Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 36) Last Episode (Part - 1)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 36) Last Episode (Part - 1)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
وردہ کو اس بند کمرے میں بیٹھے بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔ دلاور خان جب سے گئے تھے وہ واپس نہیں آئے تھے۔۔۔
اس بند کرنے میں اب وردہ کا دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔ اسنے ہلتے جھلتے اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی مگر اسے اتنی مضبوطی سے باندھا کیا تھا کہ وہ ٹس سے مس تک نا ہو سکی۔
وہ ہلتے جھلتے خود کو آواز کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔۔۔ اسے خود کو یہاں سے آواز کروانے کا ایک آئیڈیا ایا۔۔۔
اسے بس کسی بھی طرح اپنے ہاتھ پاؤں کھلوانے تھے پھر ہی وہ یہاں سے نکل سکتی تھی۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پہ اسنے گردن ایک طرف گراتے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔
بھاری قدموں کی آواز اسے اپنے قریب آتی سنائی دے رہی تھی۔۔۔ لیکن وہ آنکھیں بند کیئے ایسے ہی پڑھی رہی جیسے وہ بےہوش ہوگئی ہے۔
۔ہممA.S.Pکی بیوی ہے تو کافی خوبصورت۔۔۔ دلاور خان کی جگہ کسی اور آدمی کی آواز سنتے وردہ کو گھبراہٹ ہوئی تھی لیکن وہ ہمت سے کام لیتی ویسی ہی بیٹھی رہی۔
یہ ابھی تک ہوش میں کیوں نہیں آئی۔۔۔ اس آدمی نے اپنے ساتھ کھڑے شخص سے پوچھا۔
پتہ نہیں بوس۔۔۔
کھولو اسے۔۔۔ وردہ کے پلین کے عین مطابق وہ لوگ اسے بےہوش سمجھ کے کھلنے لگے۔
یہ تم کیا کر رہے ہو شیر خان۔۔ اسے کیوں کھول رہے ہو ۔۔۔ وردہ کے پاؤں کی آخری رسی کھل رہی تھی جب دلاور خان شیر خان سے کہتے کمرے میں داخل ہوئے۔
اسے یہاں سے لے کے جارہا ہوں ۔۔۔ ہمارے پلین کے مطابق ہم اسے یہاں لے آئے تھے اور اب آگے اسکا کیا کرنا ہے یہ میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ شیرخان رعب دار آواز میں بولا۔۔۔۔ جس پہ وردہ کا دل ڈوب کے ابھرا۔
کیا تم نے اس سے دوبارہ بےہوش کیا ہے۔۔. وردہ کی گردن ایک طرف لٹکے دیکھ دلاور خان نے پوچھا۔
نہیں یہ پہلے سے بےہوش تھی۔۔۔ شیر خان نے اطمینان سے جواب دیا ۔
لیکن یہ تو ہوش میں آگئی تھی پھر واپس بےہوش کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔ دلاور خان نے باغور اسکا چہرہ دیکھا۔
آگر یہ بےہوش ہونے کی اکٹنگ کر رہی ہے تو ابھی پتہ چل جائے گا۔۔۔ شیرخان سائڈ مسکراہٹ کے ساتھ قدم قدم وردہ کی جانب بڑھا ۔۔۔
کسی کو اپنے قریب محسوس کرتے وردہ کا دل زور سے دھڑکا۔
شیر خان نے اسکے قریب آتے ایک جھٹکے سے اسکے گلے سے دوپٹہ کھینچا تو وردہ نے ڈر کے پٹ سے آنکھیں کھول لیں۔۔۔۔
ہاہاہاہا دیکھا کیسے ہوش میں آئی۔۔۔ ہمارے ساتھ ہوشیاری کر رہی تھی۔۔۔ شیرخان نے مکروہ قہقہہ لگایا۔
وردہ ہراساں نظروں سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جو دیکھنے میں ہی غنڈے موالی لگ رہے تھے۔
