Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 24)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 24)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
دامل نے پورچ میں گاڑی روکتے ایک نظر سوئی ہوئی وردہ کو دیکھا جو سارے راستے سوتی ہوئی ہی آئی تھی۔
وردہ اٹھ جاؤ گھر آگیا ہے۔۔۔ اسنے گاڑی سے نکلتے اسے آواز دی لیکن وردہ پہ کوئی اثر نا ہوا۔
اسے نا اٹھتے دیکھ دامل اپنی طرف کا دروازہ بند کرتے اسکی جانب آیا۔
وردہ اٹھو گھر آگیا ہے۔۔۔۔ دامل نے اسکی جانب کا دروازہ کھولتے اسے تھوڑا سا ہلایا لیکن وہ تو اتنی گہری نیند میں سو رہی تھی کہ دامل کے آٹھانے کے باوجود بھی نہیں اٹھی تھی۔
وردہ۔۔۔ دامل نے تھوڑا اور زور سے ہلایا تو وہ نیند میں کسمسائی۔
سونے دو۔۔۔ وہ سیٹ پہ ہی ٹھیک سے بیٹھتی نیند میں بڑبڑائی۔
وردہ اٹھ جاؤ ورنا میں گود میں اٹھا کے لے کے جاؤں گا۔۔۔ دامل نے دھمکی دی کے شاید وہ اسہی بہانے اٹھ جائے لیکن وردہ نا اٹھی۔
اٹھا لو۔۔۔۔ وہ نیند میں ہی بولی تو دامل پہلے چونکا پھر آس پاس کسی کو نا دیکھتے اسے نرمی سے اپنی باہوں میں اٹھاتا پاؤں سے گاڑی کا دروازہ بند کرتے اندر بڑھ گیا۔
وہ لمبے لمبے قدم اٹھاتے جلدی سے کمرے تک پہنچتے کمرے میں داخل ہوتا آہستہ سے پاؤں سے ہی دروازہ بند کرتے وردہ کو نرمی سے بیڈ پہ لیٹایا۔
ماننا پڑے گا بڑی پکی نیند ہے۔۔۔ دامل نفی میں سر ہلاتا اپنی شرٹ کے اوپر کے دوبٹن کھولا الماری سے اپنے کپڑے لیتے واشروم میں گھس گیا۔
پانچ منٹ بعد وہ باہر آیا تو وردہ ابھی بھی ویسے ہی سو رہی تھی۔۔۔ کمرے کی لائٹ بند کرتے وہ اپنی جگہ پہ لیٹ کے سہولت سے اسکے چہرے کو دیکھنے لگا۔
معصوم سا چہرہ۔۔۔ بند آنکھوں پہ گھنی پلکھوں کا پہرا۔۔۔ چھوٹے سے لب۔۔۔ اور چھوٹی سی پیاری سی ناک جس میں سونے کا تار پہنا ہوا تھا۔۔۔ سوتے ہوئے وہ اسے اتنی پیاری لگ رہی تھی کی دل کر رہا تھا اسے خود میں بھیج لے۔۔۔ لیکن وہ دل کو ڈپٹتے آنکھیں موند گیا۔۔
۔![]()
![]()
![]()
مما بابا اب تو بسام اور وردہ کی شادی ہوگئی ہے تو اب آپ لوگ کب جائیں گے نور کے گھر شادی کی بات کرنے۔۔۔ سیف ناشتہ کرتے بولا۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔ حماد نے لاپروائی سے کہا۔. تو سیف اسے دیکھ کے رہ گیا۔
بابا مجھ سے چھوٹوں کی شادی ہوگئی ہے۔۔۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔ سیف نے صدمے سے کہا۔
تمہارے بابا مزاق کر رہے ہیں۔۔۔ ہم جائیں گے کچھ دن بعد نور کے گھر۔۔۔ میشا کے بتانے پہ حماد نے اسے گھورا جو زرا صبر نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ حماد سیف کو تنگ کرنا چاہتا تھا لیکن میشا سے کہاں برداشت ہوتا تھا کہ کوئی اس کے بیٹے کو تنگ کرے۔
سچ مما۔۔۔ سیف کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
