Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 33)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 33)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
دامل رات تین بجے گھر میں داخل ہوا تھا۔۔
وہ کافی دیر تک اپنی سورسس کے ذریعے پتہ لگوا رہا تھا کہ یہ ایک سوچا سمجھا آکسیڈینٹ ہے یا صرف ایک حادثہ لیکن کافی پتہ لگانے کے باوجود بھی اسے کوئی سراخ نہیں ملا تھا۔۔۔
اس کا سب سے پہلا شک شیرخان پہ گیا تھا لیکن شیرخان کا کہیں کوئی اتا پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔ وہ اسکے کافی سارے اڈوں پہ چھاپہ مار چکا تھا لیکن شیرخان تو جیسے غائب ہوگیا تھا۔۔۔ جن دو نمبروں سے شیرخان نے پہلے اسے فون کیا تھا اسنے ان کی ڈیٹیل بھی نکلوائی تھی لیکن اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔
وہ اپنے دماغ کو رلیکس کرنے کے بعد ہی گھر لوٹا تھا اور آتے ہی سیدھے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔ اسے وردہ اور فہد کی باتیں بےچین کرگئی تھیں۔۔۔ لیکن وہ اپنے دادا جان پہ بھی شک نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔ پر فہد نے اپنے بابا کی ایک بار بھی سائڈ نہیں لی یہ دامل کے لیئے حیران کن بات تھی جس پہ دامل کل فہد سے تفصیل سے بات کرنے والا تھا پر ابھی تو اسے جاکے وردہ کو سمجھانا تھا کہ وہ جو کر رہی ہے وہ غلط ہے۔۔۔
وہ بغیر کسی ثبوت کے دلاور خان پہ الزام نہیں لگا سکتی تھی۔۔۔ وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا بتانا چاہتا تھا اسے یقین دلانا چاہتا تھا کہ آگر تو یہ آکسیڈنٹ کسی کی سازش کے طور پہ رچایا گیا ہے تو وہ ان مجرموں کو چھوڑے کا نہیں پھر چاہے وہ لوگ اسکے اپنے ہی کیوں نا ہوں وہ مجرم کو سزا ضرور دلوائے گا ۔۔۔ پر اس کے لیئے اسے وقت کی ضرورت ہوگی جو وردہ کو اسے دینا ہوگا۔
وہ گہری سانس بھرتے کمرے میں داخل ہوا تو کمرا تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
دامل نے دیوار پہ ہاتھ ما،ر کے بوڈ ڈھونڈتے لائٹ اون کی تو کمرے میں وردہ موجود نا تھی۔
اسنے واشروم چیک کیا لیکن وردہ وہاں بھی موجود نہیں تھی۔۔۔ اسنے جیب سے فون نکالتے اسے کال ملائی تو برابر والے کمرے سے فون بجنے کی آواز آنے لگی۔۔۔ دامل سمجھ گیا کہ وہ اس سے ناراض ہوکے دوسرے کمرے میں بند ہوگئی ہے۔
اسے منانے کی خاطر دامل کمرے کہ ڈبلیکیٹ کی لیتے اپنے کمرے سے نکلا۔۔۔ جانتا تھا اسنے کمرا لاک کیا ہوا ہوگا اور وہ اسکے کہنے سے بھی نہیں کھولے گی اس لیئے اسنے کی پہلے ہی ساتھ لے لی تھی۔
اسنے لاک میں کی ڈالتے دروازہ کھولنا چاہا لیکن اندر سے کنڈی لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ دروازہ کھول نا سکا۔
وردہ دروازہ کھولو۔۔۔ دامل نے آہستہ سے آواز لگائی ۔۔۔ کیونکہ رات کے سناٹے میں آگر وہ تیز بولتا تو اسکی آواز گونجتی۔
وردہ ۔۔۔ اسنے ہلکے سے دروازے پہ دستک دیتے پھر پکارہ لیکن اس بار بھی جواب ندارت۔
وردہ میری بات سنو۔۔۔ دروازہ کھولو ہم بیٹھ کے بات کریں گے۔۔۔ دامل نے اسے پچکارا لیکن اندر سے زرا بھی آواز نا آئی تو وہ اسے اسکے حال پہ چھوڑتے صبح بات کرنے کا سوچتے اپنے کمرے میں گھس کیا۔
