820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 6)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

چلو بتاؤ کیا مدد چاہیے تمہیں۔۔۔ وہ دونوں چھت پہ رکھی کرسیوں پہ بیٹھے تو وردہ نے بات کا آغاز کیا.

میں نے نور کے بارے میں سب پتہ کرلیا ہے۔۔۔ ناہی وہ کسی میں انٹرسٹڈ ہے نا ہی اسکی کوئی منگنی ونگنی ہوئی وی ہے۔۔۔ سیف نے کچھ بےچینی سے کہا۔

مسئلہ کہا آرہا ہے پھر۔۔۔اسکے چہرے پہ پریشانی دیکھ پوچھا۔۔۔ جب سب ٹھیک تھا تو پھر کیوں وہ اتنا پریشان ہو رہا تھا یہ چیز وردہ کو سمجھ نہیں آئی تھی۔

وہ میں نے اسے پرپوز کیا ہے۔۔۔ سیف نے بتایا تو وردہ چونکی

ارے واہ کردیا یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی تم اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہو۔۔۔ وردہ نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔

یار اسنے میرا پرپوزل ریجئکٹ کر دیا ۔۔۔ وہ سر آہ بھرتے بولا تو وردہ ششدر رہ گئی۔

مگر کیوں۔۔۔ وہ حیرت کی زیادتی سے چیخی۔

اسے لگتا ہے میں امیرزادہ اس کے ساتھ صرف وقت گزاری کررہا ہوں۔۔۔ اور تو اور اسنے یہ بھی کہا ہے کہ آگر میں اسکے گھر رشتہ لے کے آیا تو وہ انکار کے ساتھ ساتھ یہ جوب بھی چھوڑ دے گی۔۔۔ پھر چاہے اسکے گھر میں فاقے ہی کیوں نا ہوں۔۔۔ سیف نے پریشانی سے بتایا تو وردہ کافی فکرمندی ہوگئی۔

ہممم تو یہ مسئلہ ہے۔۔۔

ہاں یار اب تم ہی بتاؤ میں کیا کروں۔۔۔ وہ بےبسی سے بولا۔

کرنا کیا ہے لڑکی کو اٹھاؤ اور شادی کرلو جیسے ناولز میں ہوتا ہے۔۔۔ وہ دونوں انمول کی آواز اور اسکی بات سنتے چونکے ۔۔۔ انمول جو چائے لے کے اوپر آئی تھی انکی ساری باتیں سن کے اپنی طرف سے مسئلہ کا حل بتارہی تھی۔

مما اس طرح تو وہ سیف سے اور زیادہ بدظن ہوجائے گی۔۔۔ وردہ نے سمجھایا۔

وہ تو میں بھی جانتی ہوں لیکن ایک ایڈوینچر ہوجائے گا مزا آجائے گا۔۔۔ انمول نے چٹخارے لیتے کہا اور چائے کی ٹرے انکے سامنے رکھتی خود بھی بیٹھ گئی۔۔۔جب کے سیف اور وردہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے تھے۔

مما۔۔۔ ممانی۔۔۔ دونوں نے صدمے سے بیک وقت کہا۔

ہاہاہا مزاق کر رہی ہوں میں۔۔۔ تم لوگ تو سیریس ہی ہوگئے۔۔۔ انمول نے ہنستے ہوئے کہا تو دونوں کی جان میں جان آئی۔

اچھا سنو میرے پاس ایک پلین ہے۔۔۔۔ انمول دونوں کی طرف جھک کے بولی تو وہ تینوں سر جوڑے بیٹھ گئے۔۔۔۔ جیسے جیسے انمول اپنا پلین بتاتی جارہی تھی ویسے ویسے ہی انکی انکھیں خوشی سے چمکتی جارہی تھیں۔

لیکن مما کیا یہ پلین ورک کرے گا۔۔۔۔ کہیں ایسا نا ہو کے کچھ الٹا ہوجائے ۔۔۔۔ وردہ نے خدشہ ظاہر کیا۔

ضرور کرے گا بس جیسا میں نے کہا ہے ویسا ہی کرنا ہوگا ہمیں اوکے۔۔۔ انمول نے یقین سے کہا تو اسکے یقین سے کہنے پہ وہ دونوں بھی مطمئن ہوتے ہاں میں​ سر ہلاگئے۔

۔🌺🌺🌺

سیف صبح جلدی آفس آیا تھا کیونکہ آج انہیں انمول کے بنائے گئے پلین پہ کام کرنا تھا۔

