Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 10)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 10)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
ارے انکل آپ یہاں۔۔۔ وردہ نے خوشی سے پوچھا۔
وردہ آپ جانتی ہو انہیں۔۔۔ ابتسام نے نارمل لہجے میں پوچھا۔
بابا یہ خان انڈسٹریز کے اونر ہیں فہد دلاور خان جن کے ساتھ میں نے اپنی پہلی کامیاب ڈیل ڈن کی ہے۔۔۔ وردہ نے فہد کا تعریف کروایا جو مسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا۔
فہد تم ۔۔۔۔ اتنے سالوں بعد یہاں کیسے۔۔۔ انمول نے بےیقینی سے پوچھا۔۔
فہد کو یہ جان کہ خوشی ہوئی تھی کہ انمول نے اسے پہچان لیا ہے ۔۔۔
کیسی ہو تم۔۔. فہد نے مسکراتے لہجے میں پوچھا تو ابتسام نے مٹھیاں بھیجیں۔۔۔۔ جب کے وردہ اور بسام ناسمجھی سے سب دیکھ رہے تھے۔
تمہارے سامنے کھڑی ہوں تو کیسی ہوں گی۔۔۔ انمول نے کندھے اچکا کے جواب دیا۔۔۔تو اسکے انداز پہ فہد مسکرا دیا وہ بلکل نہیں بدلی تھی ایک دم پہلے کی طرح ہی تھی۔
کہیں جا رہے تھے آپ سب۔۔۔ ان سب کو ایک ساتھ باہر کھڑے تیار دیکھ فہد نے پوچھا۔
ہاں ہم لوگ دائم کی طرف جارہے تھے۔۔۔ انمول نے بتایا تو اسنے ہاں میں سر ہلا دیا
پھر تو میں نے آکے آپ سب کا پلین خراب کردیا۔۔۔ فہد نے شوخی سے کہا ۔
ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم لوگ بعد میں چلے جائیں گے ۔۔۔ انمول نے فورن کہا۔
انکل مما کیا آپ دونوں پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔۔ وردہ نے الجھ کے پوچھا۔
فہد تمہیں جو بھی بات کرنی ہے ہم کل آفس میں کر لیں گے۔۔۔ ابتسام نے ضبط سے کہا وہ ماضی میں ہوئی باتیں کبھی اپنے بچوں کے سامنے نہیں لانا چاہتا تھا۔
ہم آفس کی باتیں آفس میں ہی کریں گے لیکن ابھی میں کوئی آفس کی بات کرنے نہیں آیا بلکے ایک بہت اہم بات کرنے آیا ہوں۔۔۔۔ تو کیا ہم اندر چل کے بات کر سکتے ہیں۔۔۔ فہد نے خوش اخلاقی سے پوچھا۔
ہاں کیوں نہیں آؤ نا۔۔۔ انمول نے فورن اسے اندر آنے کی جگہ دی جب کے ابتسام انمول کو گھور کے رہ گیا تھا۔
وہ سب آگے پیچھے ہی اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔ شگفتہ بیگم لاؤنچ میں ہی بیٹھی تھیں جو فہد کو دیکھ کہ کھڑی ہوگئیں تھی
اسلام و علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔ فہد نے ادب سے انہیں سلام کیا جس کا جواب انہیں نے بہت ہی کم آواز میں دیا تھا۔۔۔ البتہ حیران ہو بھی رہ گئیں تھیں اسے یہاں دیکھ کے۔
اتنے سال بعد کیسے آنا ہوا۔۔۔ صوفے پہ بیٹھتے انمول نے پوچھا۔
بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں آگر اجازت ہو تو بات شروع کروں۔۔۔ فہد نے بات کا آغاز کرنے سے پہلے اجازت چاہی۔
بات بعد میں شروع کرے گا پہلے یہ تو بتائیں آپ لوگ ایک دوسرے کو جانتے کیسے ہیں۔۔۔ وردہ کو اب بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس لیئے وہ بےچینی سے پوچھنے لگی۔
