820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 14)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

اسلام و علیکم ڈیڈ۔۔۔ صبح ناشتے کا وقت تھا جب دامل تھکا ہارا کندھے پہ بیگ لٹکائے لاؤنچ میں داخل ہوتے صوفے پہ بیٹھے چائے پیتے فہد کو دیکھ کے بولا۔

وعلیکم اسلام بیٹا کیسے ہو۔۔۔ کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔۔۔ فہد اسکا تھکن زدہ چہرہ دیکھ کے پیار سے بولا۔

جی ڈیڈ بس دن رات گیس حل کرنے میں لگائے ہیں اس لیئے نیند پوری نہیں ہوئی۔۔۔ فہد گہرا سانس بھرے صوفے کی پشت سے ٹھیک لگا گیا۔

جاؤ بیٹا فریش ہوکے تھوڑی دیر آرام کرلو۔۔۔ جاؤ شاباش۔۔۔ فہد کے کہنے پہ وہ ہاں میں سر ہلاتا اپنا بیگ لیئے اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

وہ کمرے میں داخل ہوتے اپنا بیگ صوفے پہ رکھتے الماری سے آرام دہ کپڑے لیتا واشروم میں گھس گیا۔۔۔

پندرہ منٹ بعد وہ فریش ہو کے آکے آڑھا ترچھا ہی بیڈ پہ لیٹ گیا۔۔۔ ابھی اسے لیٹے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اسے پانی کی شدید طلب محسوس ہوئی وہ اٹھ کے سائڈ کورنر پہ رکھے جگ سے پانی نکالنے ہی لگا تھا کہ اسکی نظر ایک سفید لفافے پہ گئی۔۔

کل انمول لوگوں کے جانے کے بعد ہی فہد بغیر لفافہ کھولے اسکے کمرے میں رکھ کے چلا گیا تھا کہ جب بھی وہ آئے گا تو وردہ کی تصویر دیکھ لے گا۔

اسنے فورن سے وہ لفافہ کھول کے دیکھا جس میں سے اسکی اپنی ہی تصویر نکلی تھی۔

یہ کیا میری تصویر ایسے لفافے میں کیا کر رہی ہے یہاں۔۔۔ کہیں کسی دشمن کی کوئی نئی چال تو نہیں۔۔۔تو کیا میرے دشمن میرے گھر تک آ پہنچے ہیں۔۔۔ وہ پولیس والا تھا اس لیئے سب سے پہلا خیال یہی آیا کہ شاید اسے ڈرانے کے لیئے کسی نے ایسے لفافہ میں تصویر رکھ کے یہاں چھوڑی ہے۔۔۔ کیونکہ اسکے دشمنوں کی کمی نہیں تھیں۔۔۔ آئے روز اسے کوئی نا کوئی دھمکی ملتی ہی رہتی تھی اس لیئے وہ ابھی بھی یہی سمجھا تھا۔

ڈیڈ سے پوچھوں اس بارے میں۔۔۔

نہیں نہیں وہ پریشان ہو جائیں گے۔۔۔ میں خود ہی دیکھ لوں گا۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں لفافہ کو اچھی طرح دیکھنے لگا۔۔

لیکن جب کوئی بھی سوراخ نا ملا تو لفافہ اور تصویر دونوں دراز میں رکھتے لیٹ گیا۔۔۔ لفافہ کے بارے میں سوچتے سوچتے کب اسکی آنکھ لگی اسے پتہ ہی نا چلا اور وہ نیند کی وادی میں اتر گیا۔

۔🌺🌺🌺

وردہ نہیں آئی۔۔۔ سب ڈائنگ ٹیبل پہ موجود تھے سوئے وردہ کے جسے انمول نے ملازمہ کو بلانے بھیجا تھا لیکن اسے بھی خاموشی سے آتے دیکھ وہ پوچھ بیٹھی۔

بیگم صاحبہ وہ سو رہی ہیں ۔۔۔ اور انہیں نے کہا ہے آپ کو بتا دوں کے وہ آج آفس نہیں جائیں گی ۔۔۔ ملازمہ ادب سے کہتی کچن میں چلی گئی تو انمول بھی سر جھٹک کے رہ گئی۔

