Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 37) Last Episode (Last Part)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 37) Last Episode (Last Part)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
کچھ دیر بعد ہی دلاور خان سر جھکائے حنان کے پیچھے کمرے میں داخل ہوئے۔
اللہ۔۔۔ سے آپ نے۔۔۔ میرے لیئے۔۔۔ صحت مانگی ۔۔۔اور جب اسنے دے دی۔۔۔۔ تو مجھ سے ملنے بھی نہیں آئے۔۔۔ وردہ خفا خفا انداز میں بولی جب کے اسکی باتیں سنتے وہاں موجود سب لوگ ہی حیرت میں ڈوبے ہوئے تھے۔
بیٹا میں کس منہ سے تمہارے سامنے آتا۔۔۔جو میں نے کیا اس کے بعد میرے اندر ہمت نہیں تھی تم سب کا سامنا کرنے کی۔۔۔ دلاور خان اسکے زرد چہرے کو دیکھتے سر جھکا گئے۔۔۔ آخر اسکی یہ حالت انکی وجہ سے ہی تو تھی۔
آپ نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ وردہ دھیمے سے بولی۔
نہیں بیٹا یہ سب میری وجہ سے ہی ہوا ہے۔۔۔ اپنی نفرت اور تم سے بدلہ لینے کے چکر میں۔۔۔ میں نے اپنے اپنوں کو خود سے دور کرتا گیا اور قصوروار تمہیں ٹھہراتا رہا۔۔۔۔ ہو سکے تو مجھے معاف کردو بیٹا۔۔۔ دلاور خان نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے تو دامل فہد اور ابتسام کو چھوڑ کے باقی سب حیرت و پریشان نظروں سے انہیں دیکھنے لگے۔۔۔ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس چیز کی معافی مانگ رہے ہیں۔
نہیں دادا جان آپ کو مجھ سے معافی مانگے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں مانتی ہوں۔۔۔ آپ سے غلطی ہوئی۔۔۔ آپ تھوڑا اپنی راہ سے بھٹک گئے تھے پر ۔۔۔ اب جب آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔۔ تو یہی بہت ہے۔۔.
ڈیڈ دامل میری آپ سے بھی گزارش ہے کہ بیتی باتوں کو بھول کے آپ دادا جان کو گلے لگا لیں۔۔۔ دلاور خان سے کہتے وہ فہد اور دامل سے مخاطب ہوئی جس پہ فہد نے تو سرے سے ہی نظریں پھیر لیں تھیں۔
وردہ یہ ممکن نہیں۔۔۔ دامل نے سرد لہجے میں کہا۔
ہاں بیٹا ہمارے لیئے انہیں معاف کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔ فہد نے بھی دامل کے انداز میں جواب دیا تو دلاور خان بےبسی اور دکھ سے انہیں دیکھ کے رہ گئے۔
ڈیڈ،،، دامل۔۔۔ میں جانتی ہوں یہ آپ لوگوں کے لیئے مشکل ہے لیکن ایک بار آپ انکی برائیاں بھلا کے انکی اچھایوں کے بارے میں سوچیں۔۔۔
ڈیڈ دادی کے جانے کے بعد دادا جان نے دوسری شادی نہیں کی وہ بھی صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔ انہوں نے آپ کو ایک اچھی لائف دینے کے لیئے دن رات محنت کی۔۔
اور دامل دادا جان نے جتنا پیار ڈیڈ سے کیا ہے اس سے کئی زیادہ وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ تم سے بات کرنے کے بعد میں نے ہمیشہ انکے چہرے پہ ایک فریشنس دیکھی ہے۔۔۔ آپ دونوں ایک بار سب کچھ بھولنے کی کوشش تو کریں۔۔۔ وردہ نے دونوں کو مخاطب کرتے کہا تو دونوں کے سرد تاثرات نرم پڑے۔
دامل ۔۔۔ فہد میں تم دونوں سے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگتا ہوں ۔۔۔ جانتا ہوں معافی کے قابل تو نہیں ہوں لیکن پھر بھی ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔ اور انمول بیٹا میں نے تمہارے ساتھ بھی بہت غلط کیا تھا ہو سکے تو تم بھی مجھے معاف کر دینا۔۔۔ دلاور خان نے انمول سے بھی معافی مانگی۔
