820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 5)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

آج انمول کے گھر پہ ایک چھوٹا سا گیٹ ٹو گیدر رکھا گیا تھا۔۔۔ کافی دنوں سے سب لوگ ایک جگہ اگھٹے نہیں ہوئے تھے اس لیئے آج انمول نے سب کو بلا لیا تھا۔۔۔

وہ ساری تیاریاں​ کروا کے اب سکون سے تیار ہورہی تھی جب ابتسام اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔۔ انمول نے شیشے میں سے اسکا عکس دیکھا۔۔۔ عمر بڑھنے کے ساتھ وہ اور بھی زیادہ پرکشش ہوگیا تھا۔۔۔ اسنے چہرے پہ گھنی داڑھی رکھ لی تھی جو اسکی شخصیت میں چار چاند لگا رہی تھی۔۔۔ انمول مسکرا کے اسے دیکھنے لگی۔۔. جب ابتسام نے اسکے گرد اپنا حصار بنایا۔

ہمیشہ کی طرح آج بھی بہت حسین لگ رہی ہو۔۔۔ اورنج شلوار قمیض میں تیاری کھڑی انمول کو دیکھ کے کہتے اسکی کمر پہ بکھرے بالوں کی مہک کو خود میں اترنے لگا۔

چلیں اب پیچھے ہٹیں۔۔. بڑھاپے میں رومینس سوجھ رہا ہے۔۔۔ انمول اسے پیچھے کرتی گھور کے بولی۔۔۔۔ جب کے وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلاتا ویسی کا ویسی کھڑا اپنی تھوڑی انمول کے کندھے پہ ٹکا گیا تھا۔

بوڑھا ہوگیا تو کیا ہوا ۔۔۔ لیکن دل تو جوان ہے نا۔۔۔ ابتسام گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔۔ تو انمول اپنی مسکراہٹ چھپانے کے لیئے گردن جھکا گئی۔

ابھی ابتسام اور کوئی کاروائی کرتا کے ایک دم دروازہ کھولتے وردہ اندر آئی۔۔۔ بغیر نوک کئے دھاڑ سے دروازہ کھولنے کی عادت اسنے انمول سے اپنائی تھی۔۔۔ اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ وہ دونوں بوکھلا کے ایک دوسرے سے الگ ہوئے۔

اپسسس سوری میں نے کچھ نہیں دیکھا۔۔۔ وردہ دانتوں تلے زبان دباتی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہنسی روک کے بولی۔

یہاں کچھ ہو بھی نہیں رہا تھا۔۔۔ تم آنکھوں سے ہاتھ ہٹا سکتی ہوں۔۔۔ انمول نے سخت نظروں سے گھورتے کہا تو وہ دانتوں کی نمائش کرواتی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا گئی۔۔۔۔ جب کے ابتسام کال کا بہانا کرتا کمرے سے نکل گیا تھا۔

سوری میری وجہ سے آپ لوگوں کے مومینٹس اسپوائل ہوگئے۔۔۔ وردہ معصومیت سے بولی۔

کام بتاؤ کیوں آئی ہو یہاں۔۔۔ انمول اسکی بات نظر انداز کرتی اپنی جیولری پہنے لگی۔

میری ایک اچھی سی فرنچ چوٹی بنا دیں مجھے سے نہیں بن رہی۔۔۔ وردہ نے مسئلہ بیان کیا۔

وردہ بچی نہیں ہو تم اب خود بھی بنانا سیکھو۔۔۔ انمول نے فورن اچھی ماں کی طرح نصیحت کی۔

کیا مطلب مما میں آپ کی بچی نہیں ہوں۔۔۔ وردہ نے مسنوعی حیرت سے پوچھا۔

تم میری ہی بچی ہو لیکن چھوٹی بچی نہیں ہو۔۔۔ انمول مصروف انداز میں اسے شیشے سے ایک نظر دیکھ کے بولی۔

