820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 1)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

تین سال بعد

بیٹا جاؤ اور بابا ڈریگن کے بال کھینچ کے آؤ۔۔۔ انمول اپنے دو سالہ بیٹے کو اپنے پاس بلاتی اسکے کان میں آہستہ سے بولی۔۔۔ تو وہ معصوم بچہ اپنی ماں کی بات مانتا ننے ننے قدم اٹھا صوفے پہ لیٹے ابتسام کی طرف بڑھ گیا جو اپنی ایک سال کی بیٹی وردہ کو اپنے اوپر بیٹھائے کھیلا رہا تھا۔

اس چھوٹے سے بچے نے اپنی ماں کا حکم مانتے اپنے باپ کے بال اپنی منی سی مٹھی میں بھر کے زور سے کھنچے۔۔۔ جس سے ابتسام کی ہلکی سی چیخ نکلی۔

آہ بسام بیٹا ایسا نہیں کرتے۔۔۔ وہ اٹھ کے بیٹھتا بہت پیار سے بولا اسے لگا بچہ ہے ایسے ہی کھینچ لیئے ہوں گے لیکن جب نظر اپنی بیوی پہ پڑی جو منہ پہ ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی تو منٹوں میں بات سمجھ آگئی۔

ہاہاہا بیٹا بھاگ کے میرے پاس آجاؤ۔۔۔۔ انمول نے ہنستے ہوئے اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلایا جو فورن اسکی جانب بڑتا اسکی گود میں چپ گیا تھا۔

انو یہ تم کیا سیکھا رہی ہو بچوں کو۔۔۔ ابھی تو یہ چھوٹا ہے اس لیئے تمہارے کہنے پہ بال کھینچ لیئے پر کل کو بڑا ہوگا اور اگر اسنے یہی حرکت کسی اور کے ساتھ کی تو کتنا برا لگے گا۔۔۔ لوگ کہیں گے اپنے بچوں کو بلکل بھی تمیز نہیں سیکھائی۔۔۔ ابتسام نے سمجھانا چاہا لیکن وہ انمول ہی کیا جو سمجھ جائے۔

لوگوں کا کام ہے کہنا اس لیئے آپ ان کی فکر نہیں کریں۔۔۔ اور اگر کوئی مجھے سے کچھ کہے گا تو میں لوگوں کو منہ توڑ جواب دینا جانتی ہوں اور اگر کوئی آپ سے کہے تو اسے میرے پاس لے آئے گا میں خود اس سے نمٹ لوں گی۔۔۔ انمول سکون سے کہتی بسام کو سلانے کے لیئے لیٹ گئی۔

انو بڑی ہوجاؤں اب تو تمہارے دو بچے بھی ہوگئے ہیں۔۔۔۔ ابتسام نیند میں جاتی وردہ کو اٹھائے بیڈ پہ آگیا۔

میں بچی بن کے ہی اپنے بچے پال لوں گی آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وہ بھی سکون سے کہتی آنکھیں بند کرگئی۔۔۔ تو ابتسام ہمیشہ کی طرح اسے دیکھ کے رہ گیا ۔۔۔ چار سال ہوگئے تھے انکی شادی کو لیکن انو بلکل بھی نہیں بدلی تھی۔۔۔

اسنے آہستہ سے سوتی ہوئی وردہ کو بیڈ پہ لیٹا یا۔۔۔ ان تینوں کے ماتھے پہ بوسہ دیتا خود بھی سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔۔
🌺 🌺 🌺۔

دو سال بعد

اس وقت سب ہسپتال میں موجود تھے۔۔۔ دائم کے گھر آج بیٹا ہوا تھا جیسے سب دیکھنے آئے تھے۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کمرے میں پارٹی چل رہی ہے۔

ماما اسکے ہاتھ کتنے چھوٹے چھوٹے ہیں۔۔۔ انو کی تین سال کی بیٹی وردہ نے اپنی ماں کی گود میں لیٹے کچھ گھنٹوں کے بچے کے ہاتھ پکڑے معصومیت سے کہا۔

یہ خود بھی تو کتنا چھوٹا ہے اس لیئے اسکے ہاتھ بھی چھوٹے چھوٹے ہیں۔۔۔ وہ مسکرا کے بولی۔

ماما یہ میرا بھائی ہے نا۔۔۔ وردہ نے پھر سوال کیا اور اسکے سوال پہ سب مسکرا دیئے۔

نہیں یہ تمہارا بھائی نہیں ہے یہ میرا بھائی ہے۔۔۔ دائم کی تین سال کی بیٹی تحریم نے چھوٹتے ہی کہا۔

