820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 34)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

دیکھتے ہی دیکھتے سیف کی مایوں کا دن آ پہنچا تھا۔۔۔ شادی زیادہ دھوم دھام سے نہیں لیکن پھر بھی انمول کے کہنے پہ کافی اچھے سے ہو رہی تھی۔۔۔ سب چاہتے تھے کہ سادگی سے شادی مکمل ہو جائے مگر انمول کا کہنا تھا کہ یہ سیف کی پہلی شادی ہے حماد کے گھر کی پہلی خوشی۔۔۔ اور اس خوشی کو ہر طرح سے منایا جائے گا۔۔۔جب کے انمول کے آگے تو کسی کی چلتی نہیں تھی اس لیئے سب کو ہی اسکی بات ماننی پڑی تھی۔

انمول نے خود کو مصروف تو کر لیا تھا لیکن اب وہ پہلے کی طرح شوخ و چنچل نہیں رہی تھی۔۔۔ وہ بس ضرورت کے وقت بات کرتی تھی۔۔۔ انمول کے اندر یہ تبدیلی سب کو ہی کھل رہی تھی۔۔۔ اسے ہمیشہ سب نے ہنستے مسکراتے شرارتیں کرتے دیکھا تھا لیکن جیسے والدین کے جانے کے بعد وہ بلکل بدل گئی تھی۔۔۔ اور یہ بدلی ہوئی انمول کسی کی بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔

انمول ہلکا سا تیار ہوئے صوفے سے دوپٹہ اٹھا کے اچھے سر پر اوڑھنے لگی جب اسے شیشے سے ابتسام کے عکس کو خود کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے پایا۔

اسنے ائبرو اچکائے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا تو وہ دھیرے سے نفی میں سر ہلا گیا۔۔۔ جس پہ انمول پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

کافی دیر بعد بھی جب اسے ابتسام کی نظروں کی تپش خود پہ محسوس ہوتی رہی تو وہ جھنجھلا کے اسکے سامنے جا رکی۔

آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے مجھے سکون سے تیار کیوں نہیں ہونے دے رہے۔۔۔انمول اسکے سامنے کھڑی دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے زچ ہوتے بولی۔

میں نے کیا کیا ہے۔۔۔ ابتسام نے انجان پن کی حد کی۔

آپ مجھے گھور رہے ہیں جس سے میں کنفیوز ہو رہی ہوں۔۔۔۔ انمول نے اسے گھورا تو وہ دلکشی سے مسکراتا اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے ساتھ بیٹھا گیا

مسسز اسے گھورنا نہیں بلکے پیار سے دیکھنا کہتے ہیں۔۔۔ وہ انمول کی ناک کھینچتے شرارت سے بولا تو انمول کے چہرے پہ دھیمی سی مسکراہٹ آگئی۔

دیر ہو رہی ہے ہمیں چلنا چاہیئے۔۔۔ انمول اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی اٹھنے لگی جب ابتسام نے اسکا ہاتھ مضبوط سے اپنی گرفت میں لیتے روکا۔

انو میں کب سے دیکھ رہا ہوں تم خاموش خاموش رہنے لگی ہو۔۔۔ پہلے تم سب کو کتنا تنگ کرتیں تھیں۔۔۔ مزاق کرتیں تھیں۔۔۔ ہر بات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتی تھیں اور تو اور کسی کی اپنے آگے چلنے نہیں دیتی تھیں لیکن اب!!!!

اب تو جیسے تم صرف ضرورت کے وقت بولتی ہو اور وہ بھی لیمٹڈ۔۔۔ اور مجھے ایسی انو بلکل پسند نہیں ہے۔۔۔ مجھے میری پہلے والی انو چاہیئے۔۔۔ ابتسام نے اسے اسکے بارے میں بتاتے آخر میں خفگی سے کہا تو انمول نے مسکرا کے سر جھکا لیا۔

وہ اپنے اندر خود بھی یہ تبدیلی محسوس کر چکی تھی۔۔۔ پر وہ کیا کرتی اسکا کچھ بولنے کا دل ہی نہیں کرتا تھا۔۔۔ نا ہی پہلے کی طرح شرارتیں کرنا اچھا لگتا تھا۔۔۔ پر وہ اپنی فیملی کے لیئے خود کو پہلے کی طرح کرنا چاہتی تھی لیکن اسے یہ سب کافی مشکل لگ رہا تھا۔

انو ہم سب تمہیں پہلے کی طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ تمہادے بچے تمہاری خاموشی سے وہ بھی خاموش ہو گئے ہیں۔۔۔ کیا تم نے محسوس نہیں کیا کہ بسام پہلے کتنی باتیں کرتا تھا ، تنگ کرتا تھا لیکن اب جیسے وہ بھی سنجیدہ ہوگیا ہے۔۔۔ انمول تم ہی ہو جو گھر کا ماحول واپس پہلے جیسا کر سکتی ہو۔۔۔

بڑی مما اور تایا ابو کے جانے کا دکھ ہم سب کو ہے۔۔۔ انکی جگہ کبھی پر نہیں ہو سکتی ۔۔۔ انمول وہ تمہیں اس وقت دیکھ رہے ہوں گے اور انہیں کتنا دکھ ہوتا ہوگا تمہیں ایسے بدلتے ہوئے دیکھ کے۔۔۔ تایا ابو کو تو کھلکھلاتی انو پسند تھی نا ۔۔۔ انو پلیز خود کو ایک خول میں بند ہونے سے روک لو۔۔۔ کیونکہ آگر تم ایک بار خول میں بند ہوگئیں تو اس خول سے نکلنا بہت مشکل ہوجائے گا۔۔۔

اپنے لیے نا سہی اپنے بچوں کے لیے میرے لیئے خود سے جڑے ہر رشتے کے لیئے ہی سہی لیکن پلیز پہلے جیسی ہو جاؤ۔۔۔ ابتسام نے اسکا ہاتھ پکڑتے التجاہ کی تو انمول کی آنکهیں بھر ائیں۔

میں کوشش کروں گی۔۔۔ابھی چلیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ وہ مختصر سا کہتی اپنا ہاتھ چھڑواتے کمرے سے نکل گئی۔۔۔ تو پیچھے ابتسام ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔

🌺🌺🌺۔

حماد کے گھر میں مہمان آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ سب تیار ہو چکے تھے۔۔۔ مایوں لان میں ہی رکھی گئی تھی۔۔۔ سارے فیملی ممبر بھی آگئے تھے۔۔۔ دامل اور وردہ بھی کچھ دیر پہلے پہنچے تھے۔

بسام اور حنان دونوں خوب بگڑے ڈالتے سیف کو اسٹیج تک لائے تھے۔۔۔ رسم کا آغاز نسرین بیگم نے کیا تھا۔۔۔

باری باری سب آتے رسم ادا کر رہے تھے جب وردہ اور دامل رسم کر کے اسٹیک سے اترے تو وردہ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ہلدی بھرلی۔

وردہ یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔ اسے دونوں ہاتھ ہلدی سے پھرتے دیکھ دامل نے حیرت سے پوچھا۔

دیکھتے جائیں۔۔۔ وردہ آنکھ مار کے کہتے اسٹیج سے اتر کے اپنے دوستوں سے بات کرتے بسام کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

چونکہ بسام کی اسکی طرف پشت تھی اس لئے وہ دبے پاؤں اسکے پیچھے جاتی ہلدی سے بھرے ہاتھ اسکے چہرے پہ مسل گئی۔

اس اچانک حملے پہ بسام بوکھلا گیا جب کے لان میں سب کے قہقہے بلند ہوئے اسکی حالت دیکھتے۔

وردہ۔۔۔. بسام نے دانت پیسے ۔۔۔ اسکا چہرہ اور سفید کرتا سب پیلا ہو گیا تھا

آخر تم دلہے کے کزن ہو تم پہ بھی تو روپ آنا چاہیئے نا۔۔۔ وردہ کھلکھلائی پر بسام کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ جلدی سے بھاگ کے اسٹیج پہ موجود انمول کے پیچھے چھپ گئی

مما مجھے بچالیں۔۔۔ ورنا جس طرح آپ کا بیٹا میری طرف بڑھ رہا ہے نا مجھے پورا یقین ہے یہ مجھے زندہ کھا جائے گا۔۔۔ وردہ اپنی ماں کے پیچھے چھپتی ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے بولی

