820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 9)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

ڈیڈ آپ آج جلدی آگئے.۔۔۔ وہ پولیس یونیفارم پہنے گھر میں داخل ہوا تو لاؤنچ میں ہی فہد چائے پینے کے ساتھ اخبار پڑھتا نظر آگیا۔

ہاہاہاA.S.Pمیں نہیں بلکے آپ آج جلدی گھر آگئے ہیں۔۔۔ فہد اخبار فولڈ کر کے سامنے ٹیبل پہ رکھتے ہنس کے بولا۔

جی ڈیڈ آپ نے سہی کہا۔۔۔ وہ بھی تھکا ہوا صوفے پہ بیٹھا۔۔۔ ویسے تو وہ اکثر ہی لیٹ گھر آتا تھا لیکن کچھ دنوں سے وہ کام کم ہونے کی وجہ سے جلدی آرہا تھا۔

جاؤ فریش ہوجاو جب تک ہم کھانا لگواتے ہیں۔۔۔ پھر مجھے آپ سے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے۔۔۔ فہد اسے دیکھ کے بولا جو صوفے کی پشت سے ٹھیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

کیا ضروری بات کرنی ہے ڈیڈ۔۔۔۔ وہ سیدھے ہوتے پوچھنے لگا۔

کھانا کھالیں پھر بتاتا ہوں۔۔۔ فہد نے بعد کا کہا لیکن وہ تجسس میں پڑھ گیا تھا کہ ایسی کون سی بات ہے جو فہد کرنا چاہ رہا ہے

کھانا تو چلتا ہی رہے گا پہلے آپ کو جو بھی ضروری بات کرنی ہے وہ بتائیں۔۔۔ اسنے تجسس سے پوچھا۔

بیٹا میں نے ایک فیصلہ کیا ہے ۔۔۔ اسکے اسرار پہ فہد سکون سے بولا۔

کیسا فیصلہ۔۔۔ اسنے ایک ایبرو اچکائے پوچھا۔

دامل اب تم ماشاءاللہ سے اپنے پیروں پہ کھڑے ہوگئے ہو ۔۔ تو میں چاہتا ہوں تمہاری شادی کردی جائے۔۔۔ فہد نے سنجیدگی سے اسکے چہرے کے اکسپریشن دیکھتے کہا۔۔۔ جو انکی بات سنتے چونکا تھا۔

ڈیڈ یہ آپ کو بیٹھے بیٹھائے میری شادی کا خیال کہاں سے آگیا۔۔۔ دامل نے ہلکے سے ہنس کے پوچھا۔

خیال تو کب سے تھا لیکن جب کوئی اچھی لڑکی نہیں مل رہی تھی پر اب میری تلاش ختم ہوگئی ہے ۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ اب تم شادی کرلو بس۔۔۔ میں نے لڑکی بھی پسند کرلی ہے۔۔۔۔ لیکن اگر تمہیں کوئی اور لڑکی پسند ہے تو تم مجھے بتا سکتے ہو اپنی پسند۔۔۔ فہد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ساتھ اسکی پسند بھی جاننی چاہی۔۔۔

وہ اپنے باپ کی طرح نہیں تھا۔۔۔ آگر اسکے بیٹے کو کوئی لڑکی پسند تھی تو اسکے لیئے اپنے بیٹے کی پسند پہلے نمبر پہ تھی۔۔۔ آگر جو اسکے بیٹے کو کوئی لڑکی پسند نہیں تھی تو پھر وہ اسکی شادی اپنی پسند کی ہوئی لڑکی سے کروانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ایسی بات نہیں ہے ڈیڈ مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے۔۔۔ بس میں چاہتا ہوں کے جس لڑکی سے میری شادی ہو بھلے ہی وہ کم پڑھی لکھی ہو لیکن اسے بات کرنے کا سلیقہ اور تمیز آتی ہو۔۔۔ بڑوں کا آداب جانتی ہو۔۔۔ گھر کے کام جانتی ہو۔۔۔ سادہ طبیعت کی ہو لیکن ساتھ بہادر بھی ہو۔۔۔ بس مجھے اور کچھ نہیں چاہیے آگر لڑکی میں یہ ساری باتیں ہیں تو مجھے شادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ دامل نے ریلیکس انداز میں اپنی پسند بتائی۔