چلو بیٹھا آپ ناشتہ کرو وردہ جب اٹھے گی تب کرلے​ گی۔۔۔ نسرین بیگم نے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی اپنی پلیٹ پہ جھک گئی۔

مما بابا آپ لوگ تحریم کے گھر کب جائیں گے شادی کی بات کرنے۔۔۔ بسام نے جوس کا گلاس اٹھاتے پوچھا۔

چلے جائیں گے ایک دو دن میں۔۔۔ انمول نے مصروف انداز میں جواب دیا۔

مما پلیز آج ہی جائے گا نا۔۔۔ بسام نے منت کی۔

بڑے بےصبرے ہو رہے ہو۔۔۔ ابتسام نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے طنز کیا تو وہ گڑبڑا گیا۔

نہیں بابا میں تو بس اس لیئے کہہ رہا تھا کہ وہ لوگ لڑکی والے ہیں،،، سو طرح کی تیاریاں کرنی ہوگی تو اچھا ہے نا جلدی بات کریں گے تو انہیں زیادہ وقت مل جائے گا تیاری کرنے کا۔۔۔ بسام نے فورن بہانا بنایا۔

بیٹا جی ہمیں ان سے کون سا جہیز چاہیئے جو انہیں تیاری میں وقت لگے گا بس دو چار کپڑے ہی بہت ہیں۔۔۔ اور کپڑوں کی تیاری میں اتنا وقت نہیں لگتا۔۔۔ انمول نے سمجھایا مگر بسام تو ہوا کے گھوڑے پہ سوار تھا آخر ہوتا بھی کیوں نا انمول پہ جو گیا​ تھا۔

پھر بھی مما۔۔۔ پلیز اب لوگ آج ہی جائے گا۔۔۔ بسام نے ضدی انداز میں کہا۔

مسٹر ڈریگن یہ تو ابھی سے شادی کے لیئے اتنا اتاولا ہو رہا ہے ایسا نا ہو شادی کے بعد ہمیں ہی بھول جائے۔۔۔ انمول نے اداس شکل بنائے کہا تو بسام فورن اپنی جگہ سے اٹھتا اپنی ماں کے پاس آیا۔

مما یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ۔۔۔ میرے لیئے سب سے اہم آپ ہیں اور رہیں گی بھی۔۔۔ کبھی یہ نہیں سمجھیں گا کہ شادی کردی تو آپ کا بیٹا پرایا ہو گیا۔۔۔ ایسا بلکل نہیں ہو گا۔۔۔ میں آپ کا بیٹا سب سے پہلے تھا اور رہوں گا بھی۔۔۔ بسام انمول کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے محبت بھرے لہجے میں بولا تو انمول کو ٹوٹ کہ اس پے پیار آیا۔۔۔ اسنے تو بس ایسے ہی مزاق میں کہہ دیا تھا لیکن اسکا بیٹا تو واقع سیریس ہوگیا تھا۔

ہائےےےے میرا بیٹا۔۔۔ انمول نے اسکا ماتھا چومتے اسے کھڑا کیا۔

سارا پیار ماں سے ہی کرنا باپ تو اہم ہی نہیں ہے تمہارے لیئے۔۔۔ ابتسام دونوں کو آپس میں لگے دیکھ مسنوعی خفگی سے بولا۔

بابا آپ بھی میرے لیئے اہم ہیں لیکن میری مما سے کم۔۔۔ بسام مزے سے کہتا انمول کے کندھے پہ لاڈ سے سر رکھ گیا جس پہ وہ ابتسام کو چڑانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔

ان لوگوں کا پیار دیکھ ٹیبل پہ موجود بڑوں نے انہیں ہمیشہ ایسے ہی خوش رہنے کی دعا دی۔

۔🌺🌺🌺

آجائیں۔۔۔۔ سیف اپنے آفس روم میں بیٹھا کوئی فائل ریڈ کر رہا تھا جب دروازہ نوک ہونے پہ اسنے اندر آنے کی اجازت دی۔

