Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 7)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 7)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
وہ لوگ گھر واپس آئے تو بسام لان میں بیٹھا انہیں کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
وردہ مما۔۔۔ ان دونوں کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ اسنے پکارہ
ارے واہ بسام صاحب آپ تو ایکٹنگ میں ماسٹر نکلے۔۔۔ ایسا کیوں نہیں کرتے یہ آفس وفس چھوڑ کے ایکٹنگ پہ لگ جاؤ۔۔۔ قسم سے کافی کم وقت میں اچھا خاصہ نام کما لوگے۔۔۔ وردہ اسکا کندھا تھپتھپاتی اسے داد دیتی ساتھ مشورے سے بھی نواز گئی۔۔۔۔ جب کے بسام کو تو اسکی کوئی بات سمجھ ہی نہیں. آرہی تھی۔
ہاں بیٹا ماننا پڑے گا کیا ایکٹنگ کی ہے مجھے تو ایک وقت کو لگا کے شاید اصلی میں کوئی بدماش آگئے ہوں گے۔۔۔ اور حنان وہ تو چھوٹا پیکٹ اور بڑا دھماکہ نکلا۔۔۔ انمول نے بھی خوشی سے اسے داد دی جب کے بسام تو آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہا تھا اور بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
اور تم دونوں نے جو آواز بدلی ہے واہ مزاح ہی آگیا وہاں تو۔۔۔ اب تو کوئی غلطی سے بھی تم دونوں کو پہچان نہیں سکتا۔۔۔ وردہ ایک بار پھر بولی تو بسام نے اپنا سر کھجایا۔
یہ آپ دونوں کس کی بات کر رہی ہیں۔۔۔ اسنے الجھ کے ناسمجھی سے پوچھا۔
تمہاری اور کس کی۔۔۔ وردہ نے گھور کے جواب دیا جیسے کہہ رہی ہو اب زیادہ نا بنو ۔
لیکن میں نے اور حنان نے تو کچھ کیا ہی نہیں تھا۔۔۔ بسام نے بےچارگی سے کہا تو وہ دونوں استہزا ہنسیں
مزاق کافی اچھا کر لیتے ہو۔۔۔ وردہ کہتی پاس رکھی کرسی پہ بیٹھ گئی۔
ارے میں مزاق نہیں کر رہا ۔۔۔ ہم ٹریفک میں پھنس گئے تھے اور جب ہم مارکٹ پہنچے تو آپ میں سے وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔۔۔ ہم نے کافی دیر انتظار کیا سیف کو بہت بات فون بھی کیا لیکن کوئی رسپونس نہیں آیا ۔۔۔ اور پھر کافی دیر انتظار کرنے کے بعد ہم واپس آگئے تھے۔۔۔ بسام کے انکشاف پہ وردہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی جب کے انمول تو دنگ رہ گئی تھی۔
اس کا مطلب وہ لڑکے اصلی کے بدماش تھے۔۔۔ انمول کی آواز صدمے کی زیادتی سے بہت کم نکلی تھی۔
کیا مطلب اصلی کے بدماش تھے۔۔. بسام نے ناسمجھی سے پوچھا۔
ہوا یہ تھا کہ۔۔۔۔۔۔ وردہ اسے سب بتاتی چلی گئی جسے سنتے بسام کی آنکھیں بھی پھیلتی چلی گئیں۔
چلو اب جو ہوگیا سو ہوگیا میں کل سیف کو خود بتا دوں گی کہ وہ لڑکے تم اور حنان نہیں تھے ۔۔۔۔ باقی آج کے بعد اس بات کا ذکر ہم میں سے کوئی نہیں کرے گا سمجھ گئے تم دونوں۔۔۔ انمول نے دونوں کو دیکھتے سمجھاتے ہوئے کہا تو ان دونوں نے شرافت سے ہاں میں سر ہلا دیا۔
۔![]()
![]()
![]()
آج اتنی جلدی صبح کیسے ہوگئی۔۔۔ وردہ کو تیار ہوئے ڈائنگ ٹیبل پہ آتے دیکھ انمول نے شرارت سے طنز کیا۔
کیونکہ آج میں بسام اور بابا کے ساتھ آفس جاؤں گی۔۔۔ وہ اپنی پلیٹ میں ناشتہ ڈالتی سکون سے بولی۔
ہممم ٹھیک ہے آج سے تم میری پرسنل سیکٹری ہو۔۔۔ اور تمہاری سیلری تیس ہزار ہوگی۔۔۔ بسام جوس کا گھونٹ بھرتے سنجیدگی سے کہتا اسے چھیڑنے لگا
ڈیئر برادر آپ شاید بھول رہے ہیں کے میں بابا کے بزنس میں فوٹی پرسنٹ کی مالکن ہوں۔۔۔ اور آگر میں فوٹی پرسنٹ کی مالکن نہیں بھی ہوتی تو بھی تمہاری سیکٹری تو کبھی نہیں بنتی۔۔۔ وردہ نے اطمینان سے کہا تو بسام نے اوووو کی شیپ میں ہونٹوں کو گول کیا۔
میں جلتی ہوں۔۔۔ آج میرا میرے آفس میں پہلا دن ہے تو میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی۔۔۔ وردہ چند نوالے کھاتی اپنا بیگ اٹھاتی کھڑی ہوکے بولی
ہاں بیٹا آپ پہنچو ہم بھی بس تھوڑی دیر میں نکلتے ہیں۔۔۔۔ ابتسام نے کہا تو وہ سب کو خدا حافظ کہتی باہر نکل گئی۔
ماشاءاللہ میری بچی کتنی لائک ہے۔۔۔ بہت ذمیدار ہے۔۔۔ شگفتہ بیگم نے شفقت سے کہا۔
تھینک یو مما۔۔۔ انمول نوالہ منہ میں ڈالتی مسکرا کے بولی اسے لگا وہ اسے کہہ رہی ہیں
میں تمہیں نہیں کہہ رہی میں تو اپنی وردہ کو کہہ رہی ہوں۔۔۔۔ میری وردہ اتنی سلجھی ہوئی زمیدار بچی ہے۔۔۔ اور تم تمہیں تو اتنے سالوں میں بھی اپنی زمیداریوں کا احساس نہیں ہوا۔۔۔ وردہ کا ذکر کرتے انکے لہجے میں بہت پیار تھا جب کے انمول کو وہ سختی سے طنز کر رہی تھیں۔
مما آپ مجھے ایسا نہیں کہہ سکتیں۔۔۔ ابتسام اور بسام کو ہنستے دیکھ وہ چیخ کے بولی تو انہوں نے سر جھٹکا۔۔
زیادہ ہی دانت نکل رہے ہیں آپ دونوں کے۔۔۔ انمول نے گردن جھکائے اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کرتے باپ بیٹے کو گھور کے کہا۔
میں چلتا ہوں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بسام اسکی غصے سے بھری آواز سنتے فورن ڈر کے کہتا باہر نکل گیا۔
اب ابتسام تھا اور انمول کی گھوریاں جنہیں وہ نظر انداز کیئے چائے پی رہا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
اتنی صبح کہا چلی سواری۔۔۔ وردہ جو اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی دائم کی آواز پہ رکی
آفس جارہی ہوں۔۔۔ اب پڑھائی ختم ہوگئی ہے تو گھر میں بیٹھے سے اچھا ہے بابا کا آفس جوائن کرلوں۔۔۔ وہ مسکرا کے بولی
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔ چلو تم خیر سے جاؤ۔۔۔ مجھے زرا انو سے بات کرنی تھی میں اس سے مل لیتا ہوں۔۔۔ دائم کہتا اندر بڑھ گیا تو وہ بھی اپنی گاڑی لیئے نکل گئی۔
ابھی دائم نے لاؤنچ میں قدم رکھا ہی تھا کہ سامنے سے بسام آتا دیکھ گیا۔
