Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 20)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 20)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
وردہ تم تیار ہوگئیں تو چلیں بسام باہر لینے آگئے ہیں۔۔۔۔ پرپل میکسی پہ بال اسٹریٹ کر کے آدھے آگے تو آدھے پیچھے کیئے ہوئے تھے جن میں سے چند لٹیں چہرے پر جھول رہی تھی۔۔۔ ہم رنگ دوپٹہ ، ساتھ سوفٹ میک اپ کیئے گولڈ کی جیولری پہنے تحریم بلکل تیار ہوکے وردہ کے پاس آکے پوچھ رہی تھی۔
ہاں میں تیار ہوں ۔۔۔ بس زرا ایک منٹ رکو۔۔۔
سنیں۔۔۔۔ وردہ کرسی پہ بیٹھی ایک نظر سامنے لگے شیشے میں خود کو دیکھتی پہلے تحریم سے بولی اسکے بعد پاس کھڑی تیار کرنے والی لڑکی کو آواز دی۔
جی۔۔۔ وہ لڑکی فورن اسکی آواز پہ آئی تھی۔
یہ زرا لب اسٹک تھوڑی ڈارک کردیں ۔۔۔ورنا جتنی ہلکی آپ نے لگائی ہے نا یہ تو میں ہال جاتے جاتے ہی کھا جاؤں گی۔۔۔ وردہ لب اسٹک کی جانب اشارہ کر کے بولی تو اسکی بات سنتے وہ لڑکی مسکراتے ہوئے اسکی لب اسٹک ڈارک کرنے لگی۔
ہاں اب ٹھیک ہے۔۔۔ اس لڑکی کے پیچھے ہوتے ہی وہ اچھے سے اپنے ہونٹوں کا جائزہ لینے لگی۔
کتنی پیاری لگ رہی ہوں میں۔۔۔ ہائے وردہ شہزادی ہے تو شہزادی۔۔۔ وردہ کھڑی ہوتی آگے پیچھے گھوم کے اچھے سے خود کو شیشے میں دیکھتی خود کی ہی بلائیں لینے لگی۔
وہ لال اور گولڈن شرارے میں بالوں کا چوڑا کیئے سر پہ اچھے سے دوپٹہ سیٹ کیئے برائڈل میک اپ اور جیولری میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔
ریم زرا مجھے کالا ٹیکا تو لگا دو تا کہ میں ہر بری نظر سے بچ سکوں۔۔۔۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ اللہ تمہیں نظر بد سے بچائے۔۔۔ تحریم نے اپنی آنکھ سے کاجل لیتے اسکے کان کے پیچھے چھوڑا سا ٹیکا لگایا۔
ہاں وہ تو لگ رہی ہوں لیکن اب میں تمہاری تعریف کرکے کوئی فارمیلٹی نہیں نبھاؤں گی۔۔۔ پر تمہارا دل نا ٹوٹے اس لیئے کہہ دیتی ہوں تم بھی پیار لگ رہی ہو پر مجھ سے کم۔۔۔ وردہ اپنی چوڑیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی شرارت سے بولی تو تحریم ہنس دی۔
اچھا چلو اب چلیں بسام کا پھر سے میسج آیا ہے وہ انتظار کر رہے ہیں باہر ہمارا ۔۔۔تحریم نے اپنے گرد چادر پھیلاتے کہا تو وردہ بھی ہاں میں سر ہلاتی چادر لیتی باہر کی جانب بڑھ گئی۔
وہ لوگ پالر سے باہر نکلے تو سامنے ہی بسام بیلو تھری پیس سوٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیئے دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
ان دونوں کو باہر آتے دیکھ وہ سیدھا ہوتے ایک دم سنجیدہ ہوگیا۔
بہن جی سنیں۔۔۔ وہ زرا اندر میری بیوی تحریم اور میری بہن وردہ ہوگی پلیز انہیں بلادیں میں یہاں کب سے کھڑا انکا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ بسام ایک دم سیریس انداز میں وردہ سے بولا تو بیک وقت دونوں کا حیرت سے منہ کھلا۔