دوسرے کمرے کا دروازے بند ہونے کی آواز پہ وردہ نے کمبل سے اپنی آنسوں بھری آنکھیں نکلا لیں،،، منہ بسورے تھوڑی دیر دروازے کو دیکھنے کے بعد کروٹ بدل کے سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ کوشش بےکار ہے کیونکہ اسے اب نیند تو آنی نہیں ہے جب کے دوسری طرف دامل کا بھی یہی حال تھا وہ بھی بیڈ پہ لیتا چھت کو گھور رہا تھا اسے بھی وردہ کے بغیر نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔ دونوں کو ایک دوسرے کی اتنی عادت ہوگئی تھی کہ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
صبح آنکھ کھلتے ہی دامل فورن اٹھ کے وردہ کے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔۔۔
اسنے دروازے پے پہنچ کے لاک کھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔
وردہ۔۔۔ وہ وردہ کو آواز لگاتے اندر داخل ہوا پر وردہ کمرے میں ہوتی تو جواب دیتی۔
اسنے پورے کمرے میں وردہ کو دیکھ لیا تھا لیکن وہ وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔ وہ گہری سانس بھرتے کمرے سے نکل کے نیچھے کی جانب بڑھ گیا۔
وردہ کہاں ہے۔۔۔ وہ نیچے آیا تو لاونچ میں صفائی کرتی ملازمہ سے وردہ کا معلوم کیا۔
جی چھوٹے صاحب وہ تو صبح صبح ہی کہیں چلی گئی ہیں۔۔۔ ملازمہ نے آداب سے بتایا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا فہد کے کمرے کی جانب قدم بڑھا گیا۔
ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔
آجاؤ۔۔۔ اسنے دروازے پہ دستک دی تو فہد نے اندر آنے کی اجازت دی۔
ڈیڈ آگر آپ بزی نہیں ہیں تو مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ دامل اندر داخل ہوتے شیشے کے سامنے کھڑے تیار ہوتے فہد کو دیکھ کے بولا۔
میں جانتا ہوں تم کیا بات کرنے آئے ہو۔۔۔ فہد اپنے کف لنک بند کرتے اسکے پاس آیا۔
آؤ بیٹھو۔۔۔ وہ اسے اپنے ساتھ لیئے صوفے پہ بیٹھا۔
دیکھو بیٹا نا میں تمہیں تمہارے دادا سے بدگمان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں نا ہی میں وردہ کی طرفداری کروں گا ۔۔۔ جو سچ ہے میں وہی بتاؤ گا۔۔۔ اسکے بولنے سے پہلے ہی فہد نے بات کا آغاز کیا۔
تم مجھ سے پوچھتے تھے نا کہ میں بابا سے بات کیوں نہیں کرتا تو اس کے پیچھے وجہ بھی تمہارے دادا جان ہی ہیں۔۔۔ ماضی میں انہوں نے اپنے بیٹے کی خوشیوں سے زیادہ اپنے وقار اور اپنی دولت کو اہمیت دی تھی۔۔۔ ان کے لیئے اسٹیٹس معنی رکھتا تھا اپنا بیٹے سے زیادہ۔۔۔ فہد نے دکھ سے سرد سانس خارج کی۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ڈیڈ۔۔۔ دادا جان ایسے تو بلکل نہیں ہیں۔۔۔ دامل نے ناسمجھی و حیرانی سے کہا۔
تمہارے لیئے ان ساری باتوں پہ یقین کرنا مشکل ہوگا لیکن یہ سچ ہے۔۔۔۔ ماضی میں میں انمول کو پسند کرتا تھا۔۔۔ فہد نے آخری بات پہ نظریں پھیر لیں تو دامل کو جھٹکا لگا۔
ڈیڈ۔۔۔۔ حیرت کے مارے دامل کے منہ سے الفاظ ہی نہیں نکلے تھے۔۔۔۔ فہد نے گہرا سانس بھرتے اسے سب بتانے کا فیصلہ کیا اور ماضی کی ساری باتیں بتاتا چلا گیا۔۔۔۔ شادی کے دن ہی اسے غائب کروانے سے لے کر دامل کی ماں کے ساتھ کی گئیں ساری زیادتیاں بتائی تھیں۔
دامل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اسکے دادا ایسا بھی کرسکتے ہیں۔۔۔ انہوں نے تو کبھی دامل کے سامنے کسی کو بھی برا بھلا نہیں کہا تھا۔۔۔ اور کل بھی جب انہوں نے اپنے منہ سے قبول کیا تھا کہ وہ وردہ اور اسکے خاندان سے نفرت کرتے ہیں تب بھی دامل کو یہی لگا تھا کہ وہ غصے میں بول رہے ہیں۔۔۔۔ لیکن اپنی ماں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سن کے دامل کو شدید افسوس ہو رہا تھا۔