سر یہ آج اور کل کی میٹنگ کا شیڈول ہے۔۔۔ نور نے اسکے سامنے کچھ کاغذ رکھتے کہا۔

ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ سیف اسے دیکھے بغیر سپاٹ انداز میں بولا تو ناجانے کیوں لیکن نور کو لگا کہ وہ اسے اگنور کر رہا ہے۔۔

میں جاؤں۔۔۔ اسنے پتہ نہیں کیا سوچ کے پوچھا تھا جس پہ سیف نے گردن اٹھا کے اسے دیکھا۔۔۔ بلیک حجاب میں مقید وہ پرنور چہرہ اس وقت بہت دلکش لگ رہا تھا۔

جی بس میرے لیئے ایک کپ چائے بھیج دے گا۔۔۔ سیف نے دھیرے سے مسکرا کے کہتے نظریں واپس فائلز کی جانب کرلیں۔

جی سر۔۔۔ وہ کہتی جانے لگی جب سیف کی پکار سنتے رکی۔

نور۔۔۔ سیف کی آواز میں ایسا کچھ تھا جس سے نور کا دل زور سے دھڑکا تھا۔

وہ پیچھے مڑتی اسے سوالیہ​ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔ اسکی سوالیہ نظریں خود پے دیکھتے سیف کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھری۔

نور میرے والدین آپ کے گھر آئے تھے رشتہ لے کے۔۔۔لیکن آپ کے والدین نے ٹائم مانگا تھا۔۔۔ مجھے لگا تھا کہ کہیں آپ دوسرے دن آکے رزائن نا کردیں لیکن آپ کا نارمل بیہویر دیکھ کہ مجھے اچھے کی امید لگ رہی ہے۔۔۔ سیف نے گھمبیر لہجے میں مسکراتے معنی خیزی سے کہا تو نور کی گھبراہٹ بڑی۔

سر میرے والدین کی جو مرضی ہوگی مجھے وہ قبول ہوگی۔۔۔ اب اس میں چاہے وہ ہاں کریں یا نا مجھے انکا ہر فیصلہ قبول ہوگا۔۔۔۔ نور گردن جھکائے بولی۔

اور میں آپ کے والدین کے ہر فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔۔۔ سیف کا مسکراتا لہجہ سن کے وہ ایک نظر اسے دیکھ جلدی سے باہر نکل گئی۔۔۔

سیف کی آخری بات سنتے نور کے دل میں سیف کے لیئے آج عزت اور بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ وہ شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ سیف کے آفس روم کے دروازے پہ ایک نظر ڈالتی وہاں سے نکل گئی۔

کل سے ہی اسکے گھر میں سیف کے آئے رشتے پہ بات ہو رہی تھی۔۔۔ اسکے ابو نے اس سے پوچھا بھی جس پہ اسنے سارا فیصلہ اپنے والدین پہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔ جب سے سیف کے گھر والے آئے تھے انکا رویہ اور اچھا اخلاق دیکھتے نور تھوڑی مطمئن ہوگئی تھی اور آج سیف کی کہی بات نے جیسے اسکا دل جیت لیا تھا ۔۔۔ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپنے رب پہ چھوڑ کے پرسکون ہوگئی تھی۔

۔🌺🌺🌺

مما۔۔۔ ممماااااا۔۔۔ جلدی سے میرا ناشتہ لگوادیں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وردہ بلند آواز میں انمول کو آواز لگاتی دوڑتی ہوئی نیچے آئی۔

وردہ یہ کون سا وقت ہے ناشتہ کرنے کا۔۔۔ شام کے پانچ بج رہے ہیں۔۔۔ اتنی دیر سے کون اٹھتا ہے۔۔۔ انمول کچن سے نکلتی اسے گھور کے ڈانٹنے لگی۔

رات کو پیکنگ کرتے کافی لیٹ ہوگئی تھی ۔۔۔ اب جب لیٹ سوں گی تو ظاہر ہے لیٹ ہی آنکھ گھلے گی۔۔۔ وردہ جلدی سے کچن میں داخل ہوئی تاکے کچھ کھا سکے۔

پیکنگ کس چیر کی۔۔۔ انمول اسے فرج کھولے اس میں سے رات کا بچا ہوا پاسٹا نکالتے دیکھ حیرت سے استفسار کرنے لگی۔