نہیں انکل جو ہمارے نصیب میں ہوتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے۔۔۔ اس لیئے آپ کو معافی مانگے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ انمول نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا جس پہ انہوں نے ایک بار پھر اپنے بیٹے اور پوتے کو تاسف سے دیکھا۔
ڈیڈ ۔۔۔۔ فہد بہت کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن کہہ نا پایا بس خاموشی سے دلاور خان کے گلے لگ گیا۔۔۔
فہد کے گلے لگتے ہی دلاور خان کے پڑپتے دل کو جیسے راحت مل گئی تھی ۔۔۔ آخر اتنے سالوں بعد انہوں نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا تھا۔
دامل۔۔۔ وردہ نے دامل کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے اس سے آنکھوں سے اشارہ کیا جسے سمجھتے دامل گہرا سانس بھرتے اٹھ کے دلاور خان کی جانب بڑھ گیا۔
میرے گلے نہیں لگیں گے۔۔۔ دامل کی آواز سنتے دونوں بات بیٹے ایک دوسرے سے دور ہوئے تو دامل نے گرم جوشی سے اپنے دادا کو گلے لگایا
مجھے معاف کردو میرے بیٹے۔۔۔ دلاور خان کے آنسوں دامل کے کندھے کو بھگو رہے تھے جب کے سب کچھ ٹھیک ہوتے دیکھ وہاں موجود سب کے چہروں پہ خوشی کھل گئی تھی۔
فہد دامل وردہ اور ابتسام کے علاوہ وہاں پوری بات تو کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔ اور نا ہی کسی نے جاننا ضروری سمجھا تھا۔۔۔ سب ٹھیک ہو گیا تھا کہ بہت تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ سے مل کے سب لوگ واپس گھر چلے گئے تھے۔۔۔ انمول وردہ کے پاس رکنا چاہتی تھی لیکن یہاں رات میں صرف ایک ہی فرد رک سکتا تھا اس لیئے انمول چلی گئی تھی اور دامل رک گیا تھا۔
رات دس بج رہے تھے اور وردہ ابھی سو کے اٹھی تھی۔۔۔ انمول نے گھر سے وردہ کے لیئے سوپ بھیجا تھا جیسے دامل بڑے پیار سے وردہ کو پلا رہا تھا۔
بس اب اور نہیں پیا جائے گا۔۔۔ وردہ نے منہ بنایا۔
بس یہ تھوڑا سا بچا ہے یہ اور ختم کر لو۔۔۔ دامل نے چمچے میں سوپ بھر کے اسکے منہ کے قریب کیا۔
تو یہ آخری سوپ کا چمچہ آپ کا۔۔۔ وردہ نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔
بیمار تم ہو میں نہیں۔۔۔ دامل مسکراہٹ روک کے کہتا چمچہ وردہ کے منہ کے قریب کر گیا تو وہ لبوں کو سختی سے آپس میں پیوست کر گئی۔
وردہ۔۔۔ دامل نے آنکھیں دیکھاتے تنبیہہ کیا تو وہ برا سا منہ بناتی منہ کھول گئی۔
شاباش۔۔۔ اسے آخری نوالہ پلاتے دامل باؤل سائڈ پہ رکھتے کھڑا ہو گیا۔
چلو اب لیٹ جاؤ زیادہ دیر بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے۔۔ دامل نے اسے سہارا دے کے لیٹایا۔
شیر خان کا کیا ہوا۔۔۔ وہ پکڑا گیا یا بھاگ گیا۔۔۔ وردہ دامل کو اپنے پاس بیٹھتے دیکھ پوچھنے لگی
سلاخوں کے پیچھے ہے۔۔۔ اور بہت جلد اپنے اصل انجام کو بھی پہنچے گا۔۔۔
وردہ میں نے تم سے وعدہ کیا تھا نا کہ جس نے بھی تمہاری نانی نانا کا اکسیڈینٹ کروایا ہوگا میں اسے سزا ضرور دلواؤں گا۔۔۔ اور شیر خان اسنے تو ناجانے ایسے کتنے جرم کیئے ہیں۔۔۔ بس اب وہ دن دور نہیں جب اسے پھانسی ہوگی۔۔۔ دامل نے سکون سے بتایا تو وردہ کی آنکھیں اپنے نانا نانج کا سوچتے ایک بار پھر نم ہوئیں۔
