820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 12)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

گھر میں کوئی ہے۔۔۔ انمول حماد کے گھر میں داخل ہوتی سناٹا محسوس کر کے بولی۔

کوئی نہیں ہے آپ واپس جا سکتی ہیں۔۔۔ حماد نے آواز لیکن تو انمول نے پورا گھوم کے گھر دیکھا کہ وہ کہہ کہاں سے رہا ہے لیکن اسے وہاں سوائے اپنے اور کوئی نا دیکھا۔

حماد بھائی کیا آپ مسٹر انڈیا بن گئے ہیں جو مجھے دیکھائی نہیں دے رہے۔۔۔انمول پوری آنکھیں کھولے ادھر ادھر دیکھ کے بولی۔

انو کس سے باتیں کر رہی ہو اکیلی اکیلی۔۔۔ میشا سیڑھیاں اترتی انمول کو بڑبڑاتے دیکھ مسکرا کے پوچھنے لگی

یار مشی حماد بھائی کی آواز تو آرہی ہے لیکن وہ دیکھائی نہیں دے رہے۔۔۔۔ انمول فورن اسکے پاس آتی رازداری سے بولی تو میشا کو ہنسی اگئی۔

ہاہاہا انو وہ اسٹیڈی روم میں ہیں۔۔۔ وہیں سے انہوں نے آواز لگائی ہوگی۔۔۔ میشا نے ہنس کے کہا تو انمول نے اوو کی شیپ میں ہونٹوں کو گھول کرتے ہاں میں سر ہلایا۔

چلو پھر وہیں چلتے ہیں مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے دونوں سے۔۔ انمول مشی کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ اسٹیڈی روم میں لے گئی۔

ارے تم دونوں یہاں کہاں گھسی چلی آرہی ہو۔۔۔ دیکھ نہیں رہا میں کام کر رہا ہوں۔۔۔ ان دونوں کو اندر آتے دیکھ حماد نے مسنوعی غصے سے کہا۔

آپ کے کہنے سے تو اب ہم کہیں آئیں گے جائیں گے نا۔۔۔مرضی ہماری ہم کہیں بھی گھسے چلے آئیں۔۔۔ انمول اسکے سامنے صوفے پہ بیٹھتی بولی۔

انو۔۔۔

انو ونو کچھ نہیں ۔۔۔ میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے اس لیئے میں جو بات کرنے آئی ہوں وہ جلدی سے کرنے دیں مجھے۔۔۔ حماد کی بات کاٹتے انمول نے اپنی بات کہی۔

کیا تم کہیں کی منسٹر لگی ہوئی ہو جو ٹائم نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔ حماد نے طنزیہ کہا

مشی دیکھ رہی ہو یہ مجھے بات نہیں کرنے دے رہے۔۔۔ انمول نے اپنے ساتھ بیٹھی مشی کو بےچارگی سے دیکھ کے کہا۔

حماد آپ بھی نا بس شروع ہو جاتے ہیں۔۔۔ ایک تو یہ ضروری بات کرنے آئی ہے اور آپ ہیں کے اسے اپنی بات کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہے۔۔۔ میشا کے انمول کی سائڈ لینے پہ حماد نے گہری سانس بھرتے سامنے رکھا لیپ ٹاپ بند کیا اور ان دونوں کی جانب متوجہ ہوا۔

ہاں بھئی کیا ہے تمہاری ضروری بات۔۔۔ حماد کرسی سے ٹھیک لگائے پوچھنے لگا۔

نور کے گھر کب جانا ہے۔۔۔۔ انمول نے سیریس انداز میں پوچھا۔

پہلے سیف کو نور سے بات تو کرنے تو پھر جائیں گے۔۔۔ حماد نے کہا

سیف نے بتایا تو ہوگا جب ہم شوپنگ کرنے گئے تھے جب نور اور اسکی امی ملیں تھی،،، جب انہوں نے ہمیں اپنے گھر بلایا تھا لیکن جب کافی رات ہوگئی تھی اس لیئے ہم گئے نہیں ۔۔۔ پر اب ہم جائیں گے اور رشتہ بھی پکاہ کر کے آئیں گے۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے وہ لوگ انکار نہیں کریں گے۔۔۔ انمول نے اپنی پوری پلینگ بتائی۔

