Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 4)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 4)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
ہیلو ہاں میں بس نکل رہی ہوں تم لوگ پہنچو میں بس دس میں میں پہنچتی ہوں۔۔۔ وردہ یونی سے نکلتی فون کان سے لگائے تیزی سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی۔
وہ اور اسکی چند دوستوں نے آج مووی کا پروگرام بنایا تھا۔۔۔ اسکی ساری دوستیں تو کافی دیر پہلے ہی چلی گئیں تھی لیکن وردہ اپنی کوئی بھی کلاس اووف نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیئے اپنی ساری اہم کلاسز لینے کے بعد وہ اب جارہی تھی۔۔۔
وہ پہلے ہی کافی لیٹ ہوگئی تھی مووی شروع ہونے میں بس پندرہ منٹ بچے تھے اس لیئے وہ صبح اپنے بابا سے کیا وعدہ بھول کے تیز اسپیڈ میں گاڑی چلا رہی تھی۔۔۔۔ وہ اتنی جلدی میں تھی کہ اسے کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا اور اس ہی جلد بازی میں اسنے سگنل بھی توڑ دیا تھا جس کا اسے علم ہی نہیں ہوا۔
کچھ دور جاتے ہی اسے آگے کھڑے پولیس والوں نے روک لیا تھا۔۔۔
جی کہیں۔۔۔ اسنے شیشہ نیچے کرتے خاصی بےزاریت سے پوچھا۔
میڈم آپ نے پیچھے سگنل توڑا ہے۔۔۔ اسپکٹر نے سختی سے وجہ بتائی۔
میں جلدی میں تھی اس لیئے دھیان نہیں گیا ۔۔۔ وردہ نے اطمینان سے جواب دیا۔
چلیں اپنا لائسنس اور آئی ڈی کارڈ دیکھائیں۔۔۔اس اسپکٹر کے مانگے پہ اسکے دونوں چیزیں انکے حوالے کردیں۔۔۔ اسے بس یہاں سے نکلنے کی جلدی تھی آخر اسکی فیوریٹ مووی جو شروع ہونے والی تھی۔
ٹھیک ہے لیکن آپ کو چالان بھرنا پڑے گا۔۔۔ اسپکٹر نے چالان کاٹتے کہا تو اسنے منہ بناتے پرس سے کریڈٹ کارڈ نکال کے دیا۔
جلدی کریں میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے۔۔۔ وہ اسپکٹر کی طرف کارڈ بڑھاتے ایسے بولی جیسے شوپنگ کر کے اسکا بل پہ کر رہی ہو۔
میڈم آپ کسی شوپنگ مال یا رسٹورینٹ میں نہیں ہیں جو کارڈ دیں گی۔۔۔ کیش دیں۔۔۔ وہ استہزاء ہنسا۔
میرے پاس کیش نہیں ہے ۔۔۔ اسنے کندھے اچکائے۔
تو پھر آپ باہر نکلیں گاڑی سے۔۔۔ اسپکٹر نے سختی سے کہا۔
کیوں بھئی کس خوشی میں باہر نکلوں ۔۔۔ جب میں نے کہا ہے میری مجبوری تھی مجھے دیر ہورہی تھی تو کیوں آپ میری بات نہیں سن رہے ۔۔۔ وہ الٹا اسپکٹر پہ غصہ ہوئی۔
میڈم یا تو آپ چالان بھریں یا باہر نکلیں ایسے تو ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے ۔۔۔ اسپیکٹر نے بھی سختی سے کہا۔
کیا مصیبت ہے۔۔۔ وہ جھنجھلائی۔۔۔ ایک تو اسکی مووی نکلے جارہی تھی اوپر سے یہ اسپکٹر اسے جانے نہیں دے رہا تھا۔
کیا ہوا ہے علی۔۔۔ پیچھے سے کسی کی آواز آئی جس پہ اسپکٹر پیچھے مڑا۔
سر یہ میڈم چالان نہیں بھر رہی ہیں۔۔ اسنے وجہ بتائی۔
تم جاؤ میں دیکھتا ہوں۔۔۔
جی سر اسپکٹر کہتا وہاں سے نکل گیا۔
میڈم اتنی بڑی گاڑی رکھی ہوئی ہے ۔۔۔ ساتھ نظر کا چشمہ بھی لگا لیتی تو سگنل تو نظر آتے ۔۔۔ اور پھر یہاں تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔۔۔ پولیس یونی فارم پہنے ایک چوبیس پچیس سال کا پرکشش نوجوان چہرے پہ سنجیدگی سجائے گاڑی کی ونڈو سے اندر جھاکتے طنزیہ انداز میں بولا تو وردہ کے تو جیسے آگ لگ گئی۔