چوہیا ۔۔۔ دم ہے تو مما کے پیچھے سے نکلو اور خود میرا مقابلہ کرو۔۔۔ بسام نے اسے اکسانے کی کوشش کی۔

نہیں ہے مجھ میں دم اب خوش ۔۔۔ جاؤ اور جا کے میرے شوہر سے بات کرو۔۔.لے کے دیکھاؤ میرا بدلہ میرے شوہر سے ۔۔۔ وردہ اترا کے مزے سے کہتی دامل کو بھی بیچ میں گھسیٹ گئی جس پہ دامل نے منہ کھولا۔

خبردار سالے صاحب جو آپ نے ایک پولیس والے کو ہاتھ بھی لگایا تو۔۔۔ آپ کی لڑائی جس سے ہے آپ بدلہ بھی اس سے ہی لیں۔۔۔ دامل نے اپنے پولیس والے ہونے کا رعب جمایا ۔

ان کی نوک جھونک سے سب ہی لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔ کافی دنوں بعد بھر سے سب انکا بچوں والا روپ دیکھ رہے تھے۔

بسام میں تیرے ساتھ ہوں آ جا۔۔۔ میں اسے پیچھے سے گھیرے میں لیتا ہوں تو ہلدی لے کے دوسری طرف سے آجا۔۔۔ سیف فورن اپنی خدمات پیش کرتے کھڑا ہوا تو وردہ نے اسے گھورا۔

مما دیکھ رہی ہیں آپ کیسے آپ کے سامنے ہی آپ کی معصوم بچی سے بدلہ لینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔۔۔ وردہ نے منہ بسورے انمول کو دیکھا تو وہ مسکراتی ہوئی اپنی بیٹی کی ڈھال بنتی کھڑی ہوگئی۔

یہ ہلدی کا باؤل ادھر لاؤ میں لگاؤں گی۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے باؤل منگوایا تو وردہ نے صدمے سے اسے دیکھا۔۔۔ جب کے سیف فورن ہلدی کا باؤل لیئے اسکے سامنے حاظر ہوا تھا۔

مما آپ بھی ان کے ساتھ مل گئیں۔۔۔ وردہ نے دکھ سے کہا

مما بھی سہی کا ساتھ دیتی ہیں۔۔۔ بسام نے اسے چھیڑا۔

انمول نے ہلدی سے دونوں ہاتھ بھرتے مزے سے باؤل پکڑے سیف کے چہرے پہ مل دیئے۔۔۔

اپنے چہرے پہ ہلدی لگتے دیکھ جہاں سیف اور بسام صدمے میں ڈوبے تھے وہیں ایک بار پھر سب نے قہقہہ لگایا تھا۔

سہی کہا تھا بیٹا میں سہی کا ساتھ دیتی ہوں اور میری بیٹی ایک دم سہی ہے۔۔۔ تم دولہے کے کزن ہو تو تمہارے اوپر روپ آنا چاہیئے پر شادی تو سیف کی ہے تو دولہے پہ بھی تو روپ آنا ضروری ہے۔۔۔ انمول بسام کو دیکھتی وردہ کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیئے مزے سے بولی تو وردہ نے استہزا مسکراہٹ سجائے بسام کو چڑایا۔

دلہے کے ابا آپ کے بھی بہت دانت نکل رہے ہیں۔۔۔ آئیں آپ کو بھی تھوڑا سا رنگ روپ دے دوں۔۔۔ انمول قہقہہ لگاتے حماد کو دیکھتی شرارت سے اسکی جانب بڑھی تو بےساختہ حماد نے قدم پیچھے لیئے۔

تم دور ہی رہوں مجھ سے۔۔مجھے نہیں چاہیئے بہن رنگ روپ۔۔۔ اسنے ہاتھ جوڑتے کہا تو سب ہنس دیئے۔۔۔

انمول کو اپنے پہلے والے انداز میں لوٹتے دیکھ سب کو بہت خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔ سب نے ہی خوب سیف کی مایوں کو انجوائے کیا تھا۔

🌺🌺🌺۔

کیا میں شادی تک یہیں رک جاؤ۔۔۔ مایوں ختم ہونے کے بعد سب اپنے اپنے گھر جا رہے تھے جب وردہ نے جان بوجھ کے دامل سے یہاں رکنے کا پوچھا۔

