نے یہ فاصلہ ختم کر لیا۔۔ وہ کشف کو خود سے دور نہیں جانے دینا چاہتا تھا اب ۔۔ وہ کشف کی بند آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر اس کی آنکھوں پہ باری باری اپنے لب رکھ دیے ۔۔ اس کے کان کے پاس سرگوشی کی ” کشف آئی لو یو ” کشف دھیرے سے مسکرا پڑی ۔۔ کشف اس کے قریب ہو کے اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگی ” آئی لو یو میرے ارحم ” ارحم کو اس پہ پیار آیا ۔ اور کشف اس کے پیار کی بارش میں بھیگنے لگی ۔۔ آنکھیں موندے وہ اس کے ہر لمس کو محسوس کر رہی تھی ۔۔
√√√√√√√√√√√√√
” میں چاہ رہا تھا تم سب بھی بنگلے میں شفٹ ہو جاؤ اب ارحم کیا خیال ہے ؟” صبح ناشتے کی ٹیبل پہ عباس پاشا نے سب کو متوجہ کرتے یہ بات کہی ۔۔ جبکہ ارحم نے ایک نظر کشف کو دیکھا پھر عباس کے طرف دیکھنے لگا ” جو کشف کو مناسب لگے ۔۔ ” سب کی نظر کشف پہ ٹھہر گئی تو وہ بوکھلا گئی ۔۔ ” یہاں مناسب نہیں میرے خیال سے ؟” عباس مسکرائے ” لیکن بیٹا میں چاہتا ہوں ہم سب ساتھ رہے وہاں ۔۔ اس بڑے گھر میں اکیلے رہ کے میں کیا کروں گا۔۔ میں چاہتا ہوں وہاں میرا بیٹا ہو ۔۔ میری بیٹی ہو ۔۔ میری بہو اور پوتا ہو اور ۔۔۔ ” وہ رک کے آسیہ کو دیکھنے لگے ۔۔ آسیہ انھیں دیکھ کے نظریں جھکا گئی ۔۔ ” اور میرے دونوں بچوں کی ماں ۔۔۔ ” سب انھیں دیکھ کے زیر لب مسکرا پڑے جبکہ آسیہ نظریں چرانے لگی ۔۔ ” یہ تو اچھی بات ہے ۔۔ کیوں مما ” کشف شرارت سے مسکرا رہی تھی ۔۔ ” بابا بڑے گھر میں جائیں گے ہم ؟’ احد عباس سے کہہ رہا تھا ۔۔ عباس نے اثبات میں سر ہلایا ” بلکل بیٹا ۔۔۔ وہاں آپ کے لئے میں نے روم بھی سیٹ کیا ہوا ہے “
” واؤ ۔۔ مما میرے روم میں آپ میری فیورٹ ٹوائز لے رہی ہیں نا ؟” کشف نے پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا ” آف کورس بیٹا ۔۔ ” ارحم عباس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔ ” ڈیڈ آج بریک فاسٹ کے بعد آفس جائیے گیں آپ کچھ فائلز ہیں ان پہ ایک نظر ڈالئے آپ ۔۔ آپ کی رائے چاہئے “
” ٹھیک ہیں چلتے ہیں ۔۔ ” انھوں نے ارحم سے کہا پھر سب پہ نظر ڈال کے کہنے لگیں ” شام کو تیار رہئے گا سب ۔۔ ہم اپنے گھر جائیں گے ” احد پرجوش ہوا تھا ” ہرے ۔۔۔ ” عباس نے اس کے ماتھے پہ پیار کیا پھر ارحم کی طرف دیکھتے اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے ۔۔ ” چلیں ارحم “
” جی پاپا ” وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور عباس کے ساتھ ۔۔
√√√√√√√√√√√√
بعباس نے زینب سے کہہ کے رات کے کھانے میں کافی اہتمام کروایا تھا ۔۔ سب کو یہاں دیکھ کے وہ کافی خوش تھے ۔۔ انھیں لگ رہا تھا آج صحیح معنوں میں ان کا بنگلہ ایک گھر میں تبدیل ہو چکا ۔۔ جہاں ہر طرف ہنسی کی جھنکار ہیں ۔۔ قلقاریاں ہیں ۔۔ خوشیاں ہیں ۔۔ خوش گپیوں میں مصروف ان کی فیملی ہیں ۔۔ ڈنر کے بعد عباس ہچکچاتے ہوئے آسیہ کے پاس آ کے بیٹھ گئے تھے ۔۔ ان کے ہاتھ میں کافی کے دو کپ تھے ۔۔ایک آسیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے وہ آسیہ کو دیکھ رہے تھے آسیہ نے مسکراتے ہوئے لے لیا “تھینک یو ” ” یو ویلکم ۔۔” عباس خوشدلی سے بولے ۔۔ کچھ دیر آسیہ کو دیکھتے رہے پھر کہنے لگے ” ویلکم ٹو یور ہوم آسیہ ” آسیہ چونک کے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔ ” آسیہ پلیز آج کچھ مت کہو ۔۔ پلیز آج تو کوئی نیگیٹو بات مت کرو ۔۔ آج میری باتوں پہ پازیٹیو ریسپانس دو پلیز ۔۔ ” آسیہ کی نظریں ان پہ ٹھہری ہوئی تھی ۔۔ ” بہت اکیلا رہا ہوں ۔۔ بہت تڑپا ہوں ان دنوں کے لئے ۔۔ ان لمحوں کے لئے کہ تم یوں میرے پاس رہو ۔۔ یوں میرے سامنے رہو ۔۔ یوں میرے ساتھ کافی پیو ۔۔ یوں دیر رات تک ہم باتین کرے ۔۔ چھوٹی چھوٹی باتیں شئیر کرے پورے دن کی تھکن اتارے ۔۔ ” آسیہ کی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا ۔۔ جسے عباس نے اپنی انگلی کی پور میں جذب کر لیا ۔۔ ” میں جانتا ہوں تم بہت آنسو بہا چکی ہو ۔۔ میں بھی رویا ہوں ۔۔ تمہیں چھوڑ جانے کے بعد میں بھی رویا ہوں ۔۔ میں بھی پل پل بکھرا ہوں آسیہ ۔۔ میں کمزور تھا ۔۔ میں اسٹینڈ نہیں لے پایا ۔۔ میں ارحم کی طرح اسٹینڈ نہیں۔ لے پایا لیکن ۔۔ ” وہ آسیہ کی قدموں میں بیٹھ گیا اور آسیہ کے ہاتھ سے کپ لے کے سائیڈ پہ رکھ کے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔۔ ” آسیہ مجھے سچے دل سے معاف کر کے اپنا لو پلیز ۔۔ “
” اگر پھر سے چھوڑ گئے تو ؟ ” وہ پوچھنے لگی
” نہیں چھوڑوں گا ” عباس نے منفی میں سر ہلایا
” اگر پھر سے کمزور پڑ گئے تو ؟” وہ اپنا ڈر بتا رہی تھی
” نہیں کمزور پڑوں گا ” عباس نے مسکرا کے کہا ۔
” پرامس کرو ؟” وہ ان سے وعدہ لے رہی تھی اب ۔۔ عباس کھل کے مسکرائے ” وعدہ ہے تم سے آسیہ ۔۔ پرامس ” آسیہ بھی مسکرا رہی تھی اب ۔ عباس نے فرطِ محبت سے آسیہ کو گلے لگا لیا ۔۔ آسیہ اس کے لئے تیار نہ تھی وہ تو سمٹ سی گئی ۔۔ احساس ہونے پہ عباس آسیہ سے الگ ہو گیا ” سوری مجھے سمجھ نہیں آیا تو ۔۔۔ ” آسیہ بھی جھینپ گئی عباس اس کو گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے وہ زیر لب مسکرا پڑے جبکہ آسیہ ابھی تک عباس کے وجود سے اٹھتی پرفیوم کی خوشبو کو ابھی تک اپنے پاس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
” ویسے بیوی ہو میری تم ۔۔ تو ” عباس نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔ آسیہ اسے دیکھنے لگی پھر نظریں جھکا گئی ۔۔ اس کی پلکیں لرز رہی تھی ۔۔ انھیں لگا کہ کئی سالوں بعد ان کے دل میں عباس کی محبت دوبارہ پنپنے لگی ہے وہ محبت جسے تھپکی دے دے کے انھوں نے سلا دیا تھا ۔۔ آج پھر سے عباس کے دیکھنے پہ ان کے دل کی دھڑکن بڑھ رہی تھی ۔۔ ان کی پلکیں لرز رہی تھی ۔۔ وہ مسکرا رہی تھی ۔۔ عباس برسوں سے اس کا تھا ۔۔ اگر آسیہ نے دکھ دیکھے ہیں ۔۔ اگر آسیہ تڑپی ہے عباس کی جدائی میں ۔۔ اگر آسیہ روئی ہے تو عباس بھی تو خوش نہیں تھا اتنے سالوں سے وہ بھی پل پل ترسا تھا آسیہ کے ساتھ کے لئے ۔۔ اور آج دونوں سب بھلا کے پھر سے بندھن جوڑ رہے تھے ۔۔ پھر سے ایک ہونے کے لئے !!!