بیٹا میں آپ کے مما بابا کا دوست ہوا کرتا تھا ماضی میں پھر میں باہر چلا گیا تو رابطہ منقطع ہوگا اب جب اتنے سال بعد واپس آیا ہوں تو یہ دونوں مجھے دیکھ کہ شوکڈ ہو گئے ہیں۔۔۔ فہد نے اصل بات چھپاتے بہانا بنایا۔۔۔۔ وہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ ماضی سامنے آئے۔
او اچھا۔۔۔ وردہ نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
بسام دائم کو فون کر کے کہہ دو کے ہم تھوڑی دیر تک آئیں گے اور وردہ تم جاؤ پروین (ملازمہ) سے کہو کچھ کھانے کے لیئے لے کے آئے۔۔۔ انمول نے دونوں کو وہاں سے بھیجا تو دونوں اسکا حکم فورن بجالائے تھے۔
میں جانتا ہوں آپ سب مجھ سے خفا ہوں گے۔۔۔ شاید مجھ پہ غصہ بھی ہوں لیکن ماضی میں جو کچھ بھی ہوا تھا اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔۔ اور ناہی میں چاہتا ہوں کے یہ ماضی ہمارے بچوں گے سامنے آئے۔۔۔ کیونکہ جو گزر کیا اسے دھرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن میں پھر بھی ایک بار آپ لوگوں سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔ امید کرتا ہوں آپ لوگ مجھے معاف کریں گے۔۔۔ فہد نے ہاتھ جوڑے معافی مانگی۔
نہیں فہد تمہیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم سب تمہیں پہلے ہی معاف کر چکے ہیں اب بہتر ہے تم بھی اس بات کو بھول جاؤ اور آگے بڑھو۔۔۔انمول کے مسکرا کے کہنے پہ اسنے تشکر سے اسے دیکھا۔
بیٹا آپ کو کوئی ضروری بات کرنی تھی نا۔۔۔ نسرین بیگم نے وردہ اور بسام کو وہاں آتے دیکھ بات بدلی۔
جی آنٹی میں یہاں ایک بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں۔۔۔ اصل میں میرا ایک بیٹا ہے جو پولیس میں ہے ۔۔۔ ویسے تو ہمارا اپنا بہت بڑا بزنس ہے لیکن میرا بیٹا اپنے ملک کے لیئے کچھ کرنا چاہتا تھا اس لیئے اسنے پولیس جوائن کی ہے۔۔۔ کافی اچھی پوسٹ پہ ہے۔۔۔ تو میں اسکے لیئے۔۔۔
تم نے شادی کب کی۔۔۔۔ فہد ابھی اپنی بات مکمل کرتا اس سے پہلے ہی انمول بول پڑی۔۔۔
کافی سال پہلے ۔۔۔ فہد نے اسکے حیرت سے پوچھنے پہ اسے مزے سے جواب دیا تو وہ اسکے الٹے جواب پہ منہ بنا گئی ۔
تم اسے چھوڑو اور اپنی بات مکمل کرو۔۔۔ ابتسام نے سنجیدگی سے کہا تو انمول نے اسے گھور کے دیکھا۔
ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میرا بیٹا کافی اچھی پوسٹ پہ ہے اور میں چاہتا ہوں کے اب اسکی شادی کردی جائے۔۔۔ تو میں اسی سلسلے میں یہاں آیا ہوں۔۔۔ فہد نے سب کی سوالیہ نظریں خود پہ دیکھتے بات جاری رکھی۔
میں چاہتا ہوں ہم اپنی دوستی رشتے داری میں بدل دیں۔۔۔۔ میں تمہاری بیٹی کو اپنی بیٹی بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ امید ہے تم انکار نہیں کرو گی۔۔۔ فہد نے امید بھرے لہجے میں کہاں تو سب چونک گئے۔
جہاں ابتسام نے مٹھیاں بھیجیں تھیں وہیں وردہ نے حیرت سے پوری آنکھیں کھولیں تھیں۔۔۔ جب کے انمول کے چہرے پہ تو خوشی آگئی تھی۔
ہم۔۔۔ ابتسام کچھ کہتا اس سے پہلے انمول بول پڑی۔
یہ تو بہت اچھی بات کی ہے تم نے فہد۔۔۔ یقین جانوں مجھے تو بہت خوشی ہوئی ہے۔۔۔ بھئ کوئی ہاں بولے یا نا بولے لیکن میری طرف سے تو ہاں ہیں۔۔۔ انمول کے چہک کے کہنے پہ سب نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا جب کے وردہ تو صدمے میں چلی گئی تھی۔
اوہو بھائی مبارکہ مبارکہ۔۔۔ بسام جو وردہ کے برابر میں بیٹھا تھا اسے کہنی مارتے شرارت سے بولا تو وہ صومے سے باہر آئی۔
مگر میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ وردہ فورن کھڑی ہوتی بولی تو کچھ کہنے کے لیئے لب کھوتے ابتسام نے واپس لب بند کرلیئے۔۔۔ وہ بھی انکار ہی کرنے والا تھا لیکن اب جب اسکی بیٹی خود ہی انکار کر رہی تھی تو وہ کیوں کچھ کہتا۔
چپ ہو جاؤ بڑے بات کر رہے ہیں نا۔۔۔ انمول نے اسے گھورتے ہوئے ڈانٹا۔
انو اسے بولنے دو۔۔۔ ہاں بیٹا بتاؤ آپ کیوں شادی نہیں کرنا چاہتیں ۔۔۔ نا شادی کرنے کی کوئی وجہ بھی تو ہوتی ہے نا۔۔۔ فہد انمول سے کہتا بعد میں وردہ سے پیار سے پوچھنے لگا۔
انکل میں اپنا فیوچر بنانا چاہتی ہو۔۔۔ بزنس ومین بنانا چاہتی ہوں۔۔۔ میں ابھی اتنی جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ وردہ نے اپنی طرف سے کافی مظبوط جواز پیش کیا تھا۔
بیٹا اس میں ایسی تو کوئی بڑی بات نہیں ہے آپ شادی کے بعد ہمارا بزنس سنبھال سکتی ہو۔۔۔ میرا جو کچھ بھی ہے وہ سب میرے بیٹے کا ہے اور جب آپ اسکی زندگی میں آؤ گی تو یہ سب آپ کا بھی تو ہوگا نا۔۔۔۔ فہد نے اسے شفقت سے سمجھایا تھا تو وہ سوچ میں پڑھ گئی۔
فہد تم اسے چھوڑو ہمیں تو یہ رشتہ۔۔۔۔
ہمیں سوچنے کے لیئے وقت چاہیئے۔۔۔ انمول کی بات بیچ میں کاٹتے ابتسام سنجیدگی سے بولا۔
مگر وقت کا کیا کریں گے ہم فہد کا بیٹا ہے تو یقیناً اچھا ہی ہوگا نا۔۔۔ انمول ابتسام کی بات سنتے بدمزہ ہوئی تھی۔
انمول میں کہہ رہا ہوں نا ہم پہلے تایا ابو سے بات کریں گے پھر ہی کوئی جواب دیں گے اور ویسے بھی ابھی وردہ بھی شادی نہیں کرنا چاہتی اس لیئے ہمیں اتنی جلد بازی نہیں دیکھانی چاہیئے۔۔۔ ابتسام نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے لہجے کو نامحسوس سخت کرتے کہا جب کے انمول اسکا سخت لہجہ محسوس کر سکتی تھی اس لیئے خاموش ہوگئی۔
چلو ٹھیک ہے جیسا تمہیں ٹھیک لگے لیکن میں انکار نہیں سنا چاہتا۔۔۔ فہد آگے بڑھتے ابتسام کے گلے لگا تو مرواتا ابتسام بھی کھڑے ہوتے اسکے گلے لگا۔
ابتسام میں اپنے بابا کی طرح بلکل نہیں ہو میں اور میرا بیٹا تمہاری بیٹی کو بہت خوش رکھیں گے۔۔۔ آگر تم میرے بابا. کی وجہ سے یہ رشتہ نہیں کرنا چاہتے تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کے میں نے پچھلے پچیس سالوں سے اپنے بابا سے بات نہیں کی ۔۔۔ دامل میرا بیٹا ہے مجھے یقین ہے وہ تمہاری بیٹی کو خوش رکھے گا باقی اب تمہارا فیصلہ ہے۔۔۔ فہد اسکے گلے لگے اسکے کان میں سرگوشی نما کہتا پیچھے ہٹا تو ابتسام محض ہاں میں سر ہلا کے رہ گیا۔
اچھا اب میں چلتا ہوں۔۔۔ فہد سب سے ملتا وردہ کہ سر پہ ہاتھ پھیرتے باہر نکل گیا۔
اب ہمیں بھی چلنا چاہیئے دائم انتظار کر رہا ہو گا۔۔۔ ابتسام نے سب کو خاموش دیکھ کہا۔
ہاں ہاں چلیں۔۔۔ بسام فورن کھڑا ہوا۔
