Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 35) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 35) 2nd Last Episode
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
تم تیار ہو۔۔۔۔ دامل تھری پیس پہنے بالوں کو اوپر کی طرف اچھے سے سیٹ کیئے مڑ کے صوفے پہ بیٹھی نیل پالش لگاتی وردہ سے پوچھنے لگا۔
آج سیف کا ولیمہ تھا وہ لوگ وہیں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
ہاں بس تیار ہوں۔۔۔ وردہ مصروف انداز میں بولی تو دامل سر ہلاتے الماری کی جانب بڑھ گیا اور وہاں سے ایک چھوٹا سا باکس نکلا کے لاتا وردہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
کیا ہوا۔۔۔ وردہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔
کھڑی ہو زرا۔۔۔
مگر کیوں۔۔۔ وردہ نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔
کھڑی تو ہو۔۔۔ دامل نے اپنی بات پہ زور دیا تو وہ آخری ناخو،ن پہ نیل پالش لگاتی کھڑی ہوگئی۔
ہاتھ دو۔۔۔ دامل نے اپنا ہاتھا سکے سامنے پھیلایا۔
یہ لیں لیکن احتیاط سے میری نیل پالش ابھی گیلی ہے۔۔۔. خراب نہیں ہونی چاہیئے۔۔۔ وردہ اسکی چوڑی ہتھیلی پہ اپنا نازک سا ہاتھ رکھ گئی تو دامل نے بہت احتیاط سے اسکی نصیحت پہ عمل کرتے آہستہ سے اسکی انگلی میں ڈائمنڈ رنگ پہنائی جیس کو دیکھتے وردہ کا منہ کھلا۔
دامل یہ۔۔۔ وردہ خوشی و حیرت کے ملے جھلے تاثرات لیئے بولی۔
ہممم یہ وہیں انگوٹھی ہے جو تم نے مجھے پہلی ملاقات پہ دی تھی۔۔۔ اور کہا تھا اسے بیج کے تمہارے جرمانے کے پیسے ادا کردو۔۔۔ دامل ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو وہ دن یاد کرتے وردہ بھی مسکرا اٹھی۔
آپ نے سنبھال کے رکھی تھی۔۔۔ وردہ مسرت بھرے لہجے میں بولی۔
ہمم میں نے سوچا اتنی اچھی اور قیمتی انگوٹھی ہے آگر کبھی آڑھا وقت آیا تو بیچ دوں گا۔۔۔ دامل اسے کمر سے تھامتے شرارت بھرے لہجے میں بولا ۔
سچی باتیں نا۔۔۔ وردہ نے خفگی سے ہلکے سے اسکے سینے پہ مکاہ مارا۔
سچ بات یہ ہے کہ جس دن تم نے مجھے یہ رنگ دی تھی اس دن میں نے یہ رنگ اپنی جیب میں ڈال لی تھی اور پھر جب گھر آکے یونی فارم چینج کیا تو اس میں سے یہ رنگ نکلی میں نے غصے سے اس رنگ کو ڈریسنگ ٹیبل پہ پٹخ دیا تھا لیکن ہماری شادی سے ایک دن پہلے جب تمہارے کپڑوں کے لیئے مجھے اپنی الماری میں جگہ بنانی پڑھ رہی تھی اس دن مجھے یہ رنگ ملی ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ وہاں کس نے رکھی شاید کسی ملازم نے رکھی ہوگی۔۔۔ خیز پھر میں نے یہ سوچ کے یہ رنگ رکھ دی کہ آگر کبھی زندگی میں تم سے دوبارہ ملنا ہوا تو لوٹا دوں گا لیکن میری قسمت دیکھو ہم ملے بھی تو ہمسفر بن کے۔۔۔ دامل نے تفصیل سے بتاتے آگر میں گہری سانس خارج کی۔
تو پھر آپ نے مجھے یہ پہلے کیوں نہیں دی۔۔۔ اور اسکا ڈیزائن بھی تھوڑا الگ لگ رہا ہے۔۔۔ وردہ اپنی انگلی میں پہنی رنگ دیکھتے استفسار کرنے لگی
میں نے اسے بنے دی ہوئی تھی۔۔ تھوڑا سا ڈیزائن چینج کروایا تھا تو یہ کل ہی آئی ہے بن کے۔۔۔ دامل اسکا ہاتھ تھامتے لبوں سے لگا گیا۔
وردہ نے سرشاری سے اسکے سینے پہ سر ٹھکا دیا۔
اسے کبھی اتارنا نہیں یہ ہمیشہ تمہاری انگلی میں رہنی چاہیئے۔۔۔ دامل نے اسکے گرد حصار تنگ کرتے بولا۔
مگر یہ روز مرا میں پہنے کے لحاظ سے تھوڑی بڑی نہیں ہے ۔۔۔ وردہ رنگ کو دیکھتی بولی۔
اسے بڑی سمجھ کے نہیں بلکے ہمارے پیار کی نشانی سمجھ کے پہنے رکھنا ہممم۔۔۔ دامل نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو وردہ ہاں میں سر ہلاگئی۔
اہم اہم ولیمے پہ چلنا نہیں ہے مسسز ۔۔۔ دامل اسکے سر پہ تھوڑی ٹکائے گھمبیر لہجے میں بولا
تھینکیو سو مچ۔۔۔ مجھ جیسی بدتمیز سے محبت کرنے کے لیئے۔۔۔ وردہ اسکی بات کو نظرانداز کرتی دھیمے سے بولی ۔
اب آپ بھی ہم سے محبت کریں اور ہمیں بھی شکریہ کہنے کا موقع دیں۔۔۔ دامل اسکے کان کے قریب جھکتے سرگوشی کرتا کان میں پہنے جھمکے کو چومتے اسکی گردن میں چہرہ چھپا گیا
اچھا بس بس۔۔۔ چلیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وردہ اسکے بدلتے انداز دیکھتی اسے پیچھے کرتی اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ مگر دامل کا حصار اتنا کمزور نہیں تھا کہ وردہ آسانی سے نکل جاتی۔
چھوڑ دوں گا پہلے ایک کس دو۔۔۔ دامل اپنا چہرہ اسکے مقابل کرتے شوخی سے بولا تو وردہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہ آج دامل کو ہو کیا گیا ہے۔
آپ کب سے اتنے چھچھورے ہوگئے۔۔۔ وردہ نے صدمے سے پوچھا تو دامل نے ایبرو سکیڑے اسے دیکھا۔
ایسے چھچھورپن نہیں رومینس کہتے ہیں۔۔۔ دامل نے اسکی ناک دباتے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
اچھا ٹھیک ہے منہ نیچے لائیں۔۔۔ وردہ کے کہنے کی دیر تھی کہ دامل نے فورن اپنا چہرہ اسکے چہرے کے بلکل قریب کر لیا۔
وردہ نے جلدی سے اسکی پیشانی پہ محبت کی مہر مثبت تو دامل کے لبوں پہ دلکش مسکراہٹ چھا گئی۔
اس ہی کی امید تھی مجھے۔۔۔ دامل بھی اسکے ماتھے کو چومتے اسے اپنے حصار سے آزاد کرتا سائڈ کورنر پہ رکھیں اپنی چیزوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ تو وردہ بھی مسکراتی شیشے میں اپنی تیاری دیکھنے لگی۔
۔![]()
![]()
![]()
دامل۔۔۔ دلاور خان لاونچ میں ہی بیٹھے تھے جب دامل کو خود کو اگنور کرتے وردہ کے ساتھ تیار ہوئے جیتے دیکھ پکارہ۔
جی کہیں۔۔۔ دامل نے چہرے پہ سپاٹ تاثرات لیئے کہا۔
کیا بات ہے بیٹا ایسے کیوں بات کر رہے ہو کیا ہم سے ناراض ہو۔۔۔ دلاور خان اسکے انداز پہ تڑپتے فورن اٹھ کے اسکے سامنے آئے۔