بابا کا رویہ تمہاری ماں کے ساتھ کیسا ہے اسنے کبھی نہیں بتایا لیکن میں جب بھی گھر آتا اسکے چہرے پہ اداسی دیکھ کے سمجھ جاتا کہ ضرور تمہارے دادا نے ہی کچھ الٹا سیدھا کہا ہوگا۔۔
میں نے تمہاری پیدائش سے پہلے تک اپنی شادی کے بارے میں چھپائے رکھا ۔۔۔ پر جب تم پیدا ہوئے تو میں نے سوچا کہ شاید اب انکا رویہ رمشا(دامل کی ماں) کے ساتھ ٹھیک ہو جائے۔۔۔ لیکن نہیں وہ تم سے تو بہت پیار کرتے تھے لیکن رمشا کو همیشہ اسکے چھوٹے گھر سے ہونے کے طعنے دیتے تھے ۔۔۔ اسکے کردار پہ انگلی اٹھاتے تھے۔۔۔ لیکن یہ سب وہ میرے پیچھے کرتے تھے میرے سامنے تو وہ رمشا سے بات ہی نہیں کرتے تھے جو میں انہیں کچھ کہتا۔۔۔ اور اوپر سے تمہاری ماں اسنے بھی مجھے کچھ نہیں بتایا ۔۔ لیکن مجھے پھر بھی سب پتہ چلتا رہتا تھا ملازموں کے ذریعہ ۔۔۔ اور جب میں نے ان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تو تمہاری ماں نے مجھے اپنی قسم دے کے روک دیا۔
اور کل جو وردہ نے کہا مجھے اسکی بات پہ پورا یقین ہے کہ بابا نے ضرور اسے شادی سے انکار کرنے کا کہا ہوگا۔۔۔ اور دھمکیاں بھی دی ہون گی۔۔۔ لیکن انہوں نے وردہ کی گاڑی کا اکسیڈینٹ کروایا ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا۔۔۔ فہد اسے تفصیل سے ساری حقیقت سے آگاہ کرتے اسکے چہرے کے ایکسپریشن دیکھنے لگا جس کے چہرے پہ دکھ، افسوس، بےیقینی اور ناجانے کیا کچھ تھا۔
دامل بغیر کچھ بولے خاموشی سے اٹھ کے باہر نکل گیا ۔۔۔ جو کچھ وہ جان چکا تھا اس پہ یقین کرنا اسکے لیئے بہت مشکل تھا لیکن اس کڑوی حقیقت کو اسنے قبول کر لیا تھا۔۔
دامل بیٹا تم ابھی تک گئے نہیں اپنی ڈیوٹی پہ۔۔۔۔ دلاور خان دامل کو لاونچ میں آتے دیکھ خوش اخلاقی سے پوچھنے لگے۔
دامل نے ایک نظر انکے مسکراتے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد انسان بغیر شرمندگی کے خوش کیسے رہ سکتا ہے بس یہی سوچتے دامل بغیر انکی بات کا جواب دیئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اسے جواب دیئے بغیر جاتے دیکھ دلاور خان کو حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ دامل دلاور خان سے بات نا کرے۔
دامل کو کیا ہوا۔۔۔ کہیں اسے وردہ کی باتوں پہ یقین تو نہیں آ گیا۔۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا میں اپنے پوتے کو خود سے الگ نہیں. ہونے دوں گا۔۔۔ مجھے کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔۔ میں اور اس لڑکی کو اپنے پوتے کی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔ مجھے جلد ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔۔۔ دلاور خان پرسوچ انداز میں دامل کے کمرے کے بعد دروازے کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ انکا شیطانی دماغ بہت تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔ جو ناجانے آگے جا کے کیا مصیبت لانے والا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
دامل آج بھی لیٹ گھر آیا تھا۔۔۔ وہ آج بھی چان بین میں لگا ہوا تھا۔۔۔ وہ کسی بھی طرح پتہ لگانا چاہتا تھا کہ یہ آکسیڈنٹ ایک حادثہ تھا یا سازش۔۔۔ وہ اپنے دادا جان پہ لگے اتنے بڑے الزام کو غلط ثابت کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
اسکی حقیقت جاننے کے بعد دامل نے ان سے بات نا کرنے کا فیصلہ کیا تھا پر وہ ان پہ لگے الزام پہ یقین نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اسے اب بھی لگتا تھا کہ چاہے اسکے دادا کتنے ہی برے کیوں نا ہوں پر کسی کی جان نہیں لے سکتے۔
وہ ساری سوچوں کو جھٹکتے گھر میں داخل ہوا تو آج پھر گھر میں خاموشی کا راج تھا۔۔۔ وہ سیدھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ اسنے کمرے کا دروازہ کھولا تو کمرا صبح والی حالت میں ہی تھا جیسے وہ چھوڑ کے گیا تھا۔۔۔ مطلب وردہ اسکے جانے کے بعد بھی کمرے میں نہیں آئی تھی۔۔۔
وہ آج کسی بھی حال میں وردہ سے بات کرنا چاہتا تھا اسے منانا چاہتا تھا۔۔۔ اسے یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ اسکے ساتھ ہے۔۔۔ وہ مجرموں کو پکڑنے میں اسکا ساتھ دے گا۔۔۔ لیکن اسے پہلے سارے ثبوت ڈھونڈنے ہوں گے اسکے بعد ہی وہ کوئی اکشن لے سکتا ہے۔۔۔ یہ بات اسے وردہ کو کسی بھی قیمت پہ سمجھانی تھی۔۔۔ اس لیئے وہ فورن کمرے سے نکلتے وردہ کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
دروازہ کھولو وردہ میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو ۔۔۔ اسے پتہ تھا آج بھی اندر سے کنڈی لگی ہوگی اس لیئے اسنے سیدھے دروازہ بجایا تھا۔۔۔۔ پر آج بھی وردہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وہ خاموشی سے اندر بیٹھی لیپ ٹاپ میں مصروف رہی جیسے اس سے زیادہ ضروری اور کوئی کام ہی نا ہو اسکے پاس۔۔
وردہ آگر تم نے دروازہ نا کھولا تو میں کسی کی بھی پرواہ کیئے بغیر دروازہ توڑ دوں گا۔۔۔ دامل نے دھمکی دی جسے وردہ نے ایک کان سے سن کے دوسرے سے نکال دی۔
وردہ میں تین تک گنوں گا۔۔۔ دامل نے وارن کیا تو اندر بیٹھی وردہ نے سر جھٹکا۔
ایک۔۔۔ دامل نے گنتی شروع کی۔
دو۔۔۔ تین۔۔۔ ہوگئی گنتی ختم اب توڑ دیں دروازہ۔۔۔ وردہ نے گنتی مکمل کرتی تن کے بولی تو دروازے کے پار کھڑے دامل کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔
اسنے اپنی بات پہ عمل کرتے وردہ کو ڈرانے کے لیئے دروازے پہ ایک دو بار ہلکے سے دھکے مارے جس سے زیادہ آواز نا پیدا ہو۔
اسے سچ میں دروازہ توڑتے دیکھ وردہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں اور وہ اٹھ کے جلدی سے دروازے کی جانب بڑھی۔
اس سے پہلے دامل تیسرا دھکا مارتا وردہ نے دروازہ کھول دیا۔
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ دروازہ توڑنا ہے کیا۔۔۔ وردہ غصے سے بولی تو دامل سینے پہ ہاتھ باندھے قدم اسکی جانب بڑھا گیا۔
میں نے تو بولا تھا میں توڑ دوں گا۔۔۔ مگر شاید تم نے مجھے سیریس نہیں لیا تھا۔۔۔ وہ اسکی جانب قدم بڑھانے لگا تو وردہ نے اپنے قدم پیچھے لینا شروع کیئے۔۔۔
بس رک جائیں۔۔۔ وردہ پیچھے بیڈ کو دیکھتی اسے روکنے لگی آگر وہ نا رکا تو وہ سیدھے بیڈ پہ گرتی لیکن دامل مزے سے آگے بڑھتا رہا ۔۔۔ یہاں تک کے وردہ بیڈ سے ٹکراتی اس پہ بیٹھ گئی۔
یہ تمہارا کمرا ہے جو تم یہاں مزے سے ڈیرا جمائے بیٹھ گئی ہو۔۔۔ دامل اسکے سامنے رکتے سنجیدگی سے طنزیہ لہجے میں استفسار کرنے لگا۔
آپ کو کیا۔۔۔ میری مرضی میں جہاں چاہے رہوں۔۔۔ وردہ خفگی سے بولی تو دامل کو اسکے خفا خفا انداز پہ ٹوٹ کے پیار آیا۔
چلو اپنے کمرے میں اپنی اصلی جگہ۔۔۔ دامل اسکا ہاتھ پکڑے اسے اٹھاتے اپنے ساتھ لے گیا تو وردہ بھی خاموشی سے اسکے ساتھ اپنے کمرے میں آگئی۔
ہاں اب بولو کیا گلہ ہے مجھ سے۔۔۔ دروازہ بند کر کے وہ اسکے مقابل ایا۔
کوئی گلہ نہیں ہے۔۔۔ وہ سرد پن سے کہتی جانے لگی کہ جبھی دامل نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکتے اسے اپنے سامنے کیا۔
بیٹھو۔۔۔ دامل نے اسے اپنے ساتھ بیڈ پہ بیٹھایا۔
وردہ میں جانتا ہوں تمہیں مجھ سے شکایت ہے کہ میں تمہاری بات پہ یقین نہیں کر رہا لیکن تم بھی تو سمجھنے کی کوشش کروں نا۔۔۔ میں ایسے ہی کسی پہ الزام نہیں لگا سکتا۔۔۔ بغیر کسی ثبوت کے کسی کو بھی قصوروار نہیں ٹھیرا سکتا۔۔۔ دامل اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے نرمی سے سمجھا رہا تھا۔۔۔ جسے وردہ سمجھ بھی رہی تھی۔
وردہ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں آگر ان سب کے پیچھے دادا جان کا زرا سا بھی ہاتھ ہوا تو میں خود انہیں گرفتار کروں گا۔۔۔ مگر ابھی بغیر کسی ثبوت یا گواہ کے میں کچھ نہیں کر سکتا تم سمجھ رہی ہونا۔۔۔ دامل نے پیار سے پوچھا تو وہ اثبات میں سر ہلاگئی۔
میں سمجھ گئی تھی کہ میں نے بہت جلد باری کا مظاہرہ کیا ہے لیکن میں نے غلط کچھ بھی نہیں کہا ۔۔۔ میں نے اپنا شک ظاہر کیا ہے تو اس کے پیچھے وجہ بھی آپکے دادا ہی ہیں جنہوں نے مجھے میرے خاندان کو برباد کرنے کی دھمکی دی تھی۔۔۔ اگر میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی ری ایکٹ کرتا جیسا میں نے کیا تھا۔۔۔اپ نے کہا تھا میں ان سے معافی مانگوں تو مجھے اپنے بولے گئے لفظوں پہ کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔۔۔ اس لیئے معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ وردہ نے تحمل سے بتاتے اپنا فیصلہ بھی سنایا تھا۔
ٹھیک ہے تم نہیں مانگو معافی اور ناہی میں تمہیں فورس کروں گا۔۔۔ کیونکہ تم اپنی جگہ بلکل ٹھیک ہو۔۔۔ بس میں تم سے اتنا کہوں گا کہ جب تک میں انوسٹیگیشن مکمل نہیں کر لیتا،،، اصل مجرم کا پتہ نہیں لگا لیتا تب تک تم دادا جان سے کوئی بات نا کرنا۔۔۔ دامل نے ریکویس کی تو وردہ نے مسکرا کے ہاں میں سر ہلا دیا۔
کھانا کھایا آپ نے۔۔۔ وہ اسکے چہرے پہ تھکن دیکھتی بات بدل گئی۔
ہاں کھالیا تھا۔۔۔ دامل اپنی شرٹ کے اوپری دو بٹن کھولتے بیڈ پہ پیچھے کی جانب گرتے وردہ کو بھی اپنے اوپر گرا گیا۔
اس اچانک حرکت پہ وردہ بھوکھلاتی جلدی سے اٹھنے لگی لیکن دامل نے اسکی کمرے پہ گرفت مضبوط کرتے اسے اٹھنے سے روکا۔
کل کی رات تمہارے بغیر کیسے سویا ہوں میں تم جانتی بھی ہو ۔۔۔ پوری رات ٹھیک سے نیند نہیں آئی اور صبح بھی جلدی اٹھا کہ تم سے بات کروں گا لیکن نہیں بیگم صاحبہ صبح میرے اٹھنے سے پہلے ہی چلی گئیں پر اب میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔۔ دامل نے گھمبیرتا سے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی تو وردہ کا چہرہ شرم سے لال پڑا۔
بہت تھک گیا ہوں ۔۔۔ تھوڑی سی تھکن اتار دو۔۔۔ دامل کی معنی خیز سرگوشی وردہ کو نظریں جھکانے پہ مجبور کرگئی۔۔۔
اسکے چہرے پہ شرم و حیا کے رنگ دیکھتے دامل نے مسکراتے ہوتے اسکی گردن میں چہرہ چھپا لیا۔۔۔
اپنی گردن پہ اسکی گرم سانسوں کا لمس محسوس کرتے وردہ نے اسکی شرٹ کو زور سے مٹھیوں میں دبوچا۔۔۔ تو دامل اسے خود میں بھیچتے محبت کی برسات کرتا چلا گیا۔۔
۔![]()
![]()
![]()
