Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 31)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 31)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
کوئی ہے گھر پہ۔۔۔ وردہ آواز لگاتی میشا کے گھر میں داخل ہوئی
آؤ آؤ جونیئر انو۔۔۔ سب موجود ہیں گھر پہ۔۔۔ اسے انمول کی طرح آواز لگاتے گھر میں داخل ہوتے دیکھ میشا نے مسکرا کے کہا
کیسی ہیں آپ پھوپھو۔۔۔ وردہ اندر آتی میشا کے گلے لگی۔
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔۔۔ میشا اسکے گال پہ پیار کرتی بولی۔
ایک دم ٹھیک ٹھاک۔۔۔ وردہ اسکے ساتھ ہی صوفے پہ بیٹھی گئی۔
اوہو آج تو وردہ میڈم آئی ہیں۔۔۔ سیف وردہ کی آواز سن کے باہر آیا تھا۔
ارے لنگور تم ابھی تک گھر پہ ہو۔۔۔ وردہ نے سیف کو صوفے پہ بیٹھتے دیکھ شرارت سے پوچھا۔
میں آپ دونوں کے ساتھ نور کو شوپنگ کروانے جاؤں گا۔۔۔اس لیئے میں گھر پہ ہی ہوں۔۔۔ سیف نے مزے سے اپنا پلین بتایا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں ہمارے ساتھ چلنے کی۔۔۔ نور پہلے ہی ٹھیک سے شوپنگ نہیں کرتی اور تم ساتھ جاؤ گے پھر تو وہ بیچاری شرم کے مارے بلکل بھی کچھ خرید نہیں پائے گی۔۔۔ وردہ اسے گھور کے بولی۔
جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن میں جاؤ گا ضرور ۔۔۔۔ سیف نے ضدی لہجے میں کہا تو وردہ نے میشا کی جانب دیکھا جیسے اب ایک وہی تھی جو سیف کو روک سکتی تھی۔
سیف وردہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔ نور میرے ساتھ بھی بےتکلف ہوکے شوپنگ نہیں کرپاتی ہے اور تم ساتھ جاؤ گے پھر تو وہ بلکل بھی شوپنگ نہیں کرپائے گی اس لیئے تم گھر پہ ہی رکو میں اور وردہ جائیں گے بس۔۔۔ میشا نے سمجھایا تو سیف اسکی بات ٹال نا سکا۔
ٹھیک ہے ماما جیسی آپکی مرضی۔۔۔ اسکے بےچارگی سے کہنے پہ وردہ نے اسے منہ چڑایا جس کہ بدلے میں سیف نے بھی اسے زبان دیکھائی۔
پھوپھو اگر آپ تیار ہیں تو چلیں۔۔۔
ہاں بیٹا چلو میں تیار ہوں۔۔۔ میشا کے کہنے پہ وہ کھڑی ہوگئیں۔
سیف زرا اپنی گاڑی کی چابی دینا۔۔۔ وردہ نے سیف کو چڑاتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا۔
کیوں تمہاری گاڑی کہاں ہے۔۔۔ سیف نے آنکھیں سکیڑے پوچھا۔
نانا نانی لے کے گئے ہیں ۔۔۔۔ اب زیادہ سوال نا کرو جلدی سے چابی دو۔۔۔ دیر ہو رہی ہے ہمیں۔۔۔ وردہ نے سنجیدگی سے کہا تو سیف نے اسے گھورتے ہوئے پینٹ کی جیب سے چابی نکالتے اسکے ہاتھ پہ رکھ دی۔
بائے بائے۔۔۔ وردہ اسے چڑاتی باہر نکل گئی ۔۔۔ پیچھے سیف جل بھن گیا۔
ہم جلدی واپس آجائیں گے سیف تم گھر پہ ہی رہنا۔۔۔ میشا اسے حدایت کرتی گھر سے نکل گئی ،،، پیچھے سیف گہری سانس بھرتے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