بھئی پھر تو مبارک ہو جو لڑکی میں نے تمہارے لیئے پسند کی اس میں یہ ساری خوبیاں ہیں۔۔۔ فہد نے خوشی سے کہا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ جسے وہ اپنی بہو بنانا چاہتا ہے وہ دس پرسنٹ بھی انکے بیٹے کی پسند کے مطابق نہیں ہے۔۔۔

تو پھر مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ڈیڈ آپ جب چاہیں میری شادی کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ انکا خوشی سے چمکتا چہرہ دیکھ مسکرا کے بولا تو فہد جوش سے اٹھتے اپنے بیٹے کے گلے لگا۔

شاباش میرے بیٹے۔۔۔ بس اب ہم کل ہی جائیں کے رشتہ لے کے۔۔۔ تمہیں میں ٹائم بتا دوں گا اس وقت تک تیار ہو جانا ۔۔۔ وہ اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا۔

سوری ڈیڈ میں نہیں جا پاؤں گا۔۔۔ ایک بہت اہم کیس چل رہا ہے جس کے سلسلے میں مجھے کچھ دنوں کے لیئے اسلام آباد جانا ہے ۔۔۔ اس لیئے آپ خود رشتہ پکا کر آئے گا۔۔۔ مجھے آپ کی پسند پہ پورا بھروسہ ہے۔۔۔ دامل کی بات سن کے فہد کو دل سے خوشی ہوئی تھی کہ اسکا بیٹا بہت فرمابردار ہے

چلو بیٹا ٹھیک ہے۔۔۔ پھر میں لڑکی کی تصویر لے آؤں گا۔۔۔۔ فہد کے کہنے پہ دامل نے ہاں میں سر ہلادیا۔

چلو ایسی خوشی میں آج دونوں باپ بیٹا مل کے باہر ڈینر کرتے ہیں۔۔۔ فہد نے خوشی سے بھرے لہجے میں کہا۔

اوکے ڈیڈ مجھے بس پانچ منٹ دیں میں ابھی چینج کر کے آتا ہوں پھر چلتے ہیں۔۔۔ دامل کہتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جب کے فہد سے تو اسکی خوشی سمبھالے نہیں سمبھل رہی تھی ۔۔۔ وہ دامل کے آنے کا انتظار کرتے اپنی سوچ میں کافی آگے نکل گیا تھا۔

۔🌺🌺🌺

سب اس وقت ڈائنگ ٹیبل پہ موجود رات کا کھانا کھا رہے تھے جب ابتسام نے انمول کو مخاطب کیا۔

انو آج تم دائم کے گھر گئیں تھی کیا بنا وہاں۔۔۔ تحریم کو جو لڑکے والے دیکھنے آئے تھے تو کیا جواب دیا دائم نے۔۔۔ ابتسام کی بات پہ جہاں وردہ سے چھیڑ چھاڑ کرتے بسام کے سر پہ دھماکہ ہوا تھا وہیں باغور انمول نے اپنے بیٹے کا ری ایکشن دیکھا تھا۔۔۔ جس کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں۔

بہت اچھے لوگ تھے وہ۔۔۔ دائم نے لڑکے کے بارے میں سب پتہ کروایا ہے لڑکا کافی اچھا ہے۔۔۔ وہ سوچ رہا ہے ایک دو دن میں انہیں ہاں کردے۔۔۔ انمول سب کی جانب ایک نظر گھماتی سکون سے بولی۔

ایسے کیسے وہ لوگ ہاں کردیں گے تحریم سے پوچھا انہوں نے کیا پتہ اسے اعتراض ہو۔۔۔ بسام سے جب رہا نہیں گیا تو وہ ایک دم بلند آواز میں بول اٹھا۔۔۔۔ جب کے اب سب کی سوالیہ نظریں انمول کی جانب تھیں۔

سب کچھ تحریم کی مرضی سے ہی ہو رہا ہے۔۔۔ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے کسی بھی چیز پہ۔۔۔ انمول کے ایک بار پھر سکون سے جواب دینے پہ بسام کو لگا جیسے اسکی روح کھینچی جارہی ہے۔۔۔ اس سے اب وہاں بیٹھنا محال ہو رہا تھا اس لیئے کھانا چھوڑ کے کھڑا ہو گیا۔

تمہیں کیا ہوا تم کہاں جارہے ہو اب۔۔۔ اسے جاتے دیکھ وردہ نے حیرت سے پوچھا۔

بس میرا بیٹ بھر گیا۔۔۔ بسام اپنے لہجے کو بامشکل نارمل رکھتے کہہ کے جانے لگا جب انمول کی آواز پہ ایک بار پھر رکا۔

بسام واپس آؤ اور یہاں میرے ساتھ بیٹھو۔۔۔ انمول کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی ۔۔۔ اور یہ سنجیدگی کیوں تھی یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی

مما مجھے اور بھوک نہیں ہے۔۔۔ بسام اپنے جذبات قابو کرتے بولا۔۔۔ آگر انمول اسے یہ نا بتاتی کے یہ سب تحریم کی مرضی سے ہو رہا ہے تو وہ ابھی کے ابھی سب کو اپنے اور تحریم کے بارے میں بتا دیتا لیکن جب (اسکے مطابق) تحریم کو ہی کوئی فرق نہیں پڑھتا تو وہ کیوں اسے زبردستی اپنی زندگی میں شامل کرے۔

بسام تم نے سنا نہیں،،، میں نے کہا یہاں آکے بیٹھو۔۔۔ اس بار انمول نے کافی سختی سے کہا تھا جس کی وجہ سے بسام کو نا چاہتے ہوئے بھی آگے بیٹھنا پڑھا۔

اب جو بھی بات ہے جلدی سے بتاؤ۔۔۔ انمول اپنا آخری نوالہ منہ میں ڈالتی اسے دیکھے بغیر بولی۔

کوئی بات نہیں ہے مما۔۔۔ بسام نے نظریں جھکائے کہا۔

کوئی بات نہیں ہے مما۔۔۔ انمول اسکا کان پکڑتی بھڑک کے اسکی نقل اترتی بولی۔

ہااا مما درد ہو رہا ہے۔۔۔ بسام کراہ یا۔

انو یہ کیا کر رہی ہو بچے کے کان چھوڑو ۔۔۔ شگفتہ بیگم اسے گھور کے بولیں۔

نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ اسے زرا شرم نہیں آئی مجھ سے باتیں چھپاتے ہوئے۔۔۔ آگر تو میں آج دائم کی طرف نہیں جاتی اور تحریم کو روتے نا دیکھتی اور پھر زور دے کے رونے کی وجہ نا پوچھتی تو مجھے تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ موصوف اور وہ میڈم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ انمول اور زور سے اسکا کان کھینچ کے غصے سے بولی تو سب کی آنکھیں بیک وقت حیرت سے کھلیں تھیں۔

سوری مما ۔۔۔۔ میں آپ کو بتانے والے ہی تھا ۔۔۔ بسام اپنا کان چھڑانے کی کوشش کرتے بولا۔۔۔ اسے تو یہ سوچ کہ ہی سکون مل گیا تھا کہ اسکی ماں سب جان چکی ہے اور اب اسے یقین تھا وہ ضرور اپنے بیٹھے کے لیئے کچھ نا کچھ ضرور کرے گی۔۔۔۔ لیکن تحریم نے خود رضامندی دی تھی یہ بات اس سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔

کب بتانے والے تھے جب تحریم کا رشتہ پکاہ ہوجاتا تب بتاتے۔۔۔ انمول اسکا کان چھوڑتی اسے تیخی نظروں سے گھورنے لگی۔۔۔ تو بسام نے اپنی نظریں جھکا لیں۔