بسام پاگل ہوگئے ہو۔۔۔ وردہ حیرت پہ قابو پاتی بولی۔
آپ کی آواز تو بلکل میری بہن کی آواز سے مل رہی ہے۔۔۔ بسام خوش ہوکے بولا تو دونوں نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسکی دماغی حالت پہ شبہ ہو۔
بسام میں تمہاری بہن وردہ ہی ہوں۔۔۔ وردہ دانت پیس کے بولی۔
تو پھر شکل میری بہن جیسی کیوں نہیں ہے۔۔۔ اسنے پرسوچ انداز میں کہا۔
بسام میں تمہارا منہ توڑ دوں گی اب۔۔۔۔ وردہ نے چڑ کے کہا۔
ہاں اب مجھے یقین ہو گیا کہ تم میری بہن ہی ہو کیونکہ اس کے علاوہ مجھے اتنی عزت اور کوئی نہیں دیتا۔۔۔ بسام نے ایسے کہا جیسے اسے بہت مشکل سے یقین آیا ہو کے وہ وردہ ہی ہے۔
بسام کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔ تحریم فکرمندی ہوئی۔
تمہاری آواز تحریم سے مل رہی ہے تو یقیناً تم ہی میری بیوی ہوں گی۔۔۔ واہ یار یہ پالر والی ہے یا جادوگرنی اس نے تم دونوں کو تو بلکل ہی چینج کردیا۔۔۔
چلو تحریم کو تو میں نے دیکھا ہوا ہے تو منہ دھونے کے بعد میں اسے پہچان لوں گا لیکن وردہ تمہارے ہونے والے شوہر نے تو تمہیں دیکھا ہوا ہی نہیں ہے ۔۔۔ پہلے وہ تمہیں میک اپ میں دیکھے گا اور پھر جب تم منہ دھوں گی تو وہ بیچارا تو ڈر جائے گا نا کہ میں لایا کس کو تھا اور یہ کیا نکلی ہے۔۔۔ بسام نے معصومیت سے ایک بہت بڑا مسئلہ بیان کیا۔۔۔ جب کے وردہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ روڈ پہ پڑا پتھر اٹھا کے بسام کے سر پہ مار دے۔
ہو گیا تمہارا۔۔۔ وردہ اسکی ڈرامے بازی پہ اسے گھور کے بولی
ہاں۔۔۔ بسام نے بھی سامنے سے دانت دیکھائے۔
تو چلو دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وردہ چیخ کے کہتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
آئیں میدم۔۔۔ بسام نے تحریم کے لیئے فرنٹ ڈور کھولا تو وہ مسکراتی ہوئی اندر بیٹھ گئی۔
دروازہ بند کرتے بسام اپنی سیٹ پہ آیا اور گاڑی بڑھا لے گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
اس لڑکی نے ابھی تک شادی سے انکار کیوں نہیں کیا۔۔۔ دلاور خان اپنے کمرے میں کرسی پہ بیٹھے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے پریشانی سے مسلسل ایک ٹانگ ہلا رہے تھے۔
شرط کے مطابق تو اسے انکار کر دینا چاہیئے تھا مگر آج تو بارات ہے۔۔۔ فہد بھی بس بارات لے کے نکلنے ہی والا ہے۔۔۔ انہیں یہی پریشانی لگی ہوئی تھی کہ وردہ نے انکار کیوں نہیں کیا جب کے وہ یہاں آئے ہی اس لیئے تھے کہ وردہ کے شادی سے انکار کرنے پہ وہ انمول اور اسکے خاندان کو سب کے سامنے ذلیل کر سکیں لیکن یہاں تو انکار کا نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا۔
کہیں ایسا تو نہیں اس لڑکی نے میرے ساتھ ہی کوئی گیم کھیل دی ہے۔۔۔ وہ پرسوچ انداز میں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
وہ یہی سوچ سوچ کے پاگل ہو رہے تھے کہ نا جانے وہ لڑکی کرنے کیا والی ہے۔
