Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 29)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 29)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
وردہ دامل اسپیشل ایپی
وہ تیار ہوکے آفس کے لیئے نکل گئی تھی پر راستے میں کچھ یاد آتے اسنے گاڑی بیچ روڈ پہ ہی روک دی۔۔۔۔ اسکی گاڑی بیچ روڈ پہ رکتے ہی اسکے پیچھے آتی گارڈز کی گاڑی بھی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔
میم کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے کیا۔۔۔ جلدی سے ایک گارڈ گاڑی سے اتر کے اسکے پاس آکے پوچھنے لگا۔
تمہیں اپنے سر کے پولیس اسٹیشن کا اڈرس معلوم ہے نا۔۔۔ اسکے سوال کو اگنور کرتے وردہ نے اپنا سوال پوچھا۔
جی میم پتہ ہے۔۔۔ گارڈ نے ادب سے جواب دیا۔
گڈ۔۔۔ اب جلدی سے مجھے وہاں لے کے چلو۔۔۔ اور ہاں پہلے سے اپنے سر کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے۔۔۔ وردہ نے گھور کے کہا تو وہ اوکے کہتا واپس اپنی گاڑی میں جاکے بیٹھ گیا ۔
اب گارڈز کی گاڑی آگے تھی اور وردہ کی گاڑی پیچھے۔۔۔ اسنے راستے میں ہی دامل کو کال ملائی مگر دوسری بیل پہ ہی فون کاٹ دیا گیا تھا۔۔۔ اسنے فون کو گھورتے واپس فون برابر والی سیٹ پہ رکھ دیا۔
دس منٹ کی مسافت طے کر کے وہ لوگ دامل کے پولیس اسٹیشن پہنچ چکے تھے۔۔۔
گارڈز باہر ہی رکھے ہوئے تھے جب کے گاڑی سے اتر کے ایک بھرپور نظر اسٹیشن پہ ڈالتی وردہ اندر کی جانب بڑھی تھی۔
اس وقت اسٹیشن میں زیادہ لوگ موجود نہیں تھے بس چند ہی لوگ تھے۔۔۔ وہ سہولت سے اسٹیشن کا معائنہ کرتی ایک اسپکٹر کی ٹیبل کے پاس جا رکی۔
جی کہیں۔۔۔ اسپکٹر راشد کسی فائل پہ جھکے بولے۔
مجھے A.S.Pدامل سے ملنا ہے انکا روم کہا ہے کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں۔۔۔ وردہ نہایت احترام سے بولی تو راشد نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا اور دیکھ کے دنگ رہ گیا۔
میڈم آپ یہاں۔۔۔۔ راشد دامل کے ولیمہ پہ گیا تھا اس لیئے وہ وردہ کو دیکھتے ہی فورن پہچان گیا تھا۔۔۔اس سے پہلے بھی جب اسکی وردہ سے ملاقات ہوئی تھی وہ بھی کوئی اچھی نہیں تھی اس لیئے وردہ کو بھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ہاں میں یہاں ۔۔۔ اب بتاؤ تمہارے سر کا روم کون سا ہے۔۔۔ وردہ سکون سے بولی تو وہ کھڑا ہوگیا۔
یہاں سے رائٹ سائڈ سے پہلا روم سر کا ہے لیکن میم ابھی آپ یہاں بیٹھ جائیں سر کی ابھی میٹنگ چل رہی ہے۔۔۔ میٹنگ ختم ہو جائیے پھر آپ اندر چلی جائے گا۔۔۔ راشد نے کہا تو وردہ سمجھتے ہوئے وہیں راشد کی ٹیبل سے کرسی کھسکا کے بیٹھ گئی
کب سے چل رہی ہے یہ میٹنگ۔۔۔ وردہ اسکی ٹیبل پہ رکھی چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی پوچھنے لگی۔
ایک گھنٹہ تو ہو گایا ہے۔۔۔ راشد نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے بتایا۔۔۔ جس پہ وردہ محض سر ہلا کے رہ گئی۔۔
میم آپ کے لیئے کچھ کھانے کے لیئے منگواؤں۔۔۔ راشد اپنی کرسی پہ بیٹھتے بولا۔