وہ جانتی تھی کہ دامل انکار کر دے گا لیکن پھر بھی اسے تنگ کرنے کے لیئے پوچھ رہی تھی۔

کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اسکی توقع کے عین مطابق دامل نے صاف انکار کیا۔

صرف دو دن کی تو بات ہے۔۔۔ کل بارات ہے اور پرسوں ولیمہ ۔۔۔۔ پلیز رہنے دیں نا ۔۔۔ وردہ نے پھر سے التجائیہ انداز میں کہا تو دامل نے اسے گھورا۔

وردہ تم جانتی ہو نا مجھے تمہارے بغیر نیند نہیں آتی۔۔۔ مجھے اب تمهاری عادت ہوگئی ہے اس لیئے سوری اب سے تم کہیں بھی رکنے نہیں جاؤ گی سمجھ گئیں۔۔۔ دامل نے خشمگیں نظرو سے دیکھتے اٹل لہجے میں کہا تو وردہ منہ بنا گئی۔

چلو اب چلیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ دامل نے کھڑی پہ ٹائم دیکھتے کہا جب وردہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی دامل کے پیچھے دیوار کی آڑ میں کھڑا انکی باتیں سن رہا ہو۔

جالیA.S.P مجھے ابھی ایسا لگا جیسے کوئی ہماری باتیں سن رہا ہے۔۔۔

ہماری باتیں کون سنے گا اور آگر کوئی سن بھی رہا ہے تو سن لے ۔۔۔ ہم کون سا کوئی راز کی بات کر رہے ہیں۔۔۔ دامل نے بےفکری سے کندھے اچکا دیئے

نہیں بات صرف ابھی کی نہیں ۔۔۔ مجھے کافی ٹائم سے ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہو۔۔۔ جیسے کسی نے ہر وقت ہم پہ نظر رکھی ہوئی ہو۔۔۔ وردہ نے تفکر سے کہا۔

یہ صرف تمہارا وہم ہے اور کچھ نہیں۔۔۔ چلو دیر ہو رہی ہے سب سے مل کے نکلتے ہیں۔۔۔۔ دم اسے بےفکر کرتا سب کی جانب پڑھ گیا۔۔

جب کے وردہ کی باتوں نے دامل کو سوچ میں ڈال دیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا وردہ کو کوئی وہم نہیں ہو رہا ہے۔۔۔ ضرور کوئی ہے جو ان پہ نظر رکھ رہا ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ بات وردہ کو بتا کے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ خود ہی ہر مسئلے کو خود سے حل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ اسے یہ تو پتہ چل گیا تھا کے وہ آکسیڈنٹ ایک حادثہ نہیں بلکے سوچی سمجھی سازش ہے لیکن یہ ہے کس کا کام یہ اسے پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔ پر پھر بھی وہ دن رات ایک کر کے پتہ لگا رہا تھا کہ آخر ان سب کے پیچھے ہے کون۔

۔🌺🌺🌺

سیف کی بارات کافی دھوم دھام سے لے کے آگئے تھے۔۔۔ سب بہت خوش تھے۔۔۔ سیف کے چہرے سے تو مسکراہٹ ایک پل کے لیئے بھی جدا نہیں ہو رہی تھی۔۔۔

وہ ناچتے گاتے ہال تک پہنے تھے جہاں نور کی کچھ کزنز نے دروازہ رکائی کے بعد انہیں اندر بھیج دیا تھا

ان کے آتے ہی نکاح کی رسم ادا کی گئی تھی۔۔۔ نور اور اسکے گھر والے کافی خوش تھے کہ اسے اتنی اچھی فیملی ملی ہے۔۔۔ سب لوگ پیار کرنے والے تھے سب کے اندر ایک اپنایت تھی۔۔۔ وہ لوگ اللہ کا جتنا شکر ادا کرتے ان کے لیئے اتنا کم تھا

کھانے کے بعد نور کو قرآن کے سائے میں رخصت کیا گیا ۔۔۔ وہ اپنے والدین سے مل کے خوب روئی جس کو دیکھتے انمول کو بھی اپنے مما بابا کی یاد آگئی جس پہ اسنے بڑھ مشکل سے خود کو رونے سے روکا۔

