820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 11)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

مجھے آپ سب لوگوں سے بات کرنی ہے۔۔۔ صبح سب ناشتے کی ٹیبل پہ موجود تھے جب انمول نے سب کو مخاطب کیا۔۔۔ تو سب اسکی جانب متوجہ ہوئے سوائے ابتسام کے جو جانتا تھا کہ وہ کیا بات کرنے والی ہے۔۔۔

بابا مما نے آپ کو کل کی ساری بات تو بتا دی ہوگی کے فہد اپنے بیٹے کا رشتہ لے کے آیا تھا۔۔۔ انمول بلال صاحب کو دیکھ کے بولی۔

ہاں بیٹا شگفتہ نے مجھے بتا دیا ہے۔۔۔ اب تم بتاؤ پھر کیا فیصلہ کیا تم لوگوں نے۔۔۔ وہ لوگ بلال صاحب کے فیصلے کا انتظار کر رہے تھے اور یہاں بلال صاحب انکا فیصلہ پوچھ رہے تھے

لو بھئی یہاں ہم آپ کا فیصلہ سنا چاہتے ہیں اور آپ ہم سے پوچھ رہے ہیں۔۔۔ انمول نے ماتھے پہ ہاتھ مارا جب کے انمول کی باتیں سن کے وردہ تو وہاں سے کھسکنے کی کر رہی تھی۔

اچھا میں چلتی ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وردہ دو تین نوالے منہ میں ٹھوستی جلدی سے اپنا بیگ اٹھاتی کرسی سے کھڑی ہوئی۔

وردہ بیٹھ جاؤ مجھے ابھی تم سے بھی بات کرنی ہے۔۔۔ اسے بھاگنے کی فل تیاری میں دیکھ انمول نے سختی سے کہا۔

مما میں لیٹ ہو جاؤں گی۔۔۔ وردہ نے معصومیت سے کہا لیکن انمول کہا اسکی معصومیت میں آنے والی تھی۔

لیٹ ہو جاؤ گی تو کوئی جوب سے نکال نہیں دے گا۔۔۔ اپنا آفس ہے جلدی جاؤ, لیٹ جاؤ یا جاؤ ہی نہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا سمجھیں اب چپ چاپ یہاں بیٹھ جاؤ اور یہاں سے اٹھنا نہیں ۔۔۔۔ انمول نے سخت گیر لہجے میں کہا تو وردہ منہ بناتی واپس بیٹھ گئی۔

جی بابا تو ہم کہاں تھے ۔۔۔ انمول تھوڑی پہ ہاتھ رکھتے سوچتے ہوئے بولی کہ اسنے آخر بات چھوٹی کہاں سے تھی۔

فیصلے پہ تھے۔۔۔ بسام فورن بولا اسے تو مزاح آرہا تھا وردہ کی بےزار شکل دیکھ اور اپنی ماں کو فل موڈ میں دیکھ کے ۔۔۔ انمول کو دیکھ کے سب کو یہی لگ رہا تھا کہ آج وہ اپنی بات منوا کے ہی رہے گی۔

ہاں۔۔۔۔ تو بابا پھر آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا چاہیئے کیونکہ میرے حساب سے تو ہمیں فہد کو ہاں کردیتی چاہیئے۔۔۔ کیونکہ جتنا اچھا فہد ہے مجھے یقین ہے اسکا بیٹا بھی اتنا ہی اچھا ہوگا۔۔۔ انمول نے یقین سے کہا تو بلال صاحب سوچ میں پڑھ گئے۔

ابتسام تمہارا کیا کہنا ہے۔۔۔ بلال صاحب نے خاموش بیٹھے ابتسام کو مخاطب کیا ۔

تایا ابو ۔۔۔ میں پرانی باتوں کی وجہ سے کافی پریشان ہوں میں نہیں جانتا کہ جو عین وقت پہ انمول کے ساتھ ہوا تھا وہ میری بیٹی کے ساتھ بھی ہو جائے۔۔۔ بیشک فہد بہت اچھا ہے اور مجھے یقین ہے اسکا بیٹا بھی اچھا ہوگا لیکن اسکا باپ مجھے اب ان پے یقین نہیں ہے۔۔۔ جو شخص اپنے بیٹے کے ساتھ اتنا برا کر سکتا ہے اسکی خوشیاں چھین سکتا ہے وہ اپنے پوتے کے ساتھ بھی تو ایسا کر سکتا ہے نا۔۔۔ ابتسام نے اپنے دل میں پلتے وہم کو انکے سامنے کافی کم آواز میں رکھا تھا کہ صرف وہ اور پاس بیٹھی انمول ہی سن پائی تھی۔

تمہارا ڈر بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے ابتسام لیکن اس وقت میں اور اب کے وقت میں بہت فرق ہے۔۔۔ پہلے فہد اتنا سمجھدار نہیں تھا لیکن اب وہ خود ایک باپ بن گیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی خوشیاں یا کسی لڑکی کی زندگی برباد نہیں کرے گا۔۔۔ بلال صاحب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

تایا ابو اسنے جاتے ہوئے مجھے سے ایک بات کی تھی جس نے مجھے سوچ میں ڈال دیا ہے۔۔۔ اسنے بتایا تھا کہ اسنے پچھلے پچیس سال سے اپنے باپ سے بات نہیں کی ہے ۔۔۔ وہ انہیں کوئی اہمیت نہیں دیا اور میرا نہیں خیال کے اپنے ہی بیٹے کی بےروخی کو دلاور خان سہہ پائے ہوں گے شاید وہ سدھر گئے ہو۔۔۔ ابتسام نے الجھ کے کہا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بات اپنے بیٹے کی لاتعلقی برداشت کر سکتا ہے۔۔۔ اور پچیس سال،،، پچیس سال بہت ہوتے ہیں کسی کے سدھرنے کے لیئے۔۔۔ انمول نے بھی اپنی رائے ظاہر کی۔

ان تینوں کو سر جھوڑے آپس میں باتیں کرتے دیکھ وردہ نے پھر سے رفو چکر ہونے کی تیاری کی۔

مما وردہ بھاگ رہی ہے۔۔۔ اسے خاموشی سے اٹھتے دیکھ بسام نے شور مچایا۔۔۔ تو وہ سب چونک گئے جب کے وردہ کے جاتے قدم ساکت ہوئے اور اسنے گھور کے بسام کو دیکھا تھا جس پہ اسنے آگے سے دانتوں کی نمائش کی تھی۔

وردہ۔۔۔ انمول نے اسے آنکھیں دیکھائیں تو وہ تھوک نگلتی واپس بیٹھ گئی۔

وہ تو بس بیٹھے بیٹھے میرے پاؤں سن ہوگئے تھے اس لیئے کھڑی ہو گئی تھی میں بھاگ تھوڑی رہی تھی یہ بسام کو غلط لگا تھا کہ میں بھاگ رہی ہوں۔۔۔ وردہ انمول کی کھاجانے والی نظروں کو دیکھتے مشکل سے ہنس کے بولی تو انمول نے اسے گھورتی نظروں سے وارن کرتے واپس ابتسام اور بلال صاحب کی طرف رخ کرلیا۔

ابتسام انو ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔۔ جو ہو گیا اسے بھول جانا چاہیے۔۔۔ اتنے سال ہو چکے ہیں اس بات کو اب تو تم لوگ بھی اپنی زندگی میں خوش ہو ۔۔۔ اس دن شاید نصیب میں یہی لگا تھا۔۔۔ اور شاید اب نصیب میں وردہ کا فہد کی بہو بنا لکھا ہے تبھی قسمت نے ایک بار پھر ہمیں ملایا ہے۔۔۔ بلال صاحب نے رسان سے سمجھایا۔

تو پھر ہم رشتے پکاہ کردیں۔۔۔ انمول نے خوشی سے تیز آواز میں کہا تو وردہ کے کان فورن کھڑے ہوئے۔

اتنی جلدی کیا ہے انمول ابھی تو ہم لڑکے سے ملے بھی نہیں ہیں ابھی تو ہمیں اسکا نام بھی ٹھیک سے نہیں پتہ اتنی جلد بازی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ ہمیں پہلے اسکے گھر جانا چاہیئے لڑکے سے ملنا چاہیئے اسکے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔۔۔ ابتسام نے اسکی جلد بازی پہ سمجھایا لیکن انمول کا چہرہ دیکھ کے صاف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اسے ابتسام کی بات اچھی نہیں لگی ہے۔

ٹھیک ہے۔۔۔ وہ منہ بنا کے بولی۔

یہ تو ٹھیک ہے لیکن اس سے بھی ضروری وردہ کی رضامندی ہے۔۔۔ ہم اسکی رضامندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے ۔۔۔ ابتسام کے کہنے پہ انمول نے فورن اپنا رخ وردہ کی جانب موڑا۔

ہاں تو بھئی دیکھو یہ رشتہ بہت اچھا ہے اور اس رشتے کے لیئے تمہاری رضامندی بہت ضروری ہے اس لیئے تمہیں ہاں کرنی ہے۔۔۔ انمول نے سکون سے کہا جب کے اسکی بات سنتے ٹیبل پہ موجود سب افراد نے اپنی ہنسی روکی تھی جب کے وردہ تو اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی جو اسے فیصلہ کا حق تو دے رہی تھی لیکن زبردستی ساتھ ہاں بھی کروا رہی تھی۔

یہ اگر تو آپ مجھ سے میری مرضی پوچھ رہی ہیں تو پورے فیصلہ کا اختیار بھی مجھے دیں۔۔۔ وردہ نے بےچارگی سے کہا۔

وردہ میں بچوں کے ساتھ زور زبردستی کی کائل نہیں ہو لیکن یہ رشتہ کافی اچھا ہے اور میں تمہارے کسی بھی بےوقوفانہ فیصلہ کی وجہ سے گوانہ نہیں چاہتی۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے کہا۔

پر مما میں ابھی اپنے پیروں پہ کھڑی ہوں چاہتی ہوں بزنس ومین کے نام سے بزنس کی دنیا میں تہلکا مچانا چاہتی ہوں۔۔۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ وردہ نے بےبسی سے کہا تو انمول کا دماغ گھوما۔

ابھی شادی نہیں کرنی تو کیا بڈھی ہو کے شادی کرو گی۔۔۔ کچھ ہوش کے ناخن لو لڑکی اچھے رشتے بار بار نہیں آتے۔۔۔ انمول نے بھڑک کے کہا۔۔۔ وہ تنگ آگئی تھی اسکی ایک ہی بات سے۔۔۔ آگر تو وردہ کسی کو پسند کر رہی ہوتی تو انمول خود فہد کو انکار کرتی پر جب ایسی کوئی وجہ ہی نہیں ہے تو وہ کیوں اتنے اچھے رشتے کو ہاتھ سے جانے دیتی۔۔۔ جب کے وردہ کی جو ساری خواہشات ہیں وہ شادی کے بعد بھی تو پوری ہو سکتی تھی نا۔

کون سی دکان سے۔۔۔ وردہ نے سیریس ہو کے پوچھا۔

کیا؟؟؟۔۔۔ اسکے سوال پہ انمول نے ماتھے پے بل ڈالے پوچھا۔

ہوش کے ناخن کون سی دکان سے لوں۔۔۔ وردہ نے اپنی ہنسی روکتے معصومیت سے پوچھا تو ٹیبل پہ سب کا قہقہہ بلند ہوا۔۔

ابھی بتاتی ہوں۔۔۔ انمول کا ہاتھ اسکی چپل کی طرف جاتے دیکھ وردہ نے جلدی سے باہر کی جانب دوڑ لگائی۔

وردہ رک جاو۔۔۔ انمول نے پیچھے سے ہانک لگائی۔

ابھی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ میں شام میں آپ کو سوچ کے جواب دوں گی،،، ویسے میرا جواب نا ہی ہوگا لیکن پھر بھی میں سوچوں گی ضرور۔۔۔ وردہ دروازے سے جھانکے کے کہتی تیزی سے باہر بھاگ گئی تو انمول دانت پیس کے رہ گئی۔۔۔ اسے بےساختہ اپنا وقت یاد آیا جب اسے کتنا شوق ہوا کرتا تھا دلہن بنے کا اور ایک اسکی بیٹی تھی جو شادی ہی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

۔🌺🌺🌺

وہ آفس میں داخل ہوئی تو اسکی سیکٹری پہلے سے ہی اسکے انتظار میں کھڑی تھی۔

میم مسٹر خان آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ اسکی سیکٹری نے فورن اسکے پاس آ کے عطلاح دی۔

کہاں ہیں وہ۔۔۔ وردہ نے پوچھا۔

آپ کے روم میں۔۔۔ سیکٹری کے بتانے پہ وہ ہاں میں سر ہلاتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔

اچھا سنیں آپ نے چائے کافی دی انہیں۔۔۔ وہ مڑ کے پوچھنے لگی جس پہ سیکٹری نے جی کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی اندر بڑھ گئی۔

کیسے ہیں انکل اور آج یہاں آنے کا اتفاق کیسے ہوا۔۔۔ وردہ روم میں داخل ہوتی فہد کو بیٹھے دیکھ خوش اخلاقی سے پوچھنے لگی۔

بس یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا اپنی ہونے والی بہو سے ملتا چلوں۔۔۔ فہد نے مسکرا کے کہا جب کے فہد کی بات سنتے وردہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی جو فہد نے اچھے سے نوٹ کی تھی۔

انکل میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی کم سے کم پانچ چھ سال تک تو نہیں ۔۔۔ میں پہلے اپنا نام بنانا چاہتی ہوں اپنے بابا کے بزنس کو اور بلندیوں تک پہنچانا چاہتی ہوں میں شادی کر کے چولہ ہنڈی کے چکر میں نہیں پڑھنا چاہتی

۔۔۔ وردہ نے تھکے ہوئے انداز میں اپنی کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا جیسے وہ سب کو انکار کر کر کے تھک گئی ہو۔

بیٹا شادی کے بعد آپ ابتسام کے بزنس کو ٹائم دو یا میرے بزنس کو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔۔۔ اور رہی بات چولہ ہنڈی کی تو ہمارے یہاں ملازم موجود ہیں۔۔۔ اور میرا بیٹا اتنا تنگ دماغ نہیں ہے کے وہ تمہیں کام کرنے سے روکے۔۔۔ میرا بیٹھا ایک آزاد خیال کا مالک ہے۔۔۔فہد نے اسے دیکھ کہ کہاں جو ناجانے انگلی سے ٹیبل پہ کیا لکھ رہی تھی۔

تمہیں پتہ ہے اسکی ماں کا انتقال کیسے ہوا تھا۔۔۔ فہد کی بات پہ وردہ نے ایک دم سر اٹھا کے اسے دیکھا۔۔۔ اسکی انکھوں میں سوال دیکھ فہد مسکرایا۔

ہم لوگ پاکستان آئے تھے ایک ایونٹ اٹینڈ کرنے۔۔۔ رات کا نا جانے کون سا پہل تھا جب ہم فارغ ہوئے ۔۔۔ ہم اپنی گاڑی کی طرف جا رہے تھے جب دو موٹرسائیکل سوار لوگوں نے ہمیں لوٹنے کی کوشش کی انہوں نے میری بیوی سے اسکی انگوٹھی مانگی لیکن میری بیوی نے انکار کردیا کیونکہ وہ انگوٹھی اسکے بیٹے نے اسے اپنی پاکٹ منی جما کر کے دی تھی جس پہ ان لوگوں نے اسے گولیاں ماریں اور وہ موقعے پہ ہی اپنی جان گواہ بیٹھی۔۔۔ فہد کا نیا انکشاف سن کے وردہ کو حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوا۔

بس پھر تب سے ہی میرے بیٹھے نے یہ تہ کرلیا کہ وہ پولیس جوائن کرے گا اور ان جیسے مجروں کو سزا دلوائے گا۔۔۔ دامل اپنی ماں سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔ اسکے جانے کے بعد وہ بلکل بدل گیا تھا غصہ جلدی کرتا تھا۔۔۔ سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا اور مجھے یہ پتہ چلا کے تم انمول کی بیٹی ہو تو میرے دل میں ایک امید جاگی تھی کہ تم میرے بیٹے کو بھی واپس پہلے جیسا کر دو گی اسے ہنسا سیکھا دو گی۔۔۔ اور میں اسی امید کے ساتھ تمہارے گھر رشتہ لایا تھا۔۔۔ لیکن آخر کو تو فیصلہ تمہارا ہی ہے۔۔۔ اب تمہاری جیسے مرضی ویسا فیصلہ کرنا۔۔۔ میں چلتا ہوں پھر ملاقات ہوگی۔۔۔ فہد اسے گم سم چھوڑ اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے روم سے نکل گیا جب کے وہ کتنی ہی دیر اپنے خیالوں سے لڑتی رہی اور جب کچھ سمجھ نا آیا تو بیگ اٹھاتی باہر نکل گئی۔

۔🌺🌺🌺

وہ اپنے آفس سے نکل کے سیدھا سیف کے آفس آئی تھی۔۔۔ وہ اس وقت کافی الجھی ہوئی تھی۔۔۔ اسے اس وقت مشورے کی ضرورت تھی ایک دوست کی ضرورت تھی۔۔۔ اور وہ اسہی دوست کی تلاش کرنے یہاں آئی تھی۔

