Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 16)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 16)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
(تیرہ دن بعد)
دن تیزی سے گزر گئے تھے۔۔۔ وردہ اور اسکی دوستیں کافی ساری جکہ گھوم چکیں تھی۔۔۔ اس وقت وہ لندن میں موجود تھیں،،، کل انہیں واپس پاکستان جانا تھا۔۔۔
وہ لوگ صبح گھوم پھر کے آنے کے بعد اب سو رہیں تھیں جب دروازہ نوک ہوا۔
جی۔۔۔ وردہ کی دوست نتاشہ نے دروازہ کھولا تو ایک سوٹ بوٹ پہنے کانوں میں ائرپوڈز لگائے آدمی کھڑا تھا۔
مجھے مس وردہ سے ملنا ہے۔۔۔ اس آدمی نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔ تو اسکی دوست ایک منٹ کا کہتی دروازہ بند کرتی بیڈ پہ سوئی وردہ کو اٹھانے آئی۔
وردہ کوئی باہر آیا ہے تمہارا پوچھ رہا ہے۔۔۔ نتاشہ اسے ہلاتے ہوئے بولی۔
کہہ دو میں نہیں ہوں۔۔۔ وہ نیند میں بڑبڑاتی۔
وردہ اٹھ کے دیکھ لو کون ہے ۔۔۔ وہ آدمی تمہارا نام جانتا ہے۔۔۔ کیا پتہ تمہارا کوئی جاننے والا ہو۔۔۔ تماشہ کی بات سنتے وہ برا سا منہ بناتی اٹھی۔
اسے بھی تجسس ہو رہا تھا کہ آخر ہے کون جو اس انجان ملک میں اسکا نام تک جانتا ہے۔
جی۔۔۔ اسنے جمائی لیتے دروازہ کھولا۔
آپ کو ہمارے سر بلا رہے ہیں۔۔۔ اس آدمی نے ادب سے کہا
کون سے سر۔۔۔ اسنے تعجب سے پوچھا۔
مسٹر دلاور خان۔۔۔ اسنے اپنے سر کا نام بتایا۔
میں نہیں جانتی کسی دلاور خان کو۔۔۔ وردہ نے کندھے اچکاتے لاعلمی کا اظہار کیا۔
وہ جانتے تھے آپ یہی بولیں گی اس لیئے انہوں نے کہا ہے میں ساتھ فہد خان کا بھی خلاصہ دوں۔۔۔ وہ فہد خان کے والد ہیں دلاور خان۔۔۔ سامنے کھڑے آدمی نے رساں سے کہا جیسے پہلے سے ہی خود کو ان سارے سوالوں کے لیئے تیار کر کے آیا تھا۔
کیا وہ فہد انکل کے والد ہیں۔۔۔ اچھا آپ رکیں میں دو منٹ میں تیار ہو کے آئی۔۔۔ وردہ فورن دروازہ بند کرتی جلدی سے اپنے بیگ کی طرف آئی۔
کیا ہوا وردہ کون تھا وہ۔۔۔ وردہ کی دوست نے پوچھا۔
میں کچھ دیر تک آجاؤ گی اسکے بعد سارے سوالوں کے جواب دوں گی ابھی دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ تیزی سے کہتی کپڑے لیئے واشروم میں گھس گئی۔
پانچ منٹ کے اندر وہ تیار ہو کے اس آدمی کے ساتھ روانہ ہوگئی تھی۔
۔![]()
![]()
![]()
سیکنڈ فلور رائٹ سے فورتھ روم ہے دلاور سر کا۔۔۔ بڑی سی بلڈنگ کے باہر گاڑی روکتے وہ آدمی بغیر پیچھے بیٹھی وردہ کو دیکھتے بولا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی گاڑی سے اتر گئی۔
جی آپ کا نام۔۔۔ اسنے ابھی آفس میں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک لڑکی اسکے پاس آتی اسکا نام پوچھنے لگی۔
وردہ ابتسام لاشاری۔۔۔ وردہ نے ایک ادا سے اسے اپنا نام بتایا تو اس لڑکی نے اسکا راستہ چھوڑ دیا۔۔۔
اسے کافی حیرت ہوئی کے بیغر پوچھ گچھ کے اسے ایسے اندر کیسے جانے دیا جارہا ہے۔۔۔ کیا فہد کے والد نے پہلے سے ہی اسکے بارے میں سب کو بتا دیا تھا جو بغیر کسی روک ٹوک کے وہ انکے آفس تک جا رہی تھی۔
وہ ادھر ادھر نظریں گماتی اس آدمی کے بتائے ہوئے راستے پہ ہی جا رہی تھی۔۔۔ وہ بلکل سیکنڈ فلور کے رائٹ سے فورتھ روم کے باہر رکھتے ایک بار گہرا سانس بھرتے عادت سے مجبور بغیر نوک کیئے اندر گھس گئی تھی۔