وہ جیسے ہی اپنے آفس روم میں داخل ہوا وہاں پہلے سے ہی نور موجود تھی۔۔۔ نور کو پیلے رنگ کے سادے سے سوٹ میں ہم رنگ حجاب باندھے دیکھ جیسے وہ کھو گیا تھا۔۔۔

بےساختہ اسکے دل نے سرگوشی کی تھی کہ اتنا حسین بھی کوئی ہوسکتا ہے۔۔۔ سیف بھی کسی سے کم نہیں تھا۔۔۔ ہنڈسم نوجوان تھا لیکن نور بھی اپنے نام کی طرح تھی۔۔۔ پر نور چہرہ۔۔۔ چمکتی آنکھیں چہرے پہ مسکراہٹ جیسے اسکی ذات کا خاص حصہ تھی۔

نور جو اسکے روم کی صفائی کر رہی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پہ پیچھے مڑ کے دیکھنے لگی۔

دروازے کے بیچ میں خود کو فرست سے دیکھتے​ سیف پہ نظر پڑھتے ہی اسے گھبراہٹ شروع ہوئی تھی۔۔۔ جب سے سیف نے اسے پرپوز کیا تھا وہ اس سے دور ہی رہتی تھی ۔. اسکے آنے سے پہلے ہی اسکا سارا کم ختم کر دیتی تھی تا کہ زیادہ سیف کا سامنا نا کرنا پڑے لیکن آج سیف جلدی آیا تھا۔

سر میرا کام ہوگیا ہے آپ کو کچھ چاہیئے ہو تو بتا دے گا۔۔۔ وہ جلدی سے کہتی کمرے سے باہر نکلنے لگی جب کے سیف سوچ رہا تھا کہ اسے کیسے روکے۔

سر وہ مجھے آج کی چھٹی چاہیئے۔۔۔ اس سے پہلے سیف کچھ کہتا وہ خود ہی رک کے بولی۔

سیف یہی سوچ رہا تھا کہ کیسے اسے باہر بھیجے لیکن اسکی قسمت اچھی تھی تبھی تو نور نے خود ہی چھٹی مانگ لی تھی۔

کیوں چاہیئے چھٹی۔۔۔ وہ اپنی سیٹ پہ بیٹھتے عام سے لہجے میں کہتا سامنے رکھی فائلز کھول گیا۔۔۔ وہ بلکل بھی اس پہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ اسے اسکی باتوں میں زرا بھی دلچسپی ہے۔

شوپنگ پہ جانا ہے۔۔۔ وہ انگلیاں مڑوڑتی منمنائی۔۔۔وہ کچھ دنوں سے اس سے بات کرنے میں ہچکچانے لگی تھی۔

اوکے آپ جا سکتی ہیں۔۔۔ وہ مصروف انداز میں بولا تو وہ حیران ہوئے بغیر نا رہ سکی۔۔۔ اسنے تو کبھی بھی اس انداز میں اس سے بات نہیں کی تھی لیکن آج وہ کیسے اتنا سیریس ہوکے بات کر رہا تھا اسے سمجھ نا آیا۔

تھینک یو سر۔۔۔۔ وہ شکریہ کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔

اب باری تھی سیف کی جس نے جلدی سے اپنے ڈرائیو کو فون کیا اور اسے نور پہ نظر رکھنے کا کہا وہ جاننا چاہتا تھا کہ نور کون سی مارکٹ میں جارہی ہے۔۔۔۔ تاکہ وہ لوگ اپنے آگے کی پلینگ پہ عمل شروع کر سکیں۔

🌺🌺🌺۔

ان کے پلین کے مطابق انمول اور وردہ سیف کے ساتھ اس ہی مارکٹ میں موجود تھیں جس مارکٹ میں نور اپنی امی کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔۔۔

سیف ان لوگوں سے تھوڑا دور چل رہا تھا۔۔۔ وہ لوگ کافی دیر سے نا محسوس طریقے سے نور کے پیچھے ہی چل رہے تھے۔۔۔ اور پھر جیسے ہی نور اور اسکی امی مارکٹ سے باہر نکلیں وردہ نے پیچھے سے سیف کو دیکھتے اوکے کا اشارہ کیا تھا جسے سمجھتے اسنے فورن فون نکالتے کسی کو فون کیا تھا۔