بسام آگر ایسی کوئی بات تھی تو تمہیں پہلے بتانا چاہیئے تھا نا۔۔۔ خیر بگڑا تو اب بھی کچھ نہیں ہے ہم اب بھی تحریم کا ہاتھ مانگ سکتے ہیں۔۔۔ ابتسام نے رسان سے کہا تو سب ہی اسکی بات سے متفق ہوئے تھے۔

نہیں بابا آگر یہ سب تحریم کی اپنی مرضی سے ہو رہا ہے تو پھر ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں جانے کی۔۔۔ انمول کی کہی بات اچانک بسام کے ذہن میں کلک ہوئی کہ (تحریم راضی ہے) اور اس بات کے آتے ہی بسام ایک دم سنجیدہ ہوتے بولا۔

نالائق اولاد۔۔۔۔ تم اسے کیا جانتے نہیں ہو وہ کیسی لڑکی ہے۔۔۔ حساس اور جذباتی ہے بہت ۔۔۔ شرمیلی ہے بہت۔۔۔ اور تم اس سے یہ امید رکھتے ہو کے وہ خود اپنے منہ سے بولے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے۔۔۔ ارے اسنے ایک اچھی لڑکی کا فرض نبھاتے اپنے بابا کے سامنے سر خم کر دیا تھا تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ تم سے پیار نہیں کرتی۔۔۔۔ آگر تم اس دن اسکی حالت دیکھ لیتے جو میں نے دیکھی تھی تو کبھی یہ بات نا کہتے۔۔۔ انمول اسکی کمر پہ ایک تھپڑ رسید کرتی اسکی بات سنتے اپنا غصہ کنٹرول کر کے بولی ۔

مما میں تو۔۔۔ وہ شرمندگی سے اپنی صفائی دینے ہی لگا تھا کہ انمول نے بیچ میں ہی روک دیا۔

بس،،، اب کوئی نہیں جائے کا یہاں سے تحریم کو مانگنے۔۔۔ جب تمہیں اسکی محبت پہ یقین نہیں ہے تو میں اپنی بیٹی کو کسی ایسے شخص کے حوالے تو کبھی نہیں کروں گی جسے اس پہ یقین ہی نا ہو۔۔۔ انمول نے افسوس بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ اسے اپنے بیٹے سے تو بلکل اس بات کی امید نہیں تھی کہ وہ اپنی محبت سے اتنی جلدی دستبردار ہو جائے گا۔

ایسا نہیں ہے مما۔۔۔ مجھے اس پہ اسکی محبت پہ خود سے زیادہ یقین ہے۔۔۔ میں تو بس اسکی خوشی کے لیئے منا کررہا تھا۔۔۔ اپنی ماں کی بات پہ بسام تڑپ اٹھا تھا۔۔۔ وہ تحریم کو کئی سالوں سے چاہتا تھا ۔۔۔ وہ اسے کھونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

آگر تمہیں اس پہ اتنا یقین ہے تو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ تمہارے علاوہ اور کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی۔۔۔ انمول نے ایک بار پھر اسے اسکی غلطی بتائی جس پہ بسام کچھ بول ہی نا سکا۔

اچھا انو اب بس کرو ۔۔۔ اسنے کہا نا اسنے تو بس تحریم کی خوشی کا سوچ کے منا کیا تھا۔۔۔ لیکن اب جب ہمیں پتہ ہے کہ تحریم بھی اس رشتے سے خوش نہیں تھی تو میرا نہیں خیال کہ ہمیں دیر کرنی چاہیئے ۔۔۔ ہمیں جلد ہی دائم سے اس بارے میں بات کرنی ہوگی کہ وہ ہمیں تحریم کا ہاتھ سونپ دے۔۔۔ ابتسام بات ختم کرتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں بولا۔

بابا مجھے ہاتھ نہیں بلکے پوری تحریم چاہیئے۔۔۔ بسام بےچارگی سے بولا تو سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آگئی۔