ایسے نہیں کہتے بیٹا وہ آپ دونوں کا بھائی ہے۔۔۔ دائم تحریم کو گود میں اٹھاتے پیار سے سمجھانے لگا۔

بابا وہ ہمارے گھر میں رہے گا، سوئے گا بھی میرے ساتھ اس لیئے وہ میرا بھائی ہے۔۔۔ تحریم کافی سمجھداری سے بولی تھی۔۔

ماما مجھے بھی بھائی چاہیئے۔۔۔تحریم کی بات سنتے وردہ انو کو دیکھ رونے والی شکل بنائے بولی تو انمول کا کھلا منہ دیکھ سب نے ہنسی روکی۔

میں ہوں نا تمہارا بھائی۔۔۔ بسام جو سیف(حماد اور مشی کا بیٹا) کے ساتھ کھیل رہا تھا فورن اپنی بہن کے پاس آتا اسے دلاسہ دینے لگا۔

نہیں مجھے چھوٹا بھائی چاہیئے اس کے جیسا۔۔۔ وردہ روتے ہوئے انمول کی گود میں سوئے بچے کی جانب اشارہ کر کے بولی۔

چلو بھئی ابتسام ہماری گڑیا کے لیئے ایک اور بھائی لانے کی تیاری کرو۔۔۔ حماد ابتسام کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے شرارت سے بولا تو انمول نے اسے گھور کے دیکھا۔

آؤ چلو ہم چیز لینے چلتے ہیں۔۔۔ ابتسام وردہ کو گود میں لیتے بہلانے لگا۔

مجھے چیز نہیں بھائی چاہیئے۔۔۔ وہ روتے ہوئے آنکھیں مسل کے بولی۔

ایک تھپڑ لگاؤں گی بھائی چاہئے کی بچی۔۔۔۔ پیڑ پہ اگ رہے ہیں بھائی جو توڑ کے لا کے دے دیں۔۔۔ انمول وردہ کو گھورتی چڑ کے بولی تو سب کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔ جب کے ابتسام وردہ کو لیئے کمرے سے نکل گیا تھا۔

دائم اسکا نام میں رکھوں گی ۔۔۔ انمول دائم کو دیکھ بولی تو اسنے مسکرا کے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔

دائم ماہی کے ساتھ بہت خوش تھا ۔۔۔ ماہی نے اسکی زندگی کو جنت بنا دیا تھا۔۔۔۔ ماہی نے اسے خود سے محبت کرنے پہ مجبور کردیا تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ آج بھی انمول اسکے دل میں پہلے ہی کی طرح شان سے موجود تھی۔

اس کا نام ہوگا حنان۔۔۔ حنان دائم،،،، کیسا ہے۔۔۔ انمول نام رکھتی خوشی سے سب سے پوچھنے لگی۔

بہت اچھا ہے۔۔ ماہی نے مسکرا کے کہا۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ ماہی اور انمول کی دوستی بھی گہری ہوگئی تھی۔۔۔ دائم اور مشی کے بعد اگر انمول نے کوئی دوست بنائی تھی تو وہ ماہی تھی جو اسکی کسی بھی بات کا برا منائے بغیر کھلے دل سے اسکے ساتھ تھی۔

انو ابتسام کا میسج آیا ہے وہ باہر انتظار کر رہا ہے تمہارا۔۔۔ حماد فون پہ ابتسام کا مسیج دیکھتے انمول کو بتانے لگا تو اسنے ہاں میں سر ہلاتے حنان کو ماہی کی گود میں دیا۔

چلو بچوں آپ لوگ بھی میرے ساتھ چلو۔۔۔ یہاں آپ لوگوں کا کوئی کام نہیں ہے۔۔۔ انمول کھڑی ہوتی سب بچوں سے بولی جو خوشی خوشی اسکے ساتھ جانے کے لیئے تیار ہوگئے تھے۔

ابتسام کا بزنس کافی رن کرچکا تھا۔۔۔ بہت ہی کم وقت میں اسنے اپنا ایک نام بنا لیا تھا۔۔۔ جس کے بعد انہوں نے بھی حماد کے ساتھ ایک ہی سوسائٹی میں بنگلہ لے لیا تھا۔۔۔ اور انکے بنگلہ لینے کے کچھ وقت بعد ہی دائم نے بھی انہیں کی طرف ایک بہت ہی شاندار گھر لیا تھا ۔۔۔ سب لوگ ایک ہی ساتھ آمنے سامنے رہتے تھے اور سب کے بچے زیادہ تر انمول کے پاس رہتے تھے جنہیں وہ خوب بگڑ بھی رہی تھی