دلاور خان جو اسہی کے انتظار میں بیٹھے لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ نظریں جمائے اسکے ایک ایک قدم کو دیکھ رہے تھے ایک دم دروازہ کھلنے سے اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
آؤ آؤ ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ ویسے لڑکی تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی کے کسی کے بھی آفس میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لیتے ہیں۔۔۔ انہوں نے اسکا جائزہ لیتے سنجیدگی سے کہا تو وردہ کو انکے رویہ نے حیران کیا تھا۔۔۔
وہ اس سے ایسے کیوں بات کر رہے تھے یہ اسکے سمجھ نہیں آئی تھی۔
انکل تمیز تو سب نے الحمدللہ بہت سکھائی ہے لیکن ایک چیز ہوتی ہے جیسے عادت کہتے ہیں بس اسی کے ہاتھوں مجبور ہوں۔۔۔ وردہ بے دھڑک انکے سامنے رکھی کرسی پہ بیٹھی جس سے انکا خو’ن کھول گیا۔
بلکل اپنی ماں پہ گئی ہو۔۔۔ منہ پھٹ اور بدتمیز۔۔۔ انمون نے تمسخرانہ انداز میں کہا تو وردہ کو اپنی ماں کے بارے میں ایسے الفاظ سن کے غصہ ایا۔
آپ فہد انکل کے بابا اور عمر میں بڑے ہیں اس لیئے میں آپ کا لحاظ کر رہی ہوں ورنا اپنی ماں کے بارے میں ایسے الفاظ بولنے والے کا میں کیا حال کرتی یہ تو میں بھی نہیں جانتی۔۔۔ اسنے دانت پیس کے کہا تو دلاور خان کا قہقہہ بلند ہوا۔
ارے چھوٹی لڑکی کو غصہ آرہا ہے۔۔۔ لیکن مجھے کیا آتا رہے غصہ اب جیسی تمہاری ماں تھی اسے ویسا ہی تو بولا جائے گا نا۔۔۔ اسنے مجھے سے میرے بیٹے کو دور کیا تھا۔۔۔ اپنی ادائیں دکھا دکھا کے اسے اپنا دیوانہ بنایا تھا کہ میرا بیٹا آج تک اس کے پیچھے پاگل ہوا پڑا ہے۔۔۔ اس لڑکی کی خاطر اسنے اپنے باپ سے منہ موڑا ہے۔۔۔ دلاور خان کے لہجہ میں انمول کے لیئے حقارت صاف واضح تھی۔
وردہ اپنی ماں کا ذکر فہد کے ساتھ سن کے جہاں شوکڈ ہوئی تھیں وہیں غصے سے اسکی سفید رنگت لال ہوچکی تھی۔۔۔ اپنی ماں کے بارے میں ایسے الفاظ سنتے اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے اپنے نانا کی عمر کے بیٹھے شخص کا منہ نوچ لے۔
تمیز سے بات کریں ۔۔۔ آپ جانتے بھی ہیں کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔۔۔ وردہ اپنے غصے پہ قابو کرتی دبا دبا دھاڑی۔
ایک چالباز عورت کے بارے میں بات کر رہا ہوں جس نے اپنی بیٹی کو بھی وہی سکھایا ہے جو اس نے خود کیا تھا۔۔۔ میرے بیٹے کو حاصل نا کر سکی تو اسنے اپنی بیٹی کو میرے پوتے کے پیچھے لگا دیا۔۔۔ دلاور خان نفرت سے پھنکارے تو وردہ کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلیں۔
بس بہت ہو گیا بہت سن لی میں نے آپ کی۔۔۔ وردہ ٹیبل پہ ہاتھ پارتی کھڑی ہوئی۔۔۔ اپنی ماں اور اپنے بارے میں ایسی باتیں سنا اسکی برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔
دیکھو لڑکی میرا بیٹا اور میرا پوتا بہت شریف ہیں اس لیئے تم اور تمہارے گھر والوں نے انہیں اپنے جال میں آسانی سے پھنساں لیا ہے لیکن میں سب جانتا ہوں تم جیسے لوگوں کو۔۔ تم لوگوں کو صرف پیسے سے مطلب ہوتا ہے۔۔۔ اس لیئے میں تمہیں پانچ کروڑ دیتا ہوں میرے پوتے کا پیچھا چھوڑ دو۔۔۔ دلاور خان نے سکون سے اسکے سامنے ایک ڈیل رکھی جب کے وردہ تو انہیں نظروں میں آگ کی تپش لیئے انہیں گھور رہی تھی۔
اپنے پانچ کروڑ رکھیں اپنے پاس۔۔. اللہ کا شکر ہے میرے باپ کے پاس اس سے زیادہ ہے۔۔۔ وردہ نے فخر سے کہا۔
پچاس کروڑ۔۔۔۔ دلاور خان نے ایک اور پتا پھینکا۔
میں۔۔۔۔۔ وردہ کچھ کہنے لگی تھی جب ایک سوچ کے آتے شاطرانہ مسکراہٹ چہرے پہ پھیل گئی۔
ٹھیک ہے۔۔۔ اسنے مسکرا کے کہا تو دلاور صاحب پہلے حیران ہوئے پھر ایک سائڈ کی مسکراہٹ سے ہنسے جیسے کہہ رہے ہوں دیکھا میں جانتا تھا تمہاری اوقات۔
ابھی اور اسی وقت میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروادیں۔۔۔ وردہ نے اب کی بار سکون سے کہا۔
پہلے تم اس شادی سے انکار کرو گی اس کے بعد۔۔۔ دلاور خان بھی کسی سے کم نہیں تھے اس لیئے شرط رکھی۔۔۔
وردہ کو غصہ تو بہت آرہا تھا لیکن اپنا غصہ دباتی پھر مسکرائی۔
ابھی،،،،،، ورنا میں آپ کے بیٹے کو جاکے ساری بات بتا دوں گی۔۔۔ وردہ نے سکون سے ہاتھ باندھتے کہا تو وہ محض اس لڑکی کو دیکھ کے رہ گئے۔۔۔ وہ کسی قیمت پہ بھی فہد کو اس بات کی بھنک نہیں پڑھنے دینا چاہتے تھے۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن تھوڑا ٹائم لگے کا کیوں کہ رقم کافی بڑی ہے۔۔۔ انہوں نے سنجیدگی سے کہا تو وردہ آرام سے کرسی پہ بیٹھ گئی۔
کوئی بات نہیں میں یہیں بیٹھی ہوں۔۔۔ اسکے اتنے پرسکون انداز پہ وہ ٹھٹکے ضرور تھے لیکن بغیر کچھ بولے پیسے بھیجنے کے پروسس میں لگ گئے۔
تھوڑی دیر بعد وردہ کے اکاؤنٹ میں پچاس کروڑ موجود تھے جیسے دیکھتے وردہ کہ چہرے پہ ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری تھی۔
میں اب چلتی ہوں ہونے والے دادا جی ۔۔۔او سوری نا ہونے والے دادا جی۔۔۔ وردہ بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں خدا حافظ کہتی وہاں سے نکل گئی ۔۔۔
کیا میں نے اس لڑکی پہ یقین کر کر سہی کیا۔۔۔ لیکن اس کے علاوہ میں اور کر بھی کیا سکتا ہوں ۔۔۔ آگر ابھی پیسے نہیں دیتا تو یہ فہد کو بتا دیتی اور میرا بیٹا تو ویسے ہی مجھے سے بات نہیں کرتا نا جانے اس کے بعد اسکا کیا ردعمل ہوتا۔۔۔ وہ فہد کے بارے میں سوچتے کرسی کی پشت سے ٹھیک لگا گئے۔
فہد نے تو انہیں دامل کی شادی کا بتایا ہی نہیں تھا۔۔۔ لیکن انہوں نے بھی اپنے کئی لوگ فہد کی نگرانی پے چھوڑ رکھے تھے۔۔۔ جن سے انہیں کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا تھا کہ فہد دامل کی شادی کر رہا ہے اور وہ بھی انمول کی بیٹی سے۔۔۔ ساتھ انہیں یہ بھی پتہ چلا تھا کہ انمول کی بیٹی گھومنے کے لیئے لندن آئی ہوئی ہے جس پہ انہون نے موقع سے فائدہ اٹھاتے اسے یہاں بلا لیا تھا۔۔۔۔ اور اب اسے اپنے پوتے کی زندگی سے نکالنے کے لیئے ایک بہت بڑی رقم بھی دے دی تھی۔۔۔
وہ ابتسام کے بارے میں سب پتہ کروا چکے تھے۔۔۔ ابتسام کا بزنس بھی کافی اچھا تھا لیکن پھر بھی تھا تو ان سے کم ہی۔۔۔ اور ویسے بھی انہیں انمول اور اس سے جڑے ہر ایک فرد سے نفرت تھی۔۔۔ انکا کہنا تھا انکا بیٹا انمول کی وجہ سے ان سے دور ہوا ہے۔۔۔ اب وہ انمول کی بیٹی کو اپنے پوتے کی زندگی میں شامل کر کے اسے خود سے دور نہیں کر سکتے تھے۔
