820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 27)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

ایک ہفتے بعد

ڈیڈ رکیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔ ناشتے کے بعد فہد کو آفس کے لیئے نکلتے دیکھ وردہ نے آواز لگا کے روکا۔۔۔

وہ لوگ کل ہی گھوم پھر کے واپس آئے تھے۔۔۔۔۔ اور وردہ آج دیر سے سو کے اٹھتی تھی جب کے دامل اس سے پہلے کا اٹھ کے لاؤنچ میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ اپنا کام کر رہا تھا۔۔۔ وہ بھی بس کچھ ہی دیر بعد اپنی جاب کے لیئے نکلنے والا تھا۔

جب وردہ کی آواز پہ دامل نے اسکی جانب دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے آنکھیں نیند والی ہو رہیں تھیں۔۔۔ کسی چیز کا ہوش نہیں تھا بس نگے پاؤں دو دو سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آرہی تھی۔

ہاں بیٹھا بولا۔۔۔ فہد نے اسکی جانب قدم بڑھاتے پوچھا۔

ڈیڈ میں بھی آفس جوائن کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ وردہ اطمینان سے بولی تو دامل نے ایبرو اچکائے اسے دیکھا۔

ہاں بیٹھا ضرور مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ بس تم دامل سے اجازت لے لو۔۔۔ فہد نے مسکرا کے کہتے دامل کی جانب دیکھا جو اسکے دیکھتے ہی اپنے کام میں لگ گیا تھا۔

اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ یہ بات تو شادی سے پہلے ہی طے ہوگئی تھی کہ میں شادی کے بعد آپ کے ساتھ بزنس جوائن کروں گی۔۔۔ وردہ نے یاد دلایا جسے سمجھتے فہد نے ہاں میں سر ہلایا۔

ہاں بیٹا وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن دامل تمہارا شوہر ہے اسکی اجازت بھی ضروری ہے۔۔۔ فہد نے پیار سے سمجھایا تو وردہ نے بےچارگی سے اسے دیکھا اور پھر نظریں ان دونوں سے بےنیاز بنے بیٹھے دامل کو دیکھا۔

سنو کیا میں آفس جوائن کر سکتیں ہوں۔۔۔ وردہ نے دانت پیس​ کے کہا تو دامل نے نظر اٹھا کے اسے دیکھا جس کہ چہرے پہ صاف بےزاریت تھی۔

ہاں کر لو لیکن اکیلی کہیں نہیں جاؤ گی جہاں بھی جاؤ گی ڈرائیور ساتھ ہوگا اور گارڈز بھی۔۔۔ دامل نے جیسے فیصلہ سنایا تھا

مگر ان سب کی ضرورت نہیں ہے میں خود آ جا سکتی ہوں بچی نہیں ہو جیسے اپنی حفاظت کرنی نا آتی ہو۔۔۔ وردہ چڑھ کے بولی۔۔۔ وہ شروع سے ہی خودمختار رہی تھی لیکن اب دامل کی اتنی سیکیورٹی اسے بہت بری لگ رہی تھی۔

آگر تم ان سب کے ساتھ نہیں جاسکتیں تو پھر گھر میں ہی بیٹھو۔۔۔ دامل نے لیپ ٹاپ بند کرتے سنجیدگی سے کہتے بات ہی ختم کردی۔

ڈیڈ آپ دیکھ رہے ہیں۔۔۔ دردہ نے منہ بسور کے فہد کو دیکھا۔

ڈیڈ کیا دیکھیں گے ۔۔۔ یہ خود ڈرائیو اور سیکورٹی کے ساتھ جائیں گے آج سے۔۔۔ دامل نے سکون سے فہد کے سر پہ بھی بم پھوڑا تھا۔