پلیز مجھے جانے دو۔۔۔ ایک انجان آدمی کے ساتھ دلاور خان اور اسکے پیچھے کھڑے دو ہٹے کٹے آدمیوں کو دیکھتے وردہ کو یقین ہو گیا کہ وہ اکیلے انکا مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔۔
ایسے کیسے جانے دیں اب توA.S.P کی کمزوری ہاتھ لگی ہے۔۔۔ ویسے ماننا پڑے گا ہو تم گلاب جیسی ۔۔۔ اور خوبصورت گلابوں کو مسلنے میں مجھے بہت مزاح آتا ہے۔۔۔ شیرخان کے غلاظت بھرے الفاظ سنتے وردہ کا دل بند کرنے لگا تھا اسنے شدت سے دعا کی تھی کے کہیں سے بھی دامل آجائے۔
جب کے شیرخان کی بات سنتے دلاور خان کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔۔ دل کے کہیں کسی کونے سے آواز آئی تھی کے ایسا مت کرو وردہ کو بچا لو۔۔۔ مگر وہ اپنے دل کو ڈپٹتے بےحس بنے رہے۔
ویسے اچھا ہی ہوا اس دن گاڑی میں تم نہیں تھیں۔۔۔ آگر اپنے نانا نانی کی جگہ تم ہوتیں تو آج مجھے اتنا حسین کھیلنا کھلنے کو نا ملتا۔۔۔ شیر خان شوخ لہجے میں بولو تو وردہ اسکی بات سنتے سوکڈ ہوئی۔
کیا تم نے میری گاڑی کا اکسیڈینٹ کروایا تھا۔۔۔ وردہ کا تنفس بگڑنے لگا تھا۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ سامنے کھڑا شخص اسکے نانا نانی کا ق،اتل ہے۔
ہاں۔۔۔۔ شیرخان نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔۔۔ جب کے وردہ کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی تھی۔۔۔ اسے غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔ اسکا دل کر رہا تھا ابھی اسہی وقت وہ سامنے کھڑے اپنی باپ کے عمر کے شخص کا گلہ دبا دے۔۔۔۔ مگر وہ بےبس تھی ان ہٹے کٹے لوگوں کا مقابلہ اکیلے نکرنا اسکے بس سے باہر تھا۔
دیکھو بڈھے اب تمہارا کام ختم ہو چکا ہے میں نے اپنا آدھا وعدہ پورا کر دیا ہے اور آدھا میں اپنا دل بہلانے کے بعد پورا کردوں گا۔۔۔ پر تم بھی اپنا وعدہ یاد رکھنا۔۔۔ اپنے پوتے کو لے کے جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے چلے جانا ورنا تمہارے پوتے کی زندگی کی گارنٹی میں نہیں لے سکتا ۔۔۔۔ شیر خان نے سکون سے کہتے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا جو اسکا اشارہ سمجھتے آگے بڑھ کے وردہ کو پکڑنے لگے۔
خبردار جو مجھے ہاتھ لگایا۔۔۔ ورنا ہاتھ توڑ دوں گی۔۔۔ وردہ اپنے لہجے کو مضبوط بناتے غصے سے غرائی جب کے اندر سے اسکا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
سہی کہا کوئی تمہیں ہاتھ نہیں لگائے گا سوائے میرے۔۔۔ شیر خان کمینگی سے کہتا اسکا بازو اپنی گرفت میں جکڑ گیا۔
چھ۔۔۔چھوڑو مجھے میں خود چلو گی تمہارے ساتھ ۔۔۔ پر پلیز میرا ہاتھ چھوڑو۔۔۔ وردہ اسکا غلیظ لمس محسوس کر کے تڑپ اٹھی۔۔۔ اسنے مدد طلب نظروں سے دلاور خان کی طرف دیکھا جو سب چیزوں سے بےنیاز کھڑے اسکا تماشہ دیکھ رہے تھے۔
نا نا ننی چڑیا زیادہ پھڑپھڑاوں نہیں ورنا ابھی تمہارے پر کاٹ دوں گا۔۔۔ شیرخان نے مسکراتے لہجے میں دھمکی دی تو وردہ جیسی بہادر لڑکی سہم گئی۔
