Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 8)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 8)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
اب بتاؤ کون ہے وہ ۔۔۔ انمول دوبارہ روتی ہوئی تحریم کی جانب متوجہ ہوئی۔
وہ۔۔۔ وہ یہ ہے۔۔۔ تحریم نے تکیے کے نیچے سے چھپائیں ہوئی تصویر نکال کے انمول کے سامنے کی۔۔۔
تصویر دیکھتے ہی انمول تو جیسے دھنگ رہ گئی تھی۔۔۔
بسام۔۔۔۔ انمول سے صدمے کے مارے کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا۔۔۔جب کے تحریم تو سر جھکائے شرمندہ شرمندہ سی بیٹھی تھی۔
کیا بسام بھی تمہیں پسند کرتا ہے۔۔۔۔ انمول نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔ تو وہ ہاں میں سر ہلاگئی۔
کب سے۔۔۔ ایک اور سوال۔
چار سال سے ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔۔ تحریم نے ہچکچاتے ہوئے بتایا تو انمول پھر چونکی۔
چار سال سے تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو اور تم دونوں نے ہی کسی کو بھی اتنی سی بھی بھنک نہیں پڑھنے دی۔۔۔ انمول جتنا حیران ہوتی اتنا ہی کم تھا۔۔۔ تحریم اسکے ہاتھوں کی پلی بچی تھی اور بسام وہ تو اسکا اپنا بیٹا تھا پھر وہ کیسے نہیں جان پائی کے یہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔
آگر چار سال سے تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو تو پھر تم اس رشتے کے لیئے راضی کیوں ہوئیں ۔۔۔ اور بسام اسے تو ہر کام کرنے کی جلدی ہوتی ہے اب اسنے اپنے رشتے میں جلدی کیوں نہیں دیکھائی،،،، کیوں کچھ نہیں پتایا۔۔۔۔ انمول کو اب بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ وہ بسام کی جلد بازی والی طبیعت سے واقف تھی پھر بھی اسنے کچھ نہیں کہا تو ضرور کوئی وجہ ہی ہوگی۔
میں نے منا کیا تھا کہ ابھی کسی سے بات نا کریں۔۔۔ تحریم گردن جھکائے بہت ہی کم آواز میں بولی۔
لیکن کیوں۔۔۔ جتنی تحریم کی آواز کم تھی اس سے دو گناہ زیادہ تیز انمول کی آواز نکلی تھی۔
جب سے بسام کی پڑھائی ختم ہوئی تھی وہ تب سے ہی آپ سے بات کرنا چاہتے تھے۔۔۔ لیکن میں نے انہیں روک دیا کہ جب تک میری پڑھائی پوری نہیں ہوجاتی تب تک کسی سے بھی کوئی ایسی بات نا کریں ۔۔۔اور اب جب میری پڑھائی ختم ہوگئئ ہے تو وہ میری طرف سے اشارے کے منتظر ہیں کہ کب میں ہاں کرو اور وہ کب آپ سے بات کریں۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میں انہیں کچھ بولتی مما بابا نے کسی اور کے رشتے کے بارے میں مجھ سے پوچھا اور میں انکار نہیں کر سکی۔۔۔ تحریم نے تفصیل سے بتایا تھا جب کے انمول جو آرام سے اسکی بات سن رہی تھی آخری میں چونکی تھی ۔