انمول سب بچوں کو لیئے باہر نکل گئی جہاں ابتسام اور وردہ گاڑی میں بیٹھے انکے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔
۔🌺 🌺 🌺

ماہی کو ہسپتال سے رات کو ہی ڈسچارج مل گیا تھا۔۔۔ رات کے گیارہ بجے ابتسام تحریم کو اسکے گھر چھوڑ کے آیا تھا۔۔۔ اس سے کچھ دیر پہلے ہی حماد سیف کو لے گیا تھا۔۔۔ ابتسام نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا اسکا سر ایک دم چکرا گیا۔۔۔

پورے کمرے میں جگہ جگہ روئیں بکھری ہوئی تھی۔۔۔ دو تکیے جن میں سے روئی مکمل نکل چکی تھی زمین پہ پڑے زمین کو سلامی دے رہے تھے جب کے اسکے بچے اور بیوی بیڈ پہ چڑے پلو فائٹ کرنے میں مصروف تھے۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ابتسام کمرے کی حالت دیکھ صدمے سے بولا۔

بابا ڈریگن ہم پلو فائٹ کر رہے ہیں ہم نے ماما کو دو بار ہرا دیا ہے۔۔۔ آپ بھی آجائیں مزاہ آئے گا۔۔۔ بسام ہنستے ہوئے اپنے باپ کو بتانے لگا۔۔۔ انمول کی دیکھا دیکھ وہ دونوں بھی ابتسام کو بابا ڈریگن کہنے لگے تھے ابتسام انہیں کئی بار منا کر چکا تھا لیکن جہاں انمول موجود ہو وہاں کسی کے سدھرنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا تھا۔۔۔

انو یہ سب کیا لگا رکھا ہے تم بھی بچوں کے ساتھ بچی بن جاتی ہو۔۔ کمرا دیکھ رہی ہو کتنا گندہ ہو گیا ہے۔۔۔ اور وقت دیکھا ہے بارہ بج رہے ہیں ۔۔۔ بچوں کا اتنی دیر تک جاگنا ٹھیک نہیں ہوتا تم بھی سو اور انہیں بھی سلاؤ ۔۔۔ ابتسام تھوڑا سختی سے بولا لیکن وہاں فرق کسے پڑتا تھا وہ تینوں تو اپنی مستی میں مگن تھے.

انمول بس بند کرو یہ سب۔۔۔ ابتسام نے غصے سے ان تینوں سے تکیے چھینے۔۔۔ تو تینوں کے منہ بن گئے۔

ہم آپ سے بات نہیں کریں گے بابا ڈریگن۔۔۔ بسام منہ بنا کے بولا تو ان دونوں ماں بیٹی نے بھی اسکی بات سے اتفاق کرتے ہاں میں سر ہلایا۔

ہاں ہم آپ سے کٹی ہیں۔۔۔ وردہ ناراضگی سے کہتی اپنی ماں سے چپ گئی۔۔۔ جب کے وہ اپنے بچوں کو دیکھتا ہی رہ گیا۔۔

چلو میرے پیارے بچوں اپنے بابا کو چھوڑو اور میرے پاس آکے سوجاؤ۔۔ انمول دونوں کو اپنے برابر میں لیٹاتی ایک غلط نگاہ بھی ابتسام پہ ڈالے بغیر خود بھی لیٹ گئی۔۔۔

یار ایسے مجھ سے ناراض ہوکے سوگے تم تینوں۔۔۔ ابتسام نے بےچارگی سے پوچھا۔

ہاں۔۔۔ تینوں نے ہم آواز کہاں اور آنکھیں ایک بار پھر بند کر گئے۔۔۔ ابتسام تینوں کی بند آنکھیں دیکھ گہری سانس بھرتا واشروم میں گھس گیا۔۔۔

اسکے واشروم میں گھستے ہی اسے پیچھے سے ان تینوں کے قہقہوں کی آواز سنائی دی تو اسکے چہرے پہ بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔

وہ تینوں همیشہ ایک ٹیم بن کے اسے تنگ کرتے تھے اور پھر اسکے جاتے ہی ہنسنے لگتے تھے۔۔۔ پہلے صرف انمول تھی جو ابتسام کو تنگ کر کے خوش ہوتی تھی لیکن اب اسکی ٹیم میں اسکے بچے بھی شامل ہوگئے تھے جو خوب ابتسام کی ناک میں دم کر کے رکھتے تھے۔
۔🌺 🌺 🌺