جتنا جلدی ہو سکے ہمیں یہاں سے نکلنا ہے ۔۔۔ تم لوگ گاڑی میں جا کے بیٹھو میں ایک کام ختم کر کے آیا۔۔۔ شیر خان نے پراسرار لہجے کہا۔۔۔
اسکے آدمی حکم ملتے ہی باہر چلے گئے تھے۔۔۔ جب شیر خان نے اپنی ویسٹ سے گ+ن نکالی
ہممم ۔۔۔ تو بڈھے میں تمہیں تمہارے وعدے سے آواز کرتا ہوں۔۔۔ شیرخان گ+ن کا رخ دلاور خان کی طرف کرتے اطمینان سے بولا جب کے اسکی گ+ن اپنی طرف ہوتے دیکھ دلاور خان کی آنکھیں بےیقینی سے پھیل گئیں۔
یہ تم کیا کر رہے ہو۔۔۔ اسے میری طرف سے ہٹاؤ چل جائے گی یہ۔۔۔ دلاور خان خوف سے بولے تو شیر خان کا قہقہہ بلند ہوا۔
چلانے کے لیئے تو تمہاری طرف کی ہے۔۔۔ شیر خان معصومیت بھر انداز میں بولا تو وردہ اور دلاور خان بیک وقت چونکے۔۔۔ دونوں کے دل ڈر کے مارے تیز تیز دھڑکنے لگے تھے۔
مگر ہمارے بیچ تو اگریمنٹ ہوا تھا نا کہ تم میرے ساتھ میری بہو کو کڈنیپ کروانے میں مدد کرو گے اور پھر اس لڑکی کو مار دو گے جس کے بعد میں اپنے پوتے کو یہاں سے لے جاؤں گا۔۔۔ اسے تمہارے کیس سے ہاتھ کھینچنے پہ مجبور کردوں گا۔۔۔ پھر تم اپنی بات سے کیسے پھر سکتے ہو۔۔۔ دلاور خان بےیقینی سے بولے۔۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ شیرخان انہیں دھوکہ دے رہا ہے۔
مجھے ایسا کچھ یاد نہیں ہے۔۔۔ اور رہی بات تمہارے پوتے کی تو اسکی فکر مت کرو اسے بھی جلدہی تمہارے پاس بھیج دوں گا۔۔۔
تمہیں لگا تھا شیرخان اپنے دشمن کو چھوڑ دیتا ہے تو ایسے ہرگز نہیں ہے۔۔۔ تمہارے پوتے نے میرے اربوں روپے کا نقصان کیا ہے،،، اسنے میرے بیٹے کو اپنی تم اپنی قید میں رکھا ہے۔۔۔
اور میں جانتا ہوں اسے وہ بڑا ہی ڈھیٹ بندہ ہے۔۔۔ جب تک میری جڑیں نا کاٹ دے وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔۔ اس لیئے اس سے پہلے وہ میری جڑیں کاٹے میں اس پے ایسا وار کروں گا کہ وہ کمزور ہو جائے گا ایک ساتھ اسے بیوی اور دادا کی موت کا گفٹ دوں گا۔۔. اور پھر کچھ دن بعد اسے بھی تمہارے پاس بھیج دوں گا۔۔۔ اپنے پاناک ادارے بتاتے ہوئے شیر خان کے چہرہ پہ ایک عجیب ہی مسکراہٹ تھی۔۔۔ جیسے دیکھتے وردہ کا دل سست پڑا۔
ون ٹو تھری۔۔۔ تین کی گنتی گنتے ابھی شیر خان گولی چلا تھا اس سے پہلے ہی اسکی نرم گرفت سے وردہ ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑواتی دلاور خان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
ٹھا۔۔۔۔۔ کی آواز اس سنسان جگہ پہ گونج گئی تھی۔
جب کے دلاور خان اپنے سامنے کھڑی وردہ کو حیرت و بےیقینی سے دیکھ رہے تھے۔
وردہ نے اپنے پیٹ پہ ہاتھ رکھا تو اسکا ہاتھ خو+ن سے بھر گیا۔۔
وردہ کے ہاتھ پہ خو+ن دیکھتے دلاور خان جیسے ہوش میں آئے تھے۔۔۔اس سے پہلے وردہ زمین بوس ہوتی انہوں نے جلدی سے وردہ کو تھاما۔
یہ تم نے کیا کیا حسینہ۔۔۔ شیرخان غصے سے دھاڑا جب بھاگتا ہوا اسکا آدمی اندر آیا
بوس پولیس والے آگئے،،، ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا!!! جلدی چلیں۔۔۔ اسکا آدمی اندر آتے ہڑبڑی میں کہتا واپس باہر بھاگ گیا۔