ریم تم پاگل ہوگئی ہو،،، ایسے کیسے تم منا نہیں کر سکتیں۔۔۔ شادی ہے کوئی مزاق نہیں ہے ساری زندگی کا معاملہ ہوتا ہے۔۔۔۔ تم محبت کسی اور سے کرتی ہو پھر تم کسی دوسرے سے شادی کیسے کر سکتی ہو ۔۔۔ آگر تم نے اپنا نہیں سوچا تو میرے بیٹے کا ہی سوچ لیتیں۔۔۔ وہ تو ٹوٹ جائے گا تمہارا یہ فیصلہ سنتے ۔۔۔ انمول کافی پریشانی سے بولی تھی جب کے تحریم کے پاس کوئی جواب نا تھا۔۔۔
وہ بسام کی محبت سے واقف تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اسکا یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے بابا کو کہہ نہیں پائی تھی کہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے۔
نہیں تحریم میں ایسا نہیں ہونے دوں گی میں بات کروں گی دائم اور ماہی سے۔۔۔ انمول کھڑی ہوتی سنجیدگی سے بولی۔
نہیں آپ کسی سے بات نہیں کریں گی۔۔۔ ماما بابا بہت خوش ہیں اس رشتے کو لے کے،،، میں انہیں اداس نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ تحریم بھی اسکے ساتھ کھڑی ہوتی اسے سمجھانے لگی۔
مجھے پورا یقین ہے کہ دائم اور ماہی کو تمہاری خوشی سے زیادہ اور کوئی خوشی عزیز نہیں ہوگی۔۔۔ خیر تم جلدی سے تیار ہو جاؤ مہمان آنے ہی والے ہوں گے باقی سب میں سنبھال لوں گی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اوکے۔۔۔۔ انمول نے پیار سے اسکا گال تھپتھپاتے سمجھا۔
مگر انو۔۔۔
آگر مگر کچھ نہیں جاؤں جلدی سے تیار ہو جاؤں۔۔۔ انمول اسکی بات کاٹتی سختی سے بولی تو وہ پریشانی سے اپنے کپڑے لیئے واشروم میں گھس گئی جب کے انمول تو آگے کیا کرنا ہے یہ سوچ رہی تھی۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ کی گاڑی خان انڈسٹریز کی بلڈنگ کے باہر ایک جھٹکے سے رکھی تھی۔۔۔۔ وہ آنکھوں پہ کالا چشمہ لگاتی گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔۔ چابی چوکیدار کو دیتی اسے گاڑی پارک کرنے کا بول کے اپنی نیو سیکٹری کے ساتھ اندر بڑھ گئی۔
ریسیپشن سے میٹنگ روم کا پوچھ کر وہ سیدھی وہی بڑھی تھی ۔۔۔ وہ جہاں جہاں سے بھی گزر رہی تھی کوئی ایسا نہیں تھا جس نے اسے مڑ کے نہیں دیکھا ہوگا۔۔۔
اورنج لونگ قمیض کے ساتھ جینس کی بلیک پینٹ پہنے ساتھ بلیک دوپٹہ گلے میں ڈالے خوبصورت چہرے پہ سنجیدگی سجائے۔۔۔ اپنی ہائی پونی ٹیل لہراتی وہ سب کی نظروں کا مرکز بنی ہوئی تھی۔
وہ میٹنگ روم میں بھی بغیر دروازہ نوک کیئے داخل ہوئی۔۔۔
اسلام و علیکم ایوری ون۔۔۔ میں وردہ ابتسام لاشاری ہوں۔۔۔ اور بی اے انڈسٹریز کی فوٹی پرسنٹ کی اونر بھی۔۔۔ انمول نے خالی نشست سنبھالتے مسکرا کے اپنا تعارف کروایا ۔۔۔ جب کے سامنے بیٹھے خاں انڈسٹریز کے مالک تو صرف اسکے چہرے کو ہی دیکھ رہے تھے جو کافی حد تک جانا پہچانا لگ رہا تھا۔