نہیں۔۔۔ وردہ نفی میں سر ہلاتی وہیں بیٹھ کے دامل کی میٹنگ ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
اسے وہاں بیٹھے بیٹھے پندرہ منٹ ہو چکے تھے پر دامل کی میٹنگ تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔ وردہ بیٹھے بیٹھے سہی کی بےزار ہوگئی تھی۔۔۔
کیا اندر سب مسئلہ کشمیر پہ ڈسکشن کر رہے ہیں جو اتنی دیر لگ رہی ہے۔۔۔ وردہ نے چڑ کے پوچھا۔۔
اندر زیادہ لوگ نہیں ہیں بس دامل سر ہیں اور زویا میڈم ہیں۔۔۔ وہ دونوں شاید کسی ضروری کیس پہ ڈسکشن کر رہے ہیں۔۔۔ راشد کے منہ سے زویا نام سنتے ہی وردہ کے ماتھے پہ بل پڑے۔۔۔ ایک دم اسکے دماغ میں جھماکا ہوا۔۔۔ اچانک اسکی آنکھوں کے سامنے کل والا منظر لہرایا۔
کیا یہ زویا کل بھی دامل کے ساتھ تھی۔۔۔ نا جانے کیا سوچ کے وردہ نے ایک دم پوچھا۔
جی وہ لوگ کسی میٹنگ پہ گئے تھے کل بھی۔۔۔ راشد نے اطمینان سے بتایا تو وردہ غصے سے بھری ایک دم کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا میم آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ اسے ایک دم کھڑے ہوتے دیکھ راشد بھی پریشانی سے ساتھ ہی کھڑا ہوا۔۔۔ مگر وردہ اسے کوئی بھی جواب دیئے بغیر دامل کے روم کی جانب بڑھ گئی۔
میم پلیز رکیں۔۔۔ راشد اسکے پیچھے لپکا۔
خبردار جو تم میرے پیچھے آئے۔۔۔ جاؤ جا کے اپنا کام کرو۔۔۔ وردہ مڑ کے سختی سے کہتی واپس دامل کے روم کی جانب بڑھ گئی تو راشد بھی بےبسی سے واپس اپنی جگہ پہ آکے بیٹھ گیا۔
وہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ اسکے سر کی بیوی تھی۔۔۔ اور نا ہی وہ اسے زیادہ روک سکتا تھا کہیں ایسا نا ہو کے اسکے سر کو برا لگ جائیں اس لیے سب کچھ چھوڑتے اپنے کام پہ لگ گیا۔
وردہ دامل کے کمرے کے باہر پہنچی تو اسے اندر سے ایک دم ہنسی کی آواز آئی جس سے چند پل کے لیئے وردہ کے قدم رکے تھے۔
اسنے فورن بیگ سے فون نکالا اور دامل کو کال کی،،، پر دامل نے پھر سے دوسری بیل پہ ہی فون کاٹ دیا تھا۔
آگر کوئی امپورٹنٹ کال ہے تو اٹھالیں۔۔۔ اندر سے اس لڑکی کی آواز آئی جس پہ وردہ کے ماتھے کے بل کے بلوں میں اور اضافہ ہوا۔
میں بعد میں کال بیک کر لوں گا۔۔۔ دامل کی نرم آواز پہ وردہ کے تن بدل میں جیسے آگ لگ گئی تھی۔۔۔
مجھے سے بات کرتے ہوئے تو یہ منہ میں انگارے رکھ لیتے ہیں اور اس سے کیسے شہد کی طرح بات کر رہے ہیں۔۔۔ وردہ منٹھیاں بیٹھتے غصے سے بھری دھڑام سے دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئی ۔
بغیر اجازت اندر آنے پہ دامل نے چونک کے آنے والے کو دیکھا۔
وردہ کو غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ زویا کو گھورتے دیکھ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
وردہ تم یہاں کیسے۔۔۔ آؤ بیٹھو۔۔۔ دامل کھڑے ہوتے اسکے پاس آیا۔۔۔ اسے اس سرپھری لڑکی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اس لیئے اسکے کچھ بھی کہنے سے پہلے پیار سے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے لگا تا کے وہ یہاں کوئی تماشہ نا کرے۔
