820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 22)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو دامل شرٹ لیس ڈریسنگ کے سامنے گھڑا گیلے بالوں میں کنگھا کر رہا تھا۔۔۔ وہ دروہ کے آنے سے پہلے ہی نہاں کے نکلا تھا۔

اتنی دیر سے اٹھے ہو تم ۔۔۔۔ ویسے ماننا پڑے گا تمہارا گھر ہے بہت پیار۔۔۔ وردہ الماری میں سر دیئے دل سے گھر کی تعریف کرنے لگی۔

ایک دن کی دلہن یوں صبح صبح منہ اٹھا کے کمرے سے نہیں نکلتی۔۔۔ دامل نے طنز کیا تو وردہ تھوڑا پیچھے کو سر جھکاتی دامل کو گھورنے لگی۔

رہنے ہی دوں بس ۔۔۔۔ رات کو منہ دکھائی دیتے وقت یاد نہیں آیا تھا کہ نئی دلہن کو کیسے ٹریٹ کرتے ہیں۔۔۔ مگر تم نے تو ایسا منہ بنایا ہوا تھا جیسے کسی نے زبردستی تمہاری مجھ سے شادی کروائی تھی۔۔۔ اور بات کرتے ہو نئی دلہن کی۔۔۔اونہہ۔۔۔۔ وردہ واپس اپنے کام میں لگتی حصاب برابر کر گئی۔

آگر مجھے پتہ ہوتا نا کہ میری شادی تم سے ہو رہی ہے تو کسی کا باپ بھی مجھے زبردستی تم سے شادی رکنے پہ مجبور نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ دامل بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔۔۔

تم مرد ہوتے ہی ناشکرے ہو ایک تو اتنی اچھی اتنی حسین بیوی ملی ہے اور اوپر سے کیسی ناشکری کی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ وردہ نفی میں سر ہلاتی اسکی بات پہ افسوس کرنے لگی۔۔

دیکھ چکا ہوں کتنی اچھی ہو۔۔۔ بات کرنے کی تو تمیز نہیں ہے زرا بھی۔۔۔ دامل سر جھٹکتے صوفے سے اپنی قمیض اٹھا کے پہنے لگا۔

ماشاءاللہ سے تم بھی کچھ کم نہیں ہو۔۔۔ دو نمبر پولیس والے۔۔۔ وردہ کی بات سنتے دامل کے قمیض پہنتے ہاتھ رکے۔

وہ قمیض سائڈ میں رکھتا لمبے لمبے قدم اٹھاتا دو قدم کا فاصلہ تے کرتے واشروم کی جانب بڑھتی وردہ تک پہنتے اسکا بازو پکڑ کے اپنے ساتھ لگا گیا۔

وردہ اس حملے کے لیئے بلکل بھی تیار نا تھی اس لیئے ایک جھٹکے سے اسکے چوڑے سینے کا حصہ بنی۔

کیا کر رہے ہو یہ​ تم۔۔۔ وہ ایک دم گڑبڑائی تھی لیکن اسکے باوجود بھی لہجے کو مضبوط رکھتی ماتھے پہ بل ڈالے بولی۔

آج کے بعد اگر تم نے مجھے تم کہہ کے بلایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ دامل نے سختی سے وارن کیا۔

واہ تم مجھے تم کہو تو کچھ نہیں اور اگر میں تم کہہ دوں تو برا لگ رہا ہے۔۔۔ جاؤں جو کرنا ہے کر لو میں تم ہی کہوں گی۔۔۔ وردہ نے بھی ڈھیٹائی دیکھائی۔

مت بھولو میں تمہارا شوہر ہوں۔۔۔ اسکے بازو پہ گرفت سخت کرتے اسنے دانت پیس کے کہا۔

جالی A.S.Pمیں تمہارے تھانے کی مجرم نہیں ہوں جو اتنی تیز میرا بازو پکڑا ہے۔۔۔ چھوڑو میرا ہاتھ درد ہو رہا ہے مجھے۔۔۔ بازو پہ دھستی انگلیوں کے باعث وردہ نے بلند آواز میں کہا۔

اسکی آواز بلند ہوتے ہی دامل کی آنکھوں غصے سے لال ہونے لگیں۔۔۔ چہرے پہ ناگواریت چاہ گئی جس سے صاف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اسے وردہ کا تیز آواز میں بات کرنا کتنا ناگوار گزرا ہے لیکن وردہ کو تو اس بات کی کوئی فکر ہی نہی. تھی وہ تو پتہ نہیں کیوں اس سے کھنس پال بیٹھی تھی۔

آواز نیچی رکھو ورنا۔۔۔ دامل نے غصے سے بات ادھوری چھوڑی

ورنا کیا۔۔۔ ایک دن کی دلہن پہ ہاتھ اٹھاؤ گے۔۔۔ مرد ہو اور کر بھی کیا سکتے ہو ۔۔۔ ہاتھ اٹھا کے عورت کی آواز دبانے کے علاوہ۔۔۔ لیکن یاد رکھنا میں بھی کوئی کمزور عورت نہیں ہوں جو تم سے ڈر جاؤ گی ۔۔۔ وردہ مظبوط لہجے میں کہتی بات کو کہاں سے کہاں لے گئی تھی۔

بدتمیز تو تم تھیں یہ تو میں جانتا تھا لیکن اس حد تک ہوں گی یہ مجھے ابھی پتہ چلا ہے۔۔۔ دامل اسکی بےخوف آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا۔

ڈیئر ہسبینڈ پیار سے بات کرو کے تو مجھے اچھا پاؤ گے اور آگر غصہ دکھاؤ گے تو پھر غصہ مجھے بھی آتا ہے۔۔۔وردہ سنجیدگی سے کہتی ایک جھٹکے سے اپنی پوری جان لگا کے دامل کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑواتی واشروم میں گھس گئی۔۔۔ پیچھے اسکی جرت پہ دامل ضبط سے مٹھیاں بھیج کے رہ گیا۔

دس منٹ بعد وردہ گیلے بالوں کو تولیہ سے رگڑتی باہر آئی تو دامل کو صوفے پہ بیٹھا پایا۔۔۔۔ پر وہ اسے اگنور کرتی ڈریسنگ کی دراز سے جیولری نکالنے لگی۔

دامل جو اسکے ہی انتظار میں بیٹھا تھا اسے اپنے کام میں مصروف دیکھتے کھڑا ہوا۔

ہمارے بیچ جو بھی ہے اس کمرے سے باہر نہیں جانا چاہے سمجھ گئیں۔۔۔ وہ سختی سے کہتا بغیر اسکا جواب سنیں کمرے سے نکل گیا۔۔۔ اسے وردہ سے کوئی بعید نا تھی کہ وہ کب ساری باتیں کھول دے۔

جب کے وردہ اسے دیکھ کے رہ گئی مطلب اسنے اسے اتنا پاگل سمجھا ہوا تھا کہ وہ ایسی باتیں باہر لے کے جاتی۔

۔🌺🌺🌺

دامل تم اکیلے آئے ہو وردہ کو ساتھ نہیں لائے۔۔۔ ملازمہ بتا رہی تھی کہ وہ کب کی اٹھ گئی ہے۔۔۔ فہد جو کاؤنچ میں بیٹھا انکا ہی انتظار کررہا تھا دامل کو اکیلے آتے دیکھ پوچھنے لگا۔

وہ تیار ہو رہی تھی ڈیڈ اسے ٹائم لگتا اس لیئے میں پہلے ہی اگیا۔۔۔ دامل اسکے سامنے بیٹھا۔

تو بیٹا تھوڑا سا انتظار کر لیتے۔۔۔ وہ نئی ہے ابھی اس گھر میں آگر تم اسکا انتظار کرتے تو اسے اچھا لگتا نا۔۔۔ فہد نے اپنے تئیں سمجھایا۔

میں آگے سے خیال رکھوں گا۔۔۔ آپ یہ بتائیں دادا جان کہاں ہیں۔۔۔ دامل نے بات کا رخ بدلہ۔

کہاں ہونا ہے انہیں اپنے کمرے میں ہی ہیں۔۔۔ فہد کندھے اچکا کے بولا۔

ابھی تک سو رہے ہیں۔۔۔ میں دیکھ کے آتا ہوں۔۔۔ دامل کہتے کھڑے رہنے لگا کے فہد نے روک دیا۔