دامل ان سے قریب تھا لیکن اپنی جاب کی وجہ سے وہ زیادہ ان سے باتیں نہیں کر پاتا تھا۔۔۔ اور وہ جانتے تھے اب بھی فہد نے ہی اسے منا کیا ہوگا کہ وہ اپنی شادی کا دلاور خان کو نا بتائے ورنا وہ سب سے پہلے ہر بات انہیں بتاتا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ نے پاکستان کی سرزمین پہ قدم رکھا تو اتنے دنوں بعد اپنے ملک واپس آنے پہ ایک الگ ہی خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔ لیکن اس کے دماغ میں اب بھی دلاور خان کی باتیں چل رہیں تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر دلاور خان اسکی فیملی سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں۔۔۔ آخر ماضی میں ایسا کیا ہوا تھا جو فہد ان سے دور ہو گیا تھا وہ جتنا سوچ رہی تھی اتنا ہی الجھتی جا رہی تھی اس لیئے اپنی ساری سوچوں کو جھٹکتے ائرپورٹ سے باہر نکلی۔
وہ ائرپورٹ سے باہر نکلی تو ڈرائور پہلے سے ہی موجود تھا۔۔۔ وہ اپنی دوستوں کو بائے کہتی گاڑی میں آکے بیٹھ گئی۔
میں آپ کو ایک اڈرس بتا رہی ہوں گاڑی وہاں لے چلیں۔۔۔ وردہ نے ڈرائیو کو اڈرس بتایا تو وہ اسکے حکم پہ گاڑی وہاں گھما گیا۔
تقریباً ایک گھنٹہ لگا اسے اپنا کام نمٹانے میں۔۔۔ جب کے اتنی دیر میں انمول کا تین بار فون آگیا تھا کہ وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں پہنچی۔
اسنے گھر میں قدم رکھا تو گھر پوری طرح لائٹوں سے سجا ہوا تھا۔۔۔ کیونکہ اسکی دو دن بعد مایوں تھی اس لیئے گھر کو پہلے سے ہی سجا دیا گیا تھا تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ یہ شادی والا گھر ہے۔
کہاں رہ گئیں تھی۔۔۔اتنی دیر لگتی ہے ائرپورٹ سے گھر آنے میں۔۔۔۔ لاونچ میں قدم رکھتے ہی انمول شروع ہوگئی۔
انو بچی کو پہلے سکون سے بیٹھنے تو دو پھر ڈانٹ لینا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے ٹوکا۔
مما آپ کو میری باری پہ تو یہ بات یاد نہیں آئی تھی۔۔۔یاد ہے آپ کو جب مجھے دائم کے گھر سے واپس آنے میں تھوڑی دیر ہوجاتی تھی تو گھر میں قدم رکھتے ہی آپ میری کلاس لینے لگتی تھیں اور اب اپنی نواسی کے ٹائم پہ آپ کو یہ بچی لگ رہی ہے۔۔۔ انمول کو اپنا دکھ یاد آیا ۔
مما۔۔۔۔۔۔۔مما آپ آئیں بیٹھیں یہاں۔۔۔ میں بس اپنی کچھ دستوں کو ڈروپ کرنے چلی گئی تھی اس لیئے دیر ہوگئی ۔۔۔ وردہ انمول کو اپنے ساتھ صوفے پہ بیٹھاتی بولی۔
اچھا ٹھیک ہے جاؤ اب اپنے کمرے میں آرام کرلو پھر میں تمہیں شوپنگ دیکھاوں گی ۔۔۔ انمول نے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی اٹھ گئی۔
اچھا سنو میں نے جو چیزیں منگوائیں تھیں وہ لائی ہونا۔۔۔ اسکے جانے سے پہلے ہی انمول بولی
جی ہر ایک چیز اچھے سے یاد کر کے لائی ہوں۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے کہا تو انمول کی انہیں چمکیں۔
چلو پھر تمہارا بیگ کھولتے ہیں۔۔۔ انمول فورن بےصبری ہوئی۔