ہمیں دیر ہو رہی ہے آپ کو جو کہنا ہے جلدی کہیں۔۔۔ دامل کلائی پے بندھی کھڑی پہ ٹائم دیکھتے سنجیدگی سے بولا تو دلاور خان کو بیک وقت دکھ اور غصے نے کھیرا۔
دکھ دامل کے رویہ پہ ہو رہا تھا۔۔۔ وہ کافی دنوں سے نوٹ کر رہے تھے کہ دامل ان سے کھچا کھچا رہنے لگا ہے۔۔۔۔ ان سے بات نہیں کرتا تھا۔۔۔ اور آج تو اس کے پاس دو منٹ ان سے بات کرنے کا بھی وقت نہیں تھا۔۔۔ جب کے غصہ انہیں دامل کے پیچھے کھڑی وردہ کو دیکھ کے آرہا تھا جس نے بقول انکے ۔۔۔ دامل کو ان سے دور کیا تھا۔
دامل بیٹا اس لڑکی نے جو کچھ کہا ہے وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔۔ میں ویسا نہیں ہوں جیسا تم سوچنے لگے ہو۔۔۔ میں جانتا ہوں اس لڑکی نے تمہارے دماغ میں میرے خلاف غلط فہمیاں بھری ہیں۔۔۔ مجھے پتہ ہے یہ لڑکی بہت جھوٹی اور مکار۔۔۔۔
بس دادا جان۔۔۔ بس۔۔۔ اب میں ایک اور لفظ نہیں سنو گا اپنی بیوی کے خلاف۔۔۔ وردہ کے خلاف الٹی سیدھی باتیں سنتے دامل انکی بات کاٹتے سخت لہجے مگر ادب کے دائرے میں رہ کے بولا جب کے وردہ خاموشی سے کھڑی تھی۔
جب سے دامل نے اسے دادا جان سے بات کرنے سے منا کیا تھا۔۔۔جب سے اس نے ایک بار بھی ان سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔ ہلاکیں انہوں نے وردہ کو کافی بار بہت کچھ کہا تھا لیکن وہ دامل کی بات کا مان رکھتے خاموشی سے انہیں اگنور کرتی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔
آپ سے دور مجھے اس نے نہیں بلکے آپکی اپنی حرکتوں نے کیا ہے۔۔۔ آپ نے کیا کیا ہے یہ میں اچھے سے جان چکا ہوں۔۔۔ اور جو چیزیں میں نے جانی ہیں وہ کافی ہیں کے میں خاموشی سے آپ سے اپنا راستہ الگ کر لوں۔۔۔ یہ بات دامل ہی جانتا تھا کہ اسنے کس دل سے کہا ہے۔۔۔ سب سے زیادہ وہ اپنے دادا کے ساتھ رہا تھا لیکن انکی سچائی سامنے آنے کے بعد اسکا دل پوری طرح سے انکی طرف سے ٹوٹ چکا تھا۔
دامل بیٹا تم نے جو بھی سنا ہے سب غلط سنا ہے۔۔۔ دلاور خان نے اسی اپنی بات پہ یقین دلانا چاہتا جو کے اب ناممکن تھا۔
میں ہمیشہ ڈیڈ سے اس بات پہ لڑائی کرتا تھا کہ وہ آپ سے بات نہیں کرتے ۔۔۔ آپ کو اگنور کرتے ہیں۔۔۔ لیکن اب مجھے ڈیڈ بلکل ٹھیک لگ رہے ہیں۔۔۔ وہ بلکل ٹھیک کرتے تھے آپ کے ساتھ۔۔۔ اپ یہی ڈیسورو کرتے تھے ۔۔۔ دامل دکھ بھرے لہجے میں بولا۔۔۔ تو دلاور خان کا دل کٹ کے رہ گیا۔
بیٹا۔۔۔۔۔
چلو وردہ دیر ہو رہی ہے۔۔۔ دلاور خان کچھ کہتے اس سے پہلے ہی دامل وردہ کا ہاتھ پکڑے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
پیچھے دلاور خان وردہ کی پشت کو گھورتے اپنی جیب سے فون نکلتے کسی کو کال ملانے لگے۔۔۔۔
جو کام کہا تھا وہ آج ہی ہو جانا چاہیئے کسی بھی حال میں ۔۔۔ کال ریسیو ہوتے ہی غصے سے کہتے انہوں نے فون رکھ دیا۔
بس تھوڑا وقت اور پھر میں اس وجہ کو ہی ختم کردوں گا جس نے میرے پوتے کو مجھ سے دور کیا ہے۔۔۔ وہ شیطانی مسکراہٹ سجائے باہر کی جانب بڑھ گئے۔