رات کافی ہو چکی تھی نور اور اسکی امی رکشے کے انتظار میں روڈ کے کنارے کھڑی تھیں جب دو موٹرسائیکل سوار لڑکے چہرے پہ ماسک پہنے انکے سامنے آکے رکے۔

آنٹی آپ لوگوں کو کہا جانا ہے۔۔۔۔ آئیں ہم چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ پہلے لڑکے نے نہایت ادب سے کہا۔

نہیں ہم چلے جائیں گے۔۔۔ نور کی امی نے نور کو اپنے پیچھے کرتے آگے کی طرف چلنا شروع کیا۔۔۔

ارے آنٹی اس وقت کہاں اس حسین لڑکی کو لیئے کھڑی رہو گی۔۔۔ چلو آجاؤ ہم چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔ دوسرے لڑکے نے لوفرانہ انداز میں کہا تو نور گھبراتی ہوئی اپنی امی کا ہاتھ زور سے پکڑے انکے پیچھے چھپی۔

کہا نا ہمیں کہیں نہیں جانا۔۔۔ تم لوگ جاؤ یہاں سے ورنا میں شور مچا کے لوگوں کو اکٹھا کر لوں گی۔۔۔ نور کی امی ان لڑکوں کو دھمکی دیتی نور کا ہاتھ پکڑے تیز تیز قدم اٹھانے لگیں۔

آنٹی لگتا ہے ایسے نہیں مانوں گی۔۔۔ ان لڑکوں نے بائیک انکے سامنے لاتے روکی تو ان دونوں کے ڈر کے مارے قدم منجمد ہوئے۔

حسینا تم آج ہماری رات حسین بناؤ گی۔۔۔ دوسرا لڑکا بائیک سے اترتے خباست سے ہنس کے کہتا نور کی جانب بڑھا۔۔۔

اس سے پہلے وہ لڑکا نور کو ہاتھ لگاتے کسی نے بیچ میں ہی اسکا ہاتھ پکڑتے زور سے جھٹکا دیا۔۔۔ جس سے وہ لڑکا منہ کے بل زمین پہ گرا۔

ابے او۔۔۔ اس سے پہلے وہ لڑکا اٹھ کے سیف کو مارتا سیف نے پھرتی سے کمر میں ارسی گن نکالتے ان لڑکوں پہ تانی۔۔۔ جس سے وہ لڑکے ڈر کے دو قدم پیچھے ہوئے۔

نکلو یہاں سے اس سے پہلے میں تمہیں اس دنیا سے نکال دوں فورن نکلو۔۔۔ سیف غصے سے آنکھوں سے کچھ اشارہ کرتے دھاڑا تو وہ لڑکے گن دیکھتے ڈر کے فورن وہاں سے نکلے تھے۔۔۔ جب کے جو لوگ کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے وہ بھی ڈر کے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

سیف کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔ ان لڑکوں کے جاتے ہی وردہ اور انمول فورن اسکے پاس​ آئی تھی جو گن اب واپس ارس رہا تھا۔

جب کے سیف کے نام پہ نور نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔۔۔ ورنا اس سے پہلے تو وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اسے کچھ ہوش ہی نہیں تھا۔

کچھ نہیں ممانی بس کچھ آوارہ لڑکے انہیں تنگ کر رہے تھے۔۔۔ سیف نے سنجیدگی سے کہا۔

بیٹا آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے ہماری مدد کی ورنا میں تو بہت ڈر گئی تھی۔۔۔ نور کی امی نے تشکر سے کیا۔

کوئی بات نہیں آنٹی یہ تو میرا فرض تھا۔۔۔ ارے نور آپ۔۔۔ سیف نور کی امی کو مسکرا کے جواب دیکھا آخر میں نور کو دیکھتے چونکنے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔

کیا آپ ایک دوسرے کو جانتے ہو بیٹا۔۔۔ نور کی امی نے سیف سے پوچھا۔

امی یہ میرے بوس ہیں۔۔۔ نور انکے پیچھے سے نکلتی آہستہ سے بولی۔

او اچھا اچھا۔۔۔۔ ماشاءاللہ بیٹا آپ بہت اچھے ہو۔۔۔ انہوں نے دل سے کہا۔

آئیں آنٹی میں آپ لوگوں کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ سیف نے مسکرا کے اپنائیت سے کہا۔