پولیس کو کیسے پتہ چلا کہ ہم یہاں ہیں۔۔۔ تم لوگوں کو میں چھوڑو گا نہیں۔۔۔ شیر خان نے ایک اور گولی چلائی جو وردہ کے بازو میں پیوست ہوئی۔۔۔
وردہ۔۔۔۔ دلاور خان نے تڑپ کے اسے پکارہ۔۔۔ جب کے شیر خان اپنی جان بچانے کے لیئے فورن وہاں سے بھاگا۔
بیٹا تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔ میں اس لائق تو نہیں تھا کہ تم مجھے بچاتیں۔۔۔ دلاور خان اسے لیئے نیچے بیٹھتے اسکا چہرہ تھام کے بوکے۔۔۔
باہر سے فائرنگ کی آوازیں زور و شور سے آرہی تھیں۔۔۔ جس کا مطلب تھا پولیس یہاں تک پہنچ گئی تھی۔
دا۔۔۔مل آپ سے بہت مح۔۔۔بت کر۔۔تے ہیں۔۔۔ ان۔۔۔ کے لیئے۔۔۔ آ۔۔۔پ بے۔۔۔حد اہم۔۔۔ ہیں۔۔۔ اور ۔۔۔می۔۔رے ہوتے آپ ۔۔۔ک۔۔و ۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔ہو۔۔سکتا۔۔۔ آ۔۔۔پ ۔۔۔ان۔۔۔ سے معا۔۔فی ۔۔۔ مانگ ۔۔۔لے گا۔۔۔ مجھے۔۔۔ یقین ہے۔۔۔وہ۔۔۔ آ۔۔۔پ ۔۔ کو ۔۔۔معا۔۔ف۔۔ کردیں۔۔۔گے۔۔۔ وردہ اٹکتی ہوئی سانسوں کے درمیان کہتی دلاور خان کو شرمندگی کی گہرایوں میں چھوڑتے آنکھیں موند گئی۔
وردہ۔۔۔۔ دامل بھاگتے ہوئے اندر آیا تھا لیکن اندر کا منظر دیکھتے اسکی روح فنا ہوگئی تھی۔۔۔ وردہ بےسدھ فرش پہ پڑی تھی۔۔۔ اسکی سفید فراک پوری لال ہوگئی تھی۔۔
دامل ۔۔۔ بیٹا جلدی کرو اس سے اسپتال لے کے چلو۔۔۔اسکہ سانسیں بہت مدھم چل رہی ہیں۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔ اسے ساکت کھڑے دیکھ دلاور خان چیخے تو وہ ہوش میں آتے فورن وردہ کو اپنی باہوں میں بھرے باہر کی جانب بھاگا۔۔۔
اس کے پیچھے ہی دلاور خان بھاگے۔۔۔نے شیر خان کو پولیس والوں نے پکڑ لیا تھا۔۔۔ وہ اپنے ناکام ارادوں سمیت جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے والا تھا۔
جتنی تیز ہوسکتی تھی دامل نے اتنی تیز ڈرائورنگ کی تھی۔۔۔ وردہ کو اسپتال لاتے ہی دامل کے پیچھے پولیس کو دیکھتے ڈاکٹر نے بغیر کسی سوال جواب کے فورن وردہ کا آپریشن شروع کردیا تھا۔
دامل کی حالت بلکل ایسی نہیں تھی کہ وہ کسی کو بھی فون کرتا وہ تو جیسے سکتے میں چلا گیا تھا ۔۔۔
دلاور خان نے فہد کو فون کر کے وردہ کی حالت کا بتا دیا تھا۔۔۔اور فہد نے ابتسام کو فون کردیا تھا۔۔
اگلے پندرہ منٹ میں آپریشن تھیٹر کے باہر سب جما ہوگئے تھے۔
ابتسام انمول کو اپنے ساتھ لانا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ ضد کر کے اسکے ساتھ آگئی تھی اور اب مسلسل دعائیں کرتی روئے جارہی تھی۔
دامل آپریشن تھیٹر کے بار دیوار سے ٹیک لگائے بےسدھ کھڑا آپریشن تھیٹر کے دروازے کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔ جب کے دلاور خان ایک جانب خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے تھے۔
وردہ کی باتیں اب تک انکے ذہن میں چل رہیں تھی۔۔۔ انہوں نے وردہ کے ساتھ کرنا برا کیا تھا اسے، اسکے گھر والوں کو کتنی باتیں سنائیں تھیں کتنا برا بھلا کہا تھا پر وردہ نے اپنی جانب داؤ پہ لگا کے انکی جان بچائی تھی۔
