820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 28)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

مشی تم آگے بیٹھ جاؤ ہم چاروں پتلی پتلی لڑکیاں پیچھے بیٹھ جائیں گے۔۔۔ آتے وقت بھی تم نے بیچاری نور کو دبا دیا تھا۔۔۔ ریسٹورینٹ سے واپسی پہ انمول نے سیریس انداز میں کہا۔

اسکی بات سنتے میشا کا منہ کھلا تھا جب کے باقی ساری کھل کے ہنسیں تھیں۔

تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کے میں موٹی آنٹی ہوں۔۔۔ میشا اسے گھور کے دانت پیس کے بولی تو انمول نے ایسا منہ بنایا جیسے کہنا چاہ رہی ہو جو سمجھنا ہے سمجھ لو۔

انو کی بچی میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ میشا غصے سے بولی۔

پھوپھو اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔. وردہ نے معصومیت سے پوچھا۔

میں نے آپ کو تو کچھ نہیں کہا۔۔۔ میشا نے ناسمجھی سے کہا۔

ابھی تو آپ نے کہا انو کی بچی میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں تو انو کی بچی تو میں ہی ہوں۔۔۔ وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کے بولی تو پارکنگ میں ان سب کا بلند قہقہہ گونجا۔۔۔ جب کے میشا نے اپنا ماتھا پیٹا تھا،،، ان دونوں ماں بیٹی سے کبھی کوئی جیت نہیں سکتا تھا۔

نور تو ان سب کی ہنسی مزاق سے لطف اندوز ہورہی تھی۔۔۔ بڑے سے لے کے چھوٹا ہر کوئی خوش مزاج تھا۔۔۔ ان لوگوں کے ساتھ شوپنگ کر کے اسے کہیں سے بھی ایسا محسوس نہیں ہورہا تھا جیسے وہ پہلی بار ان لوگوں کے ساتھ آؤٹنگ پہ آئی ہے۔۔۔ سب کے اندر ایک اپنائیت تھی۔۔۔ نور کو بےحد خوشی تھی کہ اسے اتنی اچھی فیملی مل رہی ہے۔

چلو بھائی اب جلدی بیٹھو دیر ہو رہی ہے۔۔۔ ماہی نے کہا تو وہ لوگ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔

سفر کافی خوشگوار گزرا تھا۔۔۔ راستے میں وہ لوگ آئسکریم کھاتے ہنسی مذاق کرتے آئے تھے۔

ارے بھئی کہاں سے آرہی ہے یہ لیڈیس پارٹی۔۔۔نور کو اسکے گھر چھوڑ کے اپنے گھر پہنچ کے وہ لوگ گاڑی سے چیزیں نکال رہے تھے جب دائم کی گاڑی انکے پاس آکے رکھی۔۔

وہ ابھی آفس سے آیا تھا جب ان سب کو اکٹھے گاڑی سے نکلتے دیکھ اپنی گاڑی روک کے پوچھنے لگا۔

ہاتھ میں لاتعداد بیگز دیکھ کے تمہیں سمجھ نہیں آیا کہ ہم کہاں سے آرہے ہیں۔۔۔ انمول دونوں ہاتھوں میں پکڑے بیگز​ دیکھاتی بولی۔۔۔ تو دائم نے سمجھتے ہوئے سر ہلادیا۔

وردہ بیٹا آپ کیسی ہو۔۔۔ دائم نے مسکرا کے پوچھا۔

میں ٹھیک ہوں انکل آپ کیسے ہیں۔۔۔ وہ بھی مسکرائی

الحمدللہ۔۔۔ یہ گارڈز کس کے ہیں۔۔۔ دائم اپنی خیریت بتاتا گارڈز کی گاڑی دیکھ کے حیرت سے پوچھنے لگا۔

میرے۔۔۔۔ وردہ برا سا منہ بنا گئی۔

مگر کس لیئے سب خیریت تو ہے نا۔۔۔ دائم نے پریشانی سے پوچھا۔

جی سب خیریت ہے۔۔۔ باقی ماہی آنٹی آپ کو گھر جا کے بتادیں گی ابھی میں چلتی ہوں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وردہ نے ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹائم دیکھا۔