تو کیا آپ مجھ سے بڑی نہیں ہیں۔۔۔اگر آپ مجھ سے بڑی نہیں ہیں تو واقعی میں بڑی ہوگئی ہوں۔۔۔ وردہ نے تھوڑی پہ ہاتھ رکھے سوچا۔

جب کے اسکی الوجیکل بات انمول کے پلے نہیں پڑی تھی۔

جلدی آؤ چوٹی بنواؤ۔۔۔ مجھے اور بھی کام ہیں پھر۔۔۔ انمول نے جلدی سے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ تیری سے آتی اسکے سامنے بیٹھ گئی۔

اچھا رومینس کرنے میں دیر نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ اسنے شرارت سے کہا تو انمول نے اسکی کمر پہ ایک چپت لگائی۔

بدتمیز,,, ماں سے ایسی باتیں کرتے ہیں۔۔۔ انمول شرماتی اسے ڈانٹنے لگی۔

کس نے کہا آپ میری ماں ہیں آپ تو میری دوست ہیں نا۔۔۔ ارے یہ کیا آپ تو بلش کر رہی ہیں۔۔۔ وردہ شیشے سے اسکا سرخ چہرہ دیکھتی چھیڑنے لگی تو انمول جھنپ گئی۔

چپ لڑکی بہت بولتی ہو تم۔۔۔ اسنے اپنی خفت مٹاتے اسے گھورا تو وہ ہنس دی جسے دیکھ انمول کو بھی ہنسی آگئی۔۔۔ کمرے میں دونوں ماں بیٹی کی زندگی سے بھرپور کھلکھلاہٹ گونج اٹھی تھا۔

۔🌺🌺🌺

ہاہاہاہا ماموں پھر کیا ہوا تھا۔۔۔۔ بسام نے دلچسپی سے پوچھا۔۔۔ وہ سب لوگ لان میں جما تھے اور حماد انہیں انمول اور ابتسام کا پونیوں والا قصہ سنا رہا تھا جسے سنتے سب بچے لطف اندوز ہورہے تھے۔۔

پھر کیا ہونا تھا تمہاری ماں کو خوب ڈانٹ پڑی تھی۔۔ کہ بیچاری بچی رو پڑی تھی۔۔۔ حماد انمول کی گھوریوں کو اگنور کرتا مزے سے بولا تو سب بچوں نے بےیقینی سے انمول کو دیکھا۔۔۔ حماد کا کہنا تھا کہ وہ رو پڑی تھی لیکن ان کے حساب سے تو انمول رونے والوں میں سے نہیں بلکے رولانے والوں میں سے تھی۔

انو واقع آپ روئی تھیں۔۔۔ تحریم نے حیرت سے پوچھا۔

نہیں۔۔۔۔ اور آپ حماد بھائی کیا بچوں کو الٹی سیدھی کہانیاں سنا رہے ہیں۔۔۔ انمول تحریم کو اک لفظی جواب دیتی حماد سے بولی۔

ارے کیوں جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔ ہم سب نے دیکھا تھا تم رو رہیں تھیں ۔۔۔۔ مشی نے بھی دیکھا تھا کیوں مشی بتاؤ یہ رو رہی تھی یا نہیں۔۔۔ انمول کے صاف جھوٹ پہ حماد نے فورن کہا۔۔۔ اور ساتھ ساتھ میشا کو بھی بیچ میں گھسیٹا۔

مجھے نہیں پتہ۔۔۔ مشی نے کندھے اچکاتے لاتعلقی کا انتظار کرتے خود کو آرام سے اس معاملے سے دور کیا۔

ہاں مشی بتاؤ زرا کون رویا تھا۔۔۔ انمول مشی کو آنکھوں کے اشارے سے نا کا کہہ رہی تھی۔

پتہ نہیں۔۔۔ میں نے تو دیکھا نہیں تھا۔۔۔ اس نے ایک بار پھر لاتعلقی دیکھائی۔

کیسی بیوی ہو اپنے شوہر کا ساتھ نہیں دے رہیں۔۔۔ حماد نے آفسردگی سے کہا۔

میں نے اپنی بہن کا ساتھ نہیں دیا تو آپ کا کیوں دوں۔۔۔ میشا نے آرام سے ہاتھ کھڑے کیئے۔

کیونکہ میں تمہارا مجازی خدا ہوں تم۔۔۔ حماد نے فورن یاد کروایا۔

بس حماد اب بس کردو۔۔۔ دائم نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا۔

کیوں تمہیں کس بات کی تکلیف ہے میرے بولنے سے۔۔۔ وہ بھی دوبدو بولا جب کے بچے تو انکی باتیں انجوائے کر رہے تھے۔

میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔ انمول جان چھڑواتی وہاں سے آٹھ گئی

کچھ ہی دیر میں کھانا پرسکون ماحول میں کھایا گیا تھا۔۔۔ کھانے کے بعد سب لاؤنچ میں بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے جب حماد نے گلہ کھنکھارتے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

سب میری بات سنیں۔۔۔۔۔ ابتسام اور انو خاص طور پہ تم دونوں۔۔۔ کیونکہ آج میں تم سے تمہاری ایک قیمتی چیز مانگنے والا ہوں۔۔۔۔ حماد نے مسکرا کے انہیں مخاطب کیا۔

بھئی میں تو اپنی کوئی چیز نہیں دینے والی۔۔۔ ہاں بھلے مسٹر ڈریگن سے لے لے گا۔۔۔۔ انمول شرارت سے بولی۔

وہ چیز تم دونوں کی ہے اور مجھے امید ہے تم دونوں ہی منا نہیں کرو گے۔۔۔ حماد نے میشا کی طرف دیکھتے کہا جس نے ہاں میں سر ہلاتے بات شروع کرنے کا اشارہ کیا تھا۔

تمہیں پتہ ہے ماموں کیا مانگنے والے ہیں۔۔۔ وردہ سیف کی طرف جھکتی زاردای سے پوچھنے لگی۔

مجھے نہیں پتہ۔۔۔ سیف نے کندھے آچکائے۔

ہر کوئی تجسس میں تھا کہ آخر حماد مانگنے کیا والا ہے۔

حماد اب بول بھی دو کے کیا مانگنے والے ہو۔۔۔ اسے خاموش دیکھ دائم نے ٹوکا۔

تو بات یہ ہے کہ ابتسام اور انمول میں تم سے وردہ کو مانگتا ہوں اپنے سیف کے لیئے۔۔۔ حماد نے گویا وردہ اور سیف کہ سر پہ دھماکہ کیا تھا۔۔۔ دونوں نے چونک کے ایک دوسرے کو دکھا تھا۔

جب کے باقی سب کے چہرے پہ تو خوشگوار حیرت تھی۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ماموں۔۔۔ وردہ صومے سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔

ہاں بابا یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ سیف بھی اپنی جگہ سے اٹھا۔

کیوں تم دونوں کو کوئی اعتراض ہے کیا۔۔۔ میشا نے پیار سے پوچھا۔۔۔

ہاں۔۔۔۔ دونوں نے ایک ساتھ کہا تو سب کے چہروں سے خوشی غائب ہوتی فکرمندی آگئی سوائے انمول کے جو بلکل ریلیکس بیٹھی تھی۔۔۔۔ اسنے ہر فیصلہ اپنی بیٹی پہ چھوڑا ہوا تھا۔۔۔ آگر تو وہ ہاں کرتی تو ٹھیک آگر وہ نا کرتی تو بھی ٹھیک وہ کبھی اسے فورس نہیں کرتی ۔