بےوقوف پوری تحریم ہی ملے گی۔۔۔ اور میں دائم سے بول کے آگئی ہو کے ہم کل آئیں گے رشتہ پکاہ کرنے ۔۔۔ پہلی بات بسام سے کہتی وہ ابتسام سے مخاطب ہوئی۔

ارے واہ میرا بھیا دلہا بنے گا۔۔. اس بات پہ تو سب کا منہ میٹھا ہونا بنتا ہے۔۔۔ وردہ نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو سب ہی مسکرا دیئے۔۔۔

اس وقت بسام کے چہرے کی چمک دیکھنے والی تھی۔۔۔ اسے تو یہ سوچ کہ ہی سکون مل گیا تھا کہ کل تحریم کو اسکے نام کر دیا جائے گا۔

۔🌺🌺🌺

ہاں بھئی سیف تمہارا کیا بنا ۔۔۔ پھر کیا سوچا ہے تم نے نور کے بارے میں ۔۔۔ وہ لوگ لاونچ میں بیٹھے رات کی چائے پی رہے تھے جب حماد نے سیف کو مخاطب کیا۔

جی بابا ممانی نے کہا ہے وہ آئیں گی کسی دن آپ لوگوں کے ساتھ نور کے گھر جانے کا پلین بنانے ۔۔۔ نور کی امی نے بھی کہاں تھا کہ وہ ہمارا انتظار کریں گی۔۔۔ سیف چائے کا سپ لیتے بولا۔

انو نور کی امی سے کب ملی۔۔۔ مشی نے الجھ کے ناسمجھی سے پوچھا تو سیف نے اپنی جلد بازی پہ زبان دانتوں تلے دبائی۔

ان لوگوں نے ڈیسائڈ کیا تھا کہ یہ بات صرف ان چار پانچ لوگوں کے بیچ میں رہے گی کسی اور کو پتہ نہیں چلنے دیں گے لیکن سیف کے منہ سے جلد بازی میں نکل گیا تھا۔

وہ ماما ہم لوگ شوپنگ پہ گئے تھے نا تو بس وہیں ملاقات ہوگئی تھی۔۔۔ سیف نے بات سنبھالتے ہوئے کہا تو مشی نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلادیا۔

سیف ناجانے کیوں تم مجھے انو کی طرح مشکوک مشکوک لگ رہے ہو۔۔۔ حماد نے آنکھیں چھوٹی کیئے اسے گھورا۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے بابا آپ خواہ مخواہ سی آئی ڈی بن رہے ہیں۔۔۔ سیف اب کافی سمبھل کے بولا تھا۔

بیٹھا تم بچپن میں جس کے پاس زیادہ رہے ہو نا وہ الٹے کاموں میں ماہر ہے اس لیئے اب تو اسکے ساتھ رہے والا ہر شخص مجھے مشکوک ہی لگتا ہے۔۔۔ حماد نے بھی صاف صاف جواب دیا جس پہ وہ مسکرا دیا۔

مما دیکھ رہی ہیں آپ بابا کو،،، کتنے سوال کر رہے ہیں آرام سے چاہے بھی نہیں پینے دے رہے۔۔۔ سیف نے اپنی ماں کو دیکھ رونے والی شکل بنائی تو میشا جیسے تڑپ اٹھی۔

اسے پتہ تھا اسکی ماں اسے روتے یا اداس نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کے لیئے حماد سے لڑتی تھی۔۔۔ اور سیف اپنی معصوم ماں کے سامنے خوب حماد کی شکایت کرتا تھا۔۔۔ اور اسکی شکایت کرنے پہ میشا همیشہ حماد کو ڈانٹتی تھی۔۔۔ جس پہ حماد میشا کو تو کچھ نہیں کہتا تھا لیکن سیف کو سخت گھوری سے نوازتا تھا جس کا اثر اس پہ کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ اکلوتا تھا اس لیئے اپنی ماں کا لاڈلا اور باپ کا شیر بیٹا تھا ۔