مگر کیوں۔۔۔ فہد نے حیرت سے پوچھا۔

میری جاب کا آپ دونوں جانتے ہیں۔۔۔ کئی دشمن ہیں میرے۔۔۔کب کون کس طرح سے وار کر جائے پتہ ہی نہیں چلے گا۔۔۔ اس لیئے اپنی فیملی کی سیکورٹی بہت ضروری ہے۔۔۔ دامل اطمینان سے کہتا کھڑا ہوگیا جس پہ فہد نے اسکی بات سمجھتے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔

فہد جانتا تھا کہ ضرور کوئی بڑی وجہ ہوگی تبھی دامل نے گارڈز کا کہا ہے ورنا اتنے وقت میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔ اس لیئے فہد نے بھی زیادہ بہس نہیں کی۔

ٹھیک ہے مگر میں ڈرائیور ساتھ لے کے نہیں جاؤں گی۔۔ میں خود ڈرائیو کروں گی۔۔۔ وردہ اسکی بات سے راضی ہوتی ساتھ میں اپنی شرط بھی رکھ گئی۔

ٹھیک ہے لیکن گارڈز ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔۔۔ دامل نے اسکی بات مانتے اسے اجازت سے دی جس پہ وہ خوش ہوگئی۔

اوکے ڈیڈ پھر میں کل سے آفس جوائن کروں گی آج میں مما کی طرف جاؤں گی ۔۔۔ وردہ نے اپنا پلین بتایا تو فہد اوکے کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔

سنو۔۔۔ فہد کے جاتے ہی دامل بھی اپنے کمرے کی جانب جانے لگا جب وردہ نے اسکے پیچھے آتے اسے پکارہ۔

بولو۔۔۔ وہ ویسے ہی سیڑھیاں چڑھتے بولا۔

مجھے نا ایک گ+ن دے دو۔۔۔ وردہ کے کہنے پہ وہ چونک کے اسکی جانب مڑا۔

اور تم اس گ+ن کا کیا کرو گی۔۔۔ دامل نے آئبرو اچکائے سوال کیا۔

اس میں پانی پھر کے سب کو ما،روں گی۔۔۔ وردہ تپ کے بولی۔

تو ایسے بولو نا تمہیں پانی والی گ+ن چاہیئے۔۔۔ فکر نہیں کرو کل لادوں گا۔۔۔ دامل سکون سے کہتا واپس اوپر کی جانب بڑھ گیا۔

تم مجھے لا کے دو گے یا نہیں۔۔۔ وردہ غصے سے پاؤں پٹختی اسکے پیچھے بڑھتی۔

نہیں۔۔۔ دامل اک لفظی جواب دیتے کمرے میں داخل ہوا۔

ٹھیک ہے میں خود لے لوں گی۔۔۔ وردہ مزے سے کہتی الماری کی جانب بڑھ گئی۔

تم ایسا کچھ نہیں کرو گی۔۔۔ دامل اسے گھور کے بولا۔

میں ایسا کروں گی اور ضرور کروں گی۔۔. کوئی مجھے روک نہیں سکتا تم بھی نہیں۔۔۔ وردہ ایک ہاتھ میں اپنے کپڑے پکڑے اسکے سامنے آتی اسکی غصے سے لال ہوتی آنکھوں میں اپنی مسکراتی گہری آنکھیں ڈالتی ضدی لہجے میں بولی تو دامل نے جبڑے بھیجے۔

اس سے پہلے وہ واشروم کی جانب بڑھتی دامل نے ایک جھٹکے سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔ جس پہ وردہ بوکھلا گئی۔

آج تم نے دو غلطیاں کی ہیں ۔۔۔ ایک تو میری بات نا مان کے اور دوسرا مجھے پھر سے تم کہہ کے۔۔۔۔ آج تمہیں ڈبل سزا ملے گی۔۔۔ اور آج مجھے کوئی روک نہیں سکتا۔۔۔ دامل سخت انداز میں کہتا اسکے چہرے پہ جھکتے اسکی سانسیں خود میں قید کر گیا۔

وردہ اسکی اس حرکت پہ ششدر رہ گئی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ اسکے کندھے پہ رکھتی اسے خود سے دور کرنے کی جتنی کوشش کر رہی تھی دامل کے عمل میں اتنی ہی سختی آتی جارہی تھی۔

