Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 30)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 30)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
دامل رات دس بجے گھر میں داخل ہوا تو فہد سامنے ہی بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔
دامل وردہ نہیں آئی تمہارے ساتھ۔۔۔ فہد نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
وہ میرے ساتھ تو نہیں گئی تھی۔۔۔ دامل نے نارمل لہجے میں کہا۔
تو پھر وہ آج آفس کیوں نہیں آئی نا ہی گھر پہ ہے۔۔۔ میں سمجھا وہ تمہارے ساتھ ہوگئی لیکن تم تو کہ رہے ہو وہ تمہارے ساتھ نہیں ہے تو پھر کیا وہ ابتسام کے گھر چلی گئی ہے۔۔۔ فہد نے سوالیہ انداز میں کہا
میری اس سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی مجھے نہیں پتہ وہ گئی ہے یا نہیں ۔۔۔ صبح تک تو وہ کمرے میں ہی تھی۔۔۔ آپ نے ملازمہ سے دیکھوایا تھا اسے کمرے میں ۔۔۔ دامل نے سوال کیا۔۔۔ وہ سوچ میں پڑھ گیا تھا کہ وہ تو وردہ کو چار بجے کے قریب سوتے ہوئے چھوڑ کے گیا تھا۔۔۔ مگر فہد کہہ رہا تھا کہ وہ گھر پہ ہی نہیں ہے۔۔۔ یہ دامل کے لیئے پریشانی والی بات تھی اسکا اچانک غائب ہوجانا۔
ہاں بیٹا میں نے ملازمہ سے دیکھوایا تھا لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی۔۔۔ فہد بھی پریشان ہوگیا تھا کہ وہ بغیر بتائے چلی کہاں گئی ہے۔
مگر اسکی گاڑی اور گارڈز کی گاڑی تو دونوں باہر ہی کھڑے ہیں۔۔۔ وہ بغیر گاڑی کے کہاں جا سکتی ہے۔۔۔ دامل نے پیشانی مسلتے کہا۔
گارڈز۔۔۔۔ دامل نے گارڈز کو آواز لگائی جس پہ وہ بوتل کے جن کی طرح فورن حاضر ہوئے۔
جی سر۔۔۔ گارڈ نے سر جھکائے ادب سے کہا۔
تم لوگوں نے وردہ کو باہر جاتے دیکھا تھا۔۔۔ دامل نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔
نہیں سر ہم نے نہیں دیکھا۔۔۔ گارڈ نے سر جھکائے جواب دیا۔
ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔ دامل نے سر ہلاتے اسے واپس بھیج دیا۔
اگر وہ گھر سے باہر گئی ہے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ کسی نے اسے باہر جاتے نہیں دیکھا۔۔۔ فہد پریشانی سے سر پکڑے صوفے پہ بیٹھا۔
میں اسے فون کرتا ہوں ڈیڈ آپ پریشان نا ہوں۔۔۔ دامل نے فون جیب سے نکالا۔
میں نے ملایا تھا لیکن اسکا فون کمرے میں ہی بج رہا تھا۔۔۔ فہد نے عطلاح دی۔
میں بسام کو فون کر کے پوچھتا ہوں ۔۔۔ شاید وہ وہاں چلی گئی ہو۔۔۔ دامل نے فکرمندی سے جلدی سے بسام کو کال ملائی۔
ہیلو بسام۔۔۔ وہ مجھے پوچھنا تھا کہ وردہ وہاں آئی ہے کیا۔۔۔ دامل نے اطمینان سے پوچھا۔
نہیں تو وہ یہاں تو نہیں آئی ۔۔۔ کیوں کیا ہوا ۔۔۔ دوسری طرف سے بسام نے بتاتے سوال کیا۔
کچھ نہیں یار بس میں گھر سے باہر تھا اور وردہ کا فون نہیں لگ رہا تھا تو میں نے سوچا شاید وہاں آئی ہو تو فون رکھ کے کہیں بھول گئی ہوگی اس لیئے تمہیں فون ملا کے پوچھ لیا۔۔۔ دامل نے بہانا بنایا لیکن اسکے بہانے میں زیادہ دم نہیں تھا۔
دامل بھائی کیا بات ