820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 32)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

سوگئی۔۔۔ ابتسام اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وردہ کو سوئی ہوئی انمول کے سرہانے بیٹھے دیکھ پوچھنے لگا۔

جی بابا بہت مشکل سے نیند کی دوائی دے کے سلایا ہے۔۔۔ وردہ نم آواز میں کہتی اٹھ گئی۔

ہممم ۔۔۔ ابتسام نے ہنکارہ بھرا۔

بابا یہ سب کیسے ہوا۔۔۔ نانی نانا کا اکسیڈینٹ ہوا کیسے اور وہ جو گارڈ گیا تھا ساتھ اسکا کیا ہوا وہ ٹھیک ہے یا۔۔۔ وردہ نے بےچینی سے بات ادھوری چھوڑی۔

ایک ٹرالر اپوزٹ ڈائریکشن میں آرہا تھا بس اسی سے زور دار تصادم ہوا اور سب ہی موقع پہ جان بلاک ہو گئے ۔۔۔ وہ گارڈ بھی۔۔۔ ابتسام نے گہری سانس بھرتے اسے پورا حادپہ بتایا جس پہ وردہ نے افسوس سے سر جھکا لیا۔

اچھا بیٹا باہر دامل آپ کا انتظام کر رہا ہے ۔۔۔ دیکھو جا کے وہ کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔ ابتسام کے کہنے پہ وہ ہاں میں سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی۔

اسکے جاتے ہی ابتسام دھیرے سے قدم بڑھاتے انمول کی جانب بڑھا۔۔۔

اسکے سرہانے کھڑے ہو کے اسنے اسکا چہرہ دیکھا جو سوتے ہوئے بھی بےچین لگ رہی تھی۔۔۔ انکھیں سوجی ہوئی تھیں گالوں پہ ابھی بھی آنسوں کے مٹھے مٹھے نشان موجود تھے۔۔۔ وہ کچھ ہی دیر میں ایک دم مرجھا گئی تھی۔۔۔ ابتسام ایک گٹھنا بیڈ پہ ٹکاتے جھک کے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتا اپنے کپڑے لیتے واشروم میں گھس گیا

۔🌺🌺🌺

دامل کہاں ہیں۔۔۔ وردہ لاونچ میں آئی تو وہاں دامل کو نا پا کے وہاں بیٹھے بسام سے پوچھنے لگی۔

وہ تمہارے کمرے میں ہیں۔۔۔ بسام کے بتانے پہ وہ اوپر کی جانب بڑھ گئی۔

کمرے میں داخل ہوئی تو دامل صوفے پہ بیٹھا فون میں مصروف نظر آیا

وردہ آہستہ سے دروازہ بند کرتی اسکے برابر میں آکے بیٹھتی اسکے کندھے پہ سر رکھ گئی۔۔۔ تو دامل نے دھیرے سے اسکے گرد اپنا حصار بنا لیا۔

کب کیا ہو جائے کوئی نہیں جانتا۔۔۔ آج دوپہر کی ہی تو بات تھی جب میں گھر آئی تو نانا نانی نے مجھے پیار دیا۔۔۔ کہا جب وہ شام کو آئیں گے تو میرے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کریں گے اور دیکھیں وہ شام کو آئے بھی اور آکے خاموشی سے ہمیشہ کے لیئے واپس بھی چلے گئے۔۔۔ وردہ کی آنکھ سے آنسوں نکل کے دامل کے کندھے کو بھگو رہے تھے۔۔۔ جو دامل کے لیئے اذیت کا باعث تھے۔

صبر کرو۔۔۔ اللہ کو یہی منظور تھا۔۔۔ دامل نے اسکا سر تھپتھپاتے اسے صبر کی تلقین کی۔

آپ نے کھانا کھایا۔۔۔ وہ اسکے کندھے سے سر اٹھاتی اپنے انسوں صاف کرتی فکرمندی سے پوچھنے لگی۔

نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔ تم نے کھایا۔۔۔ دامل نے اپنا بتاتے پیار سے اس سے پوچھا۔

ہممم تحریم نے زبردستی تھوڑا سا کھلا دیا تھا۔۔۔۔ وردہ نے دھیرے سے بتایا۔

ٹھیک ہے اب تم آرام کرو میں چلتا ہوں۔۔۔ دامل جانے کے لیئے کھڑا ہو تو وردہ بھی اسکے ساتھ ہی کھڑی ہوئی۔

دامل۔۔۔ اپنے نام کی پکار پہ وہ جاتے جاتے رکتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

وہ جو نانا نانی کے ساتھ گارڈ تھا اس کی بھی ڈیتھ ہوگئی ہے تو آپ پلیز اسکے گھر والوں کی کچھ مدد کر دے گا۔۔۔ وردہ نے التجائیہ انداز میں کہا تو دامل دو قدم اسکے قریب آکے رکا۔

تم بلکل فکر نہیں کرو سب ہو جائے گا۔۔۔ دامل اسے تسلی دیتے اسکا گال تھپتھپاتے کمرے سے نکل گیا تو وہ بھی صوفے پہ گرنے کے انداز میں بیٹھتی صوفے کی پشت سے ٹھیک لگائے آنکھیں موند گئی۔

۔🌺🌺🌺

اگلی صبح اپنے ساتھ اداسی بھرا دن لائی تھی۔۔۔۔ آج سویم تھا۔۔۔ سب لوگ ہی انمول کی طرف رکے ہوئے تھے۔

رات کو انمول کو تیز بخار ہو گیا تھا جس پہ ابتسام نے اسے زبردستی تھوڑا سا کھانا کھلا کے دوائی دے دی تھی۔

پر ابھی بھی انمول کا بخار اترا نہیں تھا۔۔۔ اس وقت بھی وردہ اور تحریم انمول کے ساتھ ہی اسکے کمرے میں موجود تھیں جب کے باقی ساری خواتین باہر مہمانوں کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔

پانی۔۔۔ انمول نے غنودگی میں پانی مانگا تو تحریم نے اسے اٹھا کے بیٹھا تو وردہ نے پانی کا گلاس اسکے منہ سے لگادیا۔

تھوڑا سا پی کے انمول نے گلاس پیچھے کر دیا۔

مجھے باہر جانا ہے۔۔۔ انمول نے نکاہت بھرے لہجے میں بولی۔

مما آپکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ آرام کریں۔۔۔وردہ نے اسے لیٹانے کی کوشش کی لیکن انمول نے نفی میں سر ہلاتے اسے روک دیا

میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ مجھے باہر لے چلو۔۔۔ کمرے میں بیٹھے بیٹھے میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔ انمول نے تھکن بھرے انداز میں کہا تو تحریم اور وردہ دونوں اسے سہارا دیتی باہر لے جانے لگیں۔

پہلے میں وضو کر لوں پھر چلتے ہیں۔۔۔ انمول نے رکتے ہوئے کہتی خود ہی دھیرے سے واشروم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔ انمول وضو کر کے آئی تو وہ لوگ کمرے سے نکل گئے۔

انمول نے بڑے صبر سے اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیئے بہت کچھ پڑھا۔۔۔

دوپہر میں نیاز دلانے کے بعد کھانا کھا کے مہمان جا چکے تھے۔۔۔ اب وہاں صرف گھر والے موجود تھے۔

میں چلتا ہوں اب۔۔۔ دامل جانے کے لیئے کھڑا ہوا۔

وردہ تم دامل کے ساتھ نہیں جاؤ گی۔۔۔ دامل کو جانے کے لیئے کھڑے ہوتے دیکھ انمول نے سرسری سا پوچھا۔

نہیں میں کچھ دن رکوں گی آپ کے پاس۔۔۔

آگر میرے لیئے رک رہی ہو تو کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں چھوٹی بچی نہیں ہوں جو میری دیکھ بھال کے لیئے کسی کو میرے پاس رکنا پڑے۔۔۔ ہاں اگر ویسے ہی رک رہی ہو تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے کہا تو وردہ نے سوالیہ نظروں سے ابتسام کی جانب دیکھا۔۔۔۔ جیسے کہنا چاہ رہی ہو کے اب ہو کیا کہے۔

میں نے کچھ دن کے لیئے وردہ کو روکا ہے۔۔۔ اچھا ہے وردہ یہاں رہے گی تو تمہارا تھوڑا دل بہل جائے گا۔۔۔ ابتسام نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو انمول بغیر کچھ بولے بس ہاں میں سر ہلاگئی۔۔۔ تو دامل سب کو خدا حافظ کہتا نکل گیا۔