وہ سب گھر سے نکلے تو سب آگے چل رہے تھے جب کے ابتسام اور انمول پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔۔۔
انو اپنا موڈ ٹھیک کر لو بیٹے کا رشتہ لینے جارہی ہو ایسے لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ جاؤ گی تو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ اسکی خاموشی نوٹ کرتے ابتسام نے آہستہ سے کہا۔
بات نہیں کریں آپ مجھ سے۔۔۔ انمول غصے سے کہتی تیز تیز قدم بڑھاتی آگے بڑھ گئی جب کے پیچھے بیچارا ابتسام ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
وہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ ہر فیصلہ سوچ سمجھ کے اور اپنی بیٹی کی مرضی سے کرنا چاہتا تھا لیکن انمول تو جیسے ٹھان چکی تھی وردہ کی شادی فہد کے بیٹے سے کرانے پہ۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ لوگ دائم کے گھر میں داخل ہوئے تو سب لوگ انکے ہی منتظر تھے۔
ہم لوگ تم لوگوں کا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ صوفے پہ بیٹھتے ماہی نے مسکرا کے کہا۔
یہ تم لوگ کیا ہوتا ہے بھئی۔۔۔ ہم لوگ اپکی بیٹی کے ہونے والے سسرال والے ہیں تو زرا بمیز سے بات کریں مسسز دائم۔۔۔ انمول نے فل ایٹیٹوڈ سے کہتے ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائی تو سب کی ہنسی نکل گئی۔
جی جی انو جی جیسا آپ کہیں۔۔۔ دائم نے فورن کہا تو اسنے کردن اکڑاتے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔
ہماری بہو کہاں ہیں اسے تو لائیں ہماری اور ہمارے بیٹے کی آنکھیں شدت سے منتظر ہیں تحریم کے دیدار کی کیوں بیٹا میں نے ٹھیک کہا نا۔۔۔ انمول نے بسام کے بار بار تحریم کے کمرے کی جانب دیکھنے پہ چوٹ کی تو وہ گڑبڑا گیا۔
نہ۔۔۔ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ اسنے بوکھلا کے کہا تو لاؤنچ میں سب کا قہقہہ گونجا۔
میں لاتا ہوں تحریم کو۔۔۔ دائم کہتے اٹھ کے تحریم کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
اسنے دروازے پہ دستک دی تو دو منٹ سے بھی کم وقت میں دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔
جی بابا۔۔۔ تحریم نے اسے اندر آنے کی جگہ دیتے معصومیت سے پوچھا۔
تمہاری ساس تمہیں نیچے بلا رہی ہے ۔۔۔ دائم نے مسکرا کے کہا تو وہ شرم سے سر جھکا گئی
می۔۔۔ میں آتی ہوں۔۔۔ وہ اٹک اٹک کے بولی۔
بیٹا کیا آپ کو لگتا تھا کہ آپ کے بابا آپکی خوشی سے زیادہ اپنی خوشی کو اہمیت دیں گے۔۔۔ دائم نے پیار سے پوچھا تو اسنے ایک دم گردن اٹھا کے اسے دیکھا۔
نہیں بابا میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ اسنے فورن نا میں سر ہلایا۔
تو پھر اپنے بابا کو بتایا کیوں نہیں کہ تمہاری خوشی بسام میں ہے۔۔۔ اسکا چہرہ دیکھتے بولا جس کی آنکھوں میں آنسوں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔
بابا آپ اتنے خوش تھے اس دن۔۔۔ اس دن کتنے پیار اور مان سے پوچھا تھا تو میں کیسے انکار کر کے آپ کا مان توڑ دیتی۔۔۔ دو آنسوں ٹوٹ کے گال پے پھسلے تھے