ارے نہیں بیٹا ہم چلے جائیں گے۔۔۔ انہوں نے انکار کیا۔

ایسے کیسے چلے جائیں گے آنٹی۔۔۔ ابھی دیکھا نہیں کیا ہوا تھا۔۔. آگر ہمارے جانے کے بعد وہ لڑکے پھر آگئے تو۔۔۔۔ ابھی تو سیف تھا جو مدد کے لیئے آگیا ورنا آپ تو دیکھ ہی چکی ہیں یہاں کے لوگ کیسے تماشائی بنے ہوئے تھے۔۔۔۔ ان لوگوں سے یہ نا ہوا کے آگر کوئی مصیبت میں ہے تو جا کے اسکی مدد کریں لیکن نہیں انہیں تو تماشہ دیکھنے سے فرصت ملے تو اور کچھ سوچیں نا۔۔۔ وردہ نے افسوس سے کہا جب کے نور اور اسکی امی کو اسکی بات ٹھیک ہی لگی تھی۔

آپ کی بات ٹھیک ہے بیٹا لیکن آپ لوگوں کو خواہ مخواہ زحمت ہوگی۔۔۔ انہوں نے پھر انکار کرنا چاہا۔

ارے کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ ۔۔۔ ہمیں کیوں زحمت ہوگی بلکے ہمیں تو خوشی ہوگی آپ لوگوں کی مدد کر کے۔۔۔ انمول کے خوش اخلاقی سے کہنے پہ وہ انکار نا کر سکیں ۔۔۔ انہوں نے نور کی طرف دیکھا جس نے آہستہ سے ہاں میں سر ہلاتے انکی بات ماننے کا کہا تھا۔

ٹھیک ہے جیسی آپ لوگوں کی مرضی۔۔۔

آپ لوگ یہیں رکیں میں گاڑی لاتا ہوں۔۔۔۔ سیف مسکرا کے کہتا گاڑی لینے چل دیا۔۔۔ اس سارے وقت میں سیف نے صرف ایک بار ہی نور کو دیکھا تھا اسکے بعد لاکھ دل کے کہنے پہ بھی اسنے نور کی طرف نہیں دیکھا تھا جب کے نور چوری چوری اسے دیکھ رہی تھی۔

۔🌺🌺🌺

بس بس بھائی سیف بھائی نے یہیں کا اڈرس دیا تھا۔۔۔ حنان ماسک پہنے بسام کے ساتھ پیچھے بائیک پہ بیٹھا فون پہ سیف کی دی گئی لوکیشن دیکھتے بولا۔

لیکن یہاں تو کوئی نظر نہیں آرہا۔۔۔ تم ایک کام کرو سیف کو فون کرو اور پوچھو کہاں ہے وہ تا کہ ہم جلدی سے اپنا کام کر کے نکلیں یہاں سے۔۔۔ پہلے ہی ٹریفک نے اتنی دیر کروادی۔۔۔ بسام نے جھنجھلا کے کہا تو حنان نے سیف کو فون ملایا جو دو بیل جانے کے بعد کاٹ دیا گیا تھا۔

انہوں نے فون کاٹ دیا ہے۔۔۔ حنان نے عطلاح دی۔

کچھ دیر انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ وہ دونوں بائیک سے اترتے انتظار کرنے لگے لیکن کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی کوئی رسپونس نہیں آیا۔

بسام بھائی ہمیں چلنا چاہیئے شاید وہ لوگ بھی جا چکے ہیں۔۔۔ کیونکہ میں یہاں ہر طرف سیف بھائی کی گاڑی کو دیکھ چکا ہوں انکی گاڑی یہاں کہیں بھی نہیں ہے۔۔۔ حنان کی بات بسام کو سہی لگی تھی ۔

ہممم مجھے بھی یہی لگتا ہے چلو چلیں ہم۔۔۔ بسام نے اسکی بات سے اتفاق کیا تو دونوں بائیک پہ سوار ہوتے وہاں سے نکل گئے تھے۔

۔🌺🌺🌺

آپ لوگ اندر آئیں نا۔۔۔ نور کے گھر کے سامنے گاڑی رکھتے ہی نور کی امی نے کہا۔

پھر کبھی آئیں گے ابھی کافی دیر ہوچکی ہے ہمیں چلنا چاہیئے۔۔۔ انمول نے رسان سے انکار کیا۔

چلیں جیسی آپ لوگوں کی مرضی لیکن آئے گا ضرور میں انتظار کروں گی۔۔۔ نور کی امی نے مسکرا کے کہا ۔

جی ضرور۔۔۔ انمول نے خوش دلی سے کہا۔

اچھا آنٹی خدا حافظ۔۔۔سیف وردہ سے باتوں میں مصروف نور پہ ایک نظر ڈالتے مسکرا کے بولا۔

خدا حافظ بیٹا۔۔۔ اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔ انہوں نے دعا دی تو وہ انہیں خدا حافظ کہتے وہاں سے نکل گئے۔

ماشاءاللہ بہت اچھا بچہ ہے۔۔۔ والدین نے کافی اچھی تربیت کی ہے۔۔۔ نور کی امی گھر میں داخل ہوتی بولیں جب کے انکی باتیں نور کو سیف کے بارے میں اچھا سوچنے پہ مجبور کر رہی تھیں۔

۔🌺🌺🌺

چلو بھئی سیف آج کا پلین تو کامیاب رہا اب اسی خوشی میں ہمیں ایک اچھا سا ڈنر کروا دو تو مزا ہی آجائے۔۔۔ وردہ سیف کے کندھے پہ ہاتھ مارتی بولی۔

کیوں نہیں ضرور۔۔۔ سیف نے سر کو خم دیتے کہا اور گاڑی فائو اسٹار ریسٹورینٹ کی جانب موڑی۔

وردہ اور انمول نے کافی کچھ کھانے کے لیئے منگوا لیا تھا اور اب کھانا پرسکون ماحول میں کھایا جارہا تھا۔

کھانا کھا کے بعد سیف نے بل پہ کیا اور وہ لوگ واپسی کے لیئے نکل گئے۔۔۔ وردہ اپنے فون میں گم باہر نکل رہی تھی جب ٹھا کر کے دروازے کے ساتھ ٹھکی۔

آہ۔۔۔.مسٹر آپ کو تمیز نہیں ہے اگر کوئی لڑکی آرہی ہے تو اسکے لیئے بھی دروازہ کھولا جاتا ہے۔۔۔ وردہ نے اپنا سر سہلاتے ابھی ابھی باہر نکلے شخص سے کہا جس نے باہر نکل کے دروازہ چھوڑ دیا تھا جس وجہ سے وردہ کا سر پھوٹا تھا۔

وردہ کی آواز سنتے اس شخص نے پیچھے مڑ کے اسے دیکھا تو وردہ کو ایک دم غصہ آیا ۔۔۔

وردہ کیا ہوا بیٹا۔۔۔ انمول فکرمندی سے اسکے پاس آئی۔۔

کچھ نہیں مما بس کچھ لوگوں کو تمیز نہیں ہوتی کے آگر کوئی دوسرا بھی جارہا ہے تو اسکے لیئے بھی دروازہ کھول دیں ۔۔۔ لیکن نہیں یہاں تو بس سب کو جلدی لگی رہتی ہے۔۔۔ وردہ سامنے کھڑے دامل کو دیکھ دانت پیس کے بولی تو دامل نے ضبط سے مٹھیاں بھیجیں۔

دونوں ہی اس دن کی ملاقات یاد کرتے غصے سے بھر گئے تھے۔

محترمہ غلطی سراسر آپ کی ہے۔۔۔ میری آنکھیں پیچھے نہیں تھی کہ میں دیکھ سکتا کے کوئی میرے پیچھے بھی آرہا ہے۔۔۔ لیکن آپ کی آنکھیں تو آگے تھیں نا آپ فون سے نظریں ہٹا کے سامنے دیکھ لیتی تو دوسروں کو بدتمیز کہنے سے پہلے ہزار بار سوچتیں۔۔۔ دامل نے بھی سخت لہجے میں طنز کرتے حساب برابر کیا تھا جب کے انمول تو اسے دیکھتی رہ گئی تھی جو اپنی بات کہتا وہاں سے جاچکا تھا۔

اونہہ بدتمیز انسان۔۔۔ وردہ نے سر جھٹکا۔۔

کیا ہوا آپ دونوں یہاں کیوں کھڑی ہیں۔۔۔ جب وہ دونوں کافی دیر تک نا آئیں تو سیف خود ہی انہیں دیکھنے آگیا تھا۔

کچھ نہیں ۔۔۔۔ چکیں مما۔۔۔ وردہ سیف کو جواب دیتی انمول کو لیئے گاڑی کی جانب بڑھ گئی جب کے انمول کا سارا دھیان تو ابھی بھی پیچھے ہی تھا جہاں سے دامل گیا تھا۔

۔🌺🌺🌺