تم نے سیف سے بات کی اس بارے میں۔۔۔ حماد نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔

لو بھئی آندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔۔۔ وہ تو چاہتا ہے ہم کل کے جاتے آج ہی رشتہ لے کے چلے جائیں۔۔۔ انمول نے مزے سے بتایا تو وہ دونوں مسکرا دیئے

چلو ٹھیک ہے پھر ہم چلتے ہیں ایک آت دن میں۔۔۔ حماد نے کہا۔

ہممم ویسے تم لوگوں کو پتہ ہے کہ فہد آیا تھا ہمارے گھر۔۔۔ انمول نے سکون سے کہتے ان دونوں کے سروں پہ دھماکہ کیا تھا۔

اتنے سالوں بعد مگر کیوں ۔۔۔ اب کیا لینے آیا تھا وہ۔۔۔ مشی نے حیرت سے پوچھا۔

وردہ کا ہاتھ مانگنے آیا تھا اپنے بیٹے کے لیئے۔۔۔ انمول نے خوشی سے چہک کے بتایا۔

اور تم نے اسے ہاں کر دی ہے۔۔۔آئی ایم رائٹ۔۔۔ حماد نے ائبرو اچکائے پوچھا۔۔۔ اسے انمول سے پوری امید تھی کہ اسنے ہاں ہی کی ہوگی۔۔۔کیونکہ اسکے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ اسنے ہاں ہی کی ہے۔

ہائے حماد بھائی میرا بس چلتا تو میں جبہی ہاں کردیتی لیکن یہ آپ کے جو بہنوئی صاحب ہیں نا انہیں بہت فکر لگی ہوئی تھی کہ پہلے کی طرح ہی کچھ نا ہو جائے۔۔۔ لیکن شکر ہے کہ وہ مان گئے ہیں ۔۔. اب کل یا پرسوں تک ہم جائیں گے فہد کے گھر لڑکے سے بھی ملیں گے اسکے بعد ہاں کریں گے۔۔۔ انمول نے تفصیل سے بتایا۔

ویسے ابتسام اپنی جگہ ٹھیک ہے۔۔۔ اسکا ڈرنا بنتا بھی ہے آخر کو اسکی بیٹی کا جو معاملا ہے۔۔۔ حماد کو ابتسام کی سائڈ لیتے دیکھ انمول نے اسے گھورا ۔

آپ کو زیادہ انکی سائڈ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ خواہ مخواہ ہی پریشان ہو رہے ہیں۔۔۔۔ ماضی میں بھی فہد نے کچھ نہیں کیا تھا جو بھی کیا تھا سب اسکے باپ کا کیا دھرا تھا لیکن خیر ماضی کو گزرے کئی سال ہوگئے ہیں اب اسے دھورانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔ میں تو بس اتنا جانتی ہوں کے فہد اچھا تھا تو اسکا بیٹا بھی اچھا ہی ہوگا۔۔۔ انمول نے جیسے بات ہی ختم کی تھی۔

فہد کا باپ برا تھا لیکن بیٹا اچھا نکلا ہو سکتا ہے یہاں الٹا ہو باپ اچھا ہے تو بیٹا برا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ حماد نے دوسرا پہلو اسکے سامنے رکھا۔

اسکا بیٹا ایک ایماندار پولیس والا ہے۔۔۔ انمول نے لفظوں پہ زور دیتے کہا۔

کسی کے ماتھے پہ نہیں لکھا ہوتا کہ وہ ایماندار ہے یا نہیں۔۔۔ حماد بھی دوبدو بولا جب کے میشا تو پریشانی سے کبھی ایک کو دیکھتی تو کبھی دوسرے کو ۔۔۔ جو ہر چیز سے لاتعلق ہو کے بحث کرنے میں مصروف تھے۔