کیا بات ہے سر۔۔۔ آپ میرے چہرے میں کیا کھوج رہے ہیں۔۔۔ وردہ ایک ہاتھ ٹیبل جب کے دوسرا ہاتھ تھوڑی پہ رکھے مسکراتے لہجے میں پوچھنے لگی۔
آپ کا چہرا مجھے کسی کی یاد دلا رہا ہے۔۔۔۔ بہت مشابہت رکھتی ہیں آپ میری ایک عزیز خاص سے۔۔۔ مسٹر خان نے دلچسپی سے کہا۔
کہتے ہیں نا ایک شکل کے دنیا میں سات لوگ موجود ہوتے ہیں ۔۔۔ تو میری شکل بھی ملتی ہوگی کسی نا کسی سے۔۔۔ وردہ کندھے اچکا کے کہتی پیچھے ٹھیک لگا گئی۔۔۔ تو اسکا انداز دیکھ کے مقابل بیٹھا شخص مسکرا دیا۔
کچھ دیر بعد وردہ نے پریزنٹیشن دینا شروع کی۔۔۔۔ وہ اتنے اچھے سے پریزنٹیشن دے رہی تھی کے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ نئی ہے بزنس میں۔۔۔ ایک کونفڈنس تھا اس میں ۔۔۔۔
ہممم کافی اچھی پریزنٹیشن تھی۔۔۔۔ اسکرین اوف ہوتے ہی مسٹر خان نے کہا۔۔۔ انکے انداز سے صاف لگ رہا تھا جیسے انہیں یہ پریزنٹیشن بہت اچھی لگی ہے۔
تھینکیو سر۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے تعریف وصول کی۔
مس وردہ مجھے بہت خوشی ہوگی آپ لوگوں کے ساتھ کام کر کے ۔۔۔ میری طرف سے یہ کونٹریکٹ ڈن۔۔۔۔ مسٹر خان نے مسکرا کے سامنے رکھے پیپرز پہ سائن کیا تو اپنی پہلی کامیاب پہ وردہ کا دل خوشی سے بھنگڑے ڈالنے کا کرا۔
ویسے انکل آپ کا نام کیا ہے۔۔۔ وردہ کچھ ہی دیر میں سر سے انکل پہ آگئی تھی۔
میرا نام فہد دلاور خان ہے۔۔۔ فہد نے مسکرا کے بتایا۔
ہممم کافی اچھا نام ہے آپ کا۔۔۔ ویسے آپ ہیں بھی کافی ہنڈسم۔۔۔ مطلب اس ایج میں بھی آپ ینگ لڑکوں کو ٹکر دیتے ہیں۔۔۔ پر اب آپ زیادہ خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوجائے گا میرے بابا ڈریگن ۔۔. میرا مطلب ہے میرے بابا وہ تو آپ سے بھی زیادہ ہنڈسم ہیں۔۔۔ وردہ نے فخر سے اپنے بابا کا ذکر کیا۔۔۔
ڈریگن۔۔۔۔ ڈریگن لفظ سن کے فہد ایک دم سیدھا ہو کے بیٹھا۔۔۔۔ وہ یہ لفظ پہلے بھی ایک بار سن چکا تھا۔
اچھا انکل اب میں چلتی ہوں۔۔۔ وردہ اپنی سیٹ سے اٹھتی مسکرا کے بولی ۔
مس وردہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ آئیں میرے آفس میں چلتے ہیں۔۔۔ فہد کے کہنے پہ وہ جی کہتی اسکے ساتھ اسکے آفس میں آگئی۔
کچھ لیں گی آپ۔۔۔ فہد اپنی کرسی پہ بیٹھتے بولا
شکریہ لیکن اس وقت میرا پیٹ بہت فل ہے۔۔۔ اصل میں صبح سے میرے پاس کچھ کام نہیں تھا تو میں گیم کھیل کے اور کھاتے پیتے ہی اپنا ٹائم پاس کررہی تھی اس لیئے ابھی پیٹ میں بلکل جگہ نہیں ہے۔۔۔ اسکے بچوں والے انداز پہ فہد کو ہنسی اگئی۔
ہاہاہا آپ بہت فنی ہیں۔۔۔ اسنے ہنستے ہوئے کہا۔
