820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 23)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

مما بہت بھوک لگی ہے جلدی سے ناشتہ دے دیں کل رات کو بھی بہت کم کھایا تھا۔۔۔ اور اب بھوک سے جان نکلے جارہی ہے۔۔۔ وردہ سادہ سے ہرے شلوار قمیض میں بالوں کا جوڑا کیئے ڈائنگ ٹیبل پہ آتی اپنی کرسی گھسکا کے بیٹھ گئی۔

ہم سب آپ کا ہی انتظار کر رہے تھے کہ کب ہماری بیٹی آئے اور ہم ناشتہ کرئیں۔۔۔ ابتسام نے مسکرا کے کہا تو وہ بھی مسکرادی۔

وردہ یہ کیسے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔۔۔ ابھی تم ایک دن کی دلہن ہو۔۔۔ اور کیسے سادہ سے حلیہ میں آگئی ہو۔۔۔ نا کان میں کچھ پہنا ہے نا ہاتھوں میں چوڑیاں ہیں۔۔۔ جاؤ جا کے پہلے اچھے سے تیار ہو کے آؤ پھر ناشتہ ملے گا۔۔۔۔ انمول نے اسے دیکھاتے کہا۔

پہلے ناشتہ دے دیں اسکے بعد تیار ہو جاؤ گی۔۔۔ وردہ نے ٹالنا چاہا ۔۔۔ لیکن انمول کے چہرے سے کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کے وہ ٹلنے والوں میں سے ہے۔

وردہ ابھی اور اسی جاؤ ورنا ناشتہ نہیں ملے گا۔۔۔ انمول نے دھمکی دی تو وردہ نے مدد طلب نظروں سے ابتسام کو دیکھا۔

انو بچی اپنے گھر میں ہی ہے ۔۔۔ پہلے اسے ایزی ہو کے ناشتہ کرنے دو پھر ہو جائے گی تیار۔۔۔ ابتسام نے نرمی سے سمجھایا۔

مسٹر ڈریگن یہ لیڈیس کا معاملہ ہے آپ بیچ میں نہیں بولیں۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے ابتسام کو بھی خاموش کروایا۔

انو ابتسام ٹھیک کہہ رہا ہے کرنے دو اسے ناشتہ۔۔ لو بیٹا شروع کرو۔۔۔ شگفتہ بیگم نے بھی ابتسام کی بات سے اتفاق کرتے وردہ کو انڈے کی پلیٹ پکڑائی۔

میری تو کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔۔۔ مرضی ہے جس کا جو دل کرے کرتا رہے ۔۔۔ مجھ کوئی فرق نہیں پڑھتا ۔۔۔ انمول سر جھٹکتی بڑبڑاتی ہوئی اپنا ناشتہ کرنے لگی۔

مما آپ سب کو چھوڑیں میں ہوں نا آپ کا بیٹا،،، آپ کی ساری باتیں ماننے کے لیئے۔۔۔ بسام نے انمول کو دیکھتے کہا تو وہ منہ میں نوالہ ڈالتی ہاں میں سر ہلاگئی۔

تحریم زرا جوس دینا۔۔ وردہ نے تحریم کو مخاطب کیا۔

یہ تحریم کیا ہوتا ہے ۔۔۔ بھابھی ہے تمہاری،،، بھابھی بولو۔۔۔ بسام نے ٹوکا تو وردہ آنکھیں گھماتی گہری سانس بھرتے نفی میں سر ہلاگئی۔

یہ لو ۔۔۔ تحریم نے جوس کا گلاس اسکی جانب بڑھایا۔

تحریم مجھے بھی جوس دو۔۔۔ بسام نے کہا۔

اس سے پہلے وردہ تحریم کے ہاتھ سے گلاس تھامتی ۔۔۔ تحریم کو لگا اسنے گلاس پکڑ لیا ہے اس لیئے اسنے گلاس چھوڑ دیا لیکن وردہ کے ہاتھ میں آنے کے بچائےگلاس ٹیبل پہ گرتے نیچے زمین پہ جا گرا تھا ۔۔۔ جس کی وجہ سے جوس وردہ کے کپڑوں پہ بھی آگیا تھا۔

یہ کیا کیا تم نے۔۔۔ تم دیکھ کے نہیں دے سکتیں تھیں۔۔۔ وردہ کھڑی ہوتی غصے سے تحریم پہ چیخی تو نرم دل تحریم سہم گئی۔

جب کے وردہ کا انداز دیکھ کے سب ششدر رہ گئے تھے کہ اتنی سی بات پہ وردہ اتنا ریئکٹ کیوں کر رہی ہے۔۔۔

وردہ یہ کیسے بات کر رہی ہو تحریم سے۔۔۔ اسنے جان بوجھ کے تو نہیں گرایا نا گلاس۔۔۔ تحریم کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھتے بسام نے سنجیدگی سے کہا۔

بھابھی ہے نا تو میں بھی بلکل نند کی طرح ہی بات کر رہی ہوں۔۔۔ اس سے بس ایک جوس ہی تو مانگا تھا ۔۔۔ آگر نہیں دینا تھا تو منا کر دیتی گرانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ وردہ نے تحریم کی طرف دیکھا تو اسے روتے دیکھ وہ ایک دم بوکھلائی۔

سوری سوری یار میں تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔ تم تو رونے ہی لگ گئیں ۔۔۔ میں تو بس ایسے سنا نے کے لیئے کہہ رہی تھی جو یہ بول رہا تھا کہ تم میری بھابھی ہو تو میں نے سوچا کیوں نا تھوڑا سا اپنا نند والا روپ بھی دیکھا دوں مگر سوری یار مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ زیادہ ہو جائے گا۔۔۔۔ وردہ تحریم کا ہاتھ پکڑتے بولی تو وہ آنسوں صاف کرنے لگی۔

وردہ یہ کس طرح کا مزاق تھا ۔۔۔۔ رولا کے رکھ دیا تم نے بچی کو۔۔۔ انمول اٹھ کے آتی تحریم کو اپنے ساتھ لگائے وردہ کو ڈانٹنے لگی۔

سوری مما میں آئندہ ایسا مزاق نہیں کروں گی ۔۔۔ سوری تحریم۔۔۔ وردہ نے ایک بار پھر سوری کیا۔

کوئی بات نہیں۔۔۔ تحریم دھیرے سے مسکرا کے بولی تو وردہ کی جان میں جان ائی۔

یہ کیا تم نے اتنی جلدی اسے معاف کر دیا۔۔۔ سنا نہیں تھا اسنے تمہیں کیا کہا ہے۔۔۔ بسام نے تحریم کو گھورا۔

تم تو عورتوں کی طرح آ،گ لگانا بند کرو۔۔۔ وردہ نے اسکے بازو پہ تھپڑ رسید کیا۔

وہ مزاق کر رہی تھی بسام۔۔۔ اسنے کون سا مجھے سچ میں کہا تھا۔۔۔ تحریم بسام کو دیکھتی بولی تو بسام منہ بنا گیا۔

چھوڑو اسے تم بیٹھو ناشتہ کرو۔۔۔ وردہ نے کہا تو تحریم واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی۔

اب انسانوں کی طرح ناشتہ کرنا بغیر ہنسی مزاق کے۔۔۔ انمول کہتی اپنے جگہ پہ جا کے بیٹھ گئی۔

بیٹا تم نے دامل سے پوچھا وہ کب تک آئے گا۔۔۔ ابتسام نے وردہ کو مخاطب کیا۔

نہیں۔۔۔ وردہ لاپرواہی سے کندھے اچکا گئی۔

ناشتے کے بعد اسے فون کر کے پوچھ لینا اور پھر مجھے بتا دینا تا کہ میں جلدی واپس آجاؤ گا آفس سے۔۔۔ ابتسام کہتا کھڑا ہوگیا۔

میرے پاس اسکا نمبر نہیں ہے آپ خود فون کر کے پوچھ لے گا۔۔۔ وردہ نارمل انداز میں بولی۔

کیا تمہارے پاس اپنے شوہر کا نمبر نہیں ہے۔۔۔ انمول نے حیرت سے پوچھا۔

مما آپ تو ایسے حیران ہو رہی ہیں جیسے شادی سے پہلے میرا اسکے بہت رابطہ تھا۔۔۔ ہم ساتھ آتے جاتے ایک دوسرے سے گھنٹوں باتیں کرتے تھے جو میرے پاس اسکا نمبر ہوگا۔۔۔ وردہ نے آنکھیں پٹپٹاتے کہا۔