وہ انہیں محفوظ کر کے آج خود زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی۔۔۔ انہیں اپنے کیئے پہ شرمندگی ہو رہی تھی۔۔ وہ پشیمان تھے ۔۔. وہ وردہ کے لیئے دعا گو تھے۔۔۔ وہ دل سے چاہتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔۔۔ ایک بار وہ ٹھیک ہو جائے تو وہ اس سے ہاتھ جوڑ کے معافی مانگنے کا ارادہ کر چکے تھے۔۔۔ صرف اس سے ہی نہیں بلکے ہر اس شخص سے وہ معافی مانگنے کا ارادہ کر چکے تھے جن کا انہوں نے دل دکھایا تھا۔
دامل کی آواز آنے پہ وہ اپنی سوچوں سے باہر آئے۔
ڈاکٹر کیسی ہے میری بیوی۔۔۔ دامل نے بےچینی سے پوچھا۔۔۔ سب لوگ ہی ڈاکٹر کے اردگرد جما ہوگئے تھے۔
ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔ انہیں دو گولیاں لگیں ہیں ۔۔۔ ایک پیٹ میں اور دوسری بازو میں۔۔۔ ہم نے گولیاں تو نکال لیں ہیں لیکن انکا خو+ن کافی بہہ گیا ہے۔۔۔ ہم اپنی طرف سے انہیں بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔۔۔ باقی جو اللہ کی مرضی۔۔۔ ڈاکٹر دامل کا کندھا تھپتھپاتے سب کو فکرمند چھوڑ آگے بڑھ گئی۔
ڈاکٹر نے کوئی جھوٹی امید نہیں دلائی تھی۔۔۔ وردہ کی سانسیں بہت کم چل رہیں تھیں۔۔۔ اور آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے لوگوں کی سانسیں رکنے لگیں تھیں۔
انو۔۔۔۔ انمول کو سر تھامے گرتے دیکھ ابتسام نے اسے فورن تھامتے بینچ پہ بیٹھایا۔
میری بچی۔۔۔ یااللہ پلیز میری بیٹی کو صحت عطا کردیں۔۔۔ میری ہنسی کھیلتی پھول سی بچی کو نا جانے کس کی نظر لگ گئی۔۔۔۔ انمول نے روتے ہوئے ابتسام کے کندھے پہ سر ٹکا گئی۔
حوصلہ کرو انو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ہماری بیٹی بہت بہادر ہے دیکھنا وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ ابتسام نے اسے اپنے ساتھ لگائے تسلی دی۔
دامل بھائی بیٹھ جائیں آپ تھک گئے ہوں گے۔۔ کب سے کھڑے ہیں۔۔۔ بسام دامل کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا
مجھے ایک کام سے جانا ہے ۔۔۔۔ دامل سنجیدگی سے کہتا اسپتال سے نکل گیا۔
دلاور خان نے دکھ سے اپنے پوتے کی حالت کو دیکھا۔۔۔ اور اٹھ کے اہسپتال میں بنی مسجد کی طرف بڑھ گئے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور وردہ کی زندگی کی دعا کرنے۔
۔![]()
![]()
![]()
دامل کافی دیر بعد شیر خان کی ہڈی پسلی ایک کر کے اہسپتال واپس آیا تھا۔۔۔ اور جو بات اسے شیر خان نے بتائی تھی وہ سنے کے بعد تو دامل کا دماغ پوری طرح سے گھوم گیا تھا۔۔۔
وہ دلاور خان سے جواب مانگنے لمبے لمبے قدم اٹھاتا آپریشن تھیٹر کے باہر پہنچا لیکن وہاں کوئی موجود نا تھا۔۔۔ اسکا دماغ اتنا خراب ہو رہا تھا کہ وہ یہ تک بھول گیا کہ آپریشن تو ہو چکا تھا تو اب یہاں تو ویسے بھی کوئی نہیں ہونے والا تھا لیکن اس کے دماغ میں یہ بات آئی ہی نہیں تھی۔
یہاں کچھ دیر پہلے ایک لڑکی کا آپریشن ہو رہا تھا وہ کہاں گئی۔۔۔ دامل نے پریشانی سے وہاں سے گزرتی نرس سے پوچھا۔