ارے ایسے کیسے جا رہی ہو۔۔۔ اندر چلو۔۔۔ مسٹر ڈریگن بھی آنے والے ہوں گے ان سے مل کے جانا۔۔۔ انمول نے فورن کہا

پھر کبھی مما ابھی میں چلتی ہوں۔۔۔ گھر جا کے ایک بندے کی خبر لینی ہے۔۔۔ پہلی بات انمول سے اور آخری بات دل میں بولی۔

ٹھیک ہے لیکن اپنے بابا اور بھائی کو خود ہی جواب دینا۔۔۔ ورنا وہ لوگ مجھے کہیں کے کہ میں نے انکی لاڈلی کو روکا کیوں نہیں۔۔۔

آپ فکر نہیں کریں ان دونوں سے میں خود بات کرلوں گی۔۔۔ ہمم ۔۔۔ وردہ انمول کو بےفکر کرتی باری باری سب سے مل کے وہاں سے روانہ ہوگئی۔

وہ تھوڑی دور پہنچی ہی تھی کہ روڈ پہ گاڑیوں کا رش کم دیکھتے اسنے گاڈی کی اسپیڈ تیز کی۔۔۔۔ جتنی تیز اسپیڈ سے گاڑی چل رہی تھی اس سے کئی زیادہ اسپیڈ سے وردہ کا دماغ چل رہا تھا۔۔۔

دوپہر کے واقع کے بعد اسنے خود کو سب کے بیچ موجود ہونے کی وجہ سے بہت مشکل سے اپنے دل اور دماغ کو کچھ بھی غلط سوچنے سے روکا تھا لیکن اب جب وہ اکیلی تھی تو دل میں الگ الگ وسوسے آرہے تھے۔۔۔ دماغ بار بار غلط سوچنے پہ مجبور کر رہا تھا۔۔۔ کئی سوچوں نے اسکے دماغ​ میں گھر کر لیا تھا جس کی وجہ سے وہ گاڑی کی اسپیڈ کافی حد تک تیز کر چکی تھی۔۔۔ اس وقت وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ اسکے پیچھے گارڈز کی گاڑی بھی آرہی ہے۔۔۔ کوئی بھی اسکی شکایت کر سکتا ہے کہ وہ اوور اسپیڈ میں گاڑی چلا رہی تھی لیکن اسے اس وقت کسی کی پرواہ نہیں تھی۔

وہ گھر میں داخل ہوتی پورچ میں گاڑی کھڑی کرتی غصہ کنٹرول کرتے اندر بڑھی۔

وہ تیز تیز قدموں سے اندر بڑھ رہی تھی لیکن لاؤنچ میں فہد کو اور دلاور خان کو بیٹھے دیکھ اسکے قدم آہستہ ہوئے۔

وہ یہاں کب سے بیٹھا ہوا تھا پر دلاور خان ابھی کچھ دیر پہلے ہی آئے تھے۔۔۔ پر وہ انکی موجودگی ایسے نظرانداز کر رہا تھا کہ دلاور خان کو بھی اپنے وہاں ہونے پہ شک ہو رہا تھا۔

ارے بیٹا آپ اتنی جلدی آگئیں۔۔۔ اسے اندر آتے دیکھ فہد نے چائے کا کپ نیچے رکھتے پوچھا۔

جی ڈیڈ بس سب سے مل لی تھی اور شوپنگ کر کے کافی تھک و گئی تھی اس لیئے سیدھے گھر اگئی۔۔۔ اسنے خود پہ قابو رکھتے کیا۔

ڈیڈ دامل آگئے۔۔۔ اسنے فہد کے سامنے دامل کا ذکر تمیز سے کہا تھا۔

نہیں بیٹا ابھی تک تو نہیں آیا۔۔۔ فہد کے انکار پہ وہ سر ہلا گئی۔

ویسے ہمیشہ ہی لیٹ آتے ہیں۔۔۔ اسنے پھر سوال کیا۔۔

عموماً تو اس وقت تک آجاتا ہے پر جب کام زیادہ ہو یا کوئی ضروری کام ہو تو تھوڑی دیر سویر ہوجاتی ہے۔۔۔ فہد نے اطمینان سے بتایا تو وہ اوکے کہتی آرام کا کہہ کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔

اس ساری بات میں نا اسنے ایک بھی باد دلاور خان کو دیکھا تھا اور نا دلاور خان نے اسے۔

آنے دو اسے بتاتی ہوں میں۔۔۔ سارے کام ایک ہی دن میں کرواؤں گی۔۔۔ کمرے میں آتے ہی غصے سے شوپنگ بیگ صوفے پے پھیکتی ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگی۔

۔🌺🌺🌺

رات کے بارہ بج رہے تھے جب دامل گھر میں داخل ہوا۔۔۔ وہ مسلسل شیرخان کے کیس پہ کام کر رہا تھا جس کی وجہ سے اسے کافی دیر ہوگئی تھی۔۔۔ وہ تھکا ہوا سیدھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

وہ دھیرے سے کمرے کا دروازہ کھولتے اندر داخل ہوا۔۔۔ تو وردہ کو بیڈ پہ بیٹھا پاتا۔

بغیر آواز کیئے چوری چھپے آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ وردہ کے سوال پہ دامل اسے ایک نظر دیکھتا صوفے پہ پڑے بیگ ایک جانب سرکاتے بیٹھ گیا۔

مجھے لگا تم سوگئی ہوں گی۔۔۔ تمہاری نیند خراب نا ہو اس لیئے بغیر آواز کیئے آیا تھا۔۔۔ دامل آنکھیں موندے بولا۔

اونہہ جیسے بہت فکر ہے نا اس کو میری۔۔۔ وہ منہ بناتی بڑبڑائی۔

کہاں سے آرہے ہو۔۔۔ اسکے غیر متوقع سوال پہ دامل نے آنکھیں گھول کے گردن آڑھی کئے اسے دیکھا۔

یہ کیسا سوال ہے کہاں سے آرہے ہوں۔۔۔ دامل نے چونک کے پوچھا۔

جو پوچھا ہے اسکا جواب دو۔۔۔ وہ اٹھ کے اسکے سامنے آتی ماتھے پہ بل ڈالے بولی تو اسکے خالص بیویوں والے انداز پہ دامل نے آئبرو اچکائی۔

شوہر سارے دن کا تھکا ہارا جاب سے واپس آیا ہے۔۔۔۔ تم اسے کھانا پانی پوچھنے کی بجائے الٹے سیدھے سوالات کر رہی ہو۔۔۔ دامل نے افسوس سے کہا۔

سارا دن کہاں تھے ۔۔۔۔ وہ اسکی باتوں کو نظرانداز کرتی اپنا سوال کرنے لگی۔

پولیس اسٹیشن میں۔۔۔ دامل نے بےزاریت سے جواب دیا۔

جھوٹ مت بولو۔۔۔ اسکے جواب پہ وردہ بھڑک اٹھی۔

مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں ہے جھوٹ بولنے کی۔۔۔ اسنے سکون سے کہا تو وردہ نے ضبط سے مٹھیاں بھیجیں ۔

مجھے چھوڑو تم یہ بتاؤ ابھی گھر آتے ہوئے گاڑی کی اسپیڈ اوور کیوں کی تھی۔۔۔ دامل نے سخت انداز میں استفسار کیا۔

دماغ خراب ہوگیا تھا پاگل ہوگئی تھی میں۔۔۔ وہ ہر ایک لفظ پہ زور دے کے بولی تو دامل کو اسکے غصہ کی وجہ سمجھ نہیں ائی۔

پہلے سے خراب چیز دوبارہ کیسے خراب ہو سکتی ہے۔۔۔ دامل نے استہزا مسکراہٹ کے ساتھ کہتے وردہ کو آگ لگائی۔

دیکھو تم۔۔۔۔۔۔ مطلب دیکھیں آپ بات نہیں بدلیں جو سوال میں نے پوچھا ہے اسکا جواب دیں۔۔۔ اسکے پھر سے تم کہنے پہ دامل نے سخت گھوری دکھائی تو وہ جلدی سے اپنی بات کی درستگی کرگئی۔

تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیئے کہ میں سارا دن کہاں ہوتا ہوں۔۔ اسکی ایک ہی رٹ سے چڑتے دامل کھڑے ہوتے سنجیدگی سے بولا۔

بیوی ہوں آپکی ۔۔۔ آپکے سارے مطلب مجھ سے ہی ہیں سمجھے۔۔۔ وہ اکڑ کے بولی تو دامل نے اسے داد دیتی نظروں سے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہوں بیوی بڑی جلدی خیال نہیں آگیا۔۔ مگر وہ کچھ بھی کہنے بغیر الماری کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

یہ لو۔۔۔۔ وردہ اسے الماری کی جانب بڑھتے دیکھ جلدی سے اسکے ہاتھ میں اسکا تکیہ پکڑا گئی۔

میں فریش ہونے جاؤ گا،،، وہاں سونے نہیں۔۔۔ دامل نے یاد دلایا ۔

آپ سیدھے کمرے سے باہر جائیں گے۔۔۔ وردہ دونوں ہاتھ باندھے سکون سے بولی۔

پاگل ہوگئی ہو یہ میرا کمرا ہے۔۔ میں کیوں جاؤں گا یہاں سے باہر۔۔۔ دامل تکیہ بیڈ پے پھیکتے غصے سے بولا۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیوں فضول میں ایسی حرکتیں کر رہی ہے مگر اب اسے اسکی حرکتوں پہ غصہ آنے لگا تھا۔

ٹھیک ہے پھر میں چلی جاتی ہوں۔۔۔ وردہ بیڈ سے تکیہ اٹھاتی تیزی سے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

اس سے پہلے وہ دروازہ پار کرتی دامل نے اسکا ہاتھ پکڑ کے دوکا۔

سرپھری لڑکی کیوں گھر میں تماشہ لگانا چاہتی ہو۔۔۔ وہ سختی سے اسکی کلائی پکڑے دبا دبا دھاڑا۔

تماشہ تو آپ لگانا چاہتے ہیں۔۔۔ وہ دوبدو بولی۔

وردہ۔۔۔ دامل اسکی کلائی چھوڑتے تیش سے بولا۔

یہ رہا آپ کا تکیہ اور جائیں باہر۔۔۔ اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیئے بغیر وہ جھٹکے سے اسے کمرے سے باہر نکالتی دروازہ بند کر چکی تھی۔۔

جب کے دامل تو منہ کھولے خود کو کمرے سے باہر کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ A.S.Pدامل خان جس سے لوگ ڈرتے تھے اسے اسکی بیوی نے اتنی آسانی سے کمرے سے باہر نکال دیا اور وہ کچھ کر بھی نا سکا۔

وردہ دروازہ کھولو ورنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ دامل نے وارن کیا۔

آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔۔۔ اسنے اندر سے ہانک لگائی۔

وردہ میں آخری بار بول رہا ہوں دروازہ کھول دو ورنا میں وہ سزا دوں گا جس کا تم نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔۔۔ دامل ادھر ادھر دیکھتے ضبط سے بولا۔۔۔ ورنا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ دروازہ ہی توڑ دے۔

کیا کریں گے صبح کی طرح سزا دیں گے۔۔۔ کوئی بات نہیں دے دے گا۔۔۔ بیوی ہوں برا نہیں مانوں گی۔۔۔ لیکن ابھی میں بلکل بھی دروازہ نہیں کھولوں گی۔۔۔ وردہ نے اٹل لہجے میں کہا تو دامل ایک زوردار ٹھوکر دروازے پہ مارتا اپنے کمرے کے برابر والے کمرے میں گھس گیا۔

اسے ابھی کمرے میں گھسے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اسکے کمرے کا دروازہ نوک ہوا۔۔۔

اسنے جلدی سے دروازہ کھولا تو دروازے کے باہر اسکے کپڑے اور ایک پیپر رکھا ہوا تھا۔۔۔ دامل نے پیپر اور کپڑے اٹھائے۔۔ پیپر کھول کے پڑھا۔