رہنے دو ملازمہ بتا رہی تھی انہوں نے صبح ناشتہ کر لیا ہے اور کہا ہے اب انہیں کوئی ڈسٹرب نا کرے۔۔۔ فہد کی بات سنتے دامل سمجھتے ہوئے واپس بیٹھ گیا۔

انہیں بیٹھے باتیں کرتے ابھی پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ وردہ پیچ لکر کے سوٹ میں بالوں کو پشت پہ کھلا چھوڑے نیچے آئی۔

اسلام و علیکم فہد انکل ۔۔۔ وردہ نے مسکراتے ہوئے خوشدلی سے فہد کو سلام کیا۔

وعلیکم اسلام بیٹا۔۔۔۔ آؤ بیٹھو ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ فہد نے اسے اپنے پاس بیٹھاتے کہا۔۔۔

وہ اسکے پاس بیٹھتی دامل کو پوری طرح سے اگنور کر گئی تھی جب کے دامل اپنے فون پہ لگا چور نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

کیا کھاؤ گی ناشتے میں ۔۔۔ ویسے تو میں نے سب کچھ بنوا لیا ہے لیکن اگر آپ کچھ کهانا چاہتی ہو تو بتادو آگر نہیں بنا ہوگا تو ابھی بن جائے گا۔۔۔ فہد نے پیار سے پوچھا جب کے یہ پیار بھرا سین دامل سے تو بلکل برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

نہیں انکل میں تو بس دو انڈے، دو پراٹھے ، اور ایک بڑا گلاس لسی کا پیوں گی بس یہی میرا ناشتہ ہوتا ہے۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے بتایا تو دامل نے حیرت سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔۔اسے یقین نہیں آیا کہ سامنے بیٹھی نازک سی پتلی دبلی سی لڑکی اتنا سب کھاتی ہے۔۔۔

چلو ٹھیک ہے آجاؤ پھر ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔ میں نے کب کا ناشتہ لگانے کا بول دیا تھا اب تو لگ بھی گیا ہوگا آجاو۔۔۔ فہد شفقت سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتا کھڑا ہوگیا۔

جی انکل مجھے بھی بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔وردہ بھی ساتھ ہی کھڑی ہوئی۔۔۔ انہیں اٹھتے دیکھ دامل بھی ساتھ ہی کھڑا ہوا۔

بیٹا یہ انکل کیا ہوتا ہے اب تم اس گھر کی بیٹی ہو،،، میری بیٹی ہو تو یہ انکل مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ تم بھی مجھے دامل کی طرح ڈیڈ کہو تو مجھے زیادہ اچھا لگے گا۔۔۔ فہد نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

چلیں ڈیڈ ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہوگا۔۔۔ وردہ نے معصومیت سے کہا تو فہد کے چہرے پہ ایک دلکش مسکراہٹ آگئی۔

چلو۔۔۔ فہد مسکرا کے کہتا آگے بڑھ گیا تو وردہ بھی دامل کو اگنور کرتی فہد کے پیچھے بڑھ گئی۔

جب کے فہد کو اتنے سالوں بعد اس طرح مسکراتے دیکھ دامل کو دل سے خوشی ہوئی تھی۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ فہد نے کبھی دامل کے ہنسی مزاق نہیں کیا تھا وہ ہمیشہ دامل کے ساتھ خوش مزاج ہی رہتا تھا لیکن آج جو اسکے چہرے پہ مسکراہٹ تھی وہ کافی الگ تھی جیسے دیکھ کے دامل کو دلی خوشی ہوئی تھی۔۔۔

دامل کے دل میں وردہ کے لیئے دل کے کسی کونے میں ایک سوفٹ کورنر بن گیا تھا۔۔۔ اسنے چاہے دامل کے ساتھ کتنی بھی بدتمیزی کی تھی لیکن اسنے اسکے ڈیڈ کو خوشی دی تھی جس سے اسکے ڈیڈ کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی بس اسہی بات پہ تھوڑی سی جگہ بن گئی تھی دامل کے دل میں اسکی۔

۔🌺🌺🌺

ویسے ایک بات کہوں ۔۔۔ ابتسام شیشے سے صوفے پہ بیٹھی چوڑیاں پہنتی انمول کو دیکھتے بولا۔

وہ لوگ وردہ کے ولیمہ کے لیئے بس کچھ ہی دیر میں نکلنے والے تھے اس لیئے سب اپنی تیاری میں مصروف تھے۔