گھر آکے نور کا استقبال کافی اچھی طرح سے کیا گیا تھا۔۔۔ اسے سیف کے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا جب کے دروازے پہ سیف کو وردہ اور تحریم اپنے گھیرے میں لیئے کھڑی تھیں۔

چلو بھئی جلدی سے نیک نکالو۔۔۔ وردہ نے ہاتھ آگے کیا۔

یار کچھ تو چھوڑ دو مجھ بیچارے کے پاس۔۔۔ پہلے ہی سالیوں نے خوب لوٹ لیا ہے۔۔۔ اب تم لوگ تو نا لوٹا نا۔۔۔ سیف نے بےچارگی سے کہا تو دونوں نے اسے گھوری دیکھائی۔

سیف باتیں کم کرو اور پیسے نکالو۔۔۔ ایک تو تمہیں ہمارا احسان مند ہونا چاہیئے کے ہم نے تمہاری شادی کروائی۔۔۔ آگر ہم اس دن مال والا پلین نا بناتے تو تم آج یہاں دلہا بنے نا کھڑے ہوتے۔۔۔ آنٹی نے تمہیں ایک نظر میں دیکھ کے پسند کر لیا وہ بھی ہماری وجہ سے۔۔۔ اور نور نے تم سے شادی کے لیئے ہاں کی وہ بھی ہماری وجہ سے۔۔۔ وردہ نے احسان جتانے والے انداز میں کہا تو ساتھ کھڑی تحریم اسکی بات سن کے چونکی۔

کون سا مال والا پلین۔۔۔ تحریم نے حیرت و تجسس سے پوچھا۔

او تم بھی یہاں کھڑی ہو میں تو بھول ہی گئی تھی۔۔۔ خیر یہ بہت چھوٹی سی کہانی ہے بعد میں سناؤ گی ابھی تو مجھے اس سے نپٹنے دو۔۔۔ وردہ آنکھیں گھما کے کہتی سیف کی جانب متوجہ ہوئی۔

سیف تم پیسے دے رہے ہو یا نہیں۔۔۔ وردہ نے دو ٹوک انداز میں پوچھا۔

نا دوں تو۔۔۔ سیف بازو بندھے اطمینان سے بولا۔

تو میں نور کو اس دن کے بارے میں سب بتا دوں گی۔۔۔ وردہ نے بھی مسکراتے ہوئے اسہی کے انداز میں دھمکی دی تو سیف کا چہرہ لٹک گیا۔

یہ لو میری ماں اور اب اپنا منہ بند رکھنا۔۔۔ سیف نے جلدی سے جیب سے پورا والٹ نکال کے وردہ کے ہاتھ پہ رکھ دیا۔۔۔ جس میں سے وردہ نے پیسے نکلا کے والٹ واپس سیف کو دے دیا۔

اب یہاں کیوں کھڑے ہو اندر جاؤ ۔۔۔ تمہاری دلہن انتظار کر رہی ہوگی۔۔۔ وردہ تحریم کو لیئے وہاں سے نکل گئی تو سیف اپنی شیروانی ٹھیک کرتے کمرے میں داخل ہوا۔

جیسے ہی اسنے کمرے میں قدم رکھا اپنے سامنے ہی نور کو کھڑا پایا۔۔۔۔ وہ مہرون لہنگے میں سیف کے نام کا ہار سنگھار کیئے کھڑی تھی۔۔۔ سیف کی نظریں تو جیسے اس پہ سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں۔

نور کو جب کمرے میں لایا گیا تھا تب اسکی انگوٹھی دروازے کے پاس ہی گر گئی تھی۔۔۔ نور اسے ہی اٹھانے آئی تھی جب اسے باہر سے وردہ کی آواز آئی لیکن جو انکشاف اس پہ ہوا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔

وہ سیف اور وردہ کی ساری باتیں سن چکی تھی۔۔۔ اس سے قدم اٹھانا بھی بھاری ہو رہا تھا اس لیئے وہ وہیں دروازے کے سامنے ساکت کھڑی تھی جب سیف کمرے میں داخل ہوا۔

سیف کی نظریں اسکے ساکت وجود پہ گئی. تو وہ دھیرے سے دروازہ بند کرتے اسکے پاس آیا۔

نور۔۔۔ اسنے نور کا بازو تھامتے پکارہ تو نور چونک کے سکتے سے باہر آئی اور زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

کیا ملا آپ کو یہ سب کچھ کر کے۔۔۔ میں آپ کو سب سے الگ سمجھ رہی تھی لیکن آپ بھی سب کی طرح ہی نکلے ۔۔۔ مطلب پرست دھوکے بار۔۔۔ دھوکے سے شادی کی ہے آپ نے مجھ سے۔۔۔ نور نے اسکا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکا۔۔۔ تو سیف کو حیرت کا جھٹکا لگا لیکن وہ جلد ہی سنبھل گیا وہ سمجھ گیا کہ اس نے وردہ اور اسکی باتیں سن لیں ہیں۔

نور دیکھو جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔

جیسا میں سمجھ رہی ہوں ویسا ہی ہے۔۔۔ آپ اور آپ کے گھر والوں نے مل کے ہم سے جھوٹ بولا ہے۔۔۔ ہماری نظروں میں اپنا مقام بنانے کے لیئے آپ کے گھر والوں نے مل کے پلین رچا تھا۔۔۔ نور غصے سے بلند آواز میں بولی جب کے اب سیف کی بس ہو گئی تھی۔۔۔ وہ اور اپنی فیملی کے بارے میں نہیں سن سکتا تھا۔

نور خبردار جو اب میری فیملی کے بارے میں کچھ بھی بولا تو۔۔۔ تمہیں مجھے جو بھی کہنا ہے کہہ سکتی ہو میں سن لوں گا لیکن آگر تم نے ایک غلط لفظ بھی میری فیملی کو بولا تو میں سارے لحاظ بھول جاؤں گا۔۔۔ سیف دھاڑا تو معصوم نور سہم گئی

ہاں ہم نے وہ پلین بنایا تھا لیکن میں قسم کھا کے کہتا ہوں کہ وہ لوگ ہمارے نہیں تھے۔۔۔ ہمارا وہ پلین بنانے کے پیچھے کوئی غلط مقصد نہیں تھا۔۔۔۔ تم نے تو کہہ دیا تھا آگر میں نے رشتہ بھیجا تو تم یہ جاب چھوڑ دو گی ۔۔۔ اور کیا میں نہیں جانتا تھا کہ تمہیں اس جاب کی کتنی ضرورت ہے۔۔۔ تم جاب نا چھوڑ دو اس لیئے میں نے سیدھے تمہارے گھر رشتہ نہیں بھیجا ورنا میرے گھر والے تو تب بھی پورے خلوص سے تمہارے گھر رشتہ لے آتے ۔۔۔ اور جب بھی وہ تمہارے گھر آئے تم سے ملے یا تمہاری فیملی سے ملے پورے دل سے ملے تھے۔۔۔. خیر میں اپنے بارے میں سب سن سکتا ہوں لیکن اپنی فیملی کے بارے میں کچھ غلط نہیں سن سکتا اس لیے آگے سے دھیان رہے۔۔۔ سیف سرد لہجے میں کہتا نور کو شرمندہ چھوڑ الماری کی جانب بڑھ گیا جب کچھ یاد آنے پہ رکا۔

یہ تمہاری منہ دیکھائی ۔۔۔ بہت پیار سے لیا تھا سوچا تھا تمہیں خود پہناؤں گا مگر۔۔۔ وہ بات ادھوری چھوڑتے شیروانی کی جیب سے ایک مخملی باکس نکالتے بیڈ پہ رکھتے اپنے کپڑے لیئے واشروم میں گھس گیا۔

پیچھے نور جہاں تھیں وہیں کھڑی رہ گئی۔۔۔ اسنے جلدبازی میں بہت کچھ بول دیا تھا۔۔۔ وہ سیف کے پاس دو سال سے جاب کر رہی تھی لیکن اسے کبھی بھی سیف کی نیت خراب نہیں لگی تھی اور جب اسکے گھر والوں سے ملی تو وہ لوگ بھی ہمیشہ بہت پیار اور خلوص محبت سے ملے تھے۔۔۔

اسے اب احساس ہو رہا تھا اسنے کیا کہہ دیا ہے۔۔۔ وہ کیسے ان لوگوں پہ شک کر سکتی تھی جنہوں نے امیر ہونے کے باوجود ایک معمولی سے پرچن کی بیٹی کو عزت سے اپنے گھر کی بہو بنایا تھا۔۔۔ بغیر کسی طنز بغیر کسی جہیز کہ ڈیمانڈ کے ۔۔۔ جب بھی اسکے والدین سے ملے خوش اخلاقی سے ملے۔۔۔ وہ کیسے ان لوگوں کو بڑا کہہ سکتی تھی۔۔۔

وہ سر جھکائے آنسو پیتی وہیں کھڑی تھی جہاں سیف اسے چھوڑ کے گیا تھا۔

سیف فریش ہوکے باہر آیا تو نور کو ایک ہی جگہ کھڑا دیکھ پہلے تو اسے افسوس ہوا لیکن آگر وہ آج ہی اسکی سوچ درست نہیں کرے گا تو وہ آگے بھی اس سے اور اسکی فیملی سے بدگمان ہوتی رہے گی اس لیئے اسے اسکے حال پہ چھوڑتے بیڈ پہ بیٹھ کے سائڈ کورنر سے پانی کا گلاس اٹھتے پانی پینے لگا۔

نور نے اسکی بےنیازی دیکھتے بہت مشکل سے خود پہ ضبط کرتے بیڈ پہ رکھے باکس کو اٹھائے اسکے پاس جا کے بیٹھ گئی۔

سیف اسے اپنے پاس بیٹھے دیکھ چکا تھا لیکن وہ اسکی موجودگی کو نظرانداز کیئے گلاس کورنر پہ رکھ کے پیچھے ہو کے لیٹنے لگا جب نور نے اسکا ہاتھ پکڑتے روک دیا۔

یہ نہیں پہنائیں گے۔۔۔ وہ مخملی باکس اسکے سامنے کرتی آہستہ سے بولی تو سیف نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ایک نظر اسکے ہاتھ میں موجود باکس کو دیکھتے دونوں کو نظر انداز کرتے واپس لیٹنے لگا جب نور نے اسکے ہاتھ پہ گرفت مضبوط کرتے اسے پھر روکا

سوری۔۔۔ میں بس تھوڑی جذباتی ہوگئی تھی ورنا مجھے آپ لوگوں کی نیت پہ بلکل شک نہیں ہے۔۔۔ وہ سر جھکائے پشیمانی سے بولی جب کے سیف خاموش بیٹھا اسے سن رہا تھا۔

میں جانتی ہوں آپ مجھ سے ناراض ہیں مجھ پہ غصہ بھی آرہا ہوگا۔۔۔ اور آنا بھی چاہیئے میں نے بات ہی ایسی کی ہے۔۔۔ پر میں آپ سے اپنی غلطی کی معافی مانگتی ہوں ۔۔۔ نور دھیرے سے گھنی پلکھیں اٹھئے آنسوں بھری نظروں سے اسے دیکھتی بھرائی آواز میں بولی تو سیف نے تڑپ کے اسے اپنے ساتھ لگایا جس پہ اسکے رکے ہوئے آنسوں بہہ نکلے۔

تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے یہی بہت بڑی بات ہے۔۔۔ چلو اب چپ ہوجاؤ۔۔۔ سیف اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھامتے محبت سے بولا

آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں نا۔۔۔ وہ معصومیت سے پوچھنے لگی تو سیف دلکشی سے مسکراتا اسکے ماتھے کو چوم گیا۔

بلکل نہیں۔۔۔ چلو لاؤں ہاتھ دو تمہیں تمہاری منہ دکھائی تو پہنادوں۔۔۔ سیف اسکے ہاتھ سے باکس لیتے اس میں موجود نفیس سا برسلیٹ نکالتے اسکے ہاتھ کی زینت بناگیا

نور میں نے تم سے بہت محبت کی ہے ۔۔۔ کبھی بھی میری محبت پہ شک نہیں کرنا۔۔۔ میرے والدین کے بعد میرے لیئے سب سے اہم تم ہو۔۔۔ میری زندگی اب تمہارے گرد گھومتی ہے۔۔۔ میں زندگی کے ہر موڑ پہ کوشش کروں کا تمہیں ہر خوشی دینے کی۔۔۔ سیف خمار بھرے لہجے میں کہتا اسے اپنے سینے میں بھیج گیا تو اسنے بھی سرشاری سے اسکے گرد حصار بنائے اسکے سینے پہ سر ٹکا دیا۔

۔🌺🌺🌺