دامل کی بات پہ وہ ایک تیز نظر دامل پہ ڈالتی اس سے دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔۔ اس وقت اسکا دماغ جیسے سہی غلط سوچنے کی صلاحیت کھو چکا تھا۔۔
دور رہیں مجھ سے۔۔۔ میں کب سے آپ کو فون کر رہی ہوں لیکن مجال ہے جو آپ نے میرا فون اٹھایا ہو۔۔۔ بلکے آپ اٹھاتے بھی کیسے آپ اس چڑیل کے ساتھ گپے جو ہانک رہے تھے۔۔۔ وردہ دامل پہ طنزیہ نظر ڈالتی آخر میں زویا کی طرف دیکھتے دانت پیس کے بولی۔
یہ کون ہے سر ۔۔۔۔ زویا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
اوہو سر۔۔۔ میرے آتے ہی یہ تمہارے سر ہوگئے۔۔۔ پر بی بی،،، جان لو میں ان کی بیوی ہوں۔۔۔ وردہ گردن اکڑا کے بولی جب کے پہلی بار وردہ کے منہ سے خود کے لیئے تم تمہیں کے بجائے آپ ان سن کے دامل کو بہت اچھا لگا تھا۔۔۔
وردہ ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو۔۔ دامل نے اسے سمجھانا چاہا لیکن وردہ کا دماغ تو جیسے آج اپنی جگہ پہ ہی نہیں تھا۔
اب تو آپ مجھے ہی غلط کہیں گے نا۔۔۔ آج میں نے آپکو اس لڑکی سے ہنستے ہوئے بات کرتے سنا ہے اور کل بھی آپ اسکے ساتھ گھوم رہے تھے۔۔۔ اسے کیفے میں لنچ کروا رہے تھے۔۔ اور مجھ سے۔۔۔۔ مجھ سے تو کبھی آپ نے سیدھے منہ بات بھی نہیں کی۔۔. نا کبھی مجھے کیفے میں لنچ کروایا ہے ۔۔۔۔وہ منہ بسورے بولی۔۔۔ جب کے دامل کو اب اسکے کل کے رویہ کی وجہ سمجھ آئی تھی کہ وہ کیوں کل بلا وجہ غصہ تھی۔
وردہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیوں اتنا برا لگ رہا ہے۔۔۔ پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔ اسنے کون سا کبھی دامل سے سیدھے منہ بات کی تھی جو دامل کا اپنے ساتھ اس طرح کا روایہ اسے اب برا لگ رہا تھا۔
وردہ ایسا نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو۔۔۔ یہ تو بس۔۔۔۔
اب آپ کہیں گے یہ تو میری جسٹ فرئنڈ ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔ وردہ تڑخ کے بولی تو دامل۔نے گہری سانس بھری۔
دیکھیں آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔ زویا نے کھڑے ہوتے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔
تم تو چپ ہی رہوں ۔۔۔ ضرور تم نے ہی میرے شوہر پہ ڈورے ڈالے ہوں گے۔۔۔ خوبصورت تو تم ہو ئی جبھی میرے معصوم شوہر تمہارے جال میں آسانی سے پھس گئے ہوں گے۔۔۔ وردہ انگلی دیکھا کے بولی تو اس بار زویا کے ماتھے پہ بھی بل پڑے۔۔۔ جب کے دامل نے آگے بڑھ کے فورن وردہ کا ہاتھ تھامتے اسے روکنا چاہا۔
آپ دامل سر کی وائف ہیں اس لیئے میں آپ کا لحاظ کر رہی ہوں ورنا آپ کی جگہ اگر یہاں کوئی اور موجود ہوتا تو میرے کریکٹر پہ بات کرنے والے کی زبان سلامت نہیں رہتی۔۔۔ زویا کھڑی ہوتی اسے گھور کے بولی جس سے جلتی پہ تیل کا کام ہوا تھا۔
نہیں تو کیا کر لو گی تم۔۔۔ کیا میں نے اپنے ہاتھ میں چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔۔۔ ویسے پہن تو رکھی ہیں خیر ۔۔۔۔ میں بھی چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔۔وردہ ہاتھ میں چوڑیاں دیکھنے کے بعد غصے سے دھاڑی،،، جب کے اتنی سیریس سچویشن میں بھی چوڑیوں والی بات پہ دامل کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی۔