آپ یہ گرم کر کے لاؤنچ میں لے آئے گا۔۔۔ وردہ ملازمہ سے کہتی انمول کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ باہر لائی۔

مما میری آج سات بجے کی فلائٹ ہے دبئی کی ۔۔۔ اسنے انمول کو اپنے ساتھ صوفے پہ بیٹھاتے مسکرا کے بتایا۔

وردہ کل تو تم نے جانے کی پرمیشن لی تھی اور آج فلائٹ کیسے۔۔۔ انمول نے ناسمجھی سے پوچھا

ہم لوگ جانے کی پلینگ ابھی سے نہیں بلکے پچھلے ایک مہینے سے کر رہے تھے ۔۔۔ ساری تیاری مکمل تھی اور میں جانتی تھی کہ آپ کو منا لوں گی اس لیئے میں نے ایک دن پہلے بتایا تھا۔۔۔ وردہ اسکی گود میں سر رکھے لیٹتے مزے سے بولی۔

آگر مسٹر ڈریگن نا کہتے تو میں تمہیں جانے کی اجازت کبھی نا دیتی۔۔۔ وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی تو وردہ کو ایک دم کچھ یاد آیا اس نے جلدی سے آٹھ کے ٹیبل پہ رکھا اپنا فون اٹھایا اور ابتسام کو کال ملائی۔

کیا ہوا ہے لڑکی۔۔۔ اسے ہڑبڑا کے اٹھتے دیکھ انمول پریشانی سے پوچھنے لگی جس پہ وردہ نے ہاتھ سے ایک منٹ کا اشارہ کیا۔

بابا آپ نے میرے اکاؤنٹ میں پیسے ڈلوادیئے تھے نا۔۔۔۔ کال ریسیو ہوتے ہی وردہ نے پوچھا۔

ہاں بیٹا میں نے ڈلوادیئے تھے۔۔۔ آگر اور بھی ضرورت ہو تو بتا دینا۔۔۔ دوسری طرف سے ابتسام نے پیار سے کہا۔

تھینکیو بابا ڈریگن۔۔۔ وردہ کے کہنے پہ ابتسام کھل کے ہنسا۔

ہاہاہا۔۔۔۔ خیر سے جاؤ خیر سے آؤ۔۔۔ ابتسام نے خیریت کی دعا دیتے کال بند کردی۔۔۔

تم نے اپنے بابا کو کب بتایا کہ تم آج جارہی ہو۔۔۔ انمول نے اسے آنکھیں چھوٹی کیئے گھور کے دیکھا۔

مما آپ چھوڑیں نا۔۔۔ یہ بتائیں کل جو آپ نے مجھے لفافہ دیا تھا کیا آپ نے وہ کھول کے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ وہ ملازمہ سے پاسٹے کی پلیٹ لیتی انمول کا دھیان اس بات سے ہٹانے لگی۔۔

وہ ابتسام کو بیس دن پہلے سے ہی بتا چکی تھی لیکن وہ یہ بات ابھی انمول کو نہیں بتا سکتی تھی ورنا وہ غصہ کرتی اور کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ اسے جانے سے بھی منا کردیتی اس لیئے وہ بات ہی بدل گئی تھی۔

نہیں ہم نے کھول کے نہیں دیکھا تھا کیوں کیا ہوا ہے۔۔۔ وردہ اسکا دھیان ہٹانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

اس میں میری ہی تصویر تھی۔۔۔ وردہ پاسٹے کا چمچہ بھر کے منہ میں ڈالتی بولی۔

اوووو۔۔۔۔ لگتا ہے میں غلطی سے تمہارا والا ہی لفافہ لے آئی خیر کوئی نہیں تم جب واپس آؤ گی تو تم خود اس سے روبرو مل لینا۔۔۔ ورنا آگر تم بولتی ہو تو میں دامل کی تصویر فہد سے مانگ کے تمہیں واٹس ایپ کردوں گی۔۔۔ انمول نے مشورہ دیا۔

نہیں مما رہنے دیں مجھے نہیں دیکھنا ۔۔۔ اپنے فون پہ اپنی دوست کی کال آتے دیکھ اسنے جلدی سے بات ختم کی۔