دادا جان آپ اب تک تیار نہیں ہوئے۔۔۔ دامل گولڈن شیروانی پہنے تیار شیار ہوئے انکے کمرے میں داخل ہوا لیکن انہیں ویسی ہی حالت میں دیکھ حیرت سے پوچھنے لگا۔
بس بیٹا تیار ہونے ہی جارہا تھا ۔۔۔ ویسے ماشاءاللہ میرا پوتا تو کسی ریاست کے شہزادے سے کم نہیں لگ رہا ۔۔۔۔ دلاور خان مسکراتے ہوئے بہت محبت سے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولے۔
شہزادی کو لینے شہزادہ ہی جاتا ہے۔۔۔ فہد کمرے میں داخل ہوتے بولا تو اسکی آواز سنتے دونوں اسکی جانب متوجہ ہوئے۔
دامل باہر تمہارے دوست آئے ہیں جاؤ انہیں دیکھو جب تک ہم بھی تیار ہو کے آتے ہیں۔۔۔ پھر بارات لے کے نکلتا ہے دیر بلکل نہیں کرنی ہممم۔۔۔ فہد کے کہنے پہ دامل ہاں میں سر ہلاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
دامل کے جاتے ہی فہد دو قدم چلتے دلاور خان کے سامنے آ کے رکا۔
میں نہیں جانتا آپ یہاں ہماری خوشی میں خوش ہونے آئے ہیں یا ہماری خوشی برباد کرنے ۔۔۔ لیکن میں آپ کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں آج میرے بیٹے کی شادی ہے اور میں اس میں آپ کی طرف سے کوئی بدمزگی نہیں چاہتا ۔۔۔۔ آپ نے میری خوشیوں کو آگ لگانی تھی سو آپ لگا چکے پر اب میرے بیٹے کی خوشیوں کو آگ لگانے کے بارے میں نہیں سوچتے گا ورنا آپ سمجھ لے گا کہ آپ کا بیٹا مر چکا ہے۔۔۔ فہد انکی جانب دیکھتے بےتاثر لہجے میں کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔ پیچھے دلاور خان اپنے بیٹے کی مرنے والی بات سنتے تڑپ کے رہ گئے تھے۔
انمول یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔ نا تم میرے بیٹے کی زندگی میں آتیں اور ناہی وہ مجھے سے دور ہوتا۔۔۔
اپنے بیٹے کی وجہ سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن آج جب تمہاری بیٹی شادی سے انکار کرے گی پھر دیکھتا ہوں کیسے تم دنیا والوں کو منہ دیکھاتی ہو۔۔۔ تمہارے خاندان کو ایسا بدنام کروں گا کے ساری زندگی یاد رکھو گی۔۔۔ دلاور خان مکروہ مسکراہٹ چہرے پہ سچائے اپنا پلین کامیاب ہونے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ جس پلین کے کامیاب ہونے کا وہ انتظار کر رہے ہیں وہ پلین کافی برے طریقے سے فیل ہونے والا ہے۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ کا فوٹو شوٹ چل رہا تھا جب باہر سے بینڈ باجے کی آواز آنا شروع ہوئی۔
لگاتا ہے بارات آگئی۔۔۔ وردہ آکسائٹڈ ہوتی باہر کی جانب بھاگی۔
رکو تم کہاں جارہی ہو۔۔۔اس سے پہلے وہ ہال کے دروازے پہ پہنچتی مشی نے بیچ میں ہی اسے روک لیا۔
بارات دیکھنے جارہی ہوں پھوپھو۔۔۔ وردہ نے جوش سے کہا تو میشا نے اسے گھورا۔
تم دلہن ہو،،، بارات تمہاری آئی ہے۔۔۔ جاؤں اندر برائیڈل روم میں جاکے بیٹھو۔۔۔۔ میشا نے سمجھایا۔
مگر پھوپھو میری بارات آئی ہے تو مجھے دیکھنے تو دیں۔۔۔ وردہ نے ضد کی۔