وہ پہلے نور کے گھر گئیں تھیں اسے لینے پر وہاں نور کی والدہ نے انہیں بیٹھا لیا تھا جس کی وجہ سے وہ لوگ تھوڑا لیٹ ہو گئے تھے۔
نور تم بول سکتی ہو تمہارے بولنے پہ پابندی نہیں لگائی ہم نے۔۔۔۔ گاڑی میں نور کو خاموش بیٹھے دیکھ وردہ نے ٹوکا۔۔۔
میں کیا بولوں ۔۔۔ نور کنفیوز ہوئی۔
افففف۔۔۔ اس سے اچھا تھا کہ میں سیف کو بھی ساتھ لے آتی وہی تم سے باتیں کر لیتا۔۔۔ وردہ نے چھیڑا تو نور شرما کے گردن جھکا گئی۔
ارے تم تو بلش کرنے لگی ہو سیف کے ذکر پہ۔۔۔ وردہ نے ڈرائیو کرتے شرارتی لہجے میں کہا تو نور دھیمے سے مسکراتی جھکی گردن کو مزید جھکا گئی
وردہ تنگ نہیں کرو میری بیٹی کو۔۔۔ میشا نے مسنوعی غصے سے کہا تو وردہ پیچھے دیکھتی ایک ہاتھ سے کان پکڑ گئی۔
اب کچھ نہیں کہوں گی آپکی بیٹی کو۔۔۔ وردہ نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے کہا تو نور ہنس دی۔
وہ لوگ بات ہی کر رہے تھے جب میشا کا فون بجا۔۔۔۔ اسنے بیگ سے فون نکال کے دیکھا تو سیف کی کال آرہی تھی۔
لو ابھی ہم سیف کی بات کر رہے تھے اور اسکی کال آگئی۔۔۔ اسنے ہنستے ہوئے کال ریسیو کرتے فون کان سے لگایا
ہاں سیف بولو۔۔۔
مما آپ لوگ جہاں ہیں وہیں سے واپس گھر آجائیں۔۔۔۔ دوسری طرف سے سیف کی گھبراہٹ بھری آواز آئی۔
سیف کیا ہوا ہے تم پریشان لگ رہے ہو۔۔۔ میشا فکرمندی سے گویا ہوئی تو نور اور وردہ کا دھیان بھی انکی جانب گیا۔
آپ لوگ فورن گھر پہنچے پھر خود ہی پتہ چل جائے گا۔۔۔ میشا ہیلو ہیلو کہتی رہ گئی لیکن سیف نے اتنا کہتے فون بند کردیا۔
کیا ہوا پھوپھو سب ٹھیک ہے۔۔۔ وردہ نے بیک مرر میں اسے دیکھتے پریشانی سے پوچھا۔
پتہ نہیں اسنے کچھ بتایا نہیں بس جلدی سے گھر آنے کا کہا ہے۔۔۔ مجھے تو بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے پتہ نہیں کیا بات ہے جو سیف اتنا پریشان تھا۔۔۔ میشا کا دل کسی انہونی نے خوف سے ڈوبنے لگا تھا۔
آپ پریشان نہیں ہوں پھوپھو ہم واپس چلتے ہیں۔۔۔ وردہ اسے مطمئن کرتی گاڑی واپسی کے راستے پہ موڑ گئی۔۔۔ وہ میشا کو تو پریشان نا ہونے کا کہہ رہی تھی لیکن اسکا اپنا دل کافی گھبرا رہا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
ایسا کرو آج بابا اور وردہ کی پسند کا وائٹ قورمہ بنا لو۔۔۔ اور ساتھ کباب فرائی کر لے نا۔۔۔ انمول کچن میں کھڑی ملازمہ کو آج کا مینیو بتا رہی تھی۔
اور ہاں سیلیٹ اور ابتسام کے لیئے وائٹ رائز یاد سے بنانا ٹھیک ہے۔۔۔ انمول ملازمہ کو حدایت کرتی کچن سے نکل گئی۔
لاؤنچ میں آکے وہ ابھی بیٹھی ہی تھی کہ باہر سے ایمبولینس کی آواز آنا شروع ہوگئی۔۔۔
اللہ خیر کرے یہ ایمبولینس کہاں آئی ہے۔۔۔ انمول دھڑکتے دل کے ساتھ فورن اٹھ کے باہر کی جانب بڑھی۔۔۔ جب اسے گھر میں بسام اور ابتسام داخل ہوتے دکھے۔
ارے آپ دونوں اتنی جلدی آگئے۔۔۔ وہ کہتی انکی جانب بڑھنے لگی تھی جب بڑا دروازہ کھلتے دو ایمبولینس گھر میں داخل ہوئیں۔۔۔
ایمبولینس کو دیکھتے انمول جہاں تھی وہیں تھم گئی ۔۔۔
مما۔۔۔ بسام انمول کے پاس آتے اسکے گلے لگتا زاروں قطار رونے لگا۔۔۔ جب کے انمول تو ناسمجھی سے سب دیکھ رہی تھی۔
بسام کیا ہوا ہے بیٹا کیوں رو رہے ہو۔۔۔ اور یہ ایمبولینس ہمارے گھر میں کیوں آئی ہیں۔۔۔ انمول بسام کو کندھے سے تھام کے اپنے سامنے کرتی ڈوبتے دل کے ساتھ پوچھنے لگی۔
ایمبولینس کی آواز سن کے نسرین بیگم بھی باہر آگئیں تھیں۔۔۔ اور اسہی وقت ماہی اور تحریک بھی گھر میں داخل ہوئی تھیں۔۔۔ ان کے پیچھے سیف، حنان، حماد اور دائم بھی اندر داخل ہوئے۔
بسام کچھ بولو بیٹا ۔۔۔ میرا دل ڈوبا جا رہا ہے۔۔۔ انمول کی آواز بھرائی تھی۔
مما نانا نانی ہمیں چھوڑ کے چلے گئے۔۔۔ بسام نے روتے ہوئے بتایا تو انمول ایک دم ساکت ہوگئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ زمین بوس ہوئی تھی۔
مما۔۔۔ بسام نے فورن اسے تھاما۔
بسام اندر لے کے چلو اسے۔۔۔ ماہی کے کہنے پہ بسام اسے اٹھائے اندر بڑھ گیا۔
بلال صاحب اور شگفتہ بیگم کی میت کو لاؤنچ میں رکھوا دیا گیا تھا۔۔۔ گھر میں ایک دم سوگ کا سماں ہو گیا تھا۔۔۔ انمول کو ہوش تو آگیا تھا لیکن وہ بےحس و حرکت بیٹھی غیر مرئی نقطے کو گھورے جا رہی تھی۔
تعزیت کے لیئے مہمان آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ان دونوں کی اچانک موت پہ سب ہی شوکٹ رہ گئے تھے۔۔۔
وردہ نے گھر کے باہر گاڑی روکی تو وہاں پہلے سے ہی کافی گاڑیوں کا رش تھا۔۔۔ وہ تینوں جلدی سے گاڑی سے نکلتی اندر کی جانب بھاگیں تھیں۔
جب لاؤنچ میں داخل ہوتے ہی اندر کا منظر دیکھتے ان تینوں کے قدم دروازے پہ ہی منجمد ہوئے۔
ان لوگوں کو وہیں رکے دیکھ ابتسام نے آگے بڑھ کے وردہ کو اپنے ساتھ لگایا۔
با با یہ۔۔۔۔ وردہ کے منہ سے الفاظ نکلنے سے انکاری تھے۔
آؤ۔۔۔ ابتسام اسے اپنے ساتھ لیئے اندر داخل ہوتا اسے میت کے پاس لایا۔
اسنے جیسے ہی اپنے نانا نانی کا سفید کفن میں لپٹا چہرہ دیکھا تو اسکے پاؤں بےجان ہوئے۔۔۔ آگر ابتسام نے اسے ناتھاما ہوتا تو وہ یقیناً گر چکی ہوتی۔
نانا،،،، نانی۔۔۔۔۔ اسکے منہ سے سرگوشی میں آواز نکلی اور پھر آنکھوں سے نا رکنے والا آنسوں کا سیلاب بہہ نکلا
صبر کرو میرا بچہ۔۔۔ ابتسام اپنے آنسوؤں پہ بندھ باندھتے اسے اپنے سینے سے لگا گیا۔
مما۔۔۔ اسے روتے ہوئے اپنی ماں کی یاد آئی تو اسنے منہ اٹھا کے بےچینی سے ابتسام کی جانب دیکھ کے سوالیہ انداز میں کہا۔