اگلے دن اتوار تھا تو سب گھر پہ ہی تھے۔۔ جب وردہ اور بسام بھاگتے ہوئے ابتسام کے پاس آئے۔

بابا ڈریگن ماما ہماری ساری چاکلیٹس کھارہی ہیں۔۔۔ بسام نے اپنی ماں کی شکایت لگائی جو مزے سے کمرے میں بیٹھی چاکلیٹس کھارہی تھی۔

جھوٹا میں نے ساری تو نہیں کھا رہی تھی دیکھو تمہارے لیئے آدھی بچائی ہے دونوں بھائی بہن مل کے کھا لینا ۔۔۔ انمول نیچے آتی آدھی بچی چاکلیٹ بسام کو دیتے بولی۔

یہ تو اب اس گھر میں روش کا معمول تھا ۔۔۔ کبھی انمول بچوں کو تنگ کرتی تو کبھی انکے ساتھ مل کے باقی سب کو تنگ کرتی ۔۔۔ سب ہی اسکی حرکتوں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔۔۔۔ گھر میں ہر وقت ایک رونق لگی رہتی تھی۔

ہمیں نہیں چاہیئے آپ ہی کھالیں۔۔۔ وردہ منہ پھیر گئی۔

مت لو۔۔۔ انمول کندھے اچکاتی بچی ہوئی چاکلیٹ بھی کھاگئی جسے دیکھ دونوں بچوں کا باجا بجنا شروع ہوگیا۔

انو کب سدھرو گی۔۔۔ بچوں والی ہوگئی ہو پر مجال ہے جو ایک بھی حرکت تم میں بڑوں والی آئی ہو۔۔۔ میں نے تو سوچا تھا تمہارے بچے ہوں گے وہ تمہاری ناک میں دم کریں گے پھر تمہیں حساس ہوگا کے تم نے میرا کیسے خو+ن پیا تھا لیکن میں یہاں بھی غلط تھی۔۔۔ تم تو بچوں کی ناک میں دم کر رہی ہو۔۔۔ کبھی انکے ساتھ مل کے بچی بن جاتی ہو۔۔۔تو کبھی انکی چیزیں کھانے لگتی ہو۔۔۔ شگفتہ بیگم اسے سناتی غصے اور افسوس سے بولیں۔۔

مما میں کبھی نہیں سدھرو گی چاہیئے میرے بچوں کے بچے ہی کیوں نا ہوجائیں میں ایسی ہی رہوں گی۔۔۔ انمول ایک ادا سے بولی تو وہ گہری سانس بھرتی سر جھٹک کے کچن کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔ جب کے ابتسام نے نفی میں سر ہلاتے بسام کو گود میں اٹھایا تھا۔۔۔۔ جب کے وردہ کو بلال صاحب اٹھا چکے تھے۔

ویسے چیزوں سے یاد آیا۔۔۔ سیریلیکس ختم ہوگیا ہے وہ بھی آئے گا۔۔۔ انمول یاد آنے پہ بولی۔

ابھی چار دن پہلے ہی تو لایا تھا وہ بھی بڑا والا ڈبا۔۔۔ ابتسام نے حیرت سے پوچھا۔

تو کھانے والے بھی تو تین ہیں نا تو جلدی ختم ہونا تو بنتا ہے۔۔۔ انمول دانتوں کی نمائش کراتی بولی تو ابتسام نے اسے گھورا۔۔۔ یہ ہر چار دن بعد کی کہانی تھی۔۔۔ جتنا سیریلیکس بچے نہیں کھاتے تھے اس سے زیادہ تو انمول کھا جاتی تھی۔۔۔ اگر یہ کہا جائے کے انمول ہی پورا ڈبا ختم کرتی تھی تو یہ غلط نہیں تھا۔

چلو بیٹا آؤ میں آپ لوگوں کو چاکلیٹس دلا کے لاتا ہوں۔۔۔ بلال صاحب اپنے نواسا نواسی کو چیز دلانے لے گئے۔

بابا میرے لیئے بھی لائے گا۔۔۔ انمول نے پیچھے سے ہانک لگائی۔

چھ چاکلیٹس کیا کم کھائی ہیں جو اور کھانے کی کثر باقی ہے۔۔۔۔ ابتسام نے گھورا۔

مسٹر ڈریگن اس سے تو میری داڑھ بھی گیلی نہیں ہوئی۔۔۔ وہ ہاتھ میں پکڑے چاکلیٹس کے ریپر دیکھ کے بولی۔