نہیں بیٹا روتے نہیں ہیں۔۔۔ آپ میرا مان فخر غرور سب ہو۔۔۔ اور میرے لیئے آپ کی دلی رضامندی اہمیت رکھتی ہے۔۔۔۔ سمجھیں چلو اب رو نہیں ورنا وہ جو باہر تمہاری ساس بیٹھی ہے نا آگر اسنے تمہیں روتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ میرا سر پھاڑ دے گی کہ میں نے اسکی بیٹی کو رلایا ہے۔۔۔ دائم نے اسکے آنسوں صاف کرتے کہا تو وہ دائم کی بات سنتے نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
اسے مسکراتے دیکھ دائم اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتا اسے اپنے ساتھ لیئے کمرے سے باہر بڑھا۔
ہر اٹھتے قدم کے ساتھ اسکی نروسنس بڑھتی جارہی تھی ۔۔۔۔ اسکے لیئے انمول اور اسکے گھر والے غیر نہیں تھے لیکن آج جیسے دل میں ایک الگ ہی ہلچل مچی ہوئی تھی ۔۔۔
ارے ماشاءاللہ میری بچی آگئی۔۔۔ ادھر آؤ ریم۔۔۔ تحریم کو آتے دیکھ انمول نے کھڑے ہوتے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔ تو وہ دھیرے سے چلتی اسکے پاس جا بیٹھی جب کے بسام کی نظریں تو اس پہ سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں ۔۔۔ وہ ہلکے سے میک اپ میں فروزی سوٹ پہنے دوپٹہ کندھے پہ ڈالے بسام کے سیدھے دل میں اتر رہی تھی
کیسی ہیں بھابھی جان۔۔۔ وردہ نے شوخی سے اسے چھیڑا۔۔۔ تو اسکے بھابھی جان کہنے پہ وہ جھنپ گئی۔
دائم ویسے تو ہماری بیگم پہلے ہی سب طے کر کے جا چکی تھیں اس لیئے ہم بھی کوئی لمبی چوڑی بحث میں نہیں پڑھیں گے بس سیدھے اپنی بیٹی کو انگوٹھی پہنائیں گے۔۔۔ ابتسام نے مسکراتے ہوئے رسان سے کہا۔
جیسے تم لوگوں کو بہتر لگے ۔۔۔ دائم کے کہنے کی دیر تھی کہ انمول نے فورن بیگ سے انگوٹھی نکال کے تحریم کے ہاتھ میں پہنادی۔
چلو بھئی آج سے تحریم تمہارے پاس ہماری امانت ہے اور ہم اپنی یہ امانت جلد ہی تم سے لے نے آئیں گے ۔۔۔ انمول تحریم کو اپنے ساتھ لگائے بولی تو سب کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔ ماہی کھانے کا کہتی اٹھ گئی
کچھ ہی دیر بعد کھانے لگ چکا تھا سب نے ہنسی مزاق کے ساتھ کھانا خوب انجوائے کیا تھا۔۔۔
بسام بار بار تحریم کی جانب دیکھ رہا تھا اور بچاری تحریم اسکی پرتپش نظروں سے گھبرا رہی تھی ۔۔
کھانے سے فارغ ہوتے ان لوگوں نے واپسی کی راہ لی تھی۔۔۔
ابھی جارہا ہوں لیکن بہت جلد تمہیں ہمیشہ کے لیئے اپنا بنا کے لے جانے آؤ گا۔۔۔ سب کو اپنے ہی دھیان میں باتیں کرتے دیکھ بسام نے تحریم کے کان میں سرگوشی کی تھی جسے سنتے وہ نظریں ہی نہیں اٹھا پائیں تھی۔۔۔
جب کے اسکا یہ شرمایا گھبرایا روپ بسام اپنی آنکھوں میں محفوظ کرتا سب کو خدا حافظ کہتے باہر نکل گیا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
افف اتنی بھاری جیولری۔ ۔ آج تو بہت تھک گئی ہوں اس میں۔۔۔ کمرے میں آکے انمول اپنی جیولری اترتی بولی تو بیڈ پہ لیٹے ابتسام نے اسے محبت پاش نظروں سے دیکھا۔
تو کس نے کہا تھا اتنا پہن کے جاؤ ۔۔۔ ویسے ہی اتنی حسین لگتی ہو۔۔۔ تمہیں ان سب چہروں کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ابتسام نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو انمول نے شیشے میں سے اسے گھورا۔
مسٹر ڈریگن آپ کو تو مجھ سے بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ منہ بنا کے بولی۔
کیوں بھئئ میں نے کیا کر دیا۔۔۔ وہ فورن سیدھے ہوتے بولا۔
آپ اچھے سے جانتے ہیں آپ نے کیا کیا ہے۔۔۔ وہ اسے دیکھے بغیر لہجے میں ناراضگی لیئے بولی تو ابتسام گہرا سانس بھرتے اسکے پاس آیا۔
انمول ہماری بیٹی ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تو ہم اس کے ساتھ زبردستی کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔ ابتسام نے یہ نہیں کہا کے وہ فہد کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتا بلکے اسنے ساری بات وردہ پہ ڈال دی۔۔۔ تاکہ شاید وہ اسکے کہنے پہ نا سہی لیکن اپنی بیٹی کے لیئے تو انکار کر ہی دے گی۔
میں وردی سے خود بات کر لوں گی۔۔۔ آپ بس اپنی بات کریں۔۔۔ انمول نے جیسے اسکا مسئلہ حل کیا تھا۔
انمول جو کچھ پہلے ہو چکا ہے میں نہیں چاہتا کہ وہ سب واپس ہو۔۔۔ اب ہماری بیٹی کا معاملہ ہے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا فہد پہ یقین کر کے۔۔۔ وہ ویسے بھی ابھی ہم نے تایا ابو سے بھی بات نہیں کی اس بارے میں تو ہمیں خود سے بھی ابھی کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہیئے۔۔۔ ابتسام اسکے دونوں ہاتھ تھامتے بہت پیار سے سمجھا رہا تھا لیکن اسے ابتسام کی ساری باتیں فضول لگ رہیں تھیں ۔
دیکھیں مسٹر ڈریگن جب حماد نے وردہ کا ہاتھ مانگا تھا اور جب وردہ نے انکار کیا تھا میں چاہتی تو تب بھی وردہ کو اس رشتے کے لیئے منا سکتی تھی لیکن سیف کسی اور میں انٹرسٹڈ تھا اس لیئے میں خاموش ہو گئی لیکن اب میں گھر آئے اچھے رشتے کو بلکل انکار نہیں کروں گی۔۔۔ اور وہ بھی تک تو بلکل لیکن جب میں جانتی ہو کے ہماری بیٹی کسی کو پسند نہیں کرتی وہ بس ایک بزنس ومین بنے کے لیئے انکار کر رہی ہے تو یہ کوئی وجہ نہیں ہے۔۔۔جیسے فہد نے کہا وہ شادی کے بعد اسکا بزنس سنبھال سکتی ہے تو پھر مسئلہ کیا ہے۔۔۔ بھائی بیٹی جوان ہوگئی ہے اب اسے ساری زندگی گھر تو نہیں بٹھا سکتے نا ۔۔۔ ابھی اچھے رشتے آرہے ہیں بعد میں ایسے رشتے نہیں ملتے۔۔۔ آپ سمجھیں میری بات کو۔۔۔ انمول نے امید سے ابتسام کو سمجھایا کہ شاید وہ اسکی بات سمجھ جائے لیکن ابتسام کے دماغ میں کیا چل رہا تھا یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا۔
تم چینج کرو۔۔۔ کافی تھک گئی ہوں گی ہم یہ بات کل تایا ابو کے سامنے کریں گے پھر وہ جو فیصلہ لیں گے وہیں آخری فیصلہ ہوگا۔۔۔ ابتسام نے بات ٹالنی چاہی لیکن انمول کہاں ٹلنے والوں میں سے تھی۔
میں جانتی ہوں سب کا فیصلہ فہد کے حق میں ہی ہوگا بس ایک آپ کو چھوڑ کے لیکن میں بھی ایک بات صاف صاف کہہ دیتی ہوں کے میں فہد کے بیٹے سے ہی اپنی بیٹی کی شادی کروں گی بس بات ختم۔۔۔ انمول غصے سے کہتی اپنے کپڑے لیئے واشروم میں گھس گئی۔۔۔ پیچھے ابتسام نفی میں سر ہلا کے رہ گیا۔
اب آگے کیا ہونے والا تھا،،، کس کے حق میں فیصلہ جانے والا تھا یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