دیکھئے مسٹر حد میں رہ کے بات کریں ورنا آپ جانتے نہیں ہیں کے میں کس کی بیٹی ہوں۔۔۔ وردہ نے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔
میڈم آگر آپ کسی سلطنت کی شہزادی بھی ہوتی تو بھی قانون سب کے لیئے برابر ہوتا ہے۔۔۔ مقابل کھڑے نوجوان نے سنجیدگی سے کہا۔
دیکھو تم مجھے اپنا بیگ اکاؤنٹ بتا دو میں تمہیں کچھ پیسے ٹرانسفر کر دیتی ہوں ۔۔۔ اس معاملے کو یہی ختم کرتے ہیں نا۔۔۔ وردہ نے مصالحتی انداز میں کہا تو مقابل کھڑے پولیس والے کی آنکھوں میں خو+ن اترا۔
میڈم باہر نکلیں۔۔۔ ایک پولیس والے کو رشوت دینے کے جرم میں میں آپ کو گرفتار کرتا ہوں۔۔۔ وہ شخص دروازہ کھولتے شدید غصے سے بولا۔
ایسے ہی گرفتار کرو گے۔۔۔ میں نے کون سا کچھ غلط کہا ہے ۔۔۔۔ کیا میں جانتی نہیں ہوں پولیس والوں کو ایک نمبر کے رشوت خور ہوتے ہیں۔۔۔ وردہ بھی غصے سے باہر نکلتی بولی۔
پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتیں۔۔۔ وہ دانت پیس کے بولا۔
اب مجھے کیا پتہ کہ تم کون سی انگلی ہو۔۔۔ کیا پتہ تم وہی انگلی ہو جو رشوت لیتی ہے۔۔۔ وہ کندھے اچکا کے بولی جب کے سامنے کھڑے شخص کا غصے سے برا حال تھا۔
چلیں آپ ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن۔۔۔ وہ شخص دبا دبا غرایا ۔۔۔ وہ کیسے اپنی ایمانداری پہ سوال برداشت کر سکتا تھا۔
ہممم A.S.P دامل خان۔۔۔ اسنے اسکے یونیفارم پہ لکھا نام پڑھا۔
دیکھیں A.S.P صاحب آپ میرے بابا کو نہیں جانتے وہ بہت بڑے آدمی ہیں۔۔۔ ابھی آپ سے اوپر فون کریں گے نا تو آپ کی چھٹی ہوجائے گی اس لیئے بہتر ہے میرا راستہ چھوڑدیں۔۔۔ اسنے اپنے بابا کی دھمکی دی۔۔۔ لیکن دامل خان چٹانوں سی سختی لیئے کھڑا تھا جیسے اس سے اسکی باتوں سے کوئی فرق ہی نہیں پڑھتا تھا۔
آپ جیسی امیر زادیاں ہی ہوتی ہیں جو اپنے خاندان کا نام خراب کرتی ہیں۔۔۔اپنے باپ دادا کے پیسوں پہ اتراتی ہیں اور باقی لوگوں کو کم تر سمجھتی ہیں۔۔۔ اسنے بھی طنز کیا۔
خبردار جو میرے بارے میں کچھ بھی غلط کہا تو۔۔۔ہوتی ہوں گی وہ بگڑی ہوئی امیر ذادیاں جو اپنے خاندان کا نام خراب کرتی ہوں گی۔۔۔ لیکن میں بہت عزت دار ہوں اپنی اور اپنے خاندان کی عزت کروانا جانتی ہو۔۔۔ آپ کو اپنے پیسے چاہیئے نا تو اس وقت میرے پاس کیش نہیں ہے۔۔۔ یہ ڈائمنڈ رنگ ہے ۔۔۔ امید ہے اس سے آپکو چالان سے زیادہ پیسے مل جائیں گے۔۔۔ وہ اپنی رنگ اترارتی ایک ایک لفظ پہ زور دے کے کہتی گاڑی میں بیٹھتے بغیر کسی کی بات پہ کان دھرے زن سے گاڑی بھگا لے گئی۔
دامل کتنی دیر تک اپنے ہاتھ میں پکڑی انگوٹی کو دیکھتا رہا جو دیکھنے میں ہی کافی قیمتی لگ رہی تھی۔۔۔ پھر غصے سے مٹھی بند کرتا خالی سڑک کو دیکھنے لگا جہاں سے وہ لڑکی گئی تھی۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
اسکا سارا موڈ خراب ہو گیا تھا اس لیئے وہ سیدھے گھر لوٹ آئی تھی۔۔۔ وہ گاڑی پورچ میں کھڑی کرتی گاڑی سے باہر نکلی اور پوری قوت سے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔
وردہ کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو۔۔۔ اتنے غصے میں کیوں ہو۔۔۔ میشا نے بریانی بنائی تھی سیف وہی دینے آیا تھا۔۔۔ اب جب وہ جارہا تھا تو وردہ کو غصے میں دیکھ پوچھے بغیر نا رہ سکا۔
تمہیں کیا تم اپنا کام کرو۔۔۔ وردہ بدتمیزی سے کہتی اندر بڑھ گئی جب کے وہ کندھے اچکاتا باہر نکل گیا۔۔۔ یہ تو اکثر ہوتا رہتا تھا وہ کئی بار اپنی دوستوں سے بھی لڑ کے اتنے غصے میں ہی واپس آتی تھی۔۔۔
وہ جتنی شرارتوں میں خوش پن میں انمول پہ گئی تھی اتنی ہی ابتسام کی طرح غصے کی تیز تھی۔
وردہ بیٹا اتنی جلدی آگئیں۔۔۔ اسے تن فن کرتے گھر میں داخل ہوتے دیکھ شگفتہ بیگم نے پوچھا۔
جی نانو بس طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیئے جلدی آگئی۔۔۔ پلیز کسی کو بھی میرے کمرے میں آنے نہیں دے گا میں تھوڑی دیر آرام کروں گی۔۔۔ وہ لہجہ نارمل رکھ کے کہتی اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
کمرے میں آتے دروازہ بند کرتے بیگ صوفے پہ پھیکتی غصہ کم کرنے کے لیئے ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگی۔
ہون سمجھتا کیا ہے خود کو دو نمبر پولیس والا ۔۔۔ مجھے کہہ رہا تھا میں اپنے خاندان کا نام خراب کروں گی۔۔۔ جاہل انسان۔۔۔ میرا بس چلے تو ابھی کے ابھی چھٹی کروادوں پھر پتہ چلے گا کہ میں کون ہوں۔۔۔ وہ غصے سے پاگل ہورہی تھی آخر بات اسکے کردار کے اوپر آئی تھی۔
کنٹرول وردہ کنٹرول کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ ہوووووو۔۔۔ اسنے ایک لمبی سانس خارج کرتے اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔۔۔ اور اپنے کپڑے لیتی فریش ہونے چل دی۔
۔![]()
![]()
![]()
مما مجھے بچائیں ۔۔۔ بسام چیختے ہوئے نیچے آیا تھا
کیا ہوگیا ہے بسام ۔۔۔ اسکی چیخ سنتے انمول لان سے اندر آئی۔
آج میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ وردہ اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔۔
ان دونوں کو آگے پیچھے بھاگتے دیکھ انمول نے سرد آہ بھری لیکن جان تو تب نکلی جب وردہ کے ہاتھ میں مرا ہوا کوکروچ دیکھا۔
مما مجھے بچائیں یہ پاگل ہوگئی ہے میرے اوپر کوکروچ ڈال رہی ہے ۔۔۔۔ بسام انمول کے پیچھے چھپا جب کے وردہ کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ انمول کی تو جان ہوا ہوئی تھی۔۔۔
انمول جتنا کیڑے مکوڑوں سے ڈرتی تھی وردہ کے لیئے یہ سب چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتی تھیں۔۔۔ جہاں لڑکیاں ان سب چیزوں سے ڈرتی ہیں وہیں وردہ کیڑے مکوڑے ہاتھ میں پکڑ کے دوسرے کو ڈراتی تھی۔۔۔۔ اور اب بھی وہ بسام کے پیچھے کوکروچ لیئے بھاگ رہی تھی ۔
وردہ دو۔۔۔۔ دور رکھو اسے۔۔۔۔ انمول نے اسے ہاتھ کے اشارے سے دور رہنے کا کہا جب کے آواز میں لڑکھڑاہٹ صاف واضح تھی۔
نہیں ماما آج میں اس کے اوپر کوکروچ ڈال کے رہوں گی۔۔۔۔ یہ سمجھتا کیا ہے خود کو جب دل کرتا ہے میرے کمرے میں گھس جاتا ہے اور میری چیزوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔۔۔ وہ غصے سے انمول کے پیچھے چھپے بسام کو دیکھ دانت پیس کے بولی