اسنے ریسیپشن سے نور کا پوچھتا جس پہ اسے پتہ چلا وہ تھرڈ فلور پہ سیف کے ساتھ میٹنگ روم میں ہے۔۔۔

نور کا پتہ کرتی وہ فورن تھرڈ فلور کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

لفٹ سے نکل کے اسنے رخ میٹنگ روم کی جانب کیا اور بغیر دروازہ پہ دستک دیئے یا یہ سوچے بغیر کے اندر میٹنگ چل رہی ہے۔۔. وہ بس تیزی سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوگئی۔۔۔ تو سب اپنی جگہ سے اچھل پڑے۔

چلو نور تمہیں میرے ساتھ جانا ہے ۔۔۔ اسنے پریزنٹیشن دیتی نور کو حکم سادر کیا جب کے نور بیچاری تو سچویشن سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

وردہ یہاں میٹنگ چل رہی ہے۔۔۔ سیف نے دانت پیس کے اسے یاد دلایا ۔

ہاں میں جانتی ہوں اس لیئے تو تمہیں ڈسٹرب نہیں کر رہی۔۔. بس میں تو نور کو لینے آئی ہوں اسکو لے کے یہاں سے چلی جاؤ گی ۔۔۔ وردہ نے کندھے اچکا کے کہا تو سیف نے لب بھیجے۔

ابھی میٹنگ چل رہی ہے اس لیئے نور تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔ وہ میٹنگ ختم ہونے پہ ہی کہیں جا سکتی ہے اس لیئے تم باہر بیٹھ کے انتظار کر سکتی ہو میٹنگ ختم ہونے کا۔۔۔ اپنے کلائنٹ کہ چہرے پہ ناگواریت دیکھ سیف نے ہر ایک لفظ چبا کے ادا کرتے اسے وہاں سے بھیجنا چاہا۔

اچھا ٹھیک ہے پھر میں چلی جاتی ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا اس میں تمہارا بھی فائدہ تھا۔۔۔ وہ اسکی طرف جھکتی رازداری سے بولی تو سیف نے اسکے چہرے کی جانب دیکھا جہاں ایک شاطر سی مسکراہٹ تھی۔

اچھا ٹھیک ہے لے جاؤ نور کو اپنے ساتھ لیکن یاد رہے ٹائم سے واپس چھوڑ جانا۔۔۔ اپنے فائدہ کا سنتے سیف نے فورن نور کو جانے کی اجازت دے دی تھی جس پہ وردہ خوش ہوتی حیران کھڑی نور کا ہاتھ پکڑے اسے باہر لے گئی۔

سوری وہ میری کزن تھی خیر ہم کنٹینیوں کرتے ہیں۔۔۔ سیف معزرت کرتے خود پریزنٹیشن دینے کے لیئے کھڑا ہوگیا۔

۔🌺🌺🌺

آپ مجھے یہاں کیوں لائی ہیں۔۔۔ ریسٹورینٹ میں داخل ہوتے نور نے معصومیت سے پوچھا۔

افف بہن یہ آپ جناب کا تکلف چھوڑ دو ۔۔۔ وہ اسکی بات اگنور کرتی اسے لیئے بیٹھی۔

کیا کھاؤ گی ۔۔۔ وردہ منیوں دیکھتی پوچھنے لگی جب کے نور کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا منگوائے۔۔۔ ہر چیز ہی اتنی مہنگی تھی کے اسے منگواتے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔

کچھ نہیں میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔۔۔ نور نے منیوں ٹیبل پہ رکھتے مسکرا کے کہا۔

تم پہلی بار میرے ساتھ باہر آئی ہو ایسے تو میں تمہیں واپس نہیں لے کے جاؤ گی۔۔۔ کچھ تو تمہیں کھانا ہی پڑے گا چلو میں مگوالیتی ہوں تمہارے لیئے بھی۔۔۔ وردہ نے اپنے لیئے اور اسکے لیئے بھی آرڈر لکھوایا۔

نور یار میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔ وردہ نے منہ بسور کے کہا تو نور نے بھی فکر مندی سے اس کی جانب دیکھا۔