میں آپ کو نمبر بھیج​ دوں گا ہممم۔۔۔ اب میں چلتا ہوں۔۔۔۔ ابتسام وردہ سے کہتا سب کو خدا حافظ کہتے باہر کی جانب بڑھ گیا۔

تو وہ لوگ بھی اپنے ناشتے میں مصروف ہوگئے۔

۔🌺🌺🌺

ہیلو۔۔۔۔ کسی انون نمبر سے کال آتے دیکھ دامل نے فورن کال ریسیو کی تھی۔

شادی کی بہت بہت مبارک کو A.S.P دامل خان۔۔۔۔ دوسری طرف سے بہت خوش دلی سے مبارکبادی دی گئی تھی۔۔۔

کیوں فون کیا ہے تم نے شیرخان۔۔۔۔ دامل اسکی آواز پہچانتے سرد لہجے میں بولا۔

شادی کی مبارک دینے۔۔۔ ویسے سنا ہے تمہاری بیوی ہے بہت خوبصورت۔۔۔ شیرخان کمینگی سے بولا۔

خبردار جو میری بیوی کے بارے میں کچھ کہا تو۔۔۔ دامل غصے سے دھاڑا۔

ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ دامل کے غصے سے محظوظ ہوتے اسنے قہقہہ لگایا۔

۔A.S.P ہو سکے تو اپنے گھر والوں کو بچا کے رکھنا۔۔۔ کیونکہ جتنا نقصان تم میرا کر چکی ہونا اب باری ہے تمہاری میرے نقصان کا ازالہ کرنے کی۔۔۔ شیرخان مزے سے بولا تو دامل نے مٹھیاں بھیجیں۔

بزدل ہو تم۔۔۔ آگر تم میں ہمت ہوتی تو مجھ سے بات کرتے میرے سامنے آتے۔۔۔ یوں گھر والوں کی دھمکی نہیں دیتے۔۔۔۔ دامل نے اسے اکسایا

وہ کافی دنوں سے اسکی لاش میں تھا۔۔۔۔ جہاں ممکن ہو سکتا تھا اسنے ہر اس جگہ چھاپہ مارا تھا لیکن شاید شیرخان کو پہلے سے ہی انکے آنے کی عطلاح مل جاتی تھی یا پھر وہ وہاں ہوتا ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ اسکے ہاتھ ہی نہیں آکے دے رہا تھا۔

۔A.S.Pصاحب ہم نے کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں۔۔۔ جانتا ہوں ہمیشہ دشمن کی کمزوری پہ وار کرنا جاہیئے۔۔۔ اور ماشاءاللہ سے اب تو تمہاری ایک کمزوری اور ہاتھ آگئی ہے۔۔۔ شیرخان خباثت سے بولا تو دامل نے ضبط سے جبڑے بھیجے۔

آگر میری فیملی کو زرا سی بھی خروچ آئی تو اپنے کفن دفن کا انتظام کر لینا۔۔۔ دامل ایک ایک لفظ چبا چبا کے ادا کرتا اسے اسکا انجام یاد دلانے لگا ۔۔۔ مگر اگلی طرف سے شیرخان نے قہقہہ لگایا تھا جیسے​اسنے دامل کی بات کو کافی انجوائے کیا ہو۔

دیکھتے ہیں پہلے کون کفن دفن کا انتظام کرتا ہے۔۔۔ شیرخان پراسرار انداز میں کہتا فون بند کر گیا تو دامل نے زور سے بیڈ پہ فون پٹخا۔

وہ ابھی واشروم کی جانب بڑھتا کہ اسکا فون پھر سے بج گیا۔

اسنے فون اٹھا کے دیکھا تو پھر کسی انون نمبر سے کال آ رہی تھی۔۔۔ اسے اب بھی یہی لگا کے شاید پھر سے شیرخان نے فون کیا ہوگا اس لیئے اسنے غصے سے کال ریسیو کی۔

یاد رکھنا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔ دامل نے کال ریسیو کرتے غصے سے کہا جب کے فون کے دوسری طرف موجود وردہ نے فون کان سے ہٹا کے دیکھا تھا کہ کہیں اسنے غلط نمبر تو نہیں ملا دیا۔۔۔ پر آواز تو دامل کی تھی پر وہ کہہ کیا رہا تھا۔