اففف وردہ کبھی کبھی تو تم پورا ثبوت دیتی ہو انو کی بیٹی ہونے کا۔۔۔۔تحریم بیٹا جاؤ اسے اندر لے جاؤ ۔۔۔ میشا نے نفی میں سر ہلاتے وردہ سے کہا اور پھر اسٹیج سے اترتی تحریم سے کہتی خود بارات کے استقبال کے لیئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
جب کے منہ بنا کے کھڑی وردہ کو تحریم ہاتھ پکڑ کے برائڈل روم میں لے گئی۔
بارات کا استقبال کافی اچھے سے کیا گیا تھا۔۔۔ دلاور خان کو دیکھ کے سب ہی چونکے تھے۔۔۔ ابتسام کو تو باقائدہ غصہ آنے لگا تھا لیکن انمول نے اسے سمبھال لیا تھا۔
ان لوگوں نے دلاور خان سے بس رسمی دعا سلام کی تھی۔۔۔ اور دلاور خان نے بھی انہیں کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔
دامل کی کوئی سالی تو تھی نہیں اور بسام نے حنان کی طرح سالی کا فرض نہیں نبھایا تھا اس لیئے بغیر دروازہ رکائی کے دامل کو لا کے اسٹیج پہ بیٹھا دیا گیا تھا۔
کچھ دیر بعد نکاح شروع ہوا تو سب سے پہلے وردہ کی رضامندی لی گئی۔۔۔
جس نے تین بار قبول ہے کہتے ایک انجانے اور ان دیکھے شخص کے نام اپنے تمام تر حقوق کر دیئے۔۔۔
مبارک ہو بہنا۔۔۔ بسام اسے اپنے ساتھ لگاتا باہر نکل گیا تو اسکے پیچھے ہی ابتسام بھی اسکا ماتھا چومتا سر پہ ہاتھ پھیرتے باہر چلا گیا۔۔۔ جب کے وردہ بس اپنے آنسوں پہ بندھ باندھے بیٹی رہی۔
قبول ہے۔۔۔۔
دامل کی طرف سے نکاح قبول ہوتے ہی ایک ایک کر کے سب اسکے گلے ملتے مبارک بادی دینے لگے۔۔۔۔ جب کے دلاور خان تو بس پہلو پہ پہلو بد رہے تھے۔۔۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک چھوٹی سی لڑکی انہیں چونا لگا گئی تھی۔۔۔ ان سے پچاس کروڑ بھی لے لیئے اور انکے پوتے سے شادی بھی کر لی۔۔۔ وہ فہد کی وجہ سے مجبور تھے اس لیئے بس ایک طرف خاموشی سے غصہ ضبط کرتے مسنوعی مسکراہٹ سجائے بیٹھے رہے۔
آجاؤ بیٹا۔۔۔ انمول برائڈل روم میں آتی وردہ کو اپنے ساتھ لیئے باہر بڑھ گئی۔
وردہ انمول اور ابتسام کی ہمراہی میں گردن جھکائے اسٹیج تک آرہی تھی جب ایک دم دامل کی نظر اس پہ گئی۔
وردہ کو دیکھتے دامل کو ایک سیکنڈ بھی نہیں لگا تھا اسے پہچاننے میں۔۔۔ وہ بےیقینی سے اسے دلہن کے روپ میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ مطلب اسکی شادی کسی اور سے نہیں بلکے اس لڑکی سے ہوئی تھی جیسے دنیا میں وہ سب سے زیادہ بدتمیز لڑکی مانتا ہے۔۔۔
دامل کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ اسے اب پچتاوہ ہو رہا تھا کہ اسنے تصویر کیوں نہیں دیکھی ۔۔۔۔ آگر وہ پہلے وردہ کی تصویر دیکھ لیتا تو پہلے ہی انکار کر دیا۔۔۔ جب کے اسکے ساتھ انمول کو دیکھتے اسے اب یاد آیا تھا کہ اسنے انمول کو پہلے کہاں دیکھا تھا۔
وہ وردہ کو آنکھیں پھاڑے بےیقینی اور حیرت سے دیکھ رہا تھا جب وردہ نے مسکراتے ہوئے سامنے دیکھا تو اسکی کیفیت بھی دامل سے کم نہیں تھی۔۔۔۔ ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب ہوتی چہرے پہ حیرت در آئی تھی۔