ارے دائم انکل آپ اتنی صبح یہاں کیسے۔۔۔ بسام نے خوشگوار لہجے میں پوچھا۔
تمہاری ماں سے کچھ بات کرنی تھی بس اس لیئے ہی آیا ہوں۔۔۔ اسنے آنے کی وجہ بتائی
اچھا پھر ڈائنگ روم میں چلے جائیں سب وہیں موجود ہیں ۔۔۔ اور ہاں تھوڑا سمبھل کے بات کرے گا مما ابھی کافی غصے میں ہیں۔۔۔ بسام اسکی طرف جھکتے راز داری سے بولا۔
غصے میں کیوں ہے۔۔۔ دائم نے حیرت سے پوچھا
ابھی ابھی نانو سے تازی تازی بےغیرتی ہوئی ہے۔۔۔ بسام نے ہلکے سے ہنستے ہوئے بتایا تو دائم بھی ہنس دیا
ہاہاہا چلو تم فکر نہیں کرو میں دیکھ لوں گا۔۔۔ دائم قہقہہ لگا کے کہتا اسکا کندھا ٹھپٹھپاتے ڈائنگ روم کی جانب بڑھ گیا تو بسام نے بھی باہر کی راہ لی۔
اسلام و علیکم۔۔۔ دائم سب کو سلام کرتے اندر داخل ہوا۔
وعلیکم اسلام کیسے ہو بیٹا۔۔۔ نسرین بیگم نے مسکرا کے پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں اور آپ سب کیسے ہیں۔۔ دائم ابتسام کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھا جب کے اسکے سامنے والی کرسی پہ انمول منہ پھلائے بیٹھی تھی
انو تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔ دائم نے انجان بنتے پوچھا۔
کچھ نہیں،،،، تم بتاؤ کیسے آنا ہوا اس وقت۔۔۔ انمول بات بدلی گلاس میں جوس ڈال کے اسکے سامنے کر گئی جسے اسنے آرام سے تھام لیا۔
ہاں وہ میں بتانے آیا تھا کہ آج تحریم کو کچھ لوگ دیکھنے آنے والے ہیں ۔۔۔ ویسے تو انہوں نے تحریم کو دیکھا ہوا ہے لیکن آج لڑکے کو بھی ساتھ لائیں گے۔۔۔ تو میں چاہتا ہوں آپ لوگ بھی آجائیں اسپیشلی انو۔۔۔ کیونکہ تم جانتی ہو تحریم تم سے کتنی کلوز ہے اس لیئے ہم چاہتے ہیں کے آج تم اسکے ساتھ ہو۔۔۔ دائم نے سکون سے اپنی بات مکمل کی تھی۔
کوئی بھی کام ہو یا چاہے کوئی مسئلہ ہو وہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تھے۔
کیا تم نے تحریم سے اسکی مرضی پوچھ لی۔۔۔ کیا وہ راضی ہے اس رشتے کے لیئے۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے پوچھا۔
ہاں اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ دائم نے مسکرا کے کہا۔
ہممم ٹھیک ہے۔۔۔ باقی سب کا تو پتہ نہیں لیکن میں ضرور آؤ گی۔۔۔۔ انمول نے سکون سے ہاں میں سر ہلاکے کہا۔۔۔۔۔ سب کچھ تحریم کی مرضی سے ہو رہا تھا اس لیئے وہ اب مطمئن ہوگئی تھی۔
ویسے لوگ کون ہیں۔۔۔ ابتسام نے پوچھا۔
ماہی کی رشتے میں خالہ لگتی ہیں انکے بیٹے کا بیٹا ہے۔۔۔ دائم نے بتایا تو ابتسام نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا
کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد ابتسام اور دائم دونوں آفس کے لیئے نکل گئے تھے ۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ اپنے آفس روم میں بیٹھی فون پہ گیم کھیل رہی تھی جب ڈور نوک ہوا۔