آ ہاں۔۔۔ رونا نہیں ہے اب۔۔۔ دامل نے پیار سے اسکی آنکھوں کی نمی صاف کرتے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا۔
ایک بات بتائیں آپ کو پتہ کیسے چلا کے میں اس کھنڈرات میں ہوں۔۔۔ وردہ نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔
میرے دل نے کہا تھا کہ تم وہیں موجود ہو۔۔۔ دامل نے بہانا بنایا جس پہ وردہ نے اسے گھورا۔
سچ بتائیں۔۔۔
کیا تمہیں میری بات پہ یقین نہیں آرہا۔۔۔ دامل نے مسکینوں جیسی شکل بنائی۔
نہیں۔۔۔ اسنے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تو دامل نے گہری سانس بھری۔
پلیز یار کچھ باتیں مجھ تک ہی چھوڑ دو۔۔۔ دامل نے التجائیہ کہا تو وردہ نے آنکھیں جھوٹی کیئے خود پہ جھکے دامل کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر دھیرے سے مسکراتی۔
جائیں کیا یاد کریں گے کیسی سخی بیوی ملی ہے ۔۔۔ نہیں پوچھتی کچھ بھی۔۔۔ وردہ نے گردن اکڑا کے کہا تو دامل نے شدت سے اسکے گال پہ لب رکھے
دامل مزید کوئی شرارت کرتا اس سے پہلے ہی کمرے کا دروازہ نوک ہوا۔۔۔ جس پہ وہ وردہ سے دور ہوا۔
سوری میں نے ڈسٹرب تو نہیں کہا۔۔۔ زویا اندر داخل ہوتی شرارت سے بھر پور لہجے میں بولی۔
ڈسٹرب تو کر چکی ہو اب کیا کہہ سکتے ہیں۔۔۔ وردہ نے آنکھیں گھمائیں تو زویا ہنستی ہوئی اسکے پاس آئی جب کے دامل وہیں پاس رکھی کرسی پہ بیٹھ گیا تھا۔
یہ لو یہ تمہارے لیئے۔۔۔ زویا نے ہاتھ میں پکڑا بوکٹ اسکے برابر میں رکھا۔
آپ کیسے ہیں سر۔۔۔ زویا فون میں مصروف دامل سے مخاطب ہوئی۔
میں ٹھیک ہوں۔۔۔ دامل نے مسکرا کے جواب دیا۔
زویا شیر خان کے کیس کا کیا ہوا۔۔۔ دامل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
کل کوٹ میں پیشی ہے۔۔۔ اور ہمیں پورا یقین ہے کل ہی کوٹ اسے سزائے موت سنا دے گا۔۔۔ زویا نے خوش سے بتایا۔
ہمم ٹھیک ہے تم لوگ باتیں کرو میں اتنا ہوں۔۔۔ دامل سر ہلا کے کہتا کمرے سے باہر نکل گیا
اور کتنے دن رکنا ہے تمہیں یہاں۔۔۔ زویا وردہ کی جانب متوجہ ہوئی۔
پتہ نہیں اور کتنے دن رکھیں گے۔۔. میں تو ایک دن میں ہی بود ہوگئی ہوں یہاں۔۔۔ وردہ نے بےزاریت سے اپنا سر تکیہ پہ پٹخا تو زویا ہنس دی۔
تم میری بےبسی کا مزاق اڑا رہی ہو۔۔۔ وردہ نے اسکے ہنسنے پہ اسے گھورا ۔۔۔
ہاہاہا میری اتنی مجال کہاں۔۔۔ زویا ڈرامائی انداز میں بولی تو وردہ بھی ہنس دی۔
۔![]()
![]()
![]()
پندرہ دن بعد۔۔۔۔
وردہ اب کافی بہتر ہوگئی تھی۔۔۔ اس لیئے اسے آج اوسپیٹل سے ڈسچارج مل رہا تھا۔۔۔
وردہ تو ایک ہفتہ ہوتے ہی گھر جانے کا شور مچا رہی تھی لیکن ڈاکٹر اور دامل دونوں نے اسکی بہتری کے لیئے اسکی ایک نہیں سنی تھی۔
بازو کا زخم تو کافی بھر گیا تھا پر پیٹ پہ لگی گولی کا زخم اب تک سہی طرح سے نہیں بھرا تھا پر اب وہ اتنی بہتر تھی کے چل پھر سکتی تھی جس وجہ سے اب اسے ڈسچارج کر رہے تھے۔
چلو۔۔۔ دامل ساری فورمیلٹیز پورے کر کے آتا اسے سہارا دے کے اٹھانے لگا۔
میرا فون اپنی جیب میں ڈال لیں۔۔۔ وردہ سے فون لیتے دامل نے اپنی جیب میں ڈالا اور اسے کیئے باہر کی جانب قدم بڑھا گیا۔
اتنے دنوں بعد ایک بند کمرے سے نکلی ہوں مجھے ابھی واپس گھر نہیں جانا پلیز کہیں کھلی جگہ پہ لے چلیں۔۔۔ وردہ نے ریکویسٹ کی تو دامل نے گاڑی سی سائڈ کی جانب موڑ لی
گاڑی میں ہی بیٹھو گی یا باہر نکلو گی۔۔۔ سمندر سے کچھ دور گاڑی روکتے دامل نے اسکی جانب دیکھ کے پوچھا جو آنکھیں موندے سیٹ سے ٹیک لگائے سکون سے بیٹھی تھی۔