اتنی چاکلیٹس کھاؤ گی تو موٹی ہوجاو گی۔۔۔ ابتسام نے اسے ڈرانا چاہا جو ناممکن تھا۔

اب کیا میں موٹی ہونے کے ڈر سے کچھ کھاؤ ہی نہیں۔۔۔۔ ویسے بھی آپ نے کہا تھا چاہے میں بھینس بن جاؤں یا سوکھا تنکا آپ کو ہر حال میں قبول ہوں تو پھر ٹینشن کس بات کی۔۔۔ انمول اترا کے کہتی آٹھ کے کچن کی جانب بڑھ گئی۔

یا اللہ آپ نے یہ یونیک پیس میرے لیئے ہی رکھا تھا۔۔۔ ابتسام اوپر دیکھ مسکرا کے کہتا سر جھٹک گیا۔
۔🌺 🌺 🌺

وقت تیزی سے گزر رہا تھا دونوں بچے بڑے ہوتے جارہے تھے اس وقت بھی بسام اور وردہ باہر کھیلنے گئے ہوئے تھے جب کے انمول لان میں بیٹھی پرانی یادیں تازہ کر رہی تھی۔۔۔وہ
ترکی کی تصویر دیکھ رہی تھی۔۔۔ جہاں وہ سب سے پہلے ابتسام کے ساتھ گئی تھی۔۔۔ اسکے بعد ابتسام نے اسے ہر وہ ملک دکھایا تھا جہاں جانا اسکا خواب تھا۔۔۔۔
ایک تصویر پہ آکے اسکی نظر جیسے رک سی گئی تھی۔۔۔ سفید گھوڑے پہ وہ دونوں بیٹھے کسی ریاست کے شہزادہ شہزادی سے کم نہیں لگ رہے تھے۔۔۔ ابتسام نے بہت اچھے سے اسکا سفید گھوڑے پہ بیٹھنے کا خواب پورا کیا تھا ۔۔۔ وہ پرانی یادوں میں کھوئی چہرے پہ مسکراہٹ لیئے تصویریں دیکھ رہی تھی جب اسے باہر بچوں کی لڑائی کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ سب کچھ وہیں چھوڑ چھاڑ فورن باہر نکلی

کیا ہوا ہے بچوں کیوں لڑرہے ہو۔۔۔۔ انمول فورن انکے پاس آئی۔

انو اسنے آپ کو پاگل کہا ہے۔۔۔تحریم نے فورن کہا۔۔۔ وہ شروع سے ہی انمول کو انو کہتی تھی ۔۔۔ ماہی چاہتی تھی وہ انمول کو خالہ یا پھوپھو بولے لیکن پھوپھو کہلوانا دائم کو پسند نہیں تھا اور انمول بھی خالہ یا پھوپھو کہلوانا نہیں چاہتی تھی اس لیئے اسنے انو ہی کہلوایا تھا۔

ماما اور اسنے کہا ہے کہ آپ سب کے گھر کے دروازے اور گھنٹی بجا کے بھاگ جاتی ہیں۔۔۔ بسام نے فورن لڑنے کی ایک وجہ اور بتائی۔

کیا تم نے ایسا کہا ۔۔۔ ضرور تمہیں تمہاری ماں سیکھاتی ہوگی۔۔۔ انمول اس بچے کو گھور کے بولی۔

آنٹی میری ماں پہ نہیں جائیں۔۔۔ بچہ انگلی دیکھاتے غصے سے بولا۔

ارے چل ماں پہ نہیں جائیں کے بچے۔۔۔۔ انمول نے اس بچے کی کمر پہ ایک تھپڑ رسید کیا۔

آپ نے مجھے مارا میں ابھی اپنی ماما کو جاکے بتاتا ہوں ۔۔۔ وہ بچہ دھمکی دیتا روتا ہوا اپنے گھر بھاگ گیا۔

حد ہے اب یہ چھٹانگ بھر کے بچے مجھے دھمکی دیں گے۔۔۔۔ اونہہ ۔،،،، چلو بچوں اندر چلو میں نے آپ لوگوں کے لیئے اسنیکس بنوائے ہیں۔۔۔ انمول بچوں کو اپنے ساتھ اندر لے گئی۔
۔🌺 🌺 🌺