وہ تو میں یوں لیکن اپنی مما سے کم۔۔۔ میری مما تو مجھ سے زیادہ فنی اور شرارتی ہیں۔۔۔ جتنی شرارتیں ہم بچے نہیں کرتے نا اتنی تو ہماری مما کرلیتی ہیں۔۔۔ وہ بھی ہلکے سے ہنس کے بولی جب کے اب تو فہد کا تجسس اور بڑھ گیا تھا یہ جاننے کا کہ آخر وہ ہے کس کی بیٹی۔
آگر آپ برا نا منائیں تو کیا آپ مجھے بتا سکتیں ہیں کے آپ کی مما کا نام کیا ہے۔۔۔ فہد نے بےچینی سے استفسار کیا۔
اس میں برا ماننے والی کیا بات ہے۔۔۔۔ میری مما کا نام انمول ہے لیکن پیار سے انہیں سب انو کہتے ہیں ۔۔۔۔وہ بہت سوئٹ ہیں۔۔۔ وردہ نے بہت محبت سے اپنی ماں کا ذکر کیا تھا ۔۔۔۔ اسنے جتنی خوشی سے بتایا تھا اس سے کئی زیادہ زور کا جھٹکا فہد کو لگا تھا۔۔۔
انمول۔۔۔ فہد نے بےیقینی سے دھرایا۔۔۔ اسے ایک ایک کر کے اپنا ماضی یاد آنے لگا تھا۔۔۔ اپنے باپ کے دھوکے کے بعد اسنے ان سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ وہ اس سے بات کرنے کے لیئے تڑپتے تھے لیکن وہ ہمیشہ انہیں نظر انداز کر جاتا تھا۔۔۔ وہ تقریباً پانچ سال پہلے پاکستان آیا تھا ۔۔۔۔ اور یہاں آکے اسنے اپنا بزنس سنبھالا تھا۔۔۔ اسنے ایک دو بار انمول کا پتہ بھی کروایا تھا ۔۔۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ خوش تھی یہ دیکھ فہد سکون میں آگیا تھا۔۔۔ لیکن اسکے وہموں گمان میں بھی نہیں تھا کے ایک دن اسکی ملاقات اس طرح انمول کی بیٹی سے ہوگی۔۔۔ وردہ کو ایک نظر دیکھتے ہی فہد کے سامنے انمول کا چہرہ لہرا گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ انمول کی ہی بیٹی ہے۔۔۔۔ اور اب جب وہ جان گیا تھا تو اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں رہا تھا۔
کیا بات ہے انکل کہاں کھو گئے۔۔۔ وردہ اسے اپنے ہی خیالوں میں کھوئے دیکھ اسکے آگے چٹکی بجا کے بولی۔
کچھ نہیں بس آپ سے مل کے بہت خوشی ہوئی۔۔۔ وہ خیالوں سے باہر نکلتے پیار سے بولا۔
مجھے بھی۔۔۔ پر اب آپ بھی بتائیں آپ کے گھر میں کون کون ہے۔۔۔بھئی اب ہم ساتھ کام کریں گے تو جان پہچان ہونا تو ضروری هے نا۔۔۔ وردہ نے معصومیت سے کہا تو فہد کو اس پہ بہت پیار آیا۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ بلکل انمول کے جیسی تھی۔
میری فیملی میں صرف تین لوگ ہیں۔۔۔ میرے والد میرا بیٹا اور میں۔۔۔۔ چھ سال پہلے میری بیوی کا انتقال ہوگیا۔۔۔ پھر کچھ عرصے بعد میں لندن سے پاکستان شفٹ ہوگیا اب میں یہاں کا بزنس سمبھالتا یوں جب کے میرے بابا لندن کا بزنس سمبھال رہے ہیں۔۔۔ فہد نے اپنا تفصیلی تعارف کروایا۔
اور آپ کا بیٹا وہ کیا کرتا ہے۔۔۔
وہ پولیس میں ہے۔۔۔ میرا بیٹا اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہتا تھا اس لیئے وہ بھی میرے ساتھ پاکستان آگیا اور اب ماشااللہ وہ ایک اچھے عہدے پہ فائز ہے۔۔۔ فہد نے فخر سے بتایا۔۔۔۔
وہ انمول کے بعد کسی سے شادی تو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن لندن میں ہی اسکی ایک مسلم امپلائے تھی جس کے والدین ایک اکسیڈینٹ میں انتقال کر گئے تھے ۔۔۔ انتقال سے پہلے لڑکی کے والد نے فہد سے بےبسی سے التجاہ کی تھی کہ وہ انکے جانے کے بعد انکی بیٹی سے شادی کر لے اسے ایک گھنا سایہ دے دے۔۔۔ اور ایک مرتے ہوئے انسان کی التجا فہد رد نا کر سکا۔۔۔ اسنے اپنے بابا سے چھپ کے شادی کی اور جب وہ ایک بیٹے کا باپ بن گیا تک وہ اپنی بیوی اور بیٹے کو لیئے اپنے باپ کے پاس آیا تھا۔۔۔ دلاور صاحب نے کبھی بھی فہد کی بیوی کو قبول نہیں کیا تھا نا ہی اس سے ٹھیک سے بات کرتے تھے وہ بس اسے اپنے پوتے کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے ورنہ انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کھڑے کھڑے اس لڑکی کو اپنے گھر سے نکال دیں۔
ویسے تو پولیس والوں کو لے کے میرے خیالات اچھے نہیں ہیں لیکن میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کے آپ کا بیٹا بھی آپ کی طرح ایماندار ہوگا۔۔۔ وردہ آنکھیں گھما کے بولی۔
ایک منٹ میرے بھائی کا فون آرہا ہے۔۔۔ اس سے پہلے فہد کچھ کہتا فون پہ بسام کا نام چمکاتے دیکھ اسنے کال ریسیو کی۔
ہاں بولو۔۔۔ فون کان سے لگائے کہا جب کے دوسری طرف سے کچھ بولا گیا تھا جس کو سنتے انمول کی آنکھیں چمکیں تھیں۔
اچھا ٹھیک ہے میں بس دو منٹ میں آرہی ہوں۔۔۔ وہ جلدی سے کہتی فون بند کر گئی۔
فہد انکل آپ سے مل کے بہت اچھا لگا لیکن اب مجھے جانا ہوگا۔۔۔ وہ کیا ہے نا میرا کنجوس بھائی شوپنگ پہ جارہا ہے اور اسنے مجھے بھی ساتھ جانے کی آفر کی ہے جسے میں کسی قیمت پہ ٹھکرا نہیں سکتی اس لیئے میں چلتی ہوں۔۔۔ وردہ فون بند کرتی فہد سے کہتی کھڑی ہوگئی۔
اب تو ملاقات ہوتی رہے گی خیر سے جاؤ۔۔۔ فہد نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے کہا تو وہ مسکرا کے خدا حافظ کہتی باہر نکل گئی۔
اسکے جاتے ہی فہد اپنی کرسی پہ بیٹھتا ایک گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا
۔![]()
![]()
![]()
مہمان آچکے تھے۔۔۔ تحریم کو لاکے انکے پاس بیٹھا دیا گیا تھا۔۔۔ جب کے انمول تو ان سب کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی تھی۔
دائم ہم تو شادی جلدی کرنا چاہیں گے۔۔۔ لڑکے کے والد نے خوشی سے کہا۔
ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے پہلے ہمیں سوچنے کا موقع تو دیں۔۔۔ انمول جھٹ سے بولی۔۔۔ تو سب نے اسکی جانب دیکھا جیسے کہنا چاہ رہے ہوں کے اب اور کیا سوچنا ہے.