میں کل ہال والوں کے پاس جاکے تاریخ آگے کردوں گا۔۔۔ حماد نے سنجیدگی سے کہا۔

کس لیئے تاریخ آگے کرنی ہیں۔۔۔ انمول نے چونک کے پوچھا۔

ابھی ممانی ماموں کا انتقال ہوا ہے ایسے میں شادی کرنا اچھا نہیں لگتا۔۔۔ حماد نے وضاحت دی۔

شادی جس دن تھی اسہی دن ہوگی۔۔۔ کچھ بھی آگے پیچھے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جو ہونا تھا ہوچکا ہے۔۔۔ ہم سب اللہ کی امانت ہیں ہم سب کو انکے پاس جانا ہے۔۔۔ کسی کو ابھی تو کسی کو دیر سے ۔۔۔ ماما بابا ہمیں چھوڑ کے جا چکے ہیں اس بات کو میں قبول کر چکی ہوں۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے والدین یا میری وجہ سے کوئی بھی کام رکے۔۔۔ انمول نم آنکھوں سے بھیگی آواز میں بولی۔

انو یہ کیسی باتیں کر رہی ہو تم سب ہمارے اپنے ہو۔۔۔ تم ایسا کیسے سوچ سکتی ہو کے ہم اس وقت جب تم دکھ میں ہو اور ہم خوشیاں منائیں گے۔۔۔ حماد نے اسے گھورتے ہوئے کہا تو انمول دھیرے سے مسکرادی۔

آگر ابھی ماما بابا ہوتے تو انکی بھی خوشی سیف کی شادی میں ہوتی۔۔۔ اور میری خوشی بھی اسہی میں ہے۔۔۔ اس لیئے کچھ بھی بدلنے کی ضرورت نہیں ہے شادی اپنے مقررہ وقت پہ پوری دھوم دھام سے ہوگی۔۔۔ اور اب اسکے آگے میں کچھ نہیں سنوں گی۔۔۔ حماد کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ حتمی لہجے میں کہتی بات ہی ختم کر گئی۔

جب انمول خود شادی وقت پہ کرنے کا کہہ رہی تھی تو پھر کسی کو بھی کوئی اعتراض نا تھا۔۔۔ اس لیئے انمول کی بات مانتے سب ہی خاموش ہوگئے تھے۔

۔🌺🌺🌺

(کچھ دن بعد)

انمول کی طرف دو دن رکنے کے بعد وردہ واپس اپنے گھر آگئی تھی۔۔۔ وہ ڈرائیور کے ساتھ گھر آئی تھی۔۔۔ رات کے دس بج رہے تھے جس وجہ سے وہ گھر میں داخل ہوتے ہی سیدھے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی جب اسے پیچھے سے دلاور خان کی آواز آئی

چچچچچ۔۔۔ بہت افسوس ہوا تمہارے نانا نانی کی اچانک موت کا سن کے۔۔۔ مگر کیا کر سکتے ہیں یہی زندگی ہے ۔۔۔۔ اچانک کب کون چلا جائے پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔ دلاور خان مسنوعی افسوس کا اظہار کرنے لگے جب کے وردہ بغیر انہیں کوئی جواب دیئے واپس اوپر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔ اسکا اس وقت بلکل موڈ نہیں تھا دلاور خان کے منہ لگنے کا۔

کیا ہوا لڑکی آج کچھ بولو گی نہیں۔۔۔ دلاور خان نے اسے بولنے کے لیئے اکسایا۔

میں بہت تھکی ہوئی ہوں اس وقت آپ سے بحث کرنے کا میرا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔ وردہ پیچھے مڑے بغیر ناگواریت سے بولی۔

بس اتنے میں ہی تھک گئیں۔۔۔ ابھی تو تمہیں بہت کچھ سہنا ہے۔۔۔ دلاور خان استہزا مسکراہٹ کے ساتھ بولے تو وردہ ایک دم پیچھے مڑی اسکے دماغ میں ایک دم دھماکا ہوا۔۔۔ اسے دلاور خان کی ساری دھمکیاں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں۔

آپ نے میرے نانا نانی کا اکسیڈینٹ کروایا ہے۔۔۔ وردہ بےیقینی سے قدم نیچے بڑھانے گئی۔