حماد کیا ہو گیا ہے آپ کو کیوں بچے سے اتنے سوال کر رہے ہیں۔۔۔ مشی نے حماد کو ڈانٹا تو حماد نفی میں سر ہلا کے رہ گیا۔۔۔ کیونکہ اب تو اسنے کچھ کہنا ہی چھوڑ دیا تھا۔۔۔ جانتا تھا وہ ماں بیٹا ایک ٹیم میں ہوکے جیت جائیں گے اور وہ ہمیشہ کی طرح ہار جائے گا۔۔۔۔ لیکن اسے اپنی ہار پہ بھی خوشی ہوا کرتی تھی کیونکہ ہرانے والے اسکے اپنے جو تھے۔

۔🌺🌺🌺

نئی صبح کا آغاز ہوا تھا ۔۔۔۔ آج بہت سے رشتے جڑنے والے تھے۔۔۔ سب خوش تھے۔۔۔ گھر میں سب تحریم کے گھر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔۔۔ انمول نے باقائدہ مٹھائیوں کے ٹوکرے منگوائے تھے۔۔۔ وہ بلکل پروپر طریقے سے رشتہ لے کے جانے والی تھی۔

ابتسام اور وردہ تھوڑی دیر آفس ہو کے آگئے تھے جب کہ بسام تو خوشی کے مارے آج آفس ہی نہیں گیا تھا۔۔۔۔

چلو بھئی جلدی کرو سب انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ مسرت بیگم نے جلدی کا شور مچایا۔۔۔

بلال صاحب کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لیئے وہ اور شگفتہ بیگم گھر پہ ہی رہے تھے باقی سب جارہے تھے۔

دادی میں تو تیار ہوں باقی سب دیر کر رہے ہیں۔۔۔ بسام گھڑی بند کرتے سیڑھیاں اترتے بولا۔

آگئے ہم لوگ بھی۔۔۔ انمول اور ابتسام بھی اسکے پیچھے ہی نیچے آئے۔۔

وردہ کہاں رہ گئی ہے ۔۔۔ اسے اور کتنا ٹائم لگے گا تیار ہونے میں۔۔۔ بسام نے جھنجھلا کے کیا۔۔۔ اس سے تو بلکل صبر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ اسکا بس چلتا تو ابھی اڑ کے پہنچ جاتا۔

وردہ یار آجاؤ ہم بارات لے کے نہیں جارہے جو تم اتنی دیر لگا رہی ہو۔۔۔۔ مما آگر اسنے میری شادی میں بھی اتنی ہی دیر کی تو میری بارات تو پھر اگلے دن جائے گی۔۔۔ بسام وردہ کو آواز لگاتے گھڑی میں ٹائم دیکھ کے انمول سے بولا۔

بےصبرے انسان آگئی میں۔۔۔ وردہ دوپٹہ ٹھیک کرتی اسکے سامنے آگے رکی۔

شکر تم آگئیں چلو اب چلیں۔۔۔ بسام شکر ادا کرتا باہر نکلا تو اسکے پیچھے ہی سب باہر کی جانب بڑھے۔

وہ لوگ ابھی گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ ایک چمکتی ہوئی بی ایم ڈبلیو انکے گھر کے سامنے رکھی۔۔۔ جس نے سب کی توجہ اپنی طرف دلائی تھی۔۔۔ لیکن اصل حیرت کا جھٹکا تو تب لگا جب اس میں سے کالی قمیض شلوار پہنے فہد باہر نکلا۔

فہد۔۔۔ سب سے پہلے انمول کے منہ سے سرگوشی نما نکلا تھا۔۔۔۔ جب کے اسکے پیچھے کھڑے ابتسام نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھا تھا۔۔۔ ابتسام کو اسے یہاں دیکھ کے حیرت ہوئی تھی کہ آخر اتنے سال بعد وہ یہاں کیوں آیا ہے۔۔۔ اور غصہ اس بات پہ آیا تھا کہ وہ کیوں واپس انکی زندگیوں میں آیا تھا۔

۔🌺🌺🌺