اس کے انداز میں اتنی سختی تھی کہ وردہ اپنی آنکھیں زور سے میچتی اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ گئی۔

وقت آہستہ آہستہ سرک رہا تھا لیکن دامل اسے چھوڑ ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ وہ تو جیسے مدہوش ہوگیا تھا۔۔۔

وردہ اپنا سانس رکتا محسوس کرتے اسکے کندھوں پہ مکے برسانے لگی جب کے لگ رہا تھا دامل آج ہی سارا غصہ اتار دے گا۔

سانسیں بند ہوتی محسوس کرتے وردہ کی آنکھوں سے آنسوں پھسل کے گالوں پہ بہہ گئے ۔۔۔ اسکے آنسوں روانی سے بہہ رہے تھے۔۔۔ اپنے چہرے پہ نمی محسوس کرتے دامل نے ایک جھٹکے سے اسے جھوڑا جس سے وہ اسکے ہی سینے سے لگتی اپنی سانسیں ہموار کرنے لگی۔

امید کرتا ہوں آج کے بعد تم میری کوئی بات نہیں ٹالو گی اور نا ہی اب ان لبوں سے تم نکلے گا۔۔۔ لیکن آگر تم نے پھر سے وہی غلطی کی تو یاد رکھنا اب کی بات سزا اور سخت ہوگی۔۔۔ مجھے یقین ہے اس سزا کے لیئے تم ابھی تیار نہیں ہوگی۔۔۔اس لیئے بہتر ہے سوچ سمجھ کے بولو۔۔۔ دامل نے نرمی سے اسکی پشت سہلاتے گھمبیر آواز میں کہتا آہستہ سے اسے خود سے الگ کرتا واشروم میں گھس گیا ۔۔۔ جب کے وردہ جہاں تھی وہیں کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔

اسے تو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ دامل ایسی کوئی حرکت کر سکتا ہے۔۔۔ پر جو سزا اسنے دی تھی یہ تو وردہ زندگی بھر یاد رکھنے والی تھی۔

۔🌺🌺🌺

یونیفارم پہن کے تیار ہونے آنے کے بعد بغیر وردہ سے بات کیئے سیدھے کمرے سے نکل گیا۔۔۔

اسکے جاتے ہی وردہ بھی جلدی سے تیار ہوتی اپنے میکے کے لیئے نکل گئی۔

جیسے دامل نے کہا تھا ویسے ہی اسکے ساتھ گارڈز کی ایک گاڑی موجود تھی جو اسکے پیچھے پیچھے آرہی تھی۔

وہ کبھی بھی گارڈز کو ساتھ لے کے نہیں جانا چاہتی تھی لیکن یہ اسکی مجبور تھی کہ اسے گارڈز ساتھ لے کے جانے پڑھ رہے تھے۔

وہ گھر پہنچتے گھر میں داخل ہوئی تو سب ہی کاؤنچ میں جما تھے سوائے ابتسام، بسام اور بلال صاحب کے۔۔

مما خوشخبری۔۔۔ وردہ مما کی پکار لگتی اندر بڑھی تو تحریم سے بات کرتی انمول اسکی آواز پہ فورن کھڑی ہوتی اسکے گلے لگی۔

کیسی ہے میری بیٹی۔۔۔ پیار سے پوچھنے لگی۔

میں بلکل ٹھیک ہوں آپ سب کیسے ہیں۔۔۔ وہ انمول کو کہتی باری باری سب سے ملنے لگی۔

وردہ تم تو موٹی ہوگئی ہو۔۔۔ تحریم نے آنکھیں پھاڑے کہا تو وردہ حیرت سے منہ کھولے اوپر سے نیچے تک خود کو دیکھنے لگی۔

واقع۔۔۔ اسنے بےیقینی سے کہا

ہاہاہاہا مزاق کر رہی ہوں۔۔۔۔ تحریم نے ہنس کے کہا تو وردہ اسے گھورتی اسکی جانب بڑھتی تو تحریم فورن کھڑی ہوتی اس سے پچنے کے لیئے بھاگنے لگی۔

اور پھر کیا تھا جس گھر میں وردہ کے جانے کے بعد شرارتیں کم ہوگئیں تھی اب وردہ کے آنے سے ایک ادھم مچ گیا تھا۔

تحریم آگے آگے اور وردہ اسے پکڑنے کے لیئے اسکے پیچھے پیچھے تھی۔۔۔ ان دونوں کو بچپن کی طرح لڑتے دیکھ سب کے چہروں پہ ہنسی بکھر گئی تھی۔

ہائے مجھے چکر آرہے ہیں۔۔۔ وردہ بھاگتے ہوئے رک کے ایک دم صوفے پہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی تو تحریم فورن فکرمند ہوتی اسکے پاس ائی۔

کیا ہوا وردہ تم ٹھیک ہو۔۔۔ تحریم اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھے پریشانی سے بولی جب کہ وردہ کو سر پکڑے دیکھ سب ہی فکرمند ہو گئے تھے کہ اسے اچانک کیا ہوگیا ہے۔۔

ارے وردہ میری بچی کوئی جوس لاؤں اس کے لیئے۔۔۔۔ بیٹھو بیٹا ٹھیک سے پاؤں اوپر کر کے بیٹھو۔۔۔اس سے پہلے وردہ کچھ کہتی انمول جلدی سے اسکی دوسری جانب بیٹھتی اسے اپنے ساتھ لگائے ملازمہ کو آواز دے کے جوس منگوانے لگی۔۔۔

مما میں۔۔۔۔ وردہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ انمول نے پھر سے اسے چپ کروادیا۔

تم خاموشی سے بیٹھو۔۔۔ جب تمہیں پتہ تھا تمہاری طبعیت ایسی ہے تو کیا ضرورت تھی اتنی تیز تیز بھاگنے کی۔۔۔ ابھی خدا نا خواستہ کچھ اونچ نیچ ہوجاتی تو ہم کیا جواب دیتے دامل کو۔۔۔ انمول اسے ڈانٹنے والے انداز میں سمجھانے لگی جب کے وردہ تو اسکی باتیں ہونقوں کی طرح سن رہی تھی کہ وہ کہہ کیا رہی ہے.

مما یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ وردہ سب کو اپنے سر پہ کھڑا دیکھ کنفیوز ہوتے پوچھنے لگی۔

تمہاری ماں ہوں سب سمجھ آتا ہے مجھے۔۔۔ انمول نے مسکراتے ہوئے کہا جب کے سب ہی انمول کی باتیں سمجھنے سے قاصر تھے۔

بہت بہت شکریہ میری بیٹی کہ تم مجھے نانی بنانے والی ہو۔۔۔۔ انمول حیران بیٹھی وردہ کا ماتھا چوم کے بولی جب کے انمول کی بات سنتے وہاں موجود سب کے چہروں پہ خوشی کھل گئی تھی۔

اس کا مطلب میں ممانی بنانے والی ہوں۔۔۔ دوسری طرف بیٹھی تحریم وردہ کو گلے لگاتی خوشی سے چیخی جب کے وردہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

ماشاءاللہ ہم پرنانی بنے گے۔۔۔ شگفتہ بیگم اور نسرین بیگم دونوں باری باری اسکا ماتھا چومتی بولی جب کے وردہ تو بس منہ کھول کے واپس بن کیئے جا رہی تھی کیونکہ وہ لوگ اسے کچھ بولنے ہی نہیں دے رہے تھے۔۔۔ اب بھی اس نے ان سب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیئے منہ کھولا ہی تھا کہ انمول بول پڑی۔

ارے بھئی جوس کہاں رہ گیا۔۔۔ چلو وردہ کمرے میں چل کے آرام کرو۔۔۔ زیادہ بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے تمہارے لیئے۔۔۔ انمول جوس کے لیئے آواز لگانے کے بعد وردہ کو کھڑے کرتے بولی۔

ہاں بیٹا آرام کرو۔۔۔نسرین بیگم اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتی شفقت سے بولیں۔

میں تمہارے لیئے کچھ اچھا سا بنا کے لاتی ہوں یا آگر تمہارا کچھ کھانے کا دل ہے تو وہ بتا دو میں وہ بنا دوں گی۔۔۔ تحریم پیار سے پوچھنے لگی۔

تحریم ایک کام کرو اس کے لیئے یخنی بنانے رکھ دو ۔۔۔ وہ زیادہ طاقتور​ ہوتی ہے۔۔۔پھر سے وردہ کو بولنے کا موقع دیئے بغیر انمول وردہ کو اپنے ساتھ کھڑا کرتی بولی۔۔۔۔ جب کے اب وردہ کی بس ہوگئی تھی۔

افففف بس کریں آپ لوگ۔۔۔ مما آپ کو کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔ آپ جیسا سوچ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ وردہ سب کو اپنے اردگرد گہرا بنائے کھڑا دیکھ سمجھانے والے انداز میں بولی۔

جھوٹ نہیں بولوں مجھ سے۔۔۔ تم نے آتے کے ساتھ کہا تھا خوشخبری۔۔۔ اور پھر تمہیں ابھی چکر آئے تھے ۔۔۔ تم کیوں اپنے گھر والوں سے چھپا رہی ہو۔۔۔ انمول وردہ کو گھورتے ہوئے بولی۔

شاید یہ ہمیں کسی اور طرح سے سرپرائز دینا چاہتی ہو لیکن ہمیں پہلے سے پتہ چل گیا اس لیئے یہ جھوٹ بول رہی ہوگی اب۔۔۔۔ تحریم نے معصومیت سے اپنا دماغ چلایا جب کے اسکی ماتھے سنتے وردہ کا دل کیا اسکا خو۔ن پی جائے۔

ارے بھئی میں کچھ جھوٹ نہیں بول رہی۔۔۔ میں پریگننٹ نہیں ہوں۔۔۔ میں نے صرف چکر آنے کا بہانا کیا تھا تا کے ریم میرے پاس آئے اور میں اسے پکڑ لوں لیکن مما آپ نے تو اپنے پاس سے ہی ساری بات اخذ کرلی۔۔۔ وردہ ساری بات کلیر کرنے لگی تو سب کے منہ سے ایک ساتھ او نکلا۔

پر پھر تم نے گھر میں گھستے ہی کس خوشخبری کی بات کی تھی۔۔۔ انمول ایک ہاتھ کمر پہ ٹکائے دوسرا تھوڑی پہ رکھتے سوچنے والے انداز میں پوچھنے لگی۔

آپ کے داماد نے مجھے آفس جوائن کرنے کی اجازت دے دی ہے یہ خوشخبری سنانے والی تھی میں۔۔۔ وردہ نے گہری سانس بھر کے کہا تو سب واپس اپنی اپنی جگہ پہ جاکے بیٹھ گئے۔

لو میں تو اتنی خوش ہوگئی تھی کہ میں ممانی بنوں گی۔۔۔ تحریم اداسی سے بولی۔

بھئی پہلے تم مجھے پھوپھو بناؤ گی۔۔۔ تحریم کی بات پہ وردہ نے مزے سے کہا تو اسنے اسے گھور کے دیکھا۔

جی نہیں پہلے تم مجھے ممانی بناؤ گی۔۔۔ تحریم نے جلدی سے کہا۔

پہلے شادی تمہاری ہوئی ہے تو پہلی باری بھی تمہاری ہوگی۔۔۔ وردہ سکون سے بولی

میڈم آپ کی شادی بھی میرے ساتھ ہی ہوئی ہے۔۔۔ تحریم نے یاد دلایا۔۔۔

جی نہیں تمہاری شادی مجھ سے ایک دن پہلے ہوئی ہے سمجھیں۔۔۔ وردہ دوبدو بولی

ایک دن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ تحریم نے فورن جواب دیا۔

بھئی ایک دن ہو، ایک گھنٹہ ہو یا ایک منٹ پہلے، پہلے ہی ہوتا ہے اب تم نہیں مان رہیں اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے لیکن حقیقت نہیں بدل سکتی سمجھیں۔۔۔ وردہ صاف گوئی سے بولی تو تحریم نفی میں سر ہلا کے رہ گئی کیونکہ وردہ سے بحث کا کوئی فائدہ تو تھا ہی نہیں۔

تو پھر کب بنا رہی ہو مجھے پھوپھو۔۔۔ وردہ نے اسے چھیڑا تو سب کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھ تحریم سٹپٹا گئی۔

میں کھانے کا دیکھتی ہوں۔۔۔ تحریم اسکی باتوں اور شرارت بھری نظروں سے بچنے کے لیئے وہاں سے اٹھ کے جانے لگی لیکن وردہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے واپس بیٹھا لیا۔

بیٹھی رہوں آج کھانا ہم سب باہر کھائیں گے۔۔۔ میں ویسے بھی یہاں اس لیئے آئی تھی کی ہم سب مل کے شوپنگ پہ چلیں گے آخر سیف کی شادی قریب جو ہے۔۔۔ وردہ نے خوشی سے کہا۔

آپ لوگ جاؤں ہم لوگ تو گھر میں ہی رکھیں گے۔۔۔ کیونکہ اس بڑھاپے میں ہم سے اتنا چلا نہیں جائے گا۔۔۔ نسرین بیگم نے کہا تو شگفتہ بیگم انکی بات سے اتفاق کرتی ہاں میں سر ہلانے لگیں۔

مما آپ تو چلیں گی نا۔۔۔ وردہ نے جان بوجھ کے انمول سے پوچھا تھا

میں کیا بوڑھی ہوگئی ہوں جو مجھ سے یہ سوال پوچھ رہی ہو ۔۔۔ میں چلوں گی ساتھ،،، ضرورت چلوں گی۔۔۔ وردہ کی اکسپکٹیشن کے عین مطابق انمول نے چڑھ کے جواب دیا تھا۔

ہاہاہا چلیں پھر جلدی سے آپ دونوں تیار ہوجائیں اور مشی پھوپھو اور ماہی آنٹی کو بھی بول دیں وہ بھی تیار ہوجائیں ہم سب ساتھ چلیں گے اور راستے میں سے نور کو بھی لے لیں گے اچھا ہے سب مل کے شوپنگ کریں گے تو مزا آئے گا۔۔۔ وردہ نے اپنا پورا پلین بتایا تو تحریم اور انمول جلدی سے تیار ہونے چل دیں جب کے وردہ وہیں اپنی دادی اور نانی کے ساتھ بیٹھ کے باتوں میں لگ گئی

۔🌺🌺🌺

یہ گارڈز کس کے ہیں۔۔۔ وہ لوگ گھر سے باہر نکلیں تو باہر گارڈز کی گاڑی کھڑی دیکھتے تحریم نے تعجب سے پوچھا۔

میرے۔۔۔۔ وردہ نے بےزاریت سے جواب دیا۔

ہیںںں مگر کیوں۔۔۔ اب کی بار انمول نے حیرت سے پوچھا۔

آپ کا داماد پاگل ہوگیا ہے۔۔۔ دشمن اسکے ہیں اور سکیورٹی گارڈز ہمارے ساتھ لگا دیئے ہیں۔۔۔ وردہ نے منہ بنایا۔

وردہ تمیز سے۔۔۔۔ شوہر کے بارے میں بات کر رہی ہو۔۔۔ انمول نے ڈپٹا۔

چھوڑیں یہ سب بیٹھیں آپ لوگ میں پھوپھو اور ماہی آنٹی کو بال کے لاتی ہوں۔۔۔۔ وردہ انہیں بیٹھنے کا کہتی میشا کے گھر کی جانب بڑھ گئی جب میشا اور ماہی دونوں ساتھ ماہی کے گھر سے نکلتی نظر آئیں۔۔۔

اتنی دیر لگادی آپ دونوں نے آنے میں ۔۔۔ اور پھوپھو آپ ماہی آنٹی کے گھر کب گئیں۔۔۔ انمول نے دونوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

میں نے سوچا ماہی کو اپنے ساتھ ہی لے آؤ۔۔۔۔ اس لیئے اسے لینے اسکے گھر گئی تھی۔۔۔ میشا وردہ کے گلے لگتی بولی۔

کیسی ہو بیٹا۔۔۔ اور ہنی مون کیسا رہا۔۔۔ ماہی نے شرارت سے پوچھا تو وردہ لب دبا کے مسکراہٹ چھپا گئی۔۔۔ اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ وہ لوگ ہنی مون منانے تو گئے ہی نہیں تھے بلکے لڑنے گئے تھے بس۔

ایسی باتیں نہیں کریں مجھ سے۔۔۔ مجھے شرم آتی ہے۔۔۔ وردہ دونوں ہاتھ منہ پہ رکھتی شرمانے کی اکٹنگ کرنے لگی۔۔۔۔ تو وہ لوگ ہنس دیں

اچھا چلیں اب دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وردہ ان دونوں کو لیئے گاڑی کی جانب بڑھی۔

یہ گارڈز۔۔۔ میشا پانچ چھ ہٹے کٹے آدمیوں کو بلیک گاڑی کے پاس کان میں بلوتوت لگائے کھڑا دیکھ الجھ کے پوچھنے لگی۔

ہائے بڑی لمبی کہانی ہیں۔۔۔ راستے میں بتاؤں گی۔۔۔ وردہ آنکھیں گما کے کہتی ان سب کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتی خود ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھی۔

وہ لوگ نور کے گھر کے راستے میں ہی تھے کے ایک سگنل پہ انکی گاڑی رکی۔۔۔ وہ اکیلی ہوتی تو شاید سگنل توڑ دیتی لیکن اسکے ساتھ اس وقت سب موجود تھے اس وجہ سے اسے گاڑی روکنی پڑی تھی۔

وردہ ادھر ادھر دیکھتی سگنل کھلنے کا انتظام کر رہی تھی جب اسکی نظر ایک کیفے کے باہر گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے دامل پہ گئی جس کے ساتھ ایک لڑکی بھی کھڑی تھی۔

دونوں کو ایک ساتھ ایک دوسرے کے پاس کھڑے دیکھ وردہ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں تھی۔۔۔ ایک پل کو اسکے دماغ میں خیال آیا کے شاید کوئی پولیس والی ہی ہو لیکن اسے گھر کے کپڑوں میں اور دامل کو یونیفارم میں موجود دیکھ اسکے دل نے فورن نفی کہ کہ یہ کوئی پولیس والی نہیں ہو سکتی۔۔

ادھر انکا سگنل کھلا ہی تھا اور ادھر دامل اور وہ لڑکی دامل کی گاڑی میں بیٹھ کے وہاں سے روانہ ہوگئے تھے۔

وردہ سگنل کھل گیا ہے چلو۔۔۔ آگے بیٹھی انمول نے اسکا کندھا ہلاتے کہا تو وہ اس جگہ سے نظریں ہٹاتیں۔۔۔ جی کہتی گاڑی آگے بڑھا لے گئی۔۔

اسکا دماغ بہت سے الگ الگ تانے بانے بن رہا تھا۔۔۔ دل میں کئی وسوسے آرہے تھے۔۔۔ لیکن وہ بغیر کسی ثبوت کے کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن دماغ بار بار اسے کچھ الٹا سیدھا کرنے پہ اکسا رہا تھا پر وہ کافی ضبط سے کام لے رہی تھی۔

۔🌺🌺🌺