میں لڑکے سے کچھ سوال کرنا چاہتی ہو۔۔۔ انمول ایک دم سنجیدہ ہوئی۔
جی جی کرلیں ۔۔۔ لڑکے کی ماں نے خوش اخلاقی سے کہا۔
ہاں تو بھئی لڑکے صاحب یہ بتاؤ کیا تم سگریٹ پیتے ہو ۔۔۔ انمول کے غیر متوقع سوال پہ سب چونکے تھے۔
نہیں ۔۔۔ لڑکے نے گھبرا کے جواب دیا
اچھا تو پان کھاتے ہو۔۔۔ ایک اور سوال پوچھا گیا تو تحریم نے اسے آنکھوں کے اشارے سے منا کرنا چاہا کے وہ کچھ نا بولے لیکن انمول کب کسی کی سنتی ہے۔
جی نہیں۔۔۔ لڑکے نے اس بار قدے سنبھل کے جواب دیا۔
اچھا پھر ڈرگز تو لیتے ہوں گے۔۔۔ انمول نے جتنے آرام سے پوچھا تھا اتنا ہی زور کا جھٹکا لگا تھا سب کو۔
انو۔۔۔۔ ماہی نے اسے روکنا چاہا۔
بولو بولو۔۔۔ انمول ماہی کی پکار نظر انداز کرتی لڑکے سے بولی۔
نہ نہیں ۔۔۔ لڑکا گڑبڑا کے بولا۔
یہ آپ کیسے سوال کر رہی ہیں۔۔۔۔ ماشاءاللہ سے ہمارا بیٹا بہت اچھا، فرمابردار اور نیک ہے۔۔۔ لڑکے کی ماں نے خوب اپنے بیٹے کی تعریف کی تو انمول نے اوو کی شیپ میں ہونٹوں کو گھول کرتے ہاں میں سر ہلایا۔
یہ ایسی مزاق کر رہی ہے اسے عادت ہے مزاق کرنے کی کیوں انمول۔۔۔ انکے چہروں پہ ناپسندیدگی دیکھ دائم نے بات سنبھالنی چاہی۔
دائم ٹھیک کہہ رہا ہے مجھے مزاق کرنے کی عادت ہے لیکن میں اس وقت بلکل مزاق نہیں کر رہی۔۔۔ ہمیں کچھ وقت چاہیئے سوچنے کا۔۔۔ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ بیٹی تو ماہی اور دائم کی ہے اور یہ خواہ مخواہ بیچ میں بول رہی ہے لیکن میں آپ کو بتا دوں کے تحریم بچپن سے ہی زیادہ طر میرے پاس رہی ہے اور میں بھی اسے بلکل اپنے بچوں کی طرح ہی چاہتی ہوں اس لیئے کم سے کم میں تو اتنی جلدی کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔۔۔ انمول نے بہت آرام سے رسان سے انہیں ڈھکے چھپے لفظوں میں انکار کر دیا تھا جسے وہ لوگ سمجھنے سے قاصر تھے۔
آپ لوگوں کو جتنا وقت چاہئے آپ لوگ لے سکتے ہیں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔ لڑکے کے والد نے مسکرا کے کہا۔
جی شکریہ۔۔۔ انمول بھی بدلے میں مسکرائی۔۔۔ کسی کو بھی اسکی بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے جب کے تحریم جانتی تھی وہ یہ سب اسکے اور بسام کے لیئے کر رہی ہے۔۔
تھوڑی دیر اور بیٹھنے کے بعد وہ لوگ جاچکے تھے۔۔۔ اب لاؤنچ میں دائم ماہی انمول اور مسرت بیگم بچیں تھیں۔۔۔ حنان اور تحریم کو انمول نے ان کے کمرے میں بھیج دیا تھا۔
انمول تم نے ان سے وقت کیوں مانگا ہے جب کے میں سب کچھ پتہ کروا چکا ہوں ۔۔۔ لڑکا اور اسکی فیملی بہت اچھی ہے کسی قسم کی کوئی برائی نہیں ہے ان میں۔۔۔ دائم نے الجھ کے کہا ۔۔۔
کیا تم نے اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھا ہے ۔۔۔ کیا تمہیں اسکے چہرے پہ خوشی دیکھی ہے۔۔۔ آگر دیکھی ہے تو پھر تم کیسے باپ ہو جو اپنی بیٹی کا چہرہ ہی نہیں پڑھ سکے۔۔۔۔ اور ماہی تم،،، تم تو اسکی ماں ہوں نا اور ماں تو اپنے بچوں کے دل کی ہر بات جان لیتی ہے پھر تم نے کیسے نا جانی اپنی بیٹی کے دل کی بات۔۔۔۔ انمول سنجیدگی سے پہلے دائم سے کہتی پھر ماہی کی جانب متوجہ ہوئی۔