یہ آپ کے کپڑے ہیں فریش ہو کے چینج کر لے گا اور ہاں اگر کھانا کھا کے نہیں آئے تو کچن میں سب گرم ہوا رکھا ہے۔۔۔ ملازمہ جا چکی ہے تو خود ہی نکال کے کھا لے گا۔۔۔ اتنی ظالم بیوی نہیں ہوں جتنا آپ سمجھتے ہیں شوہر کا خیال ہے مجھے۔۔۔ سوئٹ ڈریمز ڈیئر ہسبینڈ۔۔۔ پیپر پہ لکھی تحریر کو پڑھتے دامل کے لبوں کو گہری مسکراہٹ نے چھوا تھا۔۔۔

دل نے کہیں سرگوشی کی تھی کہ وہ اتنی بری نہیں ہے جتنا تم اسے سمجھتے ہو لیکن اسے اسکے اس اچانک خراب روئے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر ہوا کیا ہے۔

۔🌺🌺🌺

سیف کی شادی کے دن قریب آتے جا رہے تھے۔۔۔ سب تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔ جب کے سیف آفس میں بیٹھا اپنے فون پہ نور کی تصویر لگائے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

اسکا شدت سے دل کر رہا تھا نور کو دیکھنے کا۔۔۔ نور کافی پہلے ہی جاب چھوڑ چکی تھی۔۔۔ اور تب سے ہی سیف کو اپنا آفس سونا سونا لگ رہا تھا۔۔۔

اسنے فون پہ ٹائم دیکھا تو صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔۔۔ اسنے کچھ سوچتے ہوئے نور کا نمبر نکالا اور اسے کال ملائی۔

تین بیل جانے کے بعد فون اٹھا لیا گیا تھا۔۔۔ مگر دوسری جانب بلکل خاموشی تھی۔

کیا چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔۔۔ کافی دیر بعد بھی جب وہ کچھ نا بولی تو سیف نے شرارت سے پوچھا۔

نور جو اسکا فون آنے سے کنفیوز ہو رہی تھی اسکی بات پہ اپنے لب کچلنے لگی مگر جواب اب بھی کچھ نہیں دیا تھا۔

نور میں نے تم سے بات کرنے کے لیئے فون کیا ہے۔۔۔ لیکن آگر تم نہیں بولنا چاہتیں تو کوئی بات نہیں میں تمہاری خاموشی بھی گھنٹوں سن سکتا ہوں۔۔۔ سیف نے پیار بھرے لہجے میں کہا تو نور نے شرما کے سر جھکا لیا۔

کافی دیر گزر گئی دونوں کان سے فون لگائے ایک دوسرے کی سانسیں سن رہے تھے۔۔۔۔ ایک دوسرے کی خاموشی میں کہی ان گنت باتوں کو محسوس کر رہے تھے۔

آپ نے فون کیوں کیا تھا۔۔۔ آخر خاموشی کو نور نے ہی توڑا ۔

میں یہ نہیں کہوں گا کہ تمہاری یاد آرہی تھی۔۔۔ کیونکہ تمہاری یاد تو مجھے ہر پل آتی ہے کوئی ایسا وقت نہیں جب تمہاری یاد نا آئے۔۔۔ یا تمہارا خیال نا آئے۔۔۔ وہ تو بس تمہیں دیکھنے کا بہت دل کر رہا تھا تو سوچا فون کر لیتا ہوں۔۔۔ دیکھ نہیں سکتا تو کیا ہوا فون تو کر سکتا ہوں نا۔۔۔ سیف نے گھمبیر لہجے میں کہا تو نور مسکرا دی اسکے اتنے خوبصورت اظہار پہ۔

سیف اسکے گھر جا سکتا تھا اس سے مل سکتا تھا۔۔۔ لیکن وہ جس سوسائٹی میں رہتی تھی وہاں شادی سے پہلے لڑکا لڑکی کا ملنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔۔۔ اس لیئے سیف انکی عزت کا خیال کرتے اپنے قدم روک گیا تھا۔

میرا دل چاہ رہا ہے آج ہی ہماری شادی ہو جائے اور تم ہمیشہ کے لیئے میری دسترس میں آکے میری بن جاؤں۔۔۔ سیف حسرت سے بولا۔

ہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔ اسکی بےصبری پہ نور کھلکھلا اٹھتی۔

اسکی کھلکھلاہٹ سنتے سیف کے لبوں پہ بھی مسکراہٹ آگئی۔

اللہ ہمیشہ اس ہنسی کو قائم رکھے اور تمہیں همیشہ میرے سنگ خوش و آباد رکھے۔۔۔ سیف نے دعا دی جس پہ نور نے دھیرے سے آمین کہا

ایسے ہی کافی دیر تک انکی باتیں چلتی رہیں تھیں جس میں زیادہ باتیں سیف ہی کر رہا تھا نور تو بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی۔

۔🌺🌺🌺

وردہ دو بجے اٹھ کے نیچے آئی تو ملازمہ لاؤنچ کی صفائی کر رہی تھی۔۔۔

سنو کیا سب چلے گئے۔۔۔ اسنے جمائی روکتے ملازمہ کو مخاطب کیا

جی بیگم صاحبہ سب چلے گئے ہیں بس دادا جان ہیں گھر پہ وہ بھی کچھ دیر تک چلے جائیں گے۔۔۔ ملازمہ نے ادب سے بتایا تو وہ اسے اپنے لیئے ناشتہ بنانے کا کہتی فریش ہونے واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ اسے آج آفس جوائن کرنا تھا لیکن وہ آج پہلے دن ہی لیٹ ہوگئی تھی۔

وہ اپنے کمرے میں جانے لگی جبھی دلاور خان کہیں جانے کے لیئے تیار ہوئے اپنے کمرے سے نکلے۔۔۔

دونوں کی نظریں کچھ منٹ کے لیئے ملیں تھیں۔. ایک کی نظروں میں نفرت ، غصہ، حقات اور ناجانے کیا کیا تھا جب کے دوسرے کی نظروں میں تمسخر تھا اور چہرے پہ دل جلی مسکراہٹ۔

کیسے ہیں آپ دادا جان ۔۔۔ آپ تو کہیں دیکھائی ہی نہیں دیتے ۔۔۔ وردہ معصومیت سے بولی تو دلاور خان غضبناک انداز میں اسے دیکھتے آگے بڑھ گئے۔

ارے دادا جان کہاں جا رہے ہیں میں آپ سے بات کر رہی ہوں۔۔۔ اپنے اکلوتے لاڈلے پوتے کی بیوی سے بات نہیں کریں گے۔۔۔ وردہ نے دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو وہ تیش سے پیچھے مڑے ۔

لڑکی بہتر ہوگا کہ تم مجھے مخاطب نا کرو۔۔۔ وہ سختی سے بولے ۔۔۔ جب کے وردہ کے چہرے پہ اب بھی ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ انکی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔

کیوں نا کروں آخر ہمارا بھی کوئی رشتہ لگتا ہے۔۔۔ وردہ نے سکون سے انہیں یاد دلایا۔

تم جیسی چالاک اور مکار لڑکی ہمارے پوتے کے لائق ہی نہیں ہے۔۔۔ دیکھنا بہت جلد تمہیں اسکی زندگی سے نکال باہر کروں گا ۔۔۔ تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ یاد رکھو گے ساری زندگی۔۔۔ اپنے ساتھ دھوکے بازی کا بدلہ تو میں لے کے ہی رہوں گا ۔۔۔۔ دلاور خان اسے دھمکی دیتے تیزی سے باہر نکل گئے۔

اففف ہو دادا جان آپ کو ایک بات سمجھ ہی میں آتی کہ اب آپکی عمر بدلہ لینے کی نہیں بلکے اللہ اللہ کرنے کی ہے ۔۔۔ پر کیا کہہ سکتے ہیں کرنے دیتے ہیں انکو بھی انکا شوق پورا۔۔۔ وردہ کندھے اچکا کے خود سے کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

وہ سمجھ رہی تھی کہ دلاور خان خالی خولی دھمکی دے رہے ہیں لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ کچھ بہت بڑا ہونے والا تھا جس کا تصور بھی اسنے کبھی نہیں کیا تھا۔

۔🌺🌺🌺