نہیں جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔ حماد نے فورن اسکی نفی کی۔
میں جانتا ہوں میری مما جھوٹ نہیں بولتیں۔۔۔ سیف نے مسکرا کے کہتے حماد کو جلایا۔
مما کچھ دن کیا ہم آج ہی چلتے ہیں نا۔۔۔ سیف فورن بےصبرا ہوا۔
آج نہیں ایک دو دن بعد جائیں گے۔۔۔ آج میں جاکے انمول سے بات کرلوں گی پھر جب بھی اسے وقت ملے گا تب چلیں گے ۔۔۔ میشا نے پیار سے سمجھایا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے انمول کے پاس آج جانے کی۔۔۔ جس دن نور کے گھر جانا ہوگا اسہی دن انمول کو بتانا ۔۔۔ ورنا وہ بھی سیف سے کم نہیں ہے آج ہی چلنے کا بول دے گی۔۔۔ حماد نے منا کرتے ساتھ وجہ بھی بتائی۔
یہ تو اچھی بات ہے نا۔۔۔ سیف تو خوش ہوگیا تھا۔
تم چپ رہوں،،، لڑکے اپنی شادی کے معاملات میں نہیں بولتے۔۔۔ حماد نے ڈپٹا تو سیف کا منہ بن گیا۔
سیف صبر سے کام لو۔۔۔ سنا نہیں ہے دیر آئے درست آئے۔۔۔ ہم جائیں گے کچھ دن بعد۔۔۔ سیف کی بےچاری شکل دیکھتے میشا نے پیار سے کہا تو وہ منہ بناتے ہاں میں سر ہلا گیا۔
یہ بات تو سنہری حروفوں میں لکھی جائے گی کہ آج پہلی بار ایک بیوی نے اپنے بیٹے کی سائڈ لینے کی بجائے اپنے شوہر کا ساتھ دیا ہے۔۔۔ حماد نے میشا پہ طنز کیا تو وہ اسے گھور کے رہ گئی جب کے دونوں باپ بیٹے کا بلند قہقہہ گونجا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
صبح وردہ کی آنکھ کھلی تو نظر چھت سے ٹکرائی۔۔۔۔ پانچ منٹ تو اسے یہ سمجھنے میں ہی لگ گئے کے وہ ہے کہاں۔۔۔ پھر ایک دم یاد آیا کہ وہ تو گاڑی میں سو گئی تھی پر وہ اپنے کمرے میں کیسے آئی۔
یہی سوچتے ایک جھٹکے سے اٹھ کے بیٹھی تو دامل سامنے صوفے پہ لیپ ٹاپ لیئے بیٹھے دکھا۔
میں یہاں کیسے آئی۔۔۔ وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی۔۔۔ تو دامل نے اسکی جانب دیکھا جو رات والے حلیے میں تھی بال سارے بکھرے ہوئے تھے۔۔۔ جب کے خود وہ سکتے کی حالت میں تھی۔
ظاہر ہے اڑ کے تو آ نہیں سکتیں میں ہی لایا تھا۔۔۔ وہ واپس نظریں لیپ ٹاپ پہ مرکوز کرگیا۔
تم نے مجھے ہاتھ لگایا۔۔۔ وردہ کمبل ایک طرف کرتی اٹھ کے دامل کے سر پہ پہنچی۔
ہاتھ تو نہیں لگایا تھا باہوں میں اٹھایا تھا بس۔۔۔ دامل بےدھیانی میں بول گیا
او اچھا پھر ٹھیک ہے۔۔۔ وردہ بھی اطمینان سے کہتی واپس بیڈ کی جانب بڑھ گئی۔
جلدی سے تیار ہو جاؤ ڈیڈ نیچے ناشتے پہ انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ اسے واپس سونے کی تیاری کرتے دیکھ دامل نے کہا۔
کیا!!! تم نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا۔۔۔ کیا تم میرے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ وردہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔ کیونکہ اسکے حساب سے ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ دامل کسی بھی چیز کے لیئے اسکا انتظار کرے۔