ہمممم۔ اسنے مصروف انداز میں کہا۔

اس عمر میں بھی تم بلکل ویسی ہی ہو جیسی پچیس سال پہلے تھیں۔۔۔ ابتسام نے مسکرا کے کہا تو انمول نے ایک دم نظریں اٹھائے اسے گھورا۔

آپ کا مطلب کیا ہے کے میں بوڑھی ہوگئی ہوں اب۔۔۔ انمول نے تیخی نظروں سے گھورتے پوچھا تو ابتسام اپنی ہنسی دباتا اسکی جانب بڑھا۔

میں نے ایسا کب کہا۔۔۔ میرا کہنے کا مطلب تھا کہ تم اس عمر میں بھی جوان ہو اور میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔۔۔ ابتسام اسکے پیچھے پیٹھتا اسکے کندھے پہ تھوڑی ٹکائے بولا۔

ان دونوں کی عمر ضرور بڑھ گئیں تھیں لیکن وہ دونوں اب بھی کافی پرکشش دیکھتے تھے۔۔۔ انہیں دیکھ کے لگتا ہی نہیں تھا کہ انکے دو جوان بچے بھی ہوں گے۔۔۔

آگر یہ مطلب تھا تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔ انمول زرا سی گردن ترچھی لیئے بولی۔۔۔ تو ابتسام نے اسکے کندھے پہ لب رکھے۔۔۔ تو اسنے مسکرا کے گردن جھکالی۔

اس سے پہلے ابتسام کوئی اور پیش قدمی کرتا دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولتے بسام اندر داخل ہوا جس پہ دونوں گڑبڑا کے دور ہوئے۔

مما میرا آج پہنے والا سوٹ نہیں مل رہا۔۔۔ بسام انمول کے سر پہ کھڑا ہوتا بےبسی سے بولا۔

جب کے ابتسام تو اپنے جوتے پہنے میں لگ گیا تھا۔

بسام میں نے تمہیں ایک عدد بیوی لا کے دی ہے نا ۔۔۔ اس سے پوچھو کے تمہاری چیزیں کہاں رکھی ہیں۔۔۔ آگر اب بھی مجھے ہی تمهاری چیزوں کا دھیان رکھنا ہوتا تو میں تمہاری شادی کیوں کرتی۔۔۔ انمول چوڑیوں کا ڈبا سمیٹھتی بولی۔

مما آپ کی بہو بہت نالائق​ ہے خود تو پالر چلی گئی اور میرے کپڑے نکال کے ہی نہیں گئی۔۔۔ بسام نے شکایت کی۔

چپ نالائق کے بچے۔۔۔ خبردار جو میری بہو کو کچھ کہا تو۔۔۔ بھول گئی ہوگی وہ بیچاری۔۔۔ تم بھی تو سارے اپنے کام اسے دے دیتے ہو ابھی آئے ہوئے اسے وقت ہی کتنا ہوا ہے سمجھ جائے گی سب۔۔۔ انمول نے بسام کے کندھے پہ تھپڑ لگاتے کلاس لی۔

بابا دیکھ رہے ہیں مما کیسے بدل گئی ہیں۔۔۔ اب انہیں بیٹے سے زیادہ بہو پیاری ہو گئی ہے۔۔۔ بسام نے اداسی سے ابتسام کو دیکھتے اپنا دکھڑا رویا۔

سہی کہہ رہی ہے تمہاری ماں۔۔۔ کچھ کام اپنے خود بھی کر لیا کرو۔۔۔ ہر کام ماں اور بیوی پہ نہیں چھوڑا کرتے۔۔۔ ابتسام نے گھڑی پہنتے کہا تو وہ اسے دیکھ کے رہ گیا۔

بابا آپ بھی۔۔۔ اسنے بیچارگی سے کہا۔

اچھا چلو جاؤ کمرے میں،،، میں آرہی ہوں بس اپنی جیولری رکھ کے پھر دیتی ہوں تمہیں تمہارے کپڑے۔۔۔ انمول اسے دیکھے بغیر کہتی اپنی جیولری رکھنے لگی تو وہ اوکے کہتا کمرے سے نکل گیا۔

