820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 3)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

(اٹھارہ سال بعد)

بابا ڈریگن پلیز ہمیں بچالیں۔۔۔ ورنا آج آپکی بیگم ہمیں کچا چبا جائیں گی۔۔۔ وردہ صوفے کے پیچھے چھپتی صوفے پہ بیٹھے اخبار پڑھتے ابتسام سے بولی اسکے ساتھ ہی بسام آکے چھپا تھا۔

اب کیا کیا ہے تم دونوں نے۔۔۔ ابتسام نے گردن گھما کے پوچھا۔

زیادہ کچھ نہیں بس ہم سے مما کی فیوریٹ ناول بک پہ پانی گر گیا ہے۔۔۔بسام نے وجہ بتائی اور ساتھ ساتھ نظریں بھی دوڑائیں کے انمول آ تو نہیں رہی۔

مگر کیسے گرا۔۔۔ ابتسام واپس اخبار کی طرف دیکھتے پوچھنے لگا۔۔. وہ انمول کا ناول کے لیئے پاگل پن جانتا تھا۔۔۔ جب سے وہ لوگ اس گھر میں شفٹ ہوئے تھے انو کے ایک اور خواب کو پورا کرتے ابتسام نے اسے ناولز سے بھری ایک لائبریری بنا کے دی تھی۔۔۔ اور جب سے لائبریری بنی تھی انمول زیادہ تر وہیں پائی جاتی تھی۔

وردہ بسام کہاں وہ تم دونوں۔۔۔ ابتسام کی بات ختم ہوئی تھی کہ انمول غصے سے دونوں کو پکارتی نیچے آئی۔

بابا ڈریگن سوال جواب بعد میں ابھی پلیز ہمیں بچالیں۔۔۔ وردہ نے منت بھرے انداز میں کیا تو ابتسام ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔

کہاں ہیں یہ دونوں۔۔۔ انمول غصے سے بھری ابتسام کے سر پہ کھڑی ہوتی چلائی۔

اب کیا کیا ہے ان دونوں نے۔۔۔۔ ابتسام انجان بنا جب کے صوفے کے پیچھے وردہ اور بسام اور دبک کے بیٹھ گئے ۔

آپ پوچھ رہے ہیں کیا کیا ہے۔۔۔ ان دونوں نے میرا ناول پورا کا پورا پانی میں نہلادیا ہے۔۔۔ انمول چبا چبا کے بولی۔

کوئی بات نہیں نیا آجائے گا تم بیٹھو یہاں۔۔۔ ابتسام نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنے ساتھ بیٹھایا۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ انمول کی شرارتیں کافی کم ہوگئیں تھی۔۔۔ لیکن پھر بھی جب بھی اسے موقع ملتا وہ لوگوں کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتی تھی۔

چلیں ٹھیک ہے ناول نیا آجائے گا۔۔۔ لیکن یہ بتائیں کمرہ کوئی فٹ بال کھیلنے کی جگہ ہے۔۔۔ ابھی صرف میرے ناول پہ پانی سے بھرا جگ گرا ہے اگر کسی اور چیز میں لگ جاتی بال تو۔۔۔ انمول کا غصہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

وہ دونوں کمرے میں فٹ بال کھیل رہے تھے۔۔. حد ہوگئی۔۔۔ خیر تم چھوڑو پلیز میرے لیئے ایک کپ چائے بنا دو۔۔۔ ابتسام نے اسکا دماغ دوسری طرف لگانے کی کوشش کی۔

میں پروین(ملازمہ) سے کہ دیتی ہوں۔۔۔ انمول نے اٹھتے ہوئے کہا تو ابتسام نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا جس پہ انمول کے جاتے قدم رکے۔

مجھے تمہارے ہاتھ کی چائے پینی ہے۔۔۔ ابتسام نے بہت پیار سے کہا جس پہ انمول انکار نا کر سکی۔۔۔

اتنے وقت میں زیادہ کچھ نہیں لیکن اسنے چائے انڈے پراٹھے تو بنانے آگئے تھے۔۔۔

لاتی ہوں۔۔۔ انمول مسکرا کے کہتی جانے لگی جب اسے صوفے کے پیچھے ہرے رنگ کا دوپٹہ نظر آیا۔۔۔ وہ لمحوں میں سمجھ گئی کہ دونوں بہن بھائی صوفے کے پیچھے چھپے ہیں۔