اگر میں نے تمہاری پین کلیکشن میں سے ایک پین لے لیا تو اس میں کون سی بڑی بات ہو گئی بڑا ہوں میں لے سکتا ہوں۔۔۔ اور تمہیں چاہیئے کے تم میری عزت کرو۔۔۔ اسنے گردن اکڑا کے کہا لیکن وردہ کا ہاتھ آگے آتے ہی فورن انمول کے پیچھے ہوا۔
انمول کی نظریں تو کوکروچ پہ ہی ٹکی ہوئی تھیں۔۔۔ وہ بار بار کوکروچ دیکھ حلق تر کر رہی تھی۔
سو سال بڑے نہیں ہو صرف ایک سال بڑے ہو سمجھے۔۔۔اس لیئے میرے سے عزت کی امید تو کرنا ہی نہیں۔۔۔ وردہ اسکے چہرے پہ ڈر دیکھ مزے سے بولی۔
وردہ اسے پھیکو ۔۔۔ اور ہاتھ دھو کے آؤ۔۔۔ انمول نے تھوڑا سختی سے کہا۔
نہیں مما آج میں اسے نہیں چھوڑو گی ۔۔۔ آج میں اچھے سے سبق سیکھا کے رہوں گی تاکے آئندہ میری کسی بھی چیز میں گھسنے سے پہلے یہ سو بار سوچے۔۔۔ وردہ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔
بسام بہن کو سوری بولو۔۔۔ اور خبردار جو اب اسکی کوئی بھی چیز لی تو۔۔۔ انمول بسام کا بازو پکڑتی اسے وردہ کے سامنے کرتے خود اسکے پیچھے چھپی۔
سوری میری بہنا آئندہ نہیں کروں گا اب اس بیچارے کو دفنا دو۔۔۔ بسام نے کان پکڑے تو وردہ نے ہاں میں سر ہلایا۔
ہمم ٹھیک ۔۔۔ چلو اسے دفنا کے آتے ہیں۔۔۔ وردہ سنجیدگی سے کہتی تیزی سے بسام کا ہاتھ پکڑتے اسکے ہاتھ پہ کوکروچ رکھ چکی تھی۔
آہہہہہہہہہ۔۔۔۔ گندی یہ کیا کیا ہے تم نے ۔۔۔ بسام نے چیخ مارتے فورن کوکروچ نیچھے پھیکا تو انمول بھی خوف سے فورن وہاں سے نکل گئی۔
ہاہاہاہاہاہا ڈرپوک۔۔۔۔ وردہ نے بسام کی حالت دیکھتے قہقہہ لگایا۔۔۔ اسے مزہ آرہا تھا بسام کی ڈری شکل دیکھ کر۔
اب میں تمہاری کوئی بات نہیں مانوں کا اور ابھی تو صرف ایک پین لیا ہے نا اب دیکھو سارے لے لوں گا۔۔۔ بسام بھی اسے چھیڑتا فورن وہاں سے رفو چکر ہوا ۔۔۔ کیونکہ وردہ کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کبھی بھی اس پہ کوکروچ واپس ڈال سکتی تھی ۔
اور میں بھی بتا رہی ہوں اگر اب تم میری چیزوں میں گھسے تو میں کوکروچ کی جگہ چھپکلی ڈالو گی۔۔۔ اسنے بھی ہنستے ہوئے پیچھے سے ہانک لگائی اور جھک کے نیچے سے کوکروچ اٹھایا۔
تم تو بیچارے بے موت ہی مارے گئے ۔۔۔۔ مجھے دکھ ہے تمہاری موت کا۔۔۔ خیر چلو اب تمہارے کفن دفن کا انتظام کرتے ہیں۔۔۔ وردہ افسوس سے کہتی کوکروچ لیئے لان کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ وہ صبح کافی غصے میں تھی لیکن اب وہ یہ بات بھی بھول گئی تھی کہ وہ صبح کس بات پہ غصہ تھی۔
انمول کی بیٹی انمول کی طرح ہی سب سے الگ تھی۔۔۔ اسے کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا تھا ۔۔۔ ناہی جانور سے، ناہی کیڑے مکوڑوں سے، ناہی انسانوں سے۔۔۔ اگر وہ کسی چیز سے ڈرتی تھی تو وہ تھے اسکے ماں باپ کی ناراضگی۔۔۔ وہ کبھی بھی کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے اسکے ماں باپ ناراض ہوں۔۔۔ وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرتی تھی کہ اسکے ماں باپ کو کبھی کوئی دکھ نا پہنچے۔
۔![]()
![]()
![]()