انہیں روم میں سفٹ کردیا گیا ہے۔۔۔ ان کی حالت خطرے سے باہر تھی۔۔۔ نرس نے دھیمے سے بتایا۔
کس روم میں ہیں وہ۔۔۔ دامل بےچین ہو اٹھا۔۔۔ اسکی وردہ ٹھیک تھی اور کسی نے اسے بتایا ہی نہیں تھا۔
سیکنڈ فلور پہ روم نمبر 54 میں ہیں ۔۔۔ نرس کے بتاتے ہی دامل دیوانہ وار بھاگا تھا۔
دامل کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ تو کمرہ ایک دم فل تھا۔۔۔ وردہ کے سارے گھر والے موجود تھے ۔۔۔
اسکی نظر بیڈ پہ لیٹی وردہ پہ گئی جو مسکراتے ہوئے بسام سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔
وردہ۔۔۔ اسکی آواز پہ سب نے پیچھے مڑ کے اسے دیکھا۔۔۔
اسکا بگڑہ حلیہ دیکھتے وردہ کے لبوں پہ مسکراہٹ گہری ہوئی۔
تم ٹھیک ہو۔۔۔ دامل اسکے پاس آیا تو بسام نے وردہ کے بیڈ سے اٹھتے اسے بیٹھنے کی جگہ دی۔
ہممم۔۔ وردہ نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلادیا۔
اسے ہوش کب آیا اور آپ سب نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔ دامل خفگی سے سب کی جانب دیکھتے استفسار کرنے لگا۔
تمہارے آنے سے چند منٹ پہلے ہی ہوش آیا ہے۔۔۔ فہد نے اسکا غصہ دیکھتے نرمی سے کہا۔
ہاں اور ہم نے آپ کو کال بھی کی تھی لیکن آپ کا فون بند جا رہا تھا۔۔۔ سیف نے بھی عطلاح دی۔۔۔. تو دامل نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔
وردہ نے پورے کمرے میں نظریں گھمائیں لیکن جس کی تلاش میں وہ نظریں گھما رہی تھی وہ اسے کہیں دیکھائی ہی نہیں دیئے تھے۔
ڈیڈ دادا جان کہاں ہیں۔۔۔ وردہ نے بامشکل فہد سے پوچھا۔۔۔ اسے ڈاکٹر نے زیادہ بولنے سے منا کیا تھا۔
پتہ نہیں۔۔۔ فہد نے سرد لہجے میں کہا
میں نے انہیں مسجد کی طرف جاتے دیکھا تھا۔۔۔ حنان نے بتایا۔
جاؤ ۔۔۔۔اور دیکھو ۔۔۔ آگر وہ وہاں۔۔۔ ہوں تو بلا کے۔۔۔ لاؤ۔۔۔ وردہ اٹک اٹک نے بولی جب کے اسکی بات سنتے دامل اور فہد دونوں حیران ہوئے تھے۔
وردہ تم انہیں کیوں بلا رہی ہو۔۔۔ ان کی وجہ سے ہی تو تم اس حال میں پہنچی ہو۔۔۔ دامل جبڑے بھیجے غصے ضبط کرتے بولا۔
دامل کیا ہم پرانی باتوں کو بھول نہیں سکتے۔۔۔ وردہ نے امید سے پوچھا جس پہ دامل نے سر جھٹکا۔
تمہارے لیئے آسان ہوگا لیکن آج کے واقع کے بعد میرے لیئے یہ اب ناممکن ہے۔۔۔ دامل نے سنجیدگی سے کہا۔
آگر کوئی شخص۔۔۔ اپنے کیئے پہ شرمندہ ہے۔۔۔ اسے اپنی غلطی۔۔۔۔ کا احساس ہے اور وہ اب آپ سے معافی۔۔۔ مانگ کے سدھرنا چاہتا ہے۔۔۔۔ تو کیا ہم اس میں۔۔۔ اسکا ساتھ نہیں دے سکتے۔۔۔ ہم اللہ سے امید کرتے ہیں کے۔۔۔۔ وہ ہمیں معاف کرے ۔۔۔گا تو کیا ہم اللہ کی رضا کے لیئے کسی کو معاف نہیں کر سکتے۔۔۔ وردہ نے بھولتی سانسوں کے درمیان کہا۔
تم زیادہ بولو نہیں تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔ دامل اس سے نظریں چراتا بولا تو وردہ نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔ اب جو بھی بات ہونی تھی دلاور خان کے آنے کے بعد ہی ہونی تھی۔
![]()
![]()
۔