ہیلو جالی A.S.P کس کو نہیں چھوڑنا ۔۔۔ کہیں تم نے دوسری شادی تو نہیں کر رکھی جو اپنی دوسری بیوی کو نا چھوڑنے کی بات کر رہے ہو۔۔۔ وردہ نے تیوری چڑھائے پوچھا۔

جب کے جالیA.S.P سن کے وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ وردہ ہے۔

دوسری نہیں پہلی ۔۔۔ پہلی شادی کر رکھی ہے۔۔۔ دوسری تو تم ہو۔۔۔ دامل پہلے ہی غصے میں تھا وردہ کی بات پہ دانت پیس کے بولا

میں جانتی تھی تم ہوئی دو نمبر پولیس والے۔۔۔ تم نے دونمبری کر کے مجھ سے شادی کی ہے۔۔۔ آگر تمہاری پہلی بیوی موجود تھی تو کیا ضرورت تھی میری زندگی خراب کرنے کی۔۔۔ وردہ تو سیریس ہی ہوگئی تھی۔

اپنی بکواس بند کرو اور وہ بات کرو جس کے لیئے فون کیا ہے ۔۔۔ دامل ماتھا مسلتے بولا۔۔

جب کے دروہ کی تو آنکھیں کھل گئیں تھی اسکی بات سنتے۔۔۔

میں بکواس کرتی ہوں تو تم کون سا پھولوں کی بارش کرتے ہو۔۔۔ وہ بھی تڑخ کے بولی۔

تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا کے دوبارہ مجھے تم مت کہنا۔۔۔ لگتا ہے نرمی سے کہی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔ دامل پھر سے اسکے تم کہنے پہ بھڑکا۔

ہاں نہیں آئی تھی سمجھ ۔۔۔ اور میں ہمیشہ تم ہی کہوں کی تم تم تم۔۔۔ اب جو کرنا ہے کر لینا ۔۔۔ وہ بھی اسکی کے انداز میں بولی۔

تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔۔۔ ایک بار تم گھر واپس آؤ پھر بتاتا ہوں تمہیں۔۔۔ دامل نے ضبط سے کہا۔

مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم سے بات کرنے کا ۔۔۔ وہ تو بس بابا نے کہا تھا تم سے پوچھ لوں کے کب تک آؤ گے اس لیئے فون کرا تھا۔۔۔ لیکن اب مجھے وہ بھی نہیں پوچھنا۔۔۔۔ سڑیل۔۔۔۔ وردہ اسے باتیں سناتی فون بند کرگئی۔

جب کے فون بند ہونے سے پہلے دامل کو سڑیل باخوبی سنائی دیا تھا جس پہ وہ غصے سے فون پورا آوف کرتے بیڈ پہ پھیکتے واشروم میں گھس گیا۔

۔ 🌺🌺🌺

وردہ دامل کب تک آئے گا اس سے فون کر کے پوچھا تھا۔۔۔ شام میں وردہ تیار ہوکے نیچے آئی تو انمول نے پوچھا۔

پتہ نہیں ۔۔۔ وردہ بےزاریت سے صوفے پہ بیٹھتی۔

کیا مطلب پتہ نہیں۔۔۔ تم نے فون کر کے نہیں پوچھا تھا۔۔۔ مسٹر ڈریگن کا بھی فون آیا تھا وہ بھی پوچھ رہے تھے۔۔۔ تم سو رہی تھیں اس لیئے میں تمہارے کمرے میں نہیں آئی تھی۔۔۔۔ پر اب تم کہہ رہی ہو کے تمہیں پتہ ہی نہیں ہے۔۔۔ انمول نے جھڑکا۔

مما میں پرسنل سیکٹری نہیں ہوں آپ کے داماد کی جو اسکے آنے جانے کا پتہ رکھوں کی۔۔۔ جب آنا ہوگیا آجائے گا۔۔۔ سر جھٹک کے بولی

تم بیوی ہو اسکی۔۔۔ تمہیں پتہ ہونا چاہیئے تمہارا میاں کہاں ہے ۔۔۔ اسکی خبر رکھنی چاہیئے تمہیں۔۔۔ اور یہ تم بات کیسے کر رہی ہو۔۔۔ شوہر ہے وہ ادب سے پکارہ کرو اسے ۔۔۔ انمول نے گھورا تو وردہ گہری سانس بھارتی صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گئی۔