باہر نکلو گی۔۔۔ وردہ نے آنکھیں کھول کے کہا تو دامل اپنی جانب سے نکلتے اسکی طرف آتے آہستہ سے اسے گاڑی سے باہر نکالنے لگا۔
اسے زیادہ دیر کھڑا رہنے سے منا کیا تھا اس لیئے اسنے وردہ کو گود میں اٹھاتے آرام سے گاڑی کے بونٹ پہ بیٹھایا اور خود اسکے ساتھ ہی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا ہوگیا۔
رات ہونے والی تھی سورج ڈھوبنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔ سمندر کا کنارہ اور ڈھلتا سورج کسی خواب کا سماں پیش کر رہا تھا۔
وردہ نے بےساختہ گہرا سانس بھرتے اپنے اندر تازہ ہوا کو اتارا۔
کتنا خوبصورت لگ رہا ہے نا یہ منظر۔۔۔ ایسا لگ رہا ہے اس سے خوبصورت اور کچھ ہے ہی نہیں دنیا میں۔۔۔کتنا سکون ہے اس لمحے میں۔۔۔ وردہ نے آسودگی سے کہا
اور میرے لیئے ہر وہ وقت حسین ہوتا ہے جب تم ساتھ ہوتی ہو۔۔۔ دامل مسرور بھرے لہجے میں بولا۔
تم جانتی ہو مجھے اپنی زندگی سے کبھی اتنا پیار نہیں تھا پر جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو مجھے میری زندگی بہت انمول لگنے لگی ہے۔۔۔ دامل اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے مسکرایا۔۔۔. تو وردہ بھی مسکرا اٹھی۔
دونوں کے چہروں پہ ایک سکون تھا۔۔۔ دونوں مسکراتی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جب دل کا فون بجا۔
فون پہ D.I.G صاحب کی کال آتے دیکھ دامل چونک کے ایک دم سیدھا کھڑا ہوا۔
اسلام و علیکم سر۔۔۔ کال ریسیو کرتے ہی دامل نے سلام کیا
وعلیکم اسلام۔۔۔ A.S.P دامل ۔۔۔ آپ نے شیرخان جیسے وطن کے دشمن کو پکڑوا کے جو کام سر انجام دیا ہے اسکے لیئے پوری پولیس فورس آپ کا شکریہ ادا کرتی ہو اور ساتھ ہی آپ کو مبارک بادی بھی دیتی ہے آپ کے پرموشن کی۔۔۔ D.I.G صاحب نے مسکراتے ہوئے اسے شاباشی دیتے خوشخبری بھی سنائی۔
پرموشن کیا واقعی سر۔۔۔ دامل نے حیرت اور خوشی کے ملے جھلے تاثرات سے کہا تو وردہ بھی پرموشن کی بات سن کے خوش ہوگئی۔
ہاں ۔۔۔ اب آپ A.S.P نہیں رہے بلکےS.P کے عہدے پہ فائز ہو گئے ہو۔۔۔ کونگریچولیشنس۔
ٹھیک ہو سر۔۔۔ دامل شکرگزار ہوا۔
آپ کی وائف کیسی ہیں اب۔۔۔
الحمدللہ ٹھیک ہیں سر۔۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔ اللہ انہیں ہمیشہ ٹھیک ہے۔۔۔ اوکے S.P صاحب اب میں فون رکھتا ہوں خدا حافظ۔۔۔ انہیں نے آخری کلمات کہتے فون رکھا تو دامل خوشی سے وردہ کی جانب گھوما۔
وردہ سنا تم نے۔۔۔ دامل سے اپنی خوشی سمبھالے نہیں سمبھل رہی تھی۔
ہاں ہاں سن کیا۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو جالی A.S.P ۔۔۔ اپسسس اب تو آپ کی پرموشن ہوگئی ہے تو نام میں بھی تو پرموشن ہونی چاہیئے نا۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو دو نمبر S.P۔۔۔ وردہ شرارت سے بولی تو دامل نے اسے گھورا۔
تم کبھی نہیں سدھرو گی نا۔۔۔ دامل نے مسنوعی غصے سے کہا تو وہ مزے سے نفی میں سر ہلا گئی۔
ہاہاہاہا کبھی نہیں۔۔۔ کھلکھلا کے کہتی وہ دامل کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ لے گئی۔
بادلوں میں چھپا چاند ان دونوں کی مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہنے کی دعا کرتا خود بھی مسکرا دیا۔
۔![]()
![]()
![]()
ختم شدہ