میں نے تمہیں منا کیا ہے نا تم کہنے سے پھر بھی تم باز نہیں آتیں۔۔۔ دامل نے گھور کے کہا۔
نہیں۔۔۔ وہ بھی بےشرموں کی طرح بولی۔
ابھی تمہیں بتاتا ہوں۔۔۔دامل لیپ ٹاپ سائڈ پہ رکھتا اسکی جانب بڑھا۔۔۔
اسے اٹھ کے اپنی طرف بڑھتے دیکھ وردہ نے فورن واشروم کی جانب دوڑ لگادی ۔۔۔
باہر تو جیسے آؤ گی نہیں ۔۔۔ واشروم کا دروازہ بند ہوتے دیکھ دامل نے ہانک لگائی۔
سہی کہا،،، میں نے قیامت تک اب یہیں قیام کرنے کا سوچ لیا ہے۔۔۔ وردہ نے بھی اندر سے آواز لگائی تو دامل کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی جس سے وہ خود بھی انجان تھا۔
وہ واپس آکے اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا جب کچھ ہی دیر بعد اسے واشروم کا دروازہ کھلنے کی آواز ائی۔۔۔
اسنے چور نگاہوں سے اس طرف دیکھا تو وردہ دبے قدموں سے الماری کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔
اسے دیکھتے دامل اپنی مسکراہٹ روکتے ایسے بیٹھا رہا جیسے اسے کچھ پتہ ہی نا ہو۔۔
جب اسنے کپڑے نکال لیئے تو دامل نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا۔
دامل کو اچانک اپنی جانب دیکھتے دیکھ وردہ تیزی سے واشروم میں گھس گئی۔۔۔ جس پہ دامل اپنی ہنسی کا گلہ گھونٹتا سر جھٹکتے اپنے کام میں لگ گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
بسام اٹھیں آفس نہیں جانا کیا۔۔۔ تحریم نے کوئی تیسری بار اسے اٹھایا تھا لیکن بسام تھا کہ اٹھ کے ہی نہیں دے رہا تھا۔
یار کیوں تنگ کر رہی ہو سونے دو۔۔۔ بسام منہ بنا کے کہتا تکیے کو باہوں میں دبوچ کے واپس سو گیا۔
میں تنگ نہیں کر رہی میں آپ کو لیٹ ہونے سے بچا رہی ہوں۔۔۔ اٹھ جائیں آپ لیٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔ ورنا پھر مجھے ہی بولیں کے ریم تم نے مجھے اٹھا کیوں نہیں میں تمہاری وجہ سے لیٹ ہوگیا۔۔۔ اٹھیںںںں۔۔۔۔تحریم اسکا بازو جھنجھوڑ نے لگی کے جبھی بسام نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنے اوپر گرایا جس سے وہ ایک دم گڑبڑا گئی۔
اب بولو کیا کہہ رہیں تھیں۔۔۔ بسام اسکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھتے مسکراہٹ دبا گیا۔
میں۔۔۔۔ میںں۔۔۔ تو۔۔۔۔۔۔
یہ میں میں کیا لگا رکھا ہے۔۔۔ ابھی تو بہت زبان چل رہی تھی اور اب میں میں۔۔۔ کیا تم بکریوں کے خاندان سے ہو جو میں میں کر رہی ہو۔۔. بسام نے آنکھیں چھوٹی کیئے پوچھا تو وہ معصومیت سے نفی میں سر ہلاگئی۔
کتنی پیاری لگ رہی ہوں نا ایسے میرے پاس لیٹی ہوئی۔۔۔ چلو تم بھی سو جاؤ میں بھی سو جاتا ہوں۔۔۔ بسام اسے خود میں بھیجتے بولا تو تحریم کی آنکھیں بڑی ہوئیں۔
مطلب وہ اٹھنے کے بجائے اسے بھی سونے کا کہہ رہا تھا۔
آپ بھی اٹھیں اور مجھے بھی چھوڑیں۔۔۔ تحریم خود کو اسکی باہوں سے آواز کروانے کی کوشش کرتے بولی لیکن بسام کی پکڑ مضبوط تھی جس کی وجہ سے اسکی کوشش کوشش ہی رہ گئی۔
سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو ریم۔۔۔ ورنا اگر میں جاگ گیا تو تمہارے لیئے اچھا نہیں ہو گا۔۔۔ بسام نے وارن کیا
بسام۔۔۔۔ تحریم نے اپنا ہتھ،یار استعمال کیا ۔۔۔ وہ معصومیت سے منہ بنا کے بولی تو بسام اسے دیکھتا رہ گیا۔
یار جب تم ایسی معصوم شکل بناتی ہو تو دل کرتا ہے تمہاری ساری باتیں مان لوں۔۔۔ وہ اپنی پکڑ میں تھوڑی نرمی لاتے بولا۔
تو پھر مان لیں میری بات،،، اٹھ جائیں۔۔۔۔ تحریم نے مسکراتے ہوئے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو بسام نے منہ بنایا۔
یار تم پہلی ہو جو اپنے شوہر کو آفس بھیجنے کے لیئے اتنی اوتاولی ہو رہی ہو ورنا بیویاں تو چاہتی ہیں شوہر انکے پلو سے بندھ کے بیٹھے رہیں۔۔۔۔ اور جب تمہیں ایسا شوہر ملا ہے تو تم اسے بھگا رہی ہو۔۔۔ بسام اسے چھوڑتے اٹھ کے بیٹھا تو تحریم جلدی سے بیڈ سے اتری۔
اب جیسی بھی ہوں ایسی ہی ہوں۔۔۔ تحریم گردن اکڑا کے کہتی کپڑے اسکے ہاتھ میں تھماگئی تو وہ مسکراتا ہوا اٹھ کے واشروم میں گھس گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
آؤ بیٹا میں تم لوگوں کا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔ ان دونوں کو اکٹھے ڈائنگ روم میں داخل ہوتے دیکھ فہد نے خوش اخلاقی سے کہا۔
جب کے دلاور صاحب اپنے ناشتے میں مصروف رہے۔۔۔ انہیں نے گردن اٹھا کے انہیں دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔
ڈیڈ آپ ناشتہ شروع کر دیتے ہم آ تو رہے تھے۔۔۔ دامل اپنی کرسی کھینچ کے بیٹھا۔۔۔ اسکے ساتھ ہی وردہ نے بھی اپنی کرسی سنبھالی۔
دادا جان کیسے ہیں آپ۔۔۔ آج کل آپ اپنے کمرے سے ہی نہیں نکلتے طبعیت تو ٹھیک ہے نا آپ کی۔۔۔ دامل نے ان سے پوچھا تو انہوں نے ایک نظر ناشتے سے بھرپور انصاف کرتی وردہ کو دیکھا پھر مسکرا کے دامل کو جواب دیا جو انکے جواب کا منتظر تھا۔
ہاں بیٹا میں ٹھیک ہوں بس شادی کی مصروفیت میں تھوڑی تھکن ہو گئی تھی اس لیئے زیادہ تر اپنے کمرے میں ہی تھا ۔۔۔ دلاور خان نے بہانا بناتے اپنے ہوتے کو مطمئن کرنا چاہا۔۔۔۔ جب کے فہد تو انکی ساری باتوں سے بےنیاز بیٹھا تھا۔
دادا جان میں تو کہتی ہوں آپ اپنا مکمل چیک اپ کروالیں۔۔۔ ایسا نا ہو آپ کے اندر خو،ن کی کمی ہوگئی ہو۔۔۔۔ وردہ انہیں دیکھتی ایسے بولی جیسے ساری فکر اسے ہی ہے۔۔۔ جب کے دلاور خان کافی اچھے سے اسکی بات سمجھ رہے تھے۔
ہاں دادا جان وردہ ٹھیک کہہ رہی ہے آپ میرے ساتھ چلے گا میں آپ کا مکمل چیک اپ کرواؤ گا۔۔۔ دامل نے کہا تو وردہ گردن نیچے جھکائے مسکرادی۔