میرے کہنے کا مطلب تھا میں نے اسے فون کیا تھا پر اسنے اٹھایا ہی نہیں تھا۔۔۔ وردہ نے بہانا بنایا۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب میں تمہارے منہ سے دامل کے لیئے آئے گا جائے گا نا سنوں۔۔۔ سمجھ گئیں۔۔۔ انمول نے سمجھایا تو وہ جھنجھلا گئی۔

کہاں جارہی ہو اب ۔۔۔ وردہ کو جاتے دیکھ انمول نے پکارہ۔

دادی کے کمرے میں۔۔۔ وردہ جواب دیتی تیزی سے نسرین بیگم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

پتہ نہیں کیا ہوگا اس لڑکی کا۔۔۔ انمول نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔

وہی ہوگا جو اسکی ماں کا ہوا تھا۔۔۔ پیچھے سے شگفتہ بیگم کی آواز آئی تو اسنے گردن گھما کے انہیں دیکھا جو کچن سے نکل کے اسکی جانب ہی آرہی تھیں۔

بات چاہے کسی کی بھی ہو آپ مجھے بیچ میں لے آتی ہیں۔۔۔ انمول منہ بنا کے بولی۔

بات کسی کی نہیں تمہاری بیٹی کی ہی ہے جو تمہاری طرح ہی حرکتیں کر رہی ہے۔۔۔ اب تمہیں پتہ چلے گا کہ جب تمہاری ماں تمہیں کچھ سمجھاتی تھی اور تم سنتی نہیں تھی تو مجھے کیسا لگتا تھا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے مزے سے کہا۔

مما۔۔۔۔ انمول بےچارگی سے بولی تو شگفتہ بیگم قہقہہ لگا گئیں۔

۔🌺🌺🌺

رات کے آٹھ بج رہے تھے جب دامل وردہ کے گھر میں داخل ہوا۔۔۔ وہ تو وردہ کو لینے جانا ہی نہیں چاہتا تھا لیکن فہد کے کہنے پہ اسے آنا پڑ گیا تھا۔

اسلام و علیکم ۔۔۔ دامل نے لاؤنچ میں داخل ہوتے بلند آواز میں سلام کیا۔

سلام سنتے لاؤنچ میں بیٹھے سبہی افراد نے جواب دیا تھا۔

لاؤنچ میں سب ہی موجود دامل کا ہی انتظار کر رہے تھے جس نے تھوڑی دیر پہلے ہی بسام کے فون آنے پہ اسے اپنے آنے کی اطلاع دی تھی

کیسے ہو بیٹا ۔۔۔ ابتسام نے اس سے ہاتھ ملاتے خیریت دریافت کی۔

الحمدللہ انکل۔۔۔ دامل مسکرا کے کہتا اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔

تحریم وردہ کو بتا دو دامل آگیا ہے جب تک میں کھانا لگواتی ہوں ۔۔۔ انمول نے تحریم سے کہا تو وہ جی کہتی اٹھ کے اوپر بڑھ گئی ۔۔۔ جب کے انمول کچن کی جانب چلدی۔

کچھ ہی دیر بعد وردہ وائٹ لائٹ سے کام والی فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہلے ساتھ لال دوپٹہ لیئے نیچے آتی دکھی۔

دامل کی اچانک اس پہ نظر گئی تو جیسے نظریں وہیں تم گئیں تھیں۔۔۔ لائٹ میک اپ پہ لائٹ ہی جیولری۔۔۔ اس پہ بہت جچ رہی تھی۔۔۔ کمر تک آتے بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا۔۔۔۔ جس سے لٹیں چہرے پہ جھول رہی تھیں ۔۔۔ چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی جو دامل کو اس وقت بہت بھلی لگ رہی تھی۔

وہ آکے اسکو اگنور کرتی اسکے سامنے بیٹھ گئی لیکن دامل کی نظریں تھی کے اس پہ سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں ۔۔۔

اپنے چہرے پہ نظروں کی تپش محسوس کرتے اسنے دامل کی جانب دیکھا تو دامل کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جذبات دیکھتے اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔ اسنے فورن ہی نظروں کا زاویہ بدلہ۔۔۔ جس پہ دامل مبہم سا مسکرا دیا۔