مما یہ تو وہی ہے۔۔۔ انمول اور ابتسام کے ساتھ چلتی وردہ بےیقینی سے انمول کی طرف گردن کرتی دھیرے سے بولی۔
کون۔۔۔۔ وردہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔
دامل بیٹا ہاتھ دو۔۔۔ وردہ کو اسٹیج کے پاس آتے دیکھ فہد نے مسکرا کے کہا تو دامل جبڑے بھیج کے کھڑا ہوتے اپنی چوڑی ہتھیلی اسکے سامنے پھیلا گیا۔
وہی کھڑوس جو ہمیں ریسٹورینٹ کے باہر ملا تھا۔۔۔ وردہ اسکی ہتھیلی کو دیکھتی آہستہ آواز میں انمول سے بولی تو انمول کے دماغ میں بھی ایک دم کلک ہوا۔۔۔۔ اسے تو پہلے ہی دامل جانا پہچانا لگ رہا تھا اب وردہ کے بتانے پہ اسے یاد آگیا تھا کہ اسنے پہلے دامل کو کہاں دیکھا تھا۔
اچھا چلو ہاتھ دو دامل کو وہ انتظار کررہا ہے۔۔۔ دامل کا ہاتھ پھیلا دیکھ انمول نے کہا تو وردہ نے ایک نظر اٹھا کے اسکے بےتاثر چہرے کو دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پہ رکھتی اوپر چڑھ گئی۔
ماشاءاللہ بہت پیارے لگ رہے ہو تم دونوں ساتھ میں۔۔۔ انمول دونوں کی بلائیں لیتی بولی تو وردہ زبردستی مسکرا دی جب کے دامل تو مسکرا بھی نا سکا تھا۔
تھوڑی دیر بعد کھانا گھل گیا تھا اور کھانے کے بعد رخصتی کا وقت آگیا تھا لیکن ان دونوں نے اب تک نا ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا اور نا ہی کوئی بات کی تھی۔
مما روئیں نہیں میں آتی رہوں گی آپ سے ملنے۔۔۔ وردہ زاروں قطار روتی انمول کو اپنے ساتھ لگاتی بولی تو انمول نے سو سو کرتے ہاں میں سر ہلا دیا۔
دامل بیٹا آگر میری بیٹی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اسے معاف کردیا۔۔۔ ابتسام دامل کے گلے لگتا بولا ۔۔
اس کا مطلب آگر آپ کے داماد سے کوئی غلطی ہوجائے تو میں اسے بلکل معاف نا کروں۔۔۔ وردہ معصومیت سے بولی تو سب نم آنکھوں سے مسکرا دیئے جب کے دامل نے ناگواریت سے رخ پھیر لیا تھا۔
سب سے ملتے وردہ گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئی۔
اپنے برابر سے سو سو کی آواز آتے دیکھ دامل نے گردن گھما کے دیکھا تو وردہ شیشے سے باہر دیکھتی آنسوں بہانے میں مصروف تھی۔۔۔۔ دامل نے پہلے ایک دو بار اگنور کیا لیکن جب اسکی سو سو بند نا ہوئی تو بول پڑا۔
چاند پہ نہیں جارہیں جو اتنے انسوں بہا رہی ہو۔۔۔ دامل کے کہنے کی دیر تھی کہ وردہ کے تو سر پر لگی اور تلووں پہ بجی تھی۔
تم رخصت ہوتے تو پتہ چلتا تمہیں۔۔۔ کہ اپنے گھر اور اپنے گھر والوں سے دور جانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ دوسروں پہ طنز کرنے تو بہت آتے ہیں آگر خود پہ گزرے تو پتہ چلے۔۔۔ وردہ غصے سے کہتی چہرہ پھیر گئی تو دامل اسکے تم کہنے پہ ضبط کر کے رہ گیا۔
وردہ نے وہاں تو خود کو رونے سے روک لیا تھا لیکن اب وہ پورے راستے روتی آئی تھی اور دامل نے اسکے بعد اسے بلکل بھی کچھ نہیں کیا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