آئی تھنک مجھے ابھی چلنا چاہیے۔۔۔ زویا نے ٹیبل پہ رکھا اپنا بیگ اٹھایا۔
ہاں ہاں اب تو منہ چھپا کے بھاگو گی ہی نا تمہارے کرتوت جو سامنے آرہے ہیں۔۔۔ وردہ بغیر سوچے سمجھے بدتمیزی سے بولی جس پہ دامل اور زویا دونوں کو ہی غصہ آیا۔
آئی ایم سوری انسپکٹر زویا ۔۔۔ پلیز آپ ابھی جائیں میں بعد میں آپ سے بات کرتا ہوں۔۔۔ دامل نے زویا سے سوری کرتے کہا تو وہ وردہ کو گھورتی اپنا غصہ ضبط کرتے وہاں سے فورن نکل گئی۔
ارے ایسے کیسے جانے دیا اسے۔۔۔ اور آپ آپ نے کیا کہا کے آپ اب بھی اس سے بعد میں ملیں گے۔۔۔ وردہ چیخ کے بولی تو دامل نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے کمر سے پکڑ کے اپنے ساتھ لگایا۔
یہ ہمارا بیڈ روم نہیں ہے کہ جب تمہارا جو دل چاہے گا بولتی رہوں گی یہ میرا پولیس اسٹیشن ہے یہاں میری ایک عزت ہے جسے تم خراب کرنے پہ تلی ہو۔۔۔ اس لیئے آگر اب تمہارے منہ سے ایک لفظ بھی نکلا تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔ دامل اپنی لال انگارہ آنکھیں اسکی نم آنکھوں میں ڈالے دبا دبا دھاڑا۔
اسے اسکی نم آنکھیں بلکل ابھی اچھی نہیں لگیں رہیں تھیں لیکن اسکی غلط سوچ کو بھی درست کرنا زیادہ ضروری تھا۔۔
وردہ نے اسکا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا اور پھر اپنے پہلے والے انداز میں بولی۔
میں بولوں گی اور مجھے کوئی روک نہیں سکتا ۔۔۔۔ آپ کا کیا ہے آپ کو تو میں شروع دن سے ہی ناپسند تھی نا ۔۔۔ تو آپ کے لیئے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے جب چاہے دوسری شادی کر سکتے ہیں۔۔۔ اور میں بھی اب کو پوری اجازت دیتی ہوں کے شوق سے کریں دوسری تیسری چوتھی شادی لیکن یاد رکھے گا اس سے پہلے آپ کو مجھے طلاق دینی پڑے گی۔۔۔ وردہ جنونی اندر میں بولی تو ایک پر کو دامل ساکت ہوا لیکن اگلے ہی پل اسکی طلاق والی بات پہ اسکا میٹر گھوم گیا۔
شادی کو تو تم نے گڈے گڑیا کا کھیل سمجھا ہوا ہے نا۔۔۔ چلو گھر تمہیں اچھے سے یہ کھیل سمجھاؤں گا۔۔۔ بہت ڈھیل دے دی لیکن اب بس ۔۔۔ میں تو تمہیں صرف بدتمیز سمجھ رہا تھا لیکن آج جو تم نے کیا ہے ۔۔۔ تم نے ساری حدیں پار کردیں ہیں۔۔۔ چلو۔۔۔ دامل ایک ہاتھ بڑھا کے ٹیبل سے اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے وردہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے روم سے باہر نکلنے لگا لیکن پھر ایک جھٹکے سے رکھتے وردہ کا بازو سختی سے دبوچتے غرایا۔
اور ہاں اگر تم نے باہر نکل کے زرا بھی ڈرامہ کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا پھر تم میرا وہ روپ دیکھو گی جس کی تم نے کبھی توقع بھی نہیں کی ہوگی۔۔۔ وہ سختی سے اسے وارن کرتے اسکا ہاتھ تھامے باہر نکل گیا۔
پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کے گارڈز کو وردہ کی گاڑی گھر لانے کا کہتے وردہ کو اپنی گاڑی میں بیٹھاتا وہاں سے نکل گیا۔