۔![]()
![]()
![]()
ولیمہ زور و شور سے اپنے عروج پر تھا۔۔۔ سب ادھر سے ادھر مہمانوں سے مل رہے تھے تصویریں بنوا رہے تھے۔۔۔ اسٹیج پہ بیٹھے سیف اور نور کو مبارک باری دے رہے تھے۔
ہر کوئی خوش گپوں میں مصروف تھا۔۔۔ وردہ ایک خاتون کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھی جب اسکے ہاتھ میں موجود فون بجنا شروع ہوا۔
رونگ نمبر سے کال آتے دیکھ وہ اکسکیوز کرتے سائڈ پہ ہوگئی۔
ہیلو۔۔۔ اسنے کال ریسیو کرتے فون کان سے لگا۔۔۔ پر دوسری جانب سے ملنے والی اطلاع نے اسے کافی پریشان کر دیا تھا۔
نتاشہ ٹھیک تو ہے کس اوسپیٹل میں ہے۔۔۔ وہ ہڑبڑاہٹ میں کہتی بڑے بڑے قدم باہر کی جانب اٹھانے لگی۔
ٹھیک ہے میں آرہی ہوں۔۔۔ اوسپیٹل کا اڈرس ملتے ہی وہ جلدی سے باہر کی جانب بڑھی لیکن پھر ایک دم قدم روکتے اسنے کسی کو بتانے کا سوچا ۔۔۔ پر اسکے سارے گھر والے تو اسٹیج پر تھے اور دامل بھی اسے کہیں دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔
راستے میں دامل کو فون کر کے بتا دے گی یہ سوچتے وہ ہال سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ اور اسنے یہ وہ غلطی کی تھی جس کا انجام بہت برا ہونے والا تھا۔
وہ پارکنگ کی جانب پہنچی جب اسے یاد آیا کہ گاڑی کی چابی تو اسکے پاس ہے ہی نہیں وہ اوسپیٹل جائے گی کیسے۔۔۔ آس پاس بھی سب سناٹا تھا سب اندر موجود ولیمہ انجوائے کر رہے تھے۔۔۔۔ آگر وہ رکشتے کی تلاش میں رکتی تو اسے مزید دیر ہو جاتی اس لیئے
وہ گاڑی کی چابی منگوانے کے لیئے دامل کا نمبر ڈائل کرنے لگی جب ہی پیچھے سے کسی نے اسکے چہرے پہ رومال رکھا۔
بوکھلاہٹ کی وجہ سے وردہ کے ہاتھ سے فون چھوٹ کے زمین بوس ہوا تھا جب کے چند منٹوں گا کھیل تھا اور وردہ ہوش و حواس سے بیگانی ہوگئی۔
۔![]()
![]()
![]()
اسکی آنکھ کھلی تو خود کو ایک خالی کمرے میں پایا۔۔۔ ہاتھ پاؤں رسیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔۔۔ اسنے چاروں طرف نظریں گھما کے دیکھا لیکن سوائے وہاں دو کرسی اور ایک چھوٹے سے بلب کے اور کچھ نہیں تھا۔۔
حواس باختہ ہوتے ہی اسے کسی خطرے کا احساس شدت سے محسوس ہوا۔
کون لایا ہے مجھے یہاں۔۔۔ وہ ڈرے بغیر مضبوط لہجے میں غرائی۔
کوئی ہے یہاں۔۔۔ کوئی بتائے گا کے کون اور کیوں لایا گیا ہے مجھے یہاں۔۔۔ وہ پھر سے چیخی جب دھیرے سے دروازہ کھولتے کوئی اندر آیا تھا۔۔۔ آنے والے شخص کو دیکھتے وردہ کی آنکھیں بےیقینی سے پھیلیں تھیں۔۔
آپ۔۔۔۔ وہ صدمے سے چور لہجے میں بس اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔ ورنا سامنے موجود ہستی کو دیکھتے اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا۔
کیسی ہو بہو رانی۔۔۔ دلاور خان خباثت سے بولے۔
آپ نے مجھے گڈنیپ کروایا ہے۔۔۔ وردہ اب بھی صدمے میں تھی۔۔۔۔ وہ انہیں غلط سمجھتی تھی لیکن اسنے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسا بھی کچھ کریں گے۔۔۔۔ اپنے نانا نانی کی موت کا جو الزام وردہ نے دلاور خان پہ لگایا تھا اسے بعد میں محسوس ہوا تھا کہ ہو چاہے کتنے بھی خود غرض کیوں نا ہوں لیکن کسی کی جان نہیں لے سکتے۔۔۔ اپنے بدلے کے لیئے اتنا نہیں گر سکتے لیکن آج اسے اپنی ساری سوچوں پہ غصہ رہا تھا۔۔۔ وہ کیسے ان کے بارے میں کچھ اچھا سوچ سکتی تھی۔۔۔ جو شخص اپنے ہی پوتے کی بیوی کو گڈنیپ کروا سکتا تھا وہ نا جانے اور کیا کچھ کر سکتا تھا اسکا اندازہ وردہ لگا چکی تھی۔
ہاہاہاہا۔۔۔ یقین مانو تمہیں بےبس دیکھ کے بہت سکون مل رہا ہے مجھے۔۔۔ وردہ کو خاموش دیکھ دلاور خان دوسری کرسی کھینچ کے اسکے سامنے بیٹھتے پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے۔۔. یہ سب کر کے تو آپ اپنے بیٹے اور پوتے دونوں کو خود سے اور دور کر رہے ہیں۔۔۔ آگر دامل کو پتہ چل گیا کہ آپ نے مجھے گڈنیپ کروایا ہے تو وہ جو تھوڑی بہت آپ سے بات کرتا ہے وہ بھی چھوڑ دے کا۔۔۔۔ آپ اسکی نظروں میں گر جائیں گے۔۔۔ وہ ہمیشہ کے لیئے آپ سے دور ہوجائے گا۔۔۔۔ وردہ نے نرمی سے انہیں احساس دلانا چاہتا کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ سب غلط ہے یہ سب کر کے انہیں سوائے اپنوں کی نفرت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔ لیکن دلاور خان تو جیسے پاگل ہو گئے تھے ہر سہی غلط کا فرق بھول بیٹھے تھے۔
میرے پوتے کو ویسے ہی تم نے مجھ سے دور کر دیا ہے پر اب میں اس وجہ کو ہی دور کر دوں گا جس نے میرے اور میرے پوتے کے بیچ فاصلے بنائے ہیں۔۔۔ دلاور خان ایک سائڈ کی پراسرار مسکراہٹ سجائے استہزا لہجے میں بولے۔
دادا جان ایسا مت کریں۔۔۔ یہ سب کر کے آپ کو دامل کبھی نہیں ملے گا بلکے وہ آپ سے نفرت کرنے لگے گا۔۔۔اپ اسکی نظروں میں اپنا وقار کھو دیں گے۔۔۔وردہ نے ایک اور نا کام کوشش کی انہیں سمجھانے کی۔
لڑکی ہمارے پوتے کو ہم سے دور کرنے والی بھی تم تھیں اور اب قریب بھی تم ہی کرو گی۔۔۔ تمہاری موت کی وجہ ہی ہمیں ہمارے پوتے سے قریب کرے گی۔۔۔ دلاور خان مغرور انداز میں کہتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
پلیز دادا جان ایک بار سوچیں تو سہی کے آپ غلط کر رہے ہیں۔۔۔ اپنی غلطیوں کو یاد کریں مجھے یقین ہے آپ کو احساس ضرور ہوگا کہ آپ نے کس کے ساتھ کیا کیا غلط کیا ہے اور کیا کرنے جا رہے ہیں ایک بار سوچیں تو سہی۔۔۔ وردہ نے بہت نرمی اور پیار سے کہا تھا جس پہ ایک پل کے لیئے دلاور خان کے تاثرات بدلے تھے۔۔۔
انہیں اپنی ہر بات یاد آنے لگی تھی۔۔۔ جس جس کے ساتھ انہوں نے بےفضول کی نفرتیں رکھیں تھیں وہ سب یاد آنے لگا تھا لیکن پھر ہر سوچ پہ یہ سوچ غالب آجاتی کہ انمول نے پہلے ان کے بیٹے کو ان سے دور کیا اور اب اسکی بیٹی ان کے پوتے کو ان سے دور کر رہی تھی۔۔۔ یہ سوچتے یک سر انکے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔
اپنی الٹی گنتی شروع کردو کیونکہ زیادہ وقت نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔ وہ سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے کمرے سے نکل گئے پیچھے وردہ بس دعا کر کے رہ گئی کے اللہ انہیں ہدایت دے اور کسی طرح دامل کو یہاں بھیج دے۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ کو دیکھا ہے کہیں ۔۔۔ دامل تحریم کے پاس آتا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ وہ کب سے پورے ہال میں نظریں دوڑاتے وردہ کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن وردہ اسے کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔
یہیں کہیں ہوگی۔۔۔ تحریم نے کندھے اچکاتے جواب دیا۔
میں کب سے اسے ڈھونڈ رہا ہوں لیکن وہ مجھے کہیں دیکھ ہی نہیں رہی۔۔۔ دامل نے فکرمندی سے کہا
آپ اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہیں دامل بھائی یہیں ہوگی۔۔۔ آپ اسے فون ملا کے پوچھ لیں۔۔ تحریم اسے مشورہ دیتی۔۔۔کسی کے بلانے پہ وہاں سے چلی گئی تو دامل نے پھر سے وردہ کا نمبر ملایا جو مسلسل آف جا رہا تھا وہ پہلے بھی اسکا فون ملا چکا تھا جب بھی نمبر آف تھا اور اب بھی۔۔
کھانا کھل چکا تھا۔۔۔ وردہ کی غیر موجودگی وہاں سب گھر والے بھی محسوس کر چکے تھے۔۔۔ جب کے دامل تو پریشانی سے ہال کا چپا چپا چھان چکا تھا۔
دامل وردہ کہاں ہے۔۔۔ ابتسام دامل کے پاس آتے پوچھنے لگا۔
پتہ نہیں انکل۔۔۔ اسکا فون بھی آف جا رہا ہے پتہ نہیں کہاں چلی گئی ہے۔۔۔ دامل پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا تو ابتسام کو بھی فکر نے آ گھیرا۔
کیا ہوا وردہ کہاں ہے۔۔۔ انمول نے ہی ابتسام کو دامل کے پاس وردہ کا پوچھنے بھیجا تھا لیکن ان کے چہروں پہ پریشانی دیکھتے وہ خود بھی انکے پاس آگئی تھی۔
آپ فکر نہیں کریں آنٹی وہ جہاں بھی ہوگی ٹھیک ہوگی۔۔۔ دامل نے انہیں مطمئن کرنا چاہا ۔
آپ لوگ یہاں رکیں میں باہر دیکھتا ہوں ۔۔۔ دامل کہتا جلدی سے باہر کی جانب بھاگا ۔
جب کے انمول کو اب حول اٹھنے شروع ہوگئے تھے۔۔۔ اسے سر تھامے دیکھ ابتسام اسے اپنے ساتھ لگائے اندار لایا۔
دامل ہر جگہ اسے دیکھ چکا تھا لیکن وہ دور دور تک کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔ آخر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اچانک اسکا پاؤں کسی چیز پہ آیا۔
اسنے نیچھے دیکھا تو وہ وردہ کا فون تھا اسنے جلدی سے جھک کے اسکا فون اٹھایا جو گرنے کی وجہ سے آف ہوگیا تھا۔
وردہ۔۔۔۔ اسکے منہ سے سرگوشی نما نکلا۔
اسے فورن ہی کسی خطرے کا الارم محسوس ہوا۔۔۔ اسنے جلدی سے اپنی جیب سے فون نکالتے راشد کو فون ملایا۔
راشد میری بات غور سے سنو ۔۔۔ شہر سے باہر جانے والے سارے راستوں پہ پولیس تائنات کر دو۔۔۔ کوئی بھی گاڑی بغیر چیکنگ کے نا جائے۔۔۔ ٹیم کو بولو چاروں طرف پھیل جائیں اور۔۔۔۔ اور وردہ کو تلاش کریں۔۔۔ دامل راشد کو ہدایت کرتے آخر میں دھیمی آواز میں بولا۔
سر کہاں گئی ہیں میم۔۔۔ راشد نے حیرت سے پوچھا۔
مجھے شیرخان پہ شک ہے ۔۔۔ مجھے لگتا ہے اسنے مجھے کمزور کرنے کے لیئے وردہ کو غائب کروایا ہے ۔۔۔ جتنا جلدی ہو سکے ہماری ٹیم کو ہر طرف بھیج دو۔۔۔ شہر کا کوئی کونا نہیں چھوٹنا چاہیئے اچھی طرح ہر جگہ چیک کرو۔۔۔ دامل کے کہنے پہ راشد یس سر کہتا فون بند کر گیا۔۔۔ تو دامل نے بھی اندر کی جانب قدم بڑھائے جہاں سب پریشانی سے اسکا انتظار کر رہے تھے۔
وہ وردہ کے گھر والوں کو کچھ بھی بتانا تو نہیں چاہتا تھا لیکن ان کی پریشانی کو دیکھتے اسنے انہیں وردہ کی گمشدگی کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
دامل کہاں ہیں میری بیٹی۔۔۔ دامل کو اندر آتے دیکھ انمول بےچینی سے اسکی جانب لپکی۔
پارکنگ میں وردہ کا فون ملا ہے۔۔۔ دامل نے فون سامنے کیا۔
وردہ کہاں ہے دامل۔۔۔۔ ابتسام نے پریشانی سے پوچھا۔
پتہ نہیں ۔۔۔ لیکن میں پتہ کروانے کی پوری کوشش کر رہا ہوں امید ہے جلد ہی پتہ چل جائے گا۔۔۔مجھے ایک شخص پہ شک ہے کہ وردہ کو اسنے ہی غائب کروایا ہوگا۔۔۔ دامل نے ضبط سے جواب دیا ۔۔۔ ورنا اسکے دل کی حالت ایسی ہو رہی تھی جیسے ابھی بند ہو جائے گا۔
وردہ غائب ہے۔۔۔ بسام نے حیرت سے پوچھا تو دامل نے ہاں میں سر ہلادیا۔
آپ لوگ پریشان نا ہوں۔۔۔ انکل آپ اپنے ذریعے سے وردہ کا پتہ لگوائیں میں بھی نکلاتا ہوں۔۔۔ دامل جلد بازی سے کہہ کے جانے لگا جب بسام کی بات پہ اسکے جاتے قدم تھمے تھے۔
وردہ گاڑی لے کے گئی ہوگی تو گاڑی کی لوکیشن چیک کرتے ہیں پتہ چل جائے گا۔۔۔ بسام کے کہنے پہ دامل کے دماغ میں دھماکا ہوا تھا۔
لوکیشن ۔۔۔۔
میں نے وردہ کو صبح ایک رنگ دی تھی جو میرے فون سے کنیکٹڈ ہے ۔۔۔ پریشانی میں تو میں یہ بلکل ہی بھول گیا تھا۔۔۔ دامل نے جلدی سے اپنا فون نکالتے سرچ کرنا شروع کیا.۔۔. تو سب کے اندر ایک امید کی کرن جاگی۔
شہر سے چار کلو میٹر دور ایک ویران ایریا کی لوکیشن دکھا رہا ہے ۔۔۔۔ مجھے فورن وہاں پہنچنا ہوگا۔۔۔ دامل جلدی سے لوکیشن دیکھتے باہر کی جانب دوڈ لگا گیا۔
ہم بھی چلتے ہیں ساتھ۔۔۔ بسام سیف دونوں اسکے ساتھ جانے کے لیئے تیار ہوئے۔
نہیں تم لوگ یہیں رہو وہاں خطرہ ہوگا۔۔۔ دامل ہال کے دروازے پہ رک کے کہتا باہر نکل گیا۔۔۔
گاڑی میں بیٹھتے ساتھ اس نے راشد کو لوکیشن سینڈ کرتے پوری ٹیم کے ساتھ وہاں پہنچنے کا کہتے زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔
۔![]()
![]()
![]()