ایک تو تمہاری اولاد نا ہمیشہ غلط وقت پہ آتی ہے۔۔۔ میرے سارے رومینٹک موڈ کا بیڑا غرق کردیتی ہے۔۔۔ ابتسام نے تپ کے کہا تو انمول کی ہنسی چھوٹ گئی۔

وہ یاد دلانے آتے ہیں کہ بڑے میاں اب رومینس ومینس چھوڑ کے اللہ اللہ کریں۔۔۔ یہ رومینس آپ کے بس کی بات نہیں ہے اب۔۔۔ انمول جیولری رکھ کے ابتسام کی جانب پلٹتی بولی۔

مطلب تمہیں شک ہے میرے رومینس پہ ۔۔۔ ادھر آؤ ابھی بتاتا ہوں کے میں کتنا اچھا رومینس کرتا ہوں۔۔۔ ابتسام کو خود کی جانب بڑھتے دیکھ انمول نے دروازے کی طرف دوڑ لگائی۔

بڑے میاں آپ سے نا ہو پائے گا۔۔۔ انمول اسے چڑھاتی ہوئی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔

پاگل۔۔۔ پیچھے ابتسام اسکی باتوں پہ ہنستے ہوئے سر جھٹک کے رہ گیا۔

۔🌺🌺🌺

سر میم کی کمر پہ ہاتھ رکھیں اور تھوڑا مسکرائیں۔۔۔ وہ لوگ تصویریں بنواتے رہے تھے جب فوٹوگرافر نے دامل کو سنجیدگی سے کھڑے دیکھتے کہا۔

بس ٹھیک ہے جیسا کھڑا ہوں ویسے ہی بنا لوں لیکن جلدی کرو بس۔۔۔ دامل بےزاریت سے بولا ۔۔۔ اسے کوئی انٹرس نہیں تھا فوٹوز بنوانے میں لیکن فہد کی خوشی کے لیئے وہ بنوا رہا تھا۔

جالیA.S.P جیسا فوٹو گرافر کہہ رہا ہے ویسا کرو۔۔۔ اور اپنے بارہ بجے منہ پہ ایک بجاؤ اور مسکراؤ۔۔۔۔ وردہ نے دھیرے سے کہا تو دامل نے اسے گھورا۔

میں جارہا ہوں اکیلی بنواتی رہو تصویریں۔۔۔ دامل سنجیدگی سے کہا وہاں سے واک آؤٹ کرگیا۔

میم سر کہاں گئے۔۔۔ فوٹو گرافر نے پریشانی سے پوچھا۔

انہیں چھوڑو تم میری تصویر بناؤ۔۔۔ وردہ کہتی پوز کر کے کھڑی ہوگئی تو فوٹوگرافر بھی اسکی تصویریں لینے لگا۔

کچھ دیر بعد سارے مہمان آچکے تھے۔۔۔ انمول وغیرہ بھی آگئے تھے۔۔۔

دامل اور وردہ اسٹیج پہ بیٹھ کے سب سے مبارکبادی اور گفٹ وصول کر رہے تھے۔۔۔ جب بسام اور تحریم گفٹ لیئے اسٹیج پہ آئے۔

دامل کھڑے ہو کے بسام سے گلے ملا۔۔۔۔ پھر چاروں نے ایک ساتھ تصویر کھچوائی۔

میں کال سن کے آتا ہوں۔۔۔ بسام فون پہ آتی کال دیکھتے اسے سننے کے لیئے اسٹیج سے اتر گیا۔

دامل بھائی جب میں نے آپ کو کل دیکھا نا تو مجھے حیرت کے ساتھ بہت خوشی بھی ہوئی تھی۔۔۔ تحریم نے مسکراتے ہوئے دامل کو مخاطب کرتے کہا تو دامل مسکرا دیا جب کے وردہ نے اسکی بات پہ منہ بنایا تھا۔

ویسے آپ کو ہماری وردہ نے تنگ تو نہیں کیا نا۔۔۔ تحریم نے شرارت سے پوچھا۔۔۔ تو وردہ نے اسے گھور کے دیکھا جس پہ وہ آنکھیں گھما گئی۔

اسے میرے ساتھ ابھی صرف ایک دن ہوا ہے اور آپ لوگ اسے سالوں سے جانتے ہیں تو اس سوال کا جواب مجھ سے بہتر آپ جانتی ہیں۔۔۔ دامل نے بھی اسہی کے انداز میں جواب دیا تو وردہ نے اب کی بار اسے گھورا۔