نہیں بیٹا میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ خیر تم یہ سب چھوڑو ناشتہ شروع کرو۔۔۔ دلاور خان نے اسکا دھیان خود سے ہٹا کے ناشتے کی جانب دلایا تو اسنے ناشتہ شروع کیا۔
وردہ کی موجودگی میں دلاور خان سے وہاں بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ وہ ساری زندگی وردہ کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے اس لیئے تھوڑا سا ہی کھا کے اٹھ گئے۔۔۔ کیونکہ اب نوالہ حلق سے نیچے تو اترنے والا نہیں تھا۔
کہاں جارہے ہیں دادا جان ناشتہ تو پورا کریں۔۔۔ انہیں اٹھ کے جاتے دیکھ دامل نے پوچھا۔
بس بیٹا میرا ہوگیا۔۔۔ تم کرو اچھے سے ناشتہ۔۔ دلاور خان پیار سے اسکا کندھا تھپتھپاتے وہاں سے نکل گئے تو وہ بھی اپنے ناشتے کی جانب متوجہ ہوگیا۔
دامل تمہاری چھٹیاں کتنی بچی ہیں۔۔۔ فہد نے ناشتے کے درمیان پوچھا۔
آٹھ دس دن کی اور بچی ہیں ۔۔۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کل سے ہی واپس جوائن کرلوں۔۔۔ گھر میں رہ کے کیا کروں گا،،، اس سے اچھا ہے واپس اپنے کام میں لگ جاوں۔۔۔ دامل نے اپنے خیال کا اظہار کیا۔
ابھی تمہاری شادی کو دو دن بھی نہیں ہوئے اور تمہیں کام پہ جانے کی جلدی لگ گئی۔۔۔ کام تو ساری زندگی ہوتے رہیں گے۔۔. تم لوگ اپنی تیاری کر لینا میں نے کل شام کی تم دونوں کی ترکی کی ٹکٹس کروا دی ہیں۔۔۔ ابھی نئی شادی ہوئی ہے گھوموں پھرو انجوائے کرو۔۔۔ فہد نے سکون سے کہا ۔
مگر ڈیڈ اتنی کیا جلدی ہے ۔۔۔ دامل نے انکار کرنا چاہا۔
شادی کے دس سال بعد جاؤ گے۔۔۔ فہد نے ایبرو اچکائے پوچھا۔
اوکے ڈیڈ جیسی آپ کی مرضی۔۔۔ دامل نے ہار مانتے کہا۔
ڈیڈ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔ وردہ نے فہد کو مخاطب کیا۔
ہاں بیٹا بولو۔۔. فرہاد اسکی جانب متوجہ ہوا۔
میں ابھی سب جگہ سے گھوم کے آئی ہوں۔۔۔ لیکن جو مزاح اور خوبصورتی ہمارے پاکستان میں ہے وہ کہیں بھی نہیں ہے۔۔۔ اس لیئے میں ترکی نہیں۔۔۔ بلکے مری، ناران، کاغان جانا چاہتی ہوں۔۔۔ وردہ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو فہد مسکرا دیا۔۔۔ جب کے اسکی بات سے دامل نے بھی دل میں اتفاق کیا تھا کہ پاکستان سے زیادہ خوبصورت کوئی جگہ نہیں ہے۔
چلو بیٹا جیسی آپ کی مرضی۔۔۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے،،، باقی آپ دامل سے پوچھ لو۔۔۔ فہد نے دامل کی جانب اشارہ کیا۔
مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ وردہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی دامل بول پڑا تو وردہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔
اسکے چہرے پہ خوشی دیکھتے ٹیبل پہ موجود دونوں افراد کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی بس فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کھل کے مسکرایا تھا تو دوسرا چھپ کے۔
۔![]()
![]()
![]()