اچھا مسٹر ڈریگن میرے بچے آپ کو کہیں دیکھیں تو کہہ دے گا کہ میں نے انہیں معاف کیا اور میں خود اپنے ہاتھوں سے انکے لیئے انکا فیوریٹ پیزا بنانے جارہی ہوں۔۔۔ انمول نے خاصی بلند آواز میں کہا کہ وہ دونوں باآسانی سن لیں۔۔۔۔ اور انمول کی سوچ کے عین مطابق ان دونوں نے سن بھی لیا تھا اور کھڑے بھی ہوگئے تھے۔

تھینک یو سو مچ مما۔۔۔ آپ کو پتہ ہے میرا پیزا کهانے کا کتنا دل کر رہا تھا۔۔۔۔ وردہ خوش ہوتی اسکے پاس آئی۔

ہاں مما تھینکیو ۔۔۔ بسام بھی اسکے پیچھے ہی آیا۔۔۔ لیکن وہ دونوں پیزے کی خوشی میں انمول کی آنکھوں میں غصہ دیکھ ہی نہیں سکے تھے لیکن ابتسام نے دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ اپنی بیوی کی چالاکی کو اچھے سے سمجھ گیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اب انکی خیر نہیں ہے۔۔.

ہاں کیوں نہیں میرے لال، پیلے، ہرے، گلابی تم لوگوں کو میں پیزا کھلاتی ہوں۔۔۔ انمول نے دونوں کے کان پکڑ کے مڑوڑے تو دونوں کی چیخ نکل گئی۔

مما درد ہو رہا ہے چھوڑیں۔۔۔ وردہ معصومیت سے بولی

مجھے بھی درد ہوا تھا اپنی کتاب کو نہائے ہوئے دیکھ کے۔۔۔ انمول بھی اسی کے انداز میں بولی۔

مما ہم نے جان بوجھ کے نہیں کیا تھا۔۔۔ بسام درد سے کراہتا جلدی سے بولا۔

لیکن میں آج تم دونوں کی ٹانگیں جان بوجھ کے توڑوں گی تا کہ تم لوگوں کو یاد رہے کے کمرے میں فٹ بال کھیلنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔۔۔ انمول ہلکے سے تھوڑا اور انکے کان کھینچ کے بولی تو وہ کراہ اٹھے۔

انو یار چھوڑ دو بچے ہیں آگے سے ایسا نہیں کریں گے کیوں بچوں ہیں نا۔۔۔ ابتسام نے انمول سے کہتے بچوں سے کہا تو وہ دونوں شرافت سے ہاں میں سر ہلا گئے۔

اونہہ اب نہیں کریں گے۔۔۔۔ انمول نے سر جھٹکتے انکے کان چھوڑے تو وہ جلدی سے اپنے کان سہلانے لگے۔

اور آپ،،، آپ جانتے تھے کے یہ دونوں صوفے کے پیچھے چھپے ہیں لیکن آپ نے مجھے بتایا نہیں۔۔۔ ان دونوں کو چھوڑتے اب انمول نے ابتسام کو گھیرا جس پہ وہ گڑبڑا گیا۔

وہ۔۔۔ وہ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میرے پیچھے ہیں میں تو اخبار پڑھ رہا تھا۔۔۔ ابتسام نے نظریں چراتے جھوٹ بولا لیکن انمول تو جانتی تھی نا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔ آخر اتنے سال ہوگئے تھے انکی شادی کو اب تو دونوں ایک دوسرے کی رگ رگ سے واقف ہوگئے تھے۔

اب آپ یہیں بیٹھ کے اخبار پڑھتے رہیں کمرے میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ انمول غصے سے کہتی پیر پٹختی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

مما ہمارا پیزا۔۔۔ وردہ نے اسے جاتے دیکھ کہا

اور میری چائے۔۔۔ ساتھ ابتسام بھی بولا۔

جسے کھانا پینا ہے خود ہی بنا لے میں کچھ نہیں دینے والی۔۔. وہ سختی سے کہتی کسی کی بھی سنے بغیر تیزی سے کمرے میں چلی گئی۔