میرا بس چلتا تو میں تمہارا کرواتا۔۔۔ اور تمہیں اپنے پوتے کی زندگی سے ہمیشہ کے لیئے نکلوا دیتا۔۔۔ دلاور​خان نے نخوت سے کہا تو وردہ کی آنکھوں میں غصہ اترا۔

آپ نے ہی میری گاڑی کا اکسیڈینٹ کروایا یہ سوچ کے کہ میں اس میں موجود ہوں گی لیکن اس میں میرے نانا نانی تھے جو بےموت مارے گئے۔۔۔ بولیں آپ نے ہی کیا ہے نا یہ سب۔۔۔ وردہ پوری قوت سے چیخی۔۔۔ اس کی چیخ پورے گھر میں گونجی تھی جس کی وجہ سے فہد اور دامل دونوں اپنے اپنے کمرے سے باہر آگئے تھے۔

وردہ بیٹا کیا ہوا ہے۔۔۔ فہد نے فکرمندی سے اسکے پاس آتے پوچھا جب کے دامل بھی تیزی سے بھاگتے نیچے آیا تھا۔

یہ آپ ان سے پوچھیں جنہوں نے میرے نانا نانی کو مروایا ہے۔۔۔ وردہ دلاور خان کی جانب اشارہ کر کرتی غصے سے غرائی تو انہیں اس کی بات سنتے تیش آیا جب کے دامل اور فہد تو منہ کھولے حیرت سے اسکی بات سن رہے تھے۔

دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا لڑکی۔۔۔ ہم کیوں تمہادے نانا نانی کی جان لیں گے۔۔۔ ہمیں ان سے کیا لینا دینا۔۔۔ دلاور خان مٹھیاں بھیجتے دھاڑے۔

جھوٹ مت بولیں۔۔۔ آپ چاہتے تھے میں اور میرا خاندان برباد ہو جائے۔۔۔ آپ مجھ سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔۔۔ اس لیئے آپ نے ایسا کیا ہے۔۔۔ وردہ بھی انہی کے انداز میں بوکی جب کے اپنے دادا کے اوپر لگائے گئے الزام پہ دامل کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

وردہ تمیز سے بات کرو۔۔۔. تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم کہہ کیا رہی ہو۔۔۔۔ اور کس سے کہہ رہی ہو۔۔۔ دامل نے سرد لہجے میں کہتے وردہ کو چپ کروانا چاہا لیکن وردہ تو جیسے اپنا آپا گھو چکی تھی۔

اس بار میں بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔ آپ نہیں جانتے اپنے دادا کے اصل چہرے کو۔۔۔ یہ جیسے آپ کے سامنے دکھتے ہیں ویسے ہیں نہیں۔۔۔ شادی سے پہلے بھی انہیں نے مجھے آپ کی زندگی میں شامل نا ہونے کے لیئے ایک بہت بڑی رقم دی تھی۔۔۔ اور شادی کے اگلے دن ہی انہیں نے مجھے دھمکی دی تھی کہ یہ مجھے آپ کی زندگی سے نکال دیں گے۔۔۔ میرے گھر والوں کو برباد کردیں گے۔۔۔ میری ماں کے بارے میں انہوں نے کیا کچھ نہیں بولا ۔۔۔ لیکن میں نے ہر بات کو اگنور کیا لیکن اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔۔ انہوں نے میرے نانا نانی کی جان۔۔۔۔۔

بسسسسسس ۔۔۔۔ بس بہت ہو گیا اب ایک اور لفظ نا سنوں میں اپنے دادا جان کے خلاف۔۔۔ وردہ اسے ساری سچائی بتاتے جا رہی تھی جیسے سنتے دامل اور فہد دونوں ہی حیران تھے لیکن آخری بات پہ دامل کی بس ہوگئی تھی۔

دامل میں سچ کہہ رہا ہوں میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ اپنے پوتے کو اپنے حق میں بولتے دیکھ دلاور خان نے مسکین شکل بنائے کہا۔

دامل میں جھوٹ نہیں بول رہی یہ سب سچ ہے جو میں نے کہا ہے۔۔۔ آگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ ڈیڈ سے پوچھ لیں۔۔۔ انہیں تو پتہ ہے نا کہ انکے بابا کیسے ہیں۔۔. وہ تو اچھے سے جانتے ہوں گے نا انہیں۔۔۔ وردہ نے دامل کو یقین دلانے کی کوشش کی جس پہ دامل نے فہد کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