√√√√√√√√√√√√√
” کشف ” وہ جو ارحم کے کندھے پہ سر رکھے بالکونی میں بیٹھی ہوئی تھی جب ارحم نے دھیرے سے اسے آواز دی ۔۔ ” جی “
” تم حجاب میں بہت خوبصورت لگتی ہو ” ارحم کے کہنے پہ کشف مسکرائی ” ویسے نہیں لگتی کیا؟” کشف نے شرارتی انداز میں کہا
” تب تو آگ لگتی ہو ” ارحم نے بھی اسی کے انداز میں شرارت سے کہا تو کشف اسے گھورنے لگی ” ہیں …” تو ارحم ہنس پڑا ” لیکن حجاب میں جنت کی حور لگتی ہو ۔۔ دل کرتا ہے ایسی حوریں دس بارہ تو ہونی چاہئیے “
” کیا؟” کشف اپنا سر اس کے کندھے سے اٹھا کے منہ پھلا کے بیٹھ گئی ۔۔ ارحم کی ہنسی بےساختہ تھی ۔۔ پھر اسے بانہوں میں بھر لیا ” مذاق کر رہا یار ۔۔ سوری” ارحم اسے منانے لگا
” لیکن جب تمہیں میں نے فرسٹ ٹائم حجاب میں دیکھا تو میں نے شکر کے نوافل ادا کیے تھے کہ میری کشف اللہ کی پناہ میں ہے ۔۔ میری کشف کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔۔ وہ کسی مشکل میں نہیں ہے بلکہ اللہ اسکی حفاظت فرما رہا ہے ۔۔ ” کشف اسے دلچسپی سے دیکھ رہی تھی ” تمہیں مجھ سے محبت کب ہوئی ارحم۔؟” وہ پوچھ رہی تھی
” مجھے تم سے ہمیشہ سے محبت تھی کشف لیکن کھبی احساس نہیں ہوا تھا ” ارحم نے اسے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا
” اور احساس کب ہوا ؟” وہ دلچسپی سے پوچھنے لگی
” جب تم مجھ سے بچھڑ گئی تب ۔۔۔ تب مجھے لگا میں اپنی میرال کو کھو چکا ۔۔ میں رویا تھا ۔۔ چلایا تھا ۔۔ بار بار تمہارا نام پکارتا رہا ۔۔ مجھے لگا تھا میں پاگل ہو رہا ہوں ۔۔ میری سانس شاید یہی ختم ہو جائے گی ۔۔۔ ” کشف نے اس کے لبوں پہ اپنے ہاتھ رکھ دیے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔ وہ کچھ نہیں بولی ارحم کے سینے پہ اس نے اپنا سر رکھ دیا ۔۔ ” کشف آئی لو یو سو مچ ” کشف طمانیت سے مسکرا پڑی ” آئی لو یو میرے ارحم ” اور اپنی آنکھیں موند لیں ۔۔
زندگی کے سفر میں ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے رشتے آسانی سے بن تو جاتے ہیں نبھانا مشکل ہوتا ہے ۔۔ ذرا سی چوک ہوئی تو فاصلے بننے لگتے ہیں اور فاصلے جب حد سے بڑھ جاتے ہیں تو کچھ نہیں بچتا ۔۔ ہم الگ ہو جاتے ہیں ۔۔ جب ہمیں لگتا ہے کہ ہماری محبت ہار رہی ہے تو ہم اس محبت کو زندہ رکھنے کے لیے خود کو ہار دیتے ہیں ۔۔
ہر دکھ کا بہترین مداوا اللہ کی قربت ہے ۔۔ اللہ سے ہی مانگنے میں ہی انسان کی بہتری ہے ۔۔ بہکے انسان کو سکون کی تلاش ہوتی ہے ۔۔ وہ سکون ڈھونڈتا ہے لیکن ۔۔ ایک دن اچانک اسے احساس ہوتا ہے کہ سکون تو اس کے اندر ہے ۔۔ سکون تو اللہ کی چاہ میں ہے ۔۔ سکون تو اللہ کی عبادت میں ہے ۔۔ اور اللہ تو اس کے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس کے ۔۔ وہ جسے ہر طرف ڈھونڈ رہا تھا وہ اس کے اندر ہے ۔۔ اس کے دل میں ہے ۔۔ وہ مادی چیزوں کو چھوڑ کے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور جوں جوں وہ اللہ کے قریب آتا ہے اسے اپنی منزل اتنی ہی قریب محسوس ہوتی ہے ۔۔ اس کا یقین کامل ہوتا جاتا ہے ۔۔ یقین اللہ کی ذات پہ ۔۔ کہ وہ رب سن رہا ہے اپنے بندے کو اور اپنا کن ضرور فرمائے گا اور ہمیں ہماری منزل مل جائے گی ۔۔