جیسی تمہاری مرضی۔۔۔ انمول نے بھی کندھے اچکا دیئے۔

ہاں بس میں نکل رہی ہوں۔۔۔ وردہ نے فون بند کرتے جلدی سے نوالے بھر بھر کے منہ میں ڈالے اور آٹھ کھڑی ہوئی۔

وردہ یہ ختم تو کرو۔۔۔ انمول اسے جلد بازی میں اٹھتے دیکھ بولی۔

نہیں مما مجھے دیر ہو رہی ہے میری فلائٹ میں بس ڈیڑھ گھنٹہ بچا ہے مجھے ابھی نکلنا ہے۔۔۔ اسنے لاؤنچ میں لگے بڑے سے شیشے میں دیکھتے اپنے بال ٹھیک کرے۔

جہانگیر بابا گاڑی نکالیں ائرپورٹ جانا ہے۔۔۔ انمول نے اپنے پرانے ڈرائیو کو آواز لگائی اور ایک ملازم کو اوپر سے بیگ لانے بھیجا۔

خدا حافظ مما ۔۔۔ نانی نانا دادی اور بسام کو بھی میری طرف سے خدا حافظ کہہ دے گا۔۔۔ وردہ کس کے انمول کے گلے لگی۔

خیر سے جانا بیٹا اور مجھے اپنے ہر ایک گھنٹے کی خبر دیتی رہنا۔۔۔ انمول اسپے حفاظت کی دعا پڑھ کے پھوکنے لگی۔

جی مما ضرور۔۔۔ اپنا خیال رکھے گا آپ ۔۔۔ اللہ حافظ۔۔۔ وردہ اسکا گال چومتی باہر نکل گئی۔

جب کے انمول اسکی حفاظت کی دعا کرنے بیٹھ گئی تھی۔

۔🌺🌺🌺

ڈیڈ کہاں ہیں۔۔۔ دامل سو کے اٹھتے شام میں نیچے آیا تو فہد کو کہیں نا پاکے ملازم سے پوچھنے لگا۔

صاحب جی تو آفس گئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ ملازم نے ادب سے کیا تو وہ اسے کافی کا کہتے باہر لان میں چلایا۔

وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسلسل اسی لفافے کے بارے میں سوچے جا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ آخر یہ حرکت ہے کس کی۔۔۔

صاحب جی کافی۔۔۔

ہممم رکھ دو۔۔۔ اسنے کافی ٹیبل پہ رکھنے کا اشارہ کیا تو وہ ٹیبل پہ کافی رکھتی واپس چلا گیا۔۔۔۔گھر میں وہ دو ہی باپ بیٹے تھے اس لیئے انہوں نے ملازم بھی مرد رکھے ہوئے تھے۔

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا جب اسکا فون بجا۔۔۔ اسنے جیب سے فون نکلا کے دیکھا تو کسی انون نمبر سے کال آرہی تھی ۔۔۔ وہ پولیس والا تھا ایسے انون نمبر سے کال آنا اسکے لیئے عام بات تھی اس لیئے اسنے بغیر سوچے کال ریسیو کی۔

جی کون !!!!۔۔۔۔۔۔

۔ A.S.P دامل خان بات کر رہے ہو۔۔۔ دوسری طرف سے انجان آواز سنائی دی۔

جی ۔۔۔ اسنے اک لفظی جواب دیا۔

میں شیرخان بول رہا ہوں۔۔۔ امید ہے مجھے پہچان گئے ہوں گے۔۔۔ اور آگر نہیں پہچانے تو میں تمہیں یاد دہانی کروادیتا ہوں کے پرسوں تم نے جس لڑکے کو اسلحہ اسمگلنگ کے گیس میں گرفتار کیا ہے وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔ دوسری طرف سے انتہائی سرد آواز گھونجی۔

فکر نہیں کرو بہت جلد تم بھی اپنے بیٹے کے ساتھ ہوگے۔۔۔ دامل نے تمسخرانہ انداز میں کہا تو دوسری جانب موجود شخص کو آگ لگی۔

تم نے میرے بیٹے کو پکڑ کے اچھا نہیں کیا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔ شیرخان غرایہ۔