اہم اہم ۔۔۔ بسام نے اسکے ساتھ بیٹھتے شرارت سے گلہ کھنکھارا۔۔۔ تو جیسے دامل ہوش میں آیا ۔

بھائی ویسے ماننا پڑے گا تم پولیس والوں کی ہمت کو جو لڑکی کے بھائی اور باپ کے سامنے اسے بڑے دھڑلے سے گھور رہے ہو ۔۔۔ بسام اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا۔

بیوی ہے میری میرا پورا حق ہے اسے گھورنے کا۔۔۔ دامل نے حق سے کہا تو بسام مسکرا دیا۔

کھانا لگ گیا ہے آجائیں سب۔۔۔ انمول نے ڈرائنگ روم سے ہی ہانک لگائی تو سب آٹھ کے ڈائنگ روم کی جانب بڑھ گئے۔

۔🌺🌺🌺

کھانے سے فارغ ہو کے وہ لوگ لان میں بیٹھے جائے پی رہے تھے۔۔۔ جب دامل نے چاہے کا آخری گھونٹ بھرتے وردہ کو مخاطب کیا۔

وردہ چلیں۔۔۔

ہمم چلتے ہیں میں اپنا بیگ لے آؤں زرا۔۔۔ وردہ آٹھ کے اندر بڑھ گئی۔

ارے بیٹا چلے جانا اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔ ابتسام نے تھوڑی دیر اور روکنا چاہا۔

انکل پھر کبھی آئیں گے۔۔۔دامل نے رسان سے انکار کیا۔

چلو جیسی تم لوگوں کی مرضی۔۔۔ اچھا تم بیٹھو میں زرا آتا ہوں۔۔۔ ابتسام کہتا اٹھ کے اندر بڑھ گیا۔

وردہ۔۔۔ وہ سیدھا وردہ کے کمرے میں آیا تھا جو ڈریسنگ سے اپنے پرفیوم اٹھا کے بیگ میں رکھ رہی تھی۔

جی بابا بس میں آہی رہی تھی۔۔۔ اسے لگا ابتسام اسے بلانے آیا ہے۔

بیٹا مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ ابتسام کمرے میں داخل ہوتے بولا۔

جی۔۔۔ وہ سارے کام چھوڑ کے اسکی جانب متوجہ ہوئی۔

دلاور خان نے آپ کو کچھ کہا تو نہیں نا۔۔۔ ابتسام نے نرمی سے پوچھا۔

بابا لگتا ہے انہیں مجھ سے اپنے پوتے کی شادی کا کافی گہرا صدمہ پہنچا ہے اس لیئے وہ تو اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں آتے۔۔۔ جو میرا ان سے سامنا ہو تو وہ مجھے کچھ بولیں ۔۔۔ وردہ ہنس کے بولی جب کے وہ کل صبح کی بات گول کر گئی تھی۔۔۔۔ اس کے حساب سے دلاور خان صرف گرجتے تھے برستے نہیں اس لیئے وہ ابتسام کو انکی دھمکیوں کے بارے میں بتا کے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اچھا ہی ہے اس کا تم سے سامنا نا ہی ہو۔۔۔۔ خیر یہ بتاؤ دامل کا رویہ تو تمہارے ساتھ اچھا ہے نا۔۔۔ ابتسام نے پیار سے پوچھا۔

جی بابا سب بہت اچھے ہیں۔۔۔ وردہ مسکراتی اپنے باپ کو مطمئن کر گئی۔۔۔ جب کے دل میں دامل کو خوب باتیں بھی سنائی تھیں کہ اسکی وجہ سے اسے اپنے بابا سے جھوٹ بولنا پڑا تھا۔

اچھی بات ہے یہ تو۔۔۔ چلو اب جلدی سے نیچے آجاؤ دامل انتظار کر رہا ہے۔۔۔ ابتسام شفقت سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتا باہر نکل گیا تو وردہ بھی اپنی دو تین ضروری چیزیں لیتی کمرے سے نکل گئی۔

سب سے ملنے کے بعد وردہ اور دامل اپنے گھر کے لیئے نکل گئے۔

۔🌺🌺🌺