تحریم تم میری کزن، میری دوست اور میری بھابھی ہو تو اصولاً تو تمہیں یہ سوال مجھ سے کرنا چاہیئے تھا۔۔۔ وردہ اسے اپنا اور اسکا ہر رشتہ یاد دلا کے بولی۔

میں تمہاری کزن، تمہاری دوست اور تمہاری بھابھی ہوں تبھی میں تمہیں بہت اچھے سے جانتی ہوں اس لیئے یہ سوال میں نے دامل بھائی سے پوچھا تھا۔۔۔ تحریم نے نرمی سے کہا تو وردہ سر جھٹک کے رہ گئی۔

دامل بھائی وہ اس دن کے لیئے سوری۔۔۔ وہ کیا ہے نا یہ کبھی کبھی تھوڑی پاگل ہو جاتی ہے۔۔۔ ورنا دل کی بہت اچھی ہے۔۔۔ تحریم نے معزرت کرتے کہا جب کے دامل وردہ کا کھلا میں دیکھ کے اپنی ہنسی دبا گیا۔

کوئی بات نہیں ۔۔۔ میں پاگلوں کی باتوں کا برا نہیں مناتا۔۔۔ دامل نے بھی وردہ کو چھیڑتے کہا ۔

دامل کی بات سنتے اب وردہ کی بس ہوگئی تھی اس لیئے وہ آٹھ کھڑی ہوئی۔

وردہ کہاں جا رہی ہو۔۔۔ اسے کھڑا ہوتے دیکھ تحریم نے پریشانی سے پوچھا۔۔

جہنم میں ۔۔۔۔ وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں کہتی اسٹیج سے اتر گئی۔

لگتا ہے ناراض ہوگئی میں اسے منا کے لاتی ہوں۔۔۔ تحریم فورن فکرمند ہوتی اسکے پیچھے ہی اسٹیج سے اتری۔۔۔جب کے دامل وردہ کے چڑھنے پہ مسکرا دیا۔

یہ لوگ کہاں گئی ہیں۔۔۔ بسام​ وہاں آتے تحریم اور وردہ کو اسٹیج سے اترتے دیکھ پوچھنے لگا۔

پتہ نہیں۔۔۔ دامل نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دیئے۔

۔🌺🌺🌺

کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ان سب نے گروپ فوٹو بنوائی تھی۔۔۔ جس میں دلاور خان نہیں​ تھے۔۔۔ کیونکہ وہ تھوڑی دیر ولیمہ میں شرکت کر کے طعبیت کا بہانا بنا کے گھر جا چکے تھے۔

جب وہ اس شادی سے خوش ہی نہیں تھی تو وہ یہاں رہنا بھی نہیں چاہتے تھے بس اپنے پوتے کی وجہ سے انہیں کچھ دیر اس شادی میں شرکت کرنی پڑی تھی۔

فہد ہم وردہ کو ابھی اپنے ساتھ گھر لے جا رہے ہیں۔۔۔ انمول نے فہد کو مخاطب کیا۔

میں کل چھڑوادوں گا۔۔۔ فہد نے کہا۔

ارے نہیں یہ رسم ہوتی ہے ۔۔۔ ابھی ہم وردہ کو اپنے ساتھ لے کے جارہے ہیں کل دامل آکے اسے واپس لے جائے گا ۔۔۔۔ انمول نے سمجھاتے ہوئے کہا تو فہد نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔

کچھ دیر بعد وردہ کو انمول لوگوں کے ساتھ بیجھتے وہ دونوں باپ بیٹا بھی گھر کے لیئے نکل گئے تھے ۔۔۔

گھر آکے دامل اپنے کمرے میں داخل ہوا تو اسے اپنا کمرا سونا سونا لگا۔

وردہ کو آئے ابھی صرف ایک دن ہی ہوا تھا لیکن اس ایک دن میں بھی ہو جب بھی کمرے میں آتا تھا تو وردہ کو کچھ نا کچھ بولتے ہوئے ہی پاتا تھا لیکن آج اسکا کمرا خالی خالی رکھ رہا تھا ۔۔ وہ گہری سانس بھرتے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں گھس گئی۔

🌺🌺🌺۔