وجہ۔۔۔ ابتسام نے ایک ایبرو اچکائے پوچھا۔

بابا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی اور آگر کرنی بھی ہوگی تو اس جیسے لنگور سے تو ہرگز نہیں کروں گی۔۔۔ کسی اچھے سے ہیرو ٹائپ لڑکے سے شادی کروں گی۔۔۔ وردہ نے انکار کی وجہ بتائی جو زیادہ تو کسی کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔

او ہیلو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تم جیسی چڑیل سے شادی کرنے کا۔۔۔ الحمدللہ میرے پاس تم سے بھی اچھی لڑکی موجود ہے۔۔۔ سیف نے گردن اکڑا کے جواب دیا تو لڑکی کی بات پہ سب چونکے۔

لڑکی موجود ہونے کا کیا مطلب ہے سیف۔۔۔ ماہی نے پہلی بار بات میں حصّہ ڈالا تھا۔

وہ میری سیکٹری ہے نور میں اسے پسند کرتا ہوں۔۔۔ سیف نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

شکر اللہ میری تو جان چھوٹی۔۔۔ اب آپ لوگ نمٹائیں آپس میں۔۔۔ وردہ شکر ادا کرتی سکون سے واپس بیٹھ گئی۔

ٹھیک ہے تو پھر ہم ایک دو دن میں اسکے گھر رشتہ لے کے جائیں گے۔۔۔ حماد نے فورن فیصلہ کیا۔

نہیں بابا ابھی نہیں۔۔. پہلے میں پتہ کرلوں کے کہیں وہ کسی اور کو تو پسند نہیں کرتی۔۔. اگر تو وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہوگی تو میں اپنے قدم پیچھے لے لوں گا۔۔۔ سیف نے سنجیدگی سے کہا۔

سیف بیٹا ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔۔. کیا پتہ وہ کسی کو پسند نہیں کرتی ہو لیکن تمہارے پتہ کرنے کے چکر میں آگر اسکے گھر والوں نے اسکا رشتہ کہیں اور کردیا تو۔۔۔ کیا تم سہہ پاؤں گے اس سے جدائی۔۔۔ محبت کو کھونے کی تکلیف کیا ہوتی ہے تم نہیں جانتے۔۔۔ دائم نے سنجیدگی سے کہا۔

سب نے ہی دائم کی بات سے اتفاق کیا تھا۔۔۔ سب کو ہی یہی لگتا تھا کہ دائم ایک جنرل بات کر رہا ہے لیکن یہ تو صرف ابتسام ہی جانتا تھا کہ وہ خود کا تجربہ بتا رہا ہے۔۔۔ دائم نے کہا تو سنجیدگی سے تھا لیکن اسکی آنکھوں میں ایک ان دیکھا دکھ ابتسام دیکھ سکتا تھا۔۔۔

دائم چاہ کر بھی انمول کو کبھی بھلا نہیں پایا تھا تبھی اسے دل میں چھپائے اپنی نئی زندگی کی شروعات کر گیا تھا۔

دائم ٹھیک کہ رہا ہے سیف تمہیں ابھی کوئی فیصلہ لینا ہوگا ۔۔۔۔ ابتسام نے سمجھایا

آپ لوگ بس مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں میں نور کے بارے میں سب جان لوں پھر ہم نور کے گھر چلیں گے۔۔۔ سیف کی بات سنتے سب نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا۔

کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ لوگ اپنے اپنے گھر کے لیئے نکل گئے تھے۔

۔🌺🌺🌺

وقت پر لگا کے اڑ رہا تھا۔۔۔ آج وردہ اور تحریم کا رزلٹ آنے والا تھا۔۔۔ اس لیئے دونوں تحریم کے کمرے میں بند لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھیں۔۔۔ دونوں ہمیشہ ہی اچھے نمبر لاتی تھیں لیکن اس کے باوجود بھی دونوں بےچین تھی۔۔۔

ریم۔۔۔۔ تحریم دعا مانگنے میں مصروف تھی جب وردہ کی گھوئی گھوئی سی آواز پہ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔

کیا ہوا۔۔۔ اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔

رزلٹ آگیا ۔۔۔ آہستہ آواز میں کہا تو تحریم نے فورن اسکرین کی طرف دیکھا۔۔۔ اور پھر دونوں کی خوشی کے مارے چیخ بلند ہوئی۔

آہ۔۔۔۔ وردہ ہم پاس ہوگئے۔۔۔ تحریم خوشی سے انمول کے گلے لگی۔

ہاں مجے خود بھی یقین نہیں آرہا ۔۔۔۔ وہ بےیقینی سے بولی۔

اس میں یقین نا آنے والی کون سی بات ہے ۔۔۔ ہم نے اتنی محنت کی تھی جس کا صلہ ہمیں ملنا ہی تھا ۔۔۔ تحریم نے مسکرا کے کہا تو وردہ بھی مسکرائی

میں یہ خبر گھر پہ سب کو سنا کے آتی ہوں۔۔۔ وردہ جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی جب کے تحریم نے فون نکلتے کسی کو میسج بھیجا تھا۔

وردہ سنو۔۔۔ وردہ جو بھاگتی ہوئی اپنے گھر جارہی تھی بیچ میں سیف کی آواز پہ رکی۔

ہاں بولو جلدی۔۔۔

میں ابھی تمہارے پاس ہی آرہا تھا۔۔۔ اصل میں مجھے تمہاری ایک مدد چاہیئے۔۔۔ سیف بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہولا

کہو کیا مدد چاہیئے ۔۔۔ وردہ نے عجلت میں کہا۔

ایسے نہیں کہیں بیٹھ کے بات کرتے ہیں۔۔۔ سیف نے کہا۔

اچھا چلو پھر گھر چلتے ہیں چائے پینے کے ساتھ ساتھ بات بھی کر لیں گے۔۔۔ وردہ نے کہا تو وہ اسکے ساتھ ہولیا۔

ویسے اتنی جلدی میں کہاں جارہی تھی۔۔۔ اسکی جلد بازی دیکھتے پوچھا تھا۔

میرا رزلٹ آگیا ہے۔۔۔ میں اور تحریم بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئے ہیں۔۔۔ بس یہی بتانے جارہی تھی مما کو۔۔۔ وہ دونوں ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔

بہت مبارک ہو ۔۔۔ اب آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ اندر بڑھتے سیف نے پوچھا۔

بس بابا اور بسام کے ساتھ بزنس سنبھالوں گی ۔۔۔ وردہ کے بتانے پہ اسنے ہاں میں سر ہلایا۔

مما دادی نانی آپ کو پتہ ہے میں اور تحریم بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ تینوں لاؤنچ میں ہی بیٹھی تھی جب وردہ چہکتی ہوئی اندر داخل ہوتی انہیں خوشی سے بتانے لگی۔

بہت بہت مبارک ہو میری بچی۔۔۔ نسرین بیگم نے اسکا گال چومتے مبارکبادی دی ۔۔۔ انکے ساتھ ہی انمول اور شگفتہ بیگم نے بھی اسے مبارک بادی دی تھی۔۔۔ جب کے

سیف خالی صوفے پہ سکون سے بیٹھ گیا تھا۔

تھینک یو لیکن آپ لوگ مجھے خالی مبارک بادی سے نہیں ٹرخا سکتیں مجھے کوئی گفٹ شفٹ، پارٹی وارٹی چاہیئے۔۔۔ وردہ نے فرمائی کی۔

ضرور ملے گی بےفکر ہو جاؤ۔۔۔ انمول نے کہا تو وہ خوش ہوگئی۔

اچھا مما میں اور سیف زرا چھت پہ جارہے ہیں آپ ہمارے لیئے چائے بھجوادے گا۔۔۔ وردہ کے کہنے پہ انمول نے اوکے کہا تو وردہ اور سیف چھت کی جانب بڑھ گئے۔

۔🌺🌺🌺