انو بیٹا کیا کہنا چاہتی ہو آپ صاف صاف کہو۔۔۔ مسرت بیگم نے کہا۔
یہی کہنا چاہتی ہوں آنٹی کے ریم اس رشتے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ دائم نے بڑے مان سے اس سے اسکی مرضی پوچھی اور وہ اپنے باپ کو انکار نہیں کر سکی،،، اسے بتا نہیں سکی کے وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے اسکی خوشی کسی اور میں ہے۔۔۔ اسلام میں لڑکی کو اپنی مرضی بتانے جا پورا حق ہے لیکن ہمارے معاشرے میں لڑکی پہ یا تو اپنی مرضی تھوپی جاتی ہے یا اسے مان اور فخر کے بوجھ تلے دبا کے اسکی مرضی کو مار دیا جاتا ہے۔۔۔میں یہ نہیں کہتی کہ والدین اپنے بچوں کے لیئے غلط فیصلہ کرتے ہیں۔۔۔ لیکن والدین کو بچوں کے ساتھ ایک دوستانہ رویہ رکھنا چاہیئے تھا کہ وہ کل کو اپنے دل کی بات بغیر جھجھک کے آپ کے سامنے رکھ سکیں ۔۔۔ اور خاص کر لڑکیوں کے ساتھ اپنا رویہ دوستوں جیسا رکھنا چاہیئے کیونکہ ہمارے معاشرے میں اپنی پسند ظاہر کرنے والی لڑکیوں کو بےحیا کہا جاتا ہے۔۔۔جب کے یہ سراسر غلط ہے ایک لڑکی کو اپنی پسند بتانے کا پورا حق ہے ۔۔۔ انمول نے بہت اچھے سے سمجھایا تھا جب کے تحریم کسی اور کو پسند کرتی ہے یہ سن کے سب ساکت رہ گئے تھے۔
انو تم ٹھیک کہہ رہی ہو لیکن ریم کسے پسند کرتی ہے۔۔۔ ماہی نے فکرمندی سے پوچھا
بسام کو۔۔۔ اسکے جواب پہ سب حیران ہوئے بغیر نا رہ سکے۔
وہ بسام کو پسند کرتی ہے یہ بات آج ہی تحریم نے مجھے بتائی ہے جب میں اچانک اسکے کمرے میں گئی تو وہ رو رہی تھی اور پھر میرے زور دے کے پوچھنے پہ اسنے مجھے بتایا کہ وہ اور بسام دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ بس جبھی میں نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ اب کچھ بھی ہوجائے میں تحریم کو اپنی بہو بنا کے رہوں گی۔۔۔ ان لوگوں کے چہرے پہ کئی سوال دیکھ انمول نے پوری بات بتائی۔
ہمیں بلکل اندازہ نہیں تھا ورنا ہم کبھی کسی اور جگہ اسکے رشتے کی بات نا کرتے۔۔۔ دائم نے پشیمانی سے کہا۔۔۔ محبت سے دور ہونے کا دکھ دائم سے بہتر اور کون سمجھ سکتا تھا۔۔۔ اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکی بیٹی بھی اسہی دکھ سے گزرے۔
اب تو اندازہ ہوگیا ہے نا تو اب بس ان لوگوں کو انکار کر دینا اور میں کل آؤں گی سب کے ساتھ اپنی بیٹی کا ہاتھ مانگنے خبردار جو کسی نے بھی مجھے انکار کرنے کی کوشش کی ہو تو۔۔۔۔ انمول گردن اکڑا کے کہتی آخر میں دھمکی بھی دے گئی۔
ہماری کہںا اتنی جرت کہ ہم تمہیں انکار کریں۔۔۔ ماہی نسںوعی آہ بھر کے بولی تو وہ سب ہنس دیئے۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