لگتا ہے مما ناراض ہوگئی۔۔۔ بسام بےچینی سے بولا۔۔۔ وہ دونوں چاہے جتنے بھی شرارتی ہوں لیکن اپنی ماں سے بےحد محبت کرتے تھے اسے ناراض دیکھ ہی نہیں سکتے تھے اور ایسی بات کا پورا پورا انمول فائدہ اٹھاتی تھی۔

ہم سب مل کے منا لیکن گے۔۔۔ ابتسام نے تسلی دی تو وہ دونوں کچھ سکون میں آئے۔

پہلے صرف ابتسام تھا جو اسکے روٹھنے پہ اسے مناتا تھا لیکن اب اسکے بچے بھی شامل ہوگئے تھے جو اسکے روٹھنے پہ اسے مناتے تھے۔۔۔ جس پہ انمول ناز کرتی تھی۔

۔🌺🌺🌺

نیا سورج طلوع ہوتے ہی گھر میں حلوہ پوری کی خوشبو پھیل گئی۔۔۔ سب باری باری کر کے ٹیبل پہ آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔

رات کو ابتسام پوری فیملی کو باہر سے ڈنر کروا کے لایا تھا۔۔۔ ڈنر کا مقصد انمول کو منانا تھا جو وہ مان بھی گئی تھی۔۔۔ ابھی بھی وہ کچن میں بیٹھی ملازموں کو انسٹرکشنز دے رہی تھی۔

کچھ ہی دیر میں سب لوگ ڈائنگ ٹیبل پہ موجود تھے بس ہمیشہ کی طرح وردہ غائب تھی۔

پروین جاؤ وردہ کو دیکھو اٹھی بھی ہے یا نہیں۔۔۔اگر نہیں اٹھی ہو تو اٹھا دینا اسے یونیورسٹی​ بھی جانا ہے۔۔۔ نسرین بیگم نے ملازمہ سے کہا جو ہاں میں سر ہلاتی چلی گئی۔

وردہ کا لاسٹ ایئر چل رہا تھا جب کے بسام اپنی پڑھائی مکمل کر کے ابتسام کے ساتھ آفس سمبھال رہا تھا۔۔۔ ابتسام نے اچھی خاصی بلندی حاصل کر لی تھی۔۔۔ اسنے اپنے چھوٹے سے بزنس کو آج ایک بہت بڑے مقام پہ پہنچا دیا تھا۔۔۔۔ اسنے دن رات محنت کی تھی جس کے صلے میں اللہ نے اسے ایک اونچی مقام دیا تھا۔۔۔ آج وہ پاکستان کے جانے مانے بزنس مین میں آتا تھا۔

سب آدھا ناشتہ کر بھی چکے تھے جب وردہ میڈم تشریف لائی تھیں۔۔۔

مما جلدی سے ناشتہ دیں ۔۔۔ مجھے دیر ہورہی ہے.۔۔۔ اسنے آتے ہی جلدی مچائی۔

اگر اتنی ہی دیر ہورہی تھی تو جلدی اٹھنا تھا نا۔۔۔ انو اسے ناشتہ دیتی بولی۔

کل سے پکاہ جلدی اٹھوں گی۔۔۔۔ اسنے کہا جب کے یہ تو سبھی جانتے تھے کہ انمول کہ طرح اسکا کل بھی کبھی نہیں آنے والا۔

مما پوری۔۔۔سب ناشتہ کر چکے تھے جب بسام اپنی پوری کا آخری نوالہ منہ میں رکھتے بولا۔

پوری نہیں ہے۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔ لیکن انکھیں میں شرارت صاف واضح تھی۔

وہ پلیٹ میں اتنی ساری رکھی تو ہیں۔۔ بسام نے انو کے سامنے رکھی پلیٹ کی طرح اشارہ کیا جہاں آدھی آدھی پوریاں رکھی ہوئی تھیں۔

بیٹا دھیان سے دیکھو یہ پوری نہیں ہیں یہ آدھی ہیں اور تم نے پوری مانگی ہے۔۔۔ انمول نے شریر لہجے میں کہا تو ٹیبل پہ موجود سب کے چہروں پہ مسکراہٹ اگئی۔

تو آدھی دے دیں میں اسی سے کام چلا لوں گا۔۔۔ بسام بھی اسی کے انداز میں بولا تو اسنے ہنستے ہوئے پوری اسے دی۔