انو جانے دو وردہ کو ابھی،،، بعد میں بیگ کھولنا ۔۔۔ جاؤ وردہ اپنے کمرے میں آرام کرو اور تم یہاں میرے ساتھ آکے دوپٹے میں موتی ٹانکوں۔۔۔ شگفتہ بیگم نے سختی سے کہا تو انمول منہ بناتی اٹھ کے انکے پاس آگئی جب کے وردہ اپنی ہنسی روکتی اوپر بڑھ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
اسکا فون کب سے بج رہا تھا لیکن وہ اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔۔۔ بس ہاتھ میں فون لیئے ادھر سے ادھر چکر لگا رہی تھی۔
یا اللہ یہ کیوں مجھے فون کر رہے ہیں۔۔۔ میں کیسے بات کروں ان سے ۔۔۔ تحریم نے گھبراتے ہوئے اپنی انگلیاں چبائیں۔۔۔
لیکن بسام بھی ڈھیٹ تھا بار بار فون کر رہا تھا۔۔۔ جب کے تحریم اسکے فون آنے سے گھبرا رہی تھی۔۔۔ جیسے جیسے انکی شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے ویسے ویسے ہی تحریم کو بسام سے شرم آرہی تھی۔۔۔ اسنے بسام کو خود بھی منا کر دیا تھا کہ وہ اسے اب فون نا کیا کرے لیکن بسام بھی اپنے نام کا ایک تھا بار بار فون کر کے اسے تنگ کرتا تھا اور اب بھی وہ یہی کر رہا تھا۔
آپی مما کہہ رہی ہیں نیچے آکے کپڑے دیکھ لیں وہ درزی سے لے آئی ہیں۔۔۔ وہ سوچ ہی رہی تھی کے کیا کرے کہ اتنی دیر میں حنان کمرے میں آتے اسے ماہی کا پیغام دینے لگا۔
حنان ادھر آؤ۔۔۔ اسنے حنان کو اپنے پاس بلایا۔
جی۔۔۔۔۔ وہ اسکے سامنے رکتے بولا۔
یہ بسام کا فون آرہا ہے تم فون اٹھا کے کہہ دو آپی مما کے ساتھ بازار گئی ہوئی ہیں۔۔۔ تحریم نے فون اسکی جانب بڑھاتے کہا۔
مگر آپی جھوٹ کیوں بولنا آپ بات کر لیں نا ان سے۔۔۔ حنان نے مشورہ دیا۔
حنان میں جو کہہ رہی ہوں وہ کہوں۔۔۔ فون اٹھاؤ اور ان سے بولو میں بارات گئی ہوئی ہوں ماما کے ساتھ۔۔۔ تحریم نے گھور کے کہا تو حنان نے فون لیتے کال ریسیو کی اور ساتھ اسپیکر بھی کھول دیا تا کہ تحریم بھی سن لے۔
ہیلو بسام بھائی آپی بازار گئی ہوئی ہیں مما کے ساتھ۔۔۔ حنان نے تحریم کا کہا جملہ دھرایا۔
چھوٹے اپنی آپی سے کہنا جھوٹ بولے کوا کاٹے۔۔۔ دوسری طرف سے بسام کی شرارت سے بھرپور آواز آئی۔
وہ سن رہی ہیں آپ خود۔۔۔۔ آہ۔۔۔
میرا مطلب ہے جب وہ آئیں گی تو آپ خود کہہ دے گا ان سے۔۔۔ حنان سچ کہنے لگا تھا جب تحریم نے اسکا کان مڑوڑہ تو وہ درد سے ہلکی سی چیخ مارتے بات بدل گیا۔
ریم میں جانتا ہوں تم مجھے سن رہی ہو۔۔۔ اب میری بات کان کھول کے سن لو آج تم نے پورا دن مجھ سے بات نہیں کی ہے جس کی تمہیں سزا ملے گی ۔۔۔۔ تو تیار ہو جاؤ اپنی سزا کے لیئے۔۔۔ بسام اسے ڈراتا فون بند کر گیا۔۔۔ جب کے تحریم اب اور پریشان ہوگئی تھی۔
میں نے تو کہا تھا بات کرلیں مگر آپ نے نہیں کی اب ناجانے بسام بھائی کیا سزا دیں گے۔۔۔ حنان کندھے اچکاتا کمرے سے نکل گیا جب کے تحریم پریشانی سے بیڈ پہ بیٹھ کہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسے کہا سزا دے گا۔
آپی سزا کے بارے میں بعد میں سوچ لے گا ابھی مما بلا رہی ہیں۔۔۔ حنان دروازے سے جھانک کے بولا۔
آرہی ہوں تم جاؤ۔۔۔ تحریم اسے گھورتے دانت پیس کے بولی تو وہ دانت دیکھاتے چلا گیا۔
جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔ یہ سوچتی تحریم خود کو ریلیکس کرتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔
۔ ![]()
![]()
![]()