مگر کیوں۔۔۔

یار مما چاہتی ہیں میں شادی کرلوں جب کے میں چاہتی ہوں پہلے بزنس کی دنیا میں اپنا نام بناؤ۔۔۔ پر سب کا کہنا ہے کہ وہ تو میں شادی کے بعد بھی بنا سکتی ہوں لیکن اب تم ہی بتاؤ کیا بھلا کوئی عورت شادی کے بعد اپنا کام ٹھیک سے کر سکتی ہے۔۔۔ اسے تو گھر اور بچوں سے فرصت نہیں ملے گی تو وہ اپنے کام پہ کیا خاک فوکس کرے گی۔۔۔ وردہ چڑھ کے بولی تو نور مسکرا دی۔

ایک عورت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ شادی کے بعد اپنا گھر ، شوہر ،بچے، اور یہاں تک کے اپنا بزنس سب سنبھال سکتی ہے۔۔۔ دنیا میں بہت سی کامیاب بزنس ومین ہیں،،، جو اپنی کامیاب شادی شدہ زندگی کے ساتھ بزنس کی دنیا پہ بھی راج کر رہی ہیں۔۔۔ ہر ایک چیز کو مینج کرنے کے لیئے آپ کے اندر بس ہمت کا ہونا ضروری ہے ۔۔۔ آگر آپ میں ہمت ہوگی تو آپ بڑے سے بڑا پہاڑ بھی سر کر سکتی ہیں۔۔۔ اور پھر آپ تو اتنی خوش قسمت ہیں کے آپ کے گھر والے اور سسرال والے دونوں آپ کو سپوٹ کرنے کا بول رہی ہیں تو میرے خیال سے آپ کو بھی اپنے گھر والوں گی بات مان لینی چاہیئے۔۔۔ نور نے تفصیل سے سمجھایا تو وردہ کو اسکی بات ٹھیک ہی لگی۔۔

وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔۔۔ایک عورت جب تک کمزور نہیں ہوتی جب تک ہو خود کو کمزور سمجھ نہیں لیتی۔۔۔ اور وردہ کبھی اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھتی تھی اسنے اپنے آپ کو ہمیشہ مظبوط بنایا تھا۔۔۔ بچپن میں آگر گر جاتی تو بغیر روئے,,, بیغر اپنے درد کی فکر کیئے وہ اٹھ کے چلنے لگتی تھی۔۔۔۔ اب بھی اسے بس یہی کرنا تھا۔۔. اسے ساری چیزیں ایک حساب سے لے کے چلنی تھی جو مشکل تو بلکل نہیں تھا۔۔۔ اسے چند پل لگے تھے ایک فیصلہ کرنے پہ اور پھر جیسے وہ خود کے کیئے فیصلے پہ مطمئن ہوگئی تھی۔

اچھا چلو اب کچھ کھا لیتے ہیں پھر تمہیں آفس بھی چھوڑنا ہے واپس ورنا تمہارا باس مجھے کچا چبا جائے گا دیر ہونے پہ۔۔۔ کھانا آتے ہی وردہ شرارت سے بولی تو نور بھی ہنس دی۔

کھانے سے فارغ ہو کے وردہ نے نور کو آفس چھوڑا اور خود گھر کے لیئے نکل گئی۔۔۔

وہ گھر میں داخل ہوتی انمول کا پوچھتے سیدھے اسکے کمرے میں آئی تھی۔

مما میں تیار ہوں شادی کے لیئے۔۔۔ وہ کمرے میں داخل ہوتی بالوں میں کنگھا کرتی انمول سے بولی جو اسکی بات سنتے ساکت ہوئی تھی۔

کیا میرے کانوں نے ٹھیک سنا ہے۔۔۔ انمول کھڑی ہوتی کان مسل کے بولی تو وردہ نے آنکھیں گھمائیں۔

آپ نے ٹھیک سنا ہے مما۔۔۔ میں تیار ہوں شادی کے لیئے۔۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے کہا تو انمول نے بےساختہ خوشی سے اسے اپنے گلے لگایا۔

تھینکیو میری پیاری بچی۔۔۔ وہ زور سے اسکے گلے لگی اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی جس پہ وردہ نے بھی پیار سے اسکے کندھے پہ سر رکھ لیا تھا۔

اپنی ماں کو خوش دیکھ کے اسکے دل میں ایک عجیب ہی سکون اترا تھا جسے وہ لفظوں میں کبھی بیان نہیں کر سکتی تھی۔

۔🌺🌺🌺