میں چلتی ہوں۔۔۔ وردہ اپنا ناشتہ جلدی جلدی ختم کرتی اٹھ گئی۔

وردہ تم بسام کے ساتھ جاؤ گی۔۔۔ وردہ کو جاتے دیکھ ابتسام سنجیدگی سے بولا۔

مگر کیوں۔۔۔ وہ چونکی۔

کیونکہ تم گاڑی کافی اوور اسپیڈ میں چلاتی ہو۔۔۔جو کہ تمہارے لیئے بلکل ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اس لیئے اب سے تم بسام کے ساتھ جاؤ گی اور واپس ڈرائیور کے ساتھ آؤ گی۔۔۔ ابتسام کی سنجیدگی اب تک قائم تھی۔۔۔ وہ یہاں نرمی سے بلکل کام نہیں لینا چاہتا تھا کیونکہ یہاں اسکی سیفٹی کی بات تھی۔

میں وعدہ کرتی ہوں بابا آج کے بعد کبھی تیز گاڑی نہیں چلوں گی۔۔۔ اسنے یقین دلانا چاہا۔

اور میں جانتا ہوں تمہاری ماں کی طرح تمہارا وعدہ بھی زیادہ لمبا نہیں ہے۔۔۔ ابتسام کے کہنے پہ جہاں انمول نے ابتسام کو گھورا تھا وہیں وردہ نے منہ بسورا تھا۔

بابا ڈریگن پلیز مجھ سے میری گاڑی نا لیں۔۔۔ میں پکاہ اب سے تیز گاڑی نہیں چلاؤں گی۔۔۔ وہ ابتسام کے پاس آتی اسکے گلے میں لاڈ سے بازو حائل کرتے بولی تو وہ اسے منا نہیں کر سکا۔

اچھا ٹھیک ہے لیکن یہ آخری بار ہے۔۔۔ آگر اب ایسا ہوا تو پھر تم خود گاڑی کی چابیاں میرے ہاتھ پہ رکھو گی سمجھ گئیں۔۔ ابتسام نے ہاں میں سر ہلاتے وارنگ دی تو وہ خوش ہوگئی۔

تھنک یو بابا۔۔۔ اب میں چلتی ہوں دیر ہورہی ہے۔۔۔ وہ جلدی سے اپنا بیگ لیتی باہر نکل گئی۔۔ پیچھے سب مسکرا کے رہ گئے۔

بابا میں بھی چلتا ہوں۔۔۔ بسام بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

ہمم ٹھیک ہے تم پہنچو میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں ابتسام نے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا سب کو خدا حافظ کہتا باہر نکل گیا۔

۔🌺🌺🌺

انو گھر پہ کافی بور ہورہی تھی اس لیئے وہ دائم کے گھر چلی آئی۔۔۔

وہ گھر میں داخل ہوئی تو حنان اور مسرت بیگم لان میں ہی بیٹھے لوڈو کھیل رہے تھے۔۔۔ جنہیں دیکھ وہ وہیں آگئی تھی۔

چند سال پہلے ظفر صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔۔۔جس کے بعد گھر کی اور بزنس کی ساری زمیداری دائم نے باخوبی نبھائی تھی۔

دادی پوتا یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہیں۔۔۔ انمول دونوں کے پاس کرسی پہ بیٹھ گئی۔

انو آپ سہی وقت پی آئی ہیں ۔۔۔چلیں آجائیں آپ بھی ہمارے ساتھ لوڈو کھیلیں۔۔۔ حنان خوش ہوگیا تھا اسے وہاں دیکھ کے کیوں وہ جب بھی آتی تھی شغل میلہ لگاتی تھی۔

نہیں آپ دونوں کھیلو میں تو ماہی سے باتیں کرنے آئی ہوں۔۔۔ کہاں ہے وہ ۔۔۔ انمول نے رسان سے انکار کرتے کہا۔۔

وہ اندر ہے کچن میں۔۔۔ مسرت بیگم نے کہا تو وہ اٹھ کے اندر بڑھ گئی۔

ماہی جی کیا ہورہا ہے۔۔۔ انمول کچن میں داخل ہوتی بولی تو ماہی اسے دیکھ مسکرائی۔

کچھ نہیں بس تحریم کے لیئے سوپ بنا رہی تھی اسکی تھوڑی طعبیت ٹھیک نہیں ہے نا۔۔۔ خیر تم بتاؤ اس وقت کیسے آیا ہوا۔۔۔ ماہی مصروف انداز میں بولی۔