سب کو اپنے جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔۔۔ انملو نے اسے چڑایا۔

تمہارا مطلب کیا ہے لڑکی۔۔۔ حماد نے دانت پیسے۔

وہی جو آپ نے سمجھا ہے۔۔۔ وہ مزے سے بولی

دیکھو تم۔۔۔۔

بسسسسسس ،،،،، چپ ہوجائیں آپ دونوں ۔۔۔ احماد کوئی جواب دینے ہی لگا تھا کہ مشی نےچیخ کے دونوں کو روکا۔۔ تو دونوں نے ایک ساتھ انگلی منہ پہ رکھی۔

اتنی دیر ہوگئی آپ لوگوں کی بحث ہی ختم نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ بھئی جب ہم جائیں گے تو لڑکا دیکھ لیں کے چھان بین کروا لیں گے ۔۔۔ لیکن نہیں آپ لوگوں کو تو مزاح آتا ہے ایک دوسرے کو چڑا کے۔۔۔ اففف اللہ میرا تو یہاں سر پک گیا آپ لوگوں کی باتیں سن کے پتہ نہیں آپ لوگ کیسے ایسی باتیں کر لیتے ہیں۔۔۔ مشی نے غصے سے دونوں کو گھورتے خوب سنائیں ۔

مشی بہن اس عمر میں اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا۔۔۔ انمول نے سیریس انداز میں اسے چھیڑا جب کے اسکی بات سنتے حماد کی ہنسی چھوٹی تھی۔۔۔ جس نے جلتی پہ تیل کا کام کیا تھا۔

ہنس لیں آپ بہت ہنسی آرہی ہے نا آپ کو۔۔۔ آپ سے تو میں بعد میں نپٹتی ہوں اور تم۔۔۔ تم سے تو مجھے کوئی بات ہی نہیں کرنی۔۔۔ مشی حماد سے غصے سے کہتی انمول سے بولی لیکن اسے سمجھ ہی نا آیا کے اپنا غصہ کیسے اتارے اس لیئے بات نا کرنے کا کہ کے اسٹیڈی روم سے ہی نکل گئی۔

دیکھا ہوگئی نا ناراض آپکی وجہ سے اب اسے جا کے منانا پڑے گا۔۔۔ انمول حماد کو آنکھیں دکھا کے کہتی میشا کے پیچھے گئی جب کے حماد تو یہ سوچ رہا تھا کہ اسکی غلطی کہا تھی جو میشا ناراض ہوئی ہے۔

۔🌺🌺🌺

دن گزرتے جا رہے تھے۔۔۔ آج حماد میشا انمول اور ابتسام چاروں مل کے نور کے گھر جا رہے تھے سیف کا رشتہ لے کے۔۔۔ سیف نے تو بہت کہا کے اسے بھی ساتھ لے کے جایا جائے لیکن سب نے منا کریا۔۔۔ وہ لوگ وہاں جا کے یہ شو کروانا چاہتے تھے کہ اس رشتے کے بارے میں سیف کچھ نہیں جانتا۔۔۔ انہیں نور پسند آئی اس لیئے وہ لوگ رشتہ لائے ہیں۔۔

سیف سے اڈرس لے کے وہ نور کے گھر پہنچے تھے جو ایک چھوٹے سے علاقے میں ایک چھوٹا سا گھر تھا۔۔۔ چمچماتی گاڑی سے اسٹائلش لوگوں کو نکلتے دیکھ پورا محلہ جھانک جھانک کے دیکھ رہا تھا۔

ابتسام نے دروازے پہ دستک دی تو دروازہ کسی لڑکے نے کھولا تھا جس کی عمر تقریباً سترہ سال ہوگی۔

جی آپ لوگ کون۔۔۔ بڑی سی گاڑی اور سوٹ بوٹ میں کھڑے آدمیوں کو دیکھ لڑکے نے حیرت سے پوچھا۔

کیا یہ گھر نور صفدر کا ہے۔۔۔ حماد نے نور کا پورا نام لے کے پوچھا۔

جی مگر آپ لوگ آپی کا کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔۔ اس لڑکے نے گھبرا کے پوچھا۔

سنی کون آیا ہے۔۔۔ نور کی امی دروازے پہ آتی بولیں لیکن جب نظر دو آدمیوں کے پیچھے کھڑی انمول پہ گئی تو وہ اسے فورن پہچان گئیں۔

ارے انمول آپ۔۔۔۔ آپ لوگ آئیں اندر آئی۔۔۔ انمول کو دیکھتے ہی انہوں نے سب کو اندر بلایا۔

آپ لوگ بیٹھیں میں ابھی آتی ہوں۔۔۔ نور کی امی انہیں ڈرائنگ روم میں بیٹھاتی باہر نکل گئیں۔

یہ کون تھیں۔۔۔ مشی نے انمول سے پوچھا۔۔

یہ نور کی ماں ہیں مہتاب۔۔۔ انمول نے بتایا تو مشی ہاں میں سر ہلاگئی۔۔۔

اس دن جب بازار سے واپسی پہ وہ لوگ انہیں گھر چھوڑنے آئے تھے اس دن ہی انمول نے انکذ پورا بایو ڈیٹا پوچھ لیا تھا۔

تھوڑی دیر بعد وہ اندر آئیں تو انکے ساتھ ایک آدمی بھی تھا۔

اسلام و علیکم میں نور کا والد ہوں صفدر۔۔۔ نور کے والد نے ابتسام اور حماد سے مصافحہ کیا۔

کیسے ہیں آپ۔۔۔ حماد نے خوش اخلاقی سے پوچھا۔

اللہ کا شکر ہے۔۔۔ انہوں نے مسکرا کے جواب دیا۔

آپ میرے بیٹے سیف کو تو جانتے ہی ہوں گے۔۔۔ حماد نے مسکرا کے پوچھا۔

جی جی ماشاءاللہ بہت اچھا اور نیک بچہ ہے۔۔۔ اس دن بازار میں آگر وہ ہماری مدد نا کرتا تو نا جانے میرا اور میری بیٹی کا کیا ہوتا۔۔۔ نور کی امی نے سیف کی تعریف کرتے اس دن کا واقعہ بھی یاد دلایا جو انمول کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔

یہ سیف کے والد ہیں اور یہ والدہ۔۔۔ اور میں سیف کی ممانی ہوں اور یہ ماموں۔۔۔ انمول نے جلدی سے ہڑبڑا کے بات بدلتے سب کا تعارف کروایا۔۔ تو انہوں نے مسکرا کے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔

انمول کا بات بدلنا کسی نے نوٹ کیا ہو یا نا کیا ہو لیکن ابتسام نے اچھے سے نوٹ کیا تھا ۔۔۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے تبھی انمول نے ہڑبڑا کے بات بدلی ہے۔

اصل میں ہم یہاں ایک ضروری کام سے آئے ہیں۔۔۔ حماد نے بات کی ابتدا کی۔

جی کہیں ۔۔۔ صفدر صاحب نے شائستگی سے کہا۔

اسلام و علیکم۔۔۔ اس سے پہلے کوئی دوسری بات کرتا نور لوازمات سے بھری ٹرے لیئے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی اسکے پیچھے اسکا بھائی ٹرے پکڑے اندر داخل ہوا۔۔۔ جس میں کئی چیزیں موجود تھیں۔

وعلیکم اسلام ۔۔۔۔ بیٹا اس تکلف کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ صرف ہمیں اپنے ہاتھ کی بنی ایک کپ چائے پیلا دیتیں وہیں کافی تھا ہمارے لیئے۔۔۔ مشی نے پیار سے کہا تو ان سب کو دل سے خوشی ہوئی تھی اسکی بات سن کے۔۔۔۔

یہ تو آپ لوگوں کا بڑا پن ہے کہ آپ لوگ ہمارے گھر آئے ورنا کہاں بڑے گھر کے لوگ ہم جیسے لوگوں کی دعوت قبول کرتے ہیں۔۔۔ نور کی امی نے مسکرا کے کہا۔

کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا۔۔۔ ہر انسان ایک برابر ہوتا ہے۔۔۔ یہ تو انسانوں نے اپنے دیکھنے کے نظریں الگ الگ کر لیئے ہیں اس لیئے آج کل لوگ امیر غریب میں فرق کرنے لگے ہیں۔۔۔ ورنا امیر بھی اسہی مٹی سے بنا ہے جس مٹی سے غریب بنا ہے۔۔۔ اس لیئے دوبارہ میں ایسی بات نا سنوں۔۔۔ انمول خفگی سے کہتی ان لوگوں کا دل جیت گئی تھی۔

آج کے زمانے میں بھی آپ جیسے لوگ موجود ہیں یہ دیکھ کے بہت خوشی ہوئی۔۔۔ صفدر صاحب نے خوشی سے کہا۔

ہماری بات تو ادھوری رہ گئی۔۔۔ نور بیٹا ادھر آؤ میرے پاس۔۔۔ مشی نے دروازے کے ساتھ کھڑی نور کو اپنے پاس بلایا تو وہ جھجھکتے ہوئے اسکے پاس آکے بیٹھ گئی۔

میں نے نور کو کافی وقت پہلے آفس میں ہی دیکھا تھا یہ تبھی مجھے بہت پسند آئی تھی۔۔۔ حماد نے تو پہلے ہی دیکھ رکھا تھا لیکن جب انمول نے نور کے بارے میں بتایا تب سے یقین جانے کتنا اشتیاق تھا مجھے اس سے ملنے کا۔۔۔ اور اسے مل کے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میری بہو ڈھونڈھنے کی تلاش ختم ہوتی ہے۔۔۔ میشا نے مسکراتے ہوئے نور کے سر پہ ہاتھ پھیرتے کہا تو اسکی بات سنتے نور کے والدین اور نور چونک گئے تھے۔

آپ کیا کہہ رہی ہیں ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ مہتاب بیگم نے الجھ کے پوچھا۔۔۔ انہیں لگا شاید انہوں نے کچھ غلط سن لیا ہے۔

میں اپنے بیٹے سیف کا رشتہ لائی ہوں آپکی بیٹی کے لیئے۔۔۔ مشی کے مسکرا کے کہنے پہ ان لوگوں کی آنکھوں میں خوشی اتری تھی۔۔۔ آخر اتنے بڑے گھر سے رشتہ جو آیا تھا خوش ہونا تو بنتا تھا۔۔۔

جب کے نور تو بس اپنے ہاتھوں کو گھورے جارہی تھی۔۔۔ اسکے دماغ میں بس یہی چل رہا تھا کہ کیا واقعی سیف نے رشتہ بھیجا ہے لیکن اسکی ماں نے تو کہا ہے کہ وہ اسے پسند آئی ہے اس لیئے وہ لوگ رشتہ لائے ہیں ۔۔۔ آگر سیف نے بھیجا ہوتا تو سیف بھی ساتھ آتا لیکن سیف تو آیا نہیں تھا نا ہی سیف کی پسند کا کوئی ذکر کیا گیا تھا۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ بس خاموشی سے بیٹھی ساری باتیں سن رہی تھی۔

سیف اسے برا کبھی نہیں لگا تھا بس اسکا ایکسپیرینس ہی کچھ ایسا رہا تھا کہ وہ کسی پہ جلدی یقین نہیں کرتی تھی۔۔۔ گھر کے حالت بہتر کرنے کے لیئے جب وہ نوکری ڈھونڈھے نکلی تھی تو بہت سے لوگوں نے اسکی غریبی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ کوئی اسکے ساتھ مخلص نہیں ہوا تھا ہر کسی نے اسکا فائدہ اٹھانا چاہا تھا لیکن آخر میں جب اسے سیف کے پاس جوب ملی تو وہ تھوڑی مطمئن ہوگئی تھی کہ یہ لوگ اچھے ہیں لیکن اسنے پوری طرح سیف کو اچھا سمجھا نہیں تھا اسے لگتا تھا امیر لوگ صرف دکھاوے کے اچھے ہوتے ہیں لیکن آج جیسے اسکی سوچ غلط ثابت ہو رہی تھی ۔۔۔ ان سب کو دیکھ اسے لگ رہا تھا کہ دنیا میں ہر شخص ایک سا نہیں ہوتا۔۔۔