وہ رہی۔۔۔ نا کچھ بول رہی ہے نا رو رہی ہے بس ایک جگہ ساکت بیٹھی ہے۔۔۔ ابتسام نے ماہی کے ساتھ بیٹھی انمول کی جانب اشارہ کیا تو وردہ بھاگتی ہوئی جاکے اپنی ماں کے گلے لگ گئی۔
مما نانا نانی چلے گئے۔۔۔۔ وہ ہمیں چھوڑ کے چلے گئے۔۔۔ مما اب وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ وردہ ہچکیوں سے روتی اپنی ماں کو بتا رہی تھی لیکن انمول تو جیسے وہاں موجود ہی نہیں تھی۔۔۔
ان کی حالت دیکھتے لاؤنچ میں موجود سب کے دل کٹ کے رہ گئے تھے۔۔۔ اپنے باپ جیسے تایا ابو اور ماں جیسی بڑی ماما کو بچڑتے دیکھ میشا اپنی ماں کے گلے لگے رو دی تھی۔
نور بھی یہ سب دیکھ کے کافی افسردہ ہوگئی تھی ۔۔۔ اسنے اپنے گھر فون کر کے اپنے والدین کو بتا دیا تھا جو کچھ ہی دیر میں وہاں پہنچ گئے تھے۔
فہد اور دامل گھر میں داخل ہوتے ابتسام سے گلے ملے۔
وردہ کی حالت دیکھتے دامل کا دل کیا ابھی جا کے وردہ کو اپنے سینے سے لگا لے لیکن سب کی موجودگی کی وجہ سے وہ وہیں کھڑا ہوگیا۔
مجھے انکل آنٹی کا سن کے بہت افسوس ہوا۔۔۔ لیکن اچانک یہ سب کیسے ہوا۔۔۔ فہد نے تعزیت کرتے تعجب سے پوچھا۔
کسی رشتےدارکے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں آکسیڈنٹ ہوگیا اور دونوں موقع پہ ہی۔۔۔ ابتسام نے بات ادھوری چھوڑتے اپنی نم آنکھیں صاف کیں۔
اللہ انکی مغفرت فرمائے اور آپ سب کو صبر عطا کرے۔۔۔ فہد کے دعا کرنے پہ انکے اردگرد موجود لوگوں نے دھیرے سے آمین کہا۔
۔![]()
![]()
![]()
میت اٹھنے کا وقت ہوگیا تھا لیکن انمول کی چپ نہیں ٹوٹی تھی۔۔۔ سب نے بہت کوشش کی تھی کہ ایک بار ہی سہی پر وہ تھوڑا سا رو لے لیکن انمول تو جیسے ہوش میں ہی نہیں تھی۔
مغرب کی اذان ہونے والی ہے، میت اٹھا ہے تم ایک بار کوشش کرو انو کو یقین دلانے کی ۔۔۔ اسے ہوش کی دنیا میں واپس لانے کی۔۔۔ دائم ابتسام کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولا تو ابتسام ہاں میں سر ہلاتے انمول کی جانب بڑھ گیا۔
انو۔۔۔ ابتسام اسے کندھوں سے تھام کے اٹھاتے میت کے پاس لایا۔
دیکھو انو تایا ابو اور بڑی ماما ہمیں چھوڑ کے چلی گئی ہیں۔۔۔ ابتسام نے انمول کا دھیان انکی جانب دلایا تو انمول نے خالی خالی نظروں سے اپنے ماں باپ کی جانب دیکھا۔۔۔ لیکن بولی اب بھی کچھ نہیں تھی۔
انو وہ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ چلے گئے ہیں ہمیشہ کے لیئے۔۔۔ ابتسام اسے کہتے کہتے خود رو دیا تھا پر انمول تو جیسے پتھر کا بت بن گئی تھی۔
انو پلیز کچھ تو بولو ۔۔۔۔ ابتسام نے اسے جھنجھوڑ دیا تا کہ وہ ہوش میں آئے ۔۔۔ ابتسام سے اسکی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ سب کو ہی اسکی حالت پہ افسوس ہو رہا تھا۔
حماد تو کب سے ایک کونے میں بیٹھا رو رہا تھا۔۔۔ اسے وہ دن یاد آگیا تھا جس دن اسکے ماں باپ اسے چھوڑ کے گئے تھے۔۔۔ وہ انمول کا دکھ سمجھ سکتا تھا۔
بچہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا ماں باپ آگر چھوڑ جائیں تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔ ماں باپ ایسی نعمت ہیں کے انکے بغیر زندگی بےرونق ہوجاتی۔۔۔ ماں باپ کے بغیر رہنے کا تصور ہی سوحانہ روح ہوتا ہے۔۔۔
( اللہ سب کے والدین کو عمر دراز عطا کرے اور جن کے والدین وفات پاچکے ہیں اللہ انہیں جنت میں علی مقام عطاء فرمائے آمین)
ششششش مسٹر ڈریگن خاموشی ہوجائیں ماما بابا سو رہے ہیں ۔۔۔ آپ اتنی تیز تیز بولیں گے تو انکی نیند خراب ہو جائے گی۔۔۔ انمول دھیمی آواز میں اسے چپ کروانے لگی۔
جب کے اسکی بات سن کے وہاں موجود سب کے رونے میں روانی آئی تھی۔
انو وہ سو نہیں رہے ہمیں چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔۔۔ وہ اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔۔۔ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔ ابتسام نے جھنجھوڑ کے کہا۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔ میرے ماما بابا سو رہے ہیں اور آپ کہ رہے ہیں۔۔۔ ہٹیں یہاں سے میں ابھی انہیں اٹھا کے دیکھاتی ہوں۔۔ تا کہ آپ کو پتہ چلے کے وہ سو رہے تھے۔۔۔ انمول اسے دھکا دیتی اپنے ماں باپ کی جانب متوجہ ہوئی۔
مما اٹھیں دیکھی مسٹر ڈریگن کیا کہہ رہیں ہیں۔۔۔ آپ مجھے ڈانٹتی تھیں نا کہ میں ہمیشہ پاگلوں والی فصول باتیں کرتی ہوں اب اپنے داماد کو بھی تو ڈانٹیں جو ایسی الٹی سیدھی بات کر رہے ہیں۔۔ انمول زمین پہ بیٹھتی شگفتہ بیگم کے چہرے کو دیکھتی شکایتی انداز میں بولی ۔
بابا اٹھیں مسٹر ڈریگن کو دیکھائیں کے آپ سو رہے تھے۔۔۔ انمول نے بلال صاحب کو آواز لگائی مگر کسی کے بھی حرکت نا کرنے پہ وہ جھنجھلا اٹھی۔
وردہ ادھر آؤ سب تمہاری بڑی بات مانتے ہیں ۔۔۔ کہوں ان سے اٹھیں یہ۔۔۔ انمول کھڑی ہوتی وردہ کو اپنے ساتھ وہاں لاتی خفگی سے بولی۔
مما نانا نانی جا چکے ہیں اب وہ کبھی نہیں اٹھیں گے۔۔۔ وردہ انمول کو اپنے ساتھ لگاگئی۔
تم بھی باپ پہ گئی ہو۔۔۔۔ الٹی سیدھی باتیں کرتی رہتی ہو۔۔۔ ہٹو میں خود ہی اٹھا لوں گی۔۔۔ انمول وردہ کو غصے سے پیچھے کرتی میت کی جانب بڑھی۔
مما بابا اٹھیں نا دیکھیں یہ سب مجھے تنگ کر رہے ہیں۔۔۔ آپ لوگ اٹھیں اور انہیں ڈانٹیں۔۔۔ انمول منہ بناتی انہیں شکایت لگاتی چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔
بابا ماما اٹھیں نااااااا۔۔۔ ان کو ویسے ہی لیٹے دیکھ انمول زور سے چیخی لیکن وہ وہاں ہوتے تو اسکی چیخ سن کے اٹھتے وہ تو جاچکے تھے اس دنیا سے۔۔۔ مگر انمول اب تک اس بات کو سمجھنے کے لیئے تیار نہیں تھی۔
انو۔۔۔۔ ابتسام نے اسے اپنے مقابل کھڑا کیا۔