میں تو کبھی بھی کسی بھی وقت کہیں بھی چلی جاتی ہوں۔۔۔ خیر یہ باتوں تحریم کو کیا ہوا ہے۔۔۔ اسنے نے پریشانی سے پوچھا

صبح سے بخار ہے۔۔۔ ماہی نے فکرمندی سے کہا۔

اچھا میں اسے دیکھ کے آتی ہوں۔۔۔ انمول ماہی سے کہتی فورن تحریم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

تحریم۔۔۔ انمول ہمیشہ کی طرح بغیر دروازہ بجائے اندر داخل ہوئی۔

اسکے اچانک آنے پہ تحریم نے گھبراتے ہوئے فورن ہاتھ میں پکڑا کاغذ پیچھے کیا تھا۔

کیا ہوا تم اتنی گھبرا کیوں رہی ہو۔۔۔ انمول اسکے پاس​ آتی بولی جو اب بیڈ سے اٹھ کے کھڑی ہوگئی تھی۔

کچھ نہیں بس آپ اچانک آئیں تو میں ڈر گئی۔۔۔ وہ اپنے لہجے کو نارمل رکھتے بولی پر انمول کی کھوجتی نظریں اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی تھیں۔

پیچھے کیا چھپا رہی ہو۔۔۔۔ انمول مشکوک ہوئی۔

وہ ۔۔۔ وہ ایک گفٹس کی لسٹ ہے۔۔۔ وہ نیو ایئر آرہا ہے نا تو میں سب کو گفٹس دینے کا سوچ رہی ہوں بس وہی ہے۔۔۔ اسنے فورن بہانا بنایا اور جلدی سے وہ کاغذ دراز میں رکھا۔

اچھا چلو خیر۔۔۔ یہ بتاؤ تمہاری طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔ انمول بیٹھتی اسے بھی اپنے ساتھ بیٹھاتی پوچھنے لگی۔

میں ٹھیک ہوں اب ۔۔۔ صبح کافی تیز بخار تھا لیکن اب میں ٹھیک ہوں۔۔۔ اسنے مسکرا کے کہا۔

ہممم آگر میں نا آتی تو تمہارے ماں باپ کو تو توفیق ہی نہیں ہوتی کے مجھے بتادیں کہ میری گڑیا بیمار ہے۔۔۔ انمول ہلکے سے اسکا گال کھینچ​ مسکرا کے بولی تو وہ بھی مسکرا دی۔۔۔

وہ جانتے ہیں کے آپ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہیں۔۔۔ آپ پریشان نا ہو بس اسی لیئے نہیں بتایا۔۔۔ تحریم بچپن سے ہی انمول سے کافی اٹیچ رہی تھی ۔۔۔ وہ زیادہ تر انو کے ساتھ ہی رہی تھی۔۔. وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا دوست کہتی تھی۔

اگر میری پیاری سی دوست بیمار ہوگی تو کیا میں پریشان بھی نا ہوں۔۔۔ انمول نے منہ بنا کے کہا۔

میں نہیں چاہتی میری دوست پریشان ہوں۔۔۔ تحریم نے معصومیت سے کہا تو انمول کو اسکی معصومیت پہ جی بھر کے پیار آیا۔۔۔ وہ بچپن سے ہی کافی احساس تھی۔۔۔ معصوم تھی۔۔۔ اپنی بات کبھی کسی سی شیئر نہیں کرتی تھی۔۔۔ لیکن جب سے وہ انمول کے پاس رہنے لگی تھی وہ اسے ہر بات بتاتی تھی۔۔۔ وردہ اسکی ہم عمر تھی لیکن اسکی دوستی وردہ سے زیادہ انو سے تھی۔۔

وہ دونوں کافی دیر تک باتیں کرتی رہیں ۔۔۔ انمول کے آنے سے تحریم کی طبیعت مزید بہتر ہوگئی تھی۔۔۔۔

انو نے سب کے بچوں کو ہی ہمیشہ اپنے بچوں کی طرح پیار دیا تھا۔۔۔وہ تو جیسے سب بچوں کی فیوریٹ بن گئی تھی ۔۔۔ آخر بنتی بھی کیسے نہیں وہ سب سے الگ جو تھی۔