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ صفدر صاحب سے خوشی کے مارے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔

ہم نے جو کہا سہی کہا ہے ہم آپکی بیٹی کو اپنی بیٹی بنانا چاہتے ہیں۔۔۔ حماد نے مسکرا کے کہا۔

ہاں اور میں تو اپنے ساتھ انگوٹھی بھی لائی ہوں ۔۔۔ بس آپ لوگ جلدی سے ہاں کردیں تو میں نور کو سیف کے نام کی انگوٹھی​ پہنا دوں۔۔۔ میشا نے جوش سے کہا ۔

ہمیں سوچنے کا تھوڑا سا موقع تو دیں۔۔۔ ہم سوچ کے جواب دیں گے۔۔۔ صفدر صاحب نے رسان سے کہا۔

اچھا چلیں ٹھیک ہے لیکن ہمیں جواب ہاں میں ہی چاہیئے یہ بات یاد رکھے گا صفدر صاحب۔۔۔ ابتسام نے کافی دیر بعد بات میں حصّہ لیا تھا۔

میں چائے لاتی ہوں۔۔۔ نور چائے کا کہتی اٹھ کے باہر نکل گئی۔

وہ لوگ کچھ دیر اور وہاں ٹھہر کے واپسی کے لیئے نکل گئے۔

میں سوچ رہی ہوں کیوں نا ہم لوگ اچانک فہد کے گھر چھاپہ ماریں۔۔۔ اچھا ہے نا انکا رہن سہن بھی پتہ چل جائے گا۔۔۔ انمول پچھلی سیٹ سے آگے بیٹھے ابتسام کو دیکھ کے بولی۔

کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ابتسام نے فورن انکار کیا۔

ویسے انمول بات تو ٹھیک کر رہی ہے ۔۔۔۔ آگر ہم اچانک جائیں گے تو پتہ چلے گا کہ وہ لوگ کیسے ہیں لیکن آگر ہم بتا کے جائیں گے تو وہ پہلے سے ہی تیار ہو جائیں گے۔۔۔ اچھا ہے اچانک جائیں گے تو انکا ماحول دیکھ سکیں گے۔۔۔ حماد نے انمول کی بات سے اتفاق کرتے کہا۔

ویسے تو آپ دونوں لڑتے رہتے ہیں لیکن آج بڑا ایک پیج پہ ہوگئے ہیں۔۔۔ مشی نے کہا تو وہ لوگ ہنس دیئے۔

ہاہاہا بھئی بہن بھائی کے بیچ لڑائی تو چلتی رہتی ہے نا۔۔۔ حماد ڈرائیونگ کرتے ہنس کے بولا۔

چلو ٹھیک ہے پھر فہد کی طرف لے لو گاڑی۔۔۔ ابتسام نے کہا

مجھے کیا پتہ اسکا گھر کہاں ہے ۔۔۔ حماد نے گاڑی روکتے کہا۔

میں بتا رہا ہوں نا تم چلو۔۔۔ ابتسام نے سنجیدگی سے کہا۔

مسٹر ڈریگن آپ کو کیسے پتہ چلا فہد کے گھر کا۔۔۔ انمول نے آنکھیں چھوٹی کیئے گھور کے کہا۔

جس دن فہد گھر آیا تھا اس کے اگلے دن ہی میں نے اسکی ساری انفارمیشن نکال لی تھی۔۔۔ اور ویسے بھی جب وہ ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے تو میرے لیئے اسکے گھر کا پتہ نکلوانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔۔۔ ابتسام نے سکون سے جواب دیا تو انمول داد دینے والے انداز میں اسکا کندھا ٹھپٹھپاتے پیچھے ہو کے بیٹھ گئی۔

۔🌺🌺🌺