آجائیں۔۔۔۔ وہ فون سے نظریں ہٹائے بغیر مصروف سے انداز میں بولی۔
میم یہ سر نے فائنل بھیجی ہے اور کہا ہے کہ آج دوپہر دو بجے خان انڈسٹریز کے ساتھ آپ کی میٹنگ ہے ۔۔۔ ابتسام کا سیکٹری اندر آتے اسکے سامنے فائل رکھتے بولا۔
اوکے ۔۔۔۔ وہ پھر فون سے نظریں ہٹائے بغیر بولی۔۔. تو وہ جانے لگا۔۔۔ جب وردہ کی آواز پہ رکا
اچھا سنو میرے لیئے جوس بھیج دو۔۔۔ وردہ اسے ایک نظر دیکھ کے بولی۔
اوکے میم۔۔۔ اسنےآداب سے کہا اور جانے لگا۔
بلکے چائے بھیج دے نا۔۔۔ وردہ کے پھر سے کہنے پہ وہ سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے پھر جانے لگا جب وردہ نے پھر پکارہ
بلکے ایک کام کرو جوس ہی بھیج دینا۔۔۔ ابھی میں نے تھوڑی دیر پہلے بھی جوس ہی پیا تھا اب اگر چائے پی لی تو پیٹ میں ٹھنڈا گرم ہو جائے گا اس لیئے جوس بھیج دے نا ۔۔۔۔ وردہ فون رکھتی فائنل کھولتے مسکرا کے بولی۔
جی میم۔۔۔ وہ بامشکل اپنی بےزاریت چھپا کے کہتا جلدی سے باہر نکل گیا ۔۔۔ اتنی سی دیر میں ہی وردہ نے اسکا دماغ خراب کر دیا تھا۔۔۔ آگر وہ تھوڑی دیر اور رکتا تو شاید وہ پھر سے چائے کا بول دیتی۔
ہاہاہاہا بیچارا۔۔۔ اسکے جاتے ہی وردہ اسکی بےچاری شکل یاد کرتے ہنس دی۔۔۔ وہ بور ہو رہی تھی اس لیئے بس اسے تنک کر رہی تھی۔۔۔۔ مگر اب اسکے پاس کام آگیا تھا جو اسے اچھے سے کرنا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
کوئی ہے گھر میں۔۔۔ انمول اپنے ازلی انداز میں دائم کے گھر میں داخل ہوئی۔
سب ہیں بس تمہاری ہی کمی تھی۔۔۔ ماہی نے بادام کاٹتے مسکرا کے کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔
مہمان نہیں آئے ابھی تک۔۔۔. بھئی بڑے ہی کوئی لیٹ لطیف ہیں ابھی تک نہیں آئے۔۔۔ میں تو کہتی ہوں ابھی بھی وقت ہے سوچ لو۔۔۔ انمول نے ہمدردانہ مشورہ دیا
میڈم مہمان لیٹ نہیں ہیں آپ جلدی تشریف لے آئی ہیں۔۔۔۔۔ ماہی نے عطلاح دی تو وہ اسے گھورنے لگی۔
آنٹی دیکھ رہی ہیں،،، آپ کی بہو کو اب میرے یہاں آنے سے بھی مسئلہ ہو رہا ہے۔۔۔۔ وہ مسنوعی منہ بناتی مسرت بیگم کو اسکی شکایت لگانے لگی۔۔۔ جب کے ماہی تو اسے منہ کھولے دیکھ رہی تھی جو اسکی بات کا کیا مطلب نکال رہی تھی۔
نہیں بیٹا اسکے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ مسرت بیگم نے سمجھایا۔
آنٹی آپ بھی اسکے ساتھ ہیں جائیں میں آپ سے بھی بات نہیں کرتی۔۔۔۔ میں جارہی ہوں اپنی تحریم کے پاس۔۔۔ وہ مسرت بیگم کو آنکھ مار کے کہتی ناراضگی سے اٹھ کے ماہی کے آگے سے بادام پستے مٹھی بھر کے لیتی تحریم کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
پھوپھو یہ۔۔۔ ماہی ابھی بھی صدمے میں تھی۔
ارے پریشان نہیں ہو بیٹا وہ بس تمہیں تنگ کر رہی تھی ابھی مجھے آنکھ مار کے گئی ہے۔۔۔ مسرت بیگم مسکرا کے بولیں۔