میں یہ نہیں جانتا کہ یہ کسی کی جان لے سکتے ہیں یا نہیں لیکن میں انہیں پوری طرح سہی بھی نہیں کہہ سکتا۔۔۔ وردہ نے جو کہا اسکی آدھی بات ٹھیک ہے کہ تمہارے دادا نے وردہ کو تم سے شادی نا کرنے کے لیئے پیسے دیئے تھے۔۔۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کے انہوں نے وردہ کو دھمکی بھی دی ہوگی لیکن باقی جو وردہ کہہ رہی ہے اس پہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔ فہد نے سنجیدگی سے کہا تو دامل نے حیرت سے اپنے دادا جان کی جانب دیکھا ۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اسکے دادا ایسا بھی کچھ کر سکتے ہیں۔۔۔

ہاں یہ سچ ہے کہ میں وردہ سے اور اسکے خاندان سے نفرت کرتا ہوں اور میں نے اسے پیسے بھی دیئے تھے لیکن میں نے کسی کی جان نہیں لی۔۔۔ دلاور خان اپنے ہوتے کی آنکھوں میں بےیقینی دیکھتے خود ہی اپنی سچائی بتانے لگے۔۔۔۔ وہ اپنے پورے کو کسی بھی حال میں خود سے بدگمان نہیں ہونے دے سکتے تھے۔

جھوٹ بول رہے ہیں یہ۔۔۔ یہ مجھے مارنا چاہتے تھے ۔۔۔ گاڑی میری تھی اور اس گاڑی میں ہوں۔۔۔ یہی سوچ کے انہوں نے اس گاڑی کا اکسیڈینٹ کروایا ہوگا ۔۔۔ وردہ نے دامل کا بازو پکڑتے کہا تو دامل نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو اسکے ہاتھ سے نکالا۔

بس وردہ بہت سن لی تمہاری اب میں اپنے دادا پہ اور کوئی الزام برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ معافی مانگوں ان سے ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔ دامل نے انگلی دیکھائے کہا تو وردہ کی آنکھیں پھیلیں۔۔

اسے یقین نہیں آیا کہ کل تک جو شخص اس سے محبت کا دعویٰ کر رہا تھا آج اس پہ ہی یقین نہیں کر رہا۔۔۔ اسے دیکھتے دیکھتے وردہ کی آنکھوں میں مرچیاں گھلنے لگیں۔

نہیں مانگوں گی چاہے کچھ بھی کرلیں۔۔۔ وردہ غصے سے کہتی بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی۔۔۔ تو دامل بھی غصے سے گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔ اس کے دادا چاہے کتنے بھی برے ہوں لیکن اسکا دل اس بات کو ماننے کے لیئے تیار نا تھا کہ اسکے دادا نے کسی کی جان لی ہے۔۔۔ وہ جب تک ساری تفتیش نہیں کر لیتا ہو کسی پہ الزام نہیں لگا سکتا تھا لیکن وردہ جیسے اپنی بات پہ ڈٹ گئی تھی جو دامل کو غصہ دلاگئیں تھیں۔۔۔ اور غصے میں وہ کچھ غلط نا کرے اس لیئے وہ گھر سے ہی نکل گیا تھا۔

میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ میرے بیٹے کی خوشیاں برباد نہیں کرے گا لیکن اب کو کہاں سکون ملتا ہے کسی کو سکون میں دیکھ کے۔۔۔ ڈال دی نا آپ نے دراڑ میرے بیٹے اور بہو کے بیچ میں۔۔۔ اب تو خوش ہوگئے ہوں گے نا آپ۔۔۔ لیکن یاد رکھے گا جس دن دامل کے سامنے ساری سچائی آگئی اس دن آپ اپنے پوتے کو بھی کھو دیں گے۔۔۔ بیٹے کو تو کھو چکے ہیں۔۔۔ اب تیار ہوجائیں اپنے ہوتے کو کھونے کے لیئے۔۔۔ فہد افسوس سے کہتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جب کے پیچھے دلاور خان سر جھٹکتے اپنے کمرے میں گھس گئے۔۔۔ ان کا پوتا انکے ساتھ تھا انہیں کسی چیز کی فکر نہیں تھی اب۔۔۔۔ لیکن وہ شاید بھول گئے تھے کہ برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

۔🌺🌺🌺