دامل کافی غصے میں تھا جس کا پتہ اسکی ریش ڈرائیونگ سے لگایا جاسکتا تھا۔۔۔ جب کے وردہ وہ تو ہر چیز سے بےنیاز بیٹھی تھی جیسے اسے آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کے نا ہی کوئی ڈر لگ رہا ہو اور نا ہی ٹینشن ہو رہی ہو۔
۔![]()
![]()
![]()
دامل غصے سے اسکا ہاتھ پکڑے گھر میں داخل ہوتا سیدھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ جب کے گھر میں داخل ہوتے ہی وردہ نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی تھی لیکن دامل نے بغیر اسکی کوشش پے دھیان دیئے اسے اپنے ساتھ لے کے بڑھتا رہا۔۔۔۔ وہ تو شکر تھا کہ اس وقت لاونچ میں کوئی نہیں تھا۔۔۔ جس وجہ سے وہ سیدھے اوپر بڑھ گیا تھا۔
اب بولو کیا بکواس کی تھی تم نے۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ زور سے بند کرتے وردہ کو دیوار کے ساتھ پن کرتے دھاڑا جب کے وردہ بڑے سکون سے کھڑی اسکے چہرے کے تنے نقوش دیکھ رہی تھی۔
میں نے کوئی بکواس نہیں کی جو کہاں بلکل سہی کہا تھا۔۔۔ وردہ مضبوط لہجے میں بولی تو دامل اسکے بےخوف لہجے پہ ٹھٹکا۔
تمہیں زرا پچتاوہ نہیں ہے اپنے کئے پہ۔۔۔ دامل نے نرمی سے پوچھا
نہیں ۔۔۔۔ وردہ نے بھی ڈھیٹائی کی حد کی۔
تم نے مجھ پہ شک کیا۔۔۔ دامل نے افسوس سے کہا۔
آپ نے موقع دیا۔۔۔ وہ دوبدو بولی۔
تم نے جو کچھ دیکھا وہ سچ نہیں تھا۔۔۔ دامل اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے یقین دلانے لگا۔۔۔ اسکی غلط فہمی دور کرنے کی ایک اور کوشش کرنے لگا مگر وردہ جیسے آج کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
وہ سچ تھا پر اب بات سامنے آنے پہ آپ ڈر رہے ہیں کے یہ بات ڈیڈ کو نا پتہ چل جائے اس لیے آپ سچ بات کو جھوٹ ثابت کرنے پہ تلے ہیں۔۔۔ مگر میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔۔۔ وردہ اسکی غصے سے لال ہوتی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اٹل لہجے میں بولی۔
وردہ۔۔۔۔ دامل شدت سے چیخا۔
چلائیں مت ۔۔۔۔ ورنا چلانا مجھے بھی آتا ہے۔۔۔۔ وردہ سنجیدگی سے بےخوف لہجے میں بولی مگر اسکی آنکھوں کی نمی صاف پتہ دے رہی تھی کے وہ خود پہ کتنا ضبط کیئے ہوئی ہے۔۔. اسکی آنکھوں میں نمی دیکھتے دامل تھوڑا دھیما پڑا۔
کیا تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔ دامل بائیں جانب دیوار پہ ہاتھ رکھتے اسکے چہرے کے بلکل قریب اپنا چہرہ کئے اسکی بےخوف آنکھوں میں دیکھتے سنجیدگی سے بولا تو وردہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔
آپ میرے شوہر ہیں ۔۔۔۔ میرے محافظ ہیں۔۔۔ اور محافظ سے ڈرا نہیں جاتا۔۔۔ وردہ مسکراتے لہجے میں بولی تو دامل کے ماتھے کے بل ایک دم غائب ہوئے۔۔۔
وردہ کی کہی بات دامل کے دل میں اتر گئی تھی۔۔۔ اسے اس بےوقوف لڑکی سے اس بات کی توقع تو ہرگز نہیں تھی پر جو بات وہ کہہ گئی تھی وہ سیدھا دامل کے دل میں اسکی جگہ بناگئی تھی۔
شوہر مانتی ہو تم۔۔۔ اسنے ایک ایبرو اچکائے سوال کیا
شوہر مانتی ہوں تبھی آپ کو کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کے میرا خو،ن کھول گیا تھا۔۔۔ وردہ دلکشی سے بولی تو دامل کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔ سارا غصہ پل بھر میں اڑن چھو ہوا تھا۔
وہ بےخود ہوتے اسکے چہرے پہ جھکتے اسکی پیشانی پہ محبت کی پہلی مہر مثبت کرتے اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکائے آنکھیں موند گیا جب کے وردہ تو اسکے لمس پہ منٹوں میں سرخ پڑی تھی۔۔۔ دل کی دھڑکنوں میں ایک دم شور برپا ہوا تھا جس پہ وہ بھی زور سے آنکھیں میچ گئی۔
اجازت ہے۔۔۔ دامل اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسکے کان کے پاس جھکتے سرگوشی میں بولا تو وردہ کا دل ڈوب کے ابھرا۔
اسکی گرم سانسوں کی تپش اپنے کان پہ پڑھتے دیکھ وردہ جیسی مضبوط لڑکی کانپ گئی تھی۔۔۔
کمرے کا وحشت زده ماحول ایک دم رومانی ہوا تھا۔
میں تمہارے جواب کا منتظر ہوں۔۔۔ دامل کمر پہ گرفت سخت کرتے جزبات سے چور لہجے میں بولا تو وردہ کے دل کی لے بدل گئی۔
وہ کچھ بھی کہے بغیر شرما کے اسکے گرد اپنا حصار بنا گئی۔
اپنے گرد اسکا حصار بنتے ہی دامل اسے نرمی سے باہوں میں بھرے بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
نرمی سے بیڈ پہ لیٹاتے شدت سے اسکے گال پہ بوسہ دیتے اسے خود میں بھیج لیا۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوتے چلے گئے۔۔۔ سارے گلے شکوے بھول کے وہ اپنی نئی زندگی کی شروعات کر چکے تھے۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ سہولت سے اپنی باہوں میں قید اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے پہ ایک الگ ہی سکون تھا۔۔۔۔ وہ سوتے ہوئے بلکل چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔۔۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی اسکی شدتوں سے تھک کے سوئی تھی۔
دامل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی وردہ ہے جسے وہ ناپسند کرتا تھا۔۔۔ اور اب جیسے وہ اسے ہر چیز سے عزیز ہوتی جارہی تھی۔۔۔ یہ نکاح کا ہی اثر تھا جس نے دونوں کے دل میں ایک الگ ہی جزبہ بھر دیا تھا ۔۔۔ دونوں کے دل میں ہی محبت کے پھول کھل اٹھے تھے۔
وہ اسکے بچوں کی طرح کھلے نیم واہ ہونٹوں کو دیکھ کے مسکرایا۔۔۔ بےساختہ دل ان نرم گلابوں کو چھونے کا کرا ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئی شرارت کرتا اسکا فون بج گیا۔
اسنے بدمزح ہوتے فون اٹھاتے سب سے پہلے فون سائلینڈ پہ کیا تھا تا کہ وردہ کی نیند خراب نا ہو۔۔۔ فون پہ راشد کا نام جگمگاتا دیکھ اسنے نرمی سے وردہ کا سر تکیہ پہ رکھتا خود اٹھ کے بیڈ سے تھوڑا دور ہو گیا۔
ہاں راشد بولو۔۔۔۔ اسنے فون کان سے لگائے کہا۔
سر شیرخان کے ٹھکانے کا پتہ چلا ہے۔۔۔ راشد نے فورن عطلاح دی۔
ہمم ٹھیک ہے میں دس منٹ میں پہنچتا ہوں۔۔۔ دامل نے کہتے فون رکھا اور اپنے کپڑے لیئے واشروم میں گھر گیا
وہ فریش ہوکے باہر آیا تو وردہ ابھی تک سو رہی تھی۔۔۔ وہ اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے آہستہ سے کمرے سے نکل گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