چھوڑیں مجھے میں اٹھا کے رہوں گی اپنے ماما بابا کو۔۔۔ انمول اسکی گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی جب ابتسام نے اسے ایک جھٹکا دیتے اپنے سامنے سیدھا کھڑا کیا۔
انو۔۔۔ چلے گئے ہیں تمہارے ماما بابا اس دنیا سے ہمیشہ کے لیئے ۔۔۔ نہیں آئیں گے اب وہ واپس۔۔۔ ابتسام ایک دم دھاڑا تو انمول سہم کے آنکھوں میں آنسو لیئے اسے دیکھنے لگی۔
چھوٹ بول رہے ہیں نا آپ۔۔۔ لڑکھڑاتی آواز میں امید سے پوچھا کہ شاید وہ کہہ دے کے ہاں یہ سب چھوٹ ہے۔
یہ سب سچ ہے انو۔۔۔ اور اس سچ کو تمہیں قبول کرنا ہی ہوگا۔۔۔ ابتسام ضبط کرتے بولا تو انمول کی آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے۔
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔ میرے مما بابا مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتے۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی بولی۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں روانی سے جاری تھے۔۔۔ اسکی بغڑتی حالت دیکھتے ابتسام نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔
انو ایسا ہو چکا ہے وہ لوگ جا چکے ہیں۔۔۔ ابتسام اسکی پشت سہلاتے بولا۔
مما باباااا۔۔۔ انمول زاروں قطار رو دی تو ابتسام نے اسے شدت سے خود میں بھیج لیا۔
اذان ہوتے ہی ابتسام نے وردہ کو اشارہ کیا جو اسکا اشارہ سمجھتی انمول کو ابتسام سے دور کرتی اپنے ساتھ لگا گئی۔
ابتسام نے اشارہ کرتے سب کو میت اٹھانے کے لیئے بلایا تو ساری خواتین کھڑی ہوگئی ۔
پورے لاؤنچ میں کلمہ شہادت بلند ہوا تو انمول چیختی ہوئی ان لوگوں کے پیچھے بھاگی جو میت کو باہر لے کے نکل رہے تھے۔
نہیں پلیز نہیں لے کے جاؤ میرے ماما بابا کو پلیز۔۔۔۔ابتسام پلیز رک جائیں.۔۔۔ نہیں لے کے جائیں۔۔۔ ماہی وردہ میشا سب ہی انمول کو سمبھال رہے تھے جو مسلسل روتے ہوئے ماما بابا کی رٹ لگائے ہوئے تھی۔
وہ سب کے ہاتھوں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے سب مل کے بہت مشکل سے قابو کرتے کمرے میں لے گئے تھے۔
۔![]()
![]()
![]()
قبرستان پہنچ کے انکی آخری رسومات ادا کی گئیں ۔
خود پہ ضبط کرنے کے باوجود ابتسام کی آنکهیں بار بار بھیگے جا رہی تھیں۔۔۔
اسکے بابا اسے پہلے ہی چھوڑ کے جا سکتے تھے لیکن بلال صاحب نے اسے کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی، شگفتہ بیگم نے کبھی اس میں اور اپنی اولاد میں فرق نہیں کیا تھا اور آج وہ دونوں بھی چلے گئے تھے۔
چلو بیٹا۔۔۔۔ قبر کے پاس بیٹھے بسام کو حماد نے کندھے سے تھام کے کھڑا کیا تو وہ بہت مشکل سے کھڑا ہوتا واپسی گھر کے لیئے نکل گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