پہلے پکڑ لو پھر ڈیسائڈ کریں گے کے کسے چھوڑنا ہے اور کسے پکڑنا ہے۔۔۔ دامل جلادینے والے لہجے میں کہتا ٹھا کر کے فون بند کرگیا۔۔۔۔ اسے ایسے فون کالز کی عادت تھی اس لیئے اسنے شیرخان کی دھمکی کو بھی نظرانداز کردیا تھا۔۔۔

اسنے کافی کا مگ اٹھایا تو کافی ٹھنڈی ہو چکی تھی وہ مگ لیئے اندر بڑنے لگا اتنی دیر میں فہد کی گاڑی پورچ میں آکے رکی۔۔۔

کیسے ہو بیٹا۔۔۔ نیند پوری ہوئی۔۔۔ فہد اسکی طرف بڑھتے اسکا حال پوچھنے لگا۔

جی بابا نیند پوری ہوگئی ہے۔۔۔ آپ بتائیں آج آپ نے آنے میں دیر کردی۔۔۔ وہ اور فہد دونوں لان میں رکھی کرسیوں پہ آمنے سامنے بیٹھے۔

ہاں بس تھوڑا کام تھا تو سوچا کل پہ چھوڑنے سے بہتر ہے ابھی ختم کر دیتا ہوں۔۔۔ بس ایسی لیئے تھوڑی دیر ہوگئی۔۔۔ خیر تم نے کھانا کھایا۔۔۔ فہد نے اسے اپنا بتاتے پوچھا۔

نہیں میں آپ کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ دامل مسکرا کے بولا۔

چلو پھر دیر کیسی مجھے تو بہت بھوک لگی ہوئی ہے ۔۔۔ تم کھانا لگواؤ میں فریش ہوکے آتا ہوں۔۔۔ فہد کہتا اندر بڑھ گیا تو دامل بھی اسکے ساتھ ہی ہو لیا۔

بیٹا میں نے تمہارے سائڈ کورنر پہ ایک لفافہ رکھا تھا اس میں وردہ کی تصویر تھی کیا وہ تم نے دیکھی۔۔۔ فہد نے جاتے جاتے مڑ کے پوچھا۔۔۔ تو دامل نے بھی اپنے قدم روک لیئے۔

وہ لفافہ آپ نے رکھا تھا۔۔۔ دامل نے پھر سے کنفورم کرنا چاہا۔۔۔ مطلب وہ جو کب سے اس لفافے کر بارے میں سوچ رہا تھا وہ اسکے اپنے باپ نے ہی رکھا تھا۔۔۔

ہاں میں نے ہی رکھا تھا۔۔۔ کل تمہارے سسرال والے آئے تھے تو میں نے انہیں تمہاری تصویر دے دی تھی اور وہ اپنی بیٹی کی تصویر چھوڑ گئے تھے۔۔۔ فہد نے پوری بات بتائی۔

پھر تو بابا نا وہ مجھے دیکھ پائے نا ہی میں اس لڑکی کو۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ شاید اپنا لایا ہوا لفافہ ہی لے گئے ہیں اور ہمارا والا یہیں چھوڑ گئے ہیں۔۔۔ دامل نے ہنس کے بتایا۔

کیا مطلب۔۔۔ فہد نے ناسمجھی سے پوچھا۔

مطلب یہ کہ اس لفافے میں میری ہی تصویر تھی۔۔۔ دامل نے سکون سے کہا تو فہد کو پوری بات سمجھ آئی۔

او اچھا چلو کوئی نہیں میں دوسری تصویر منگوا لوں کا وردہ کی۔۔۔ فہد واپس اندر جانے کے لیئے مڑا۔

نہیں ڈیڈ اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آپ نے لڑکی دیکھ لی اتنا ہی کافی ہے۔۔۔ دامل کے کہنے پہ فہد نے مسکرا کے اسکا کندھا ٹھپٹھپایا۔

خوش رہو۔۔۔ فہد اسے دعا دیتا اندر بڑھ گیا تو وہ بھی ملازمہ کو کھانے کا کہنے کچن کی جانب بڑھ گیا۔

۔🌺🌺🌺