توبہ پھوپھو کیا عورت ہے یہ۔۔۔ کوئی اس کی حرکتیں دیکھ کے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ دو جوان بچوں کی ماں ہے۔۔۔۔ ماہی نفی میں سر ہلاتی بولی تو وہ ہنس دیں۔
۔![]()
![]()
![]()
تحریم میری جان کیسی ہو۔۔۔ انمول ہمیشہ کی طرح بغیر دستک دیئے کمرے میں داخل ہوئی تو تحریم نے فورن اپنے ہاتھ میں پکڑی تصویر تکیے کے نیچے رکھی۔۔. جو انمول نے باخوبی نوٹ کیا تھا۔
میں ٹھیک ہوں انو آپ کیسی ہیں۔۔۔ تحریم پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
کیا بات ہے ریم پریشان ہو۔۔۔ انمول اسکے چہرے پہ اداسی دیکھ پوچھے بغیر نا رہ سکی۔
نہ۔۔۔نہیں تو۔۔۔ اسنے ہڑبڑا کے منہ پہ ہاتھ پھیرتے بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔. لیکن انمول کی جانچتی نظروں سے اسے گھبراہٹ ہورہی تھی۔
ریم مجھ سے جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔ انمول نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے سنجیدگی سے کہا۔
نہ۔۔۔ نہیں انو میں کی۔۔۔ کیوں جھو۔۔۔ٹ بولوں گی۔۔۔ تحریم کی زبان نے بھی اسکا ساتھ نہیں دیا تھا۔
تحریم کیا بات ہے۔۔۔ کیا چھپا رہی ہو مجھ سے ۔۔۔ میں نے دیکھا ابھی تم نے کوئی تصویر بھی چھپائی ہے ۔۔۔ بتاؤ مجھے کیا بات ہے کیوں افسردہ ہو اتنی۔۔۔ اگر کوئی بات ہے تو تم مجھے سے شیئر کر سکتی ہو،،، ہم تو دوست ہیں نا ۔۔۔ تمہیں مجھ سے کوئی بھی بات چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ بلا جھجھک ہر بات کہہ سکتی ہو مجھ سے۔۔۔انمول نے بہت پیار سے اسے سمجھایا تھا جس سے تحریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
ریم میری جان تم رو کیوں رہی ہو کیا ہوا ہے۔۔۔ اسے روتے دیکھ انمول نے تڑپ کے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔۔ تحریم حساس تھی لیکن اسکے باوجود بھی انمول نے کبھی اسے روتے نہیں دیکھا تھا لیکن آج وہ رو رہی تھی تو ضرور کوئی بڑی بات ہوگی۔
انو میں۔۔۔۔۔
ہاں ریم بولو۔۔۔۔ جو بھی بات ہے دل میں وہ کہہ دو۔۔۔ انمول اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھامتی شفقت بھرے لہجے میں بولی۔
میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔۔ تحریم گردن جھکائے جھجھک کے بولی۔
کیسے۔۔۔ انمول نے تجسس سے پوچھا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی دروازہ بجنے لگا۔
آجاؤ۔۔۔ تحریم جلدی سے اپنے آنسو ساتھ کرتی رخ پھیر گئی۔
آپی مما نے کہا ہے جلدی سے تیار ہو جائیں مہمان بس آنے ہی والے ہیں۔۔۔۔ حنان دروازے میں سے جھانک کے بولا۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔ انمول نے کہا تو وہ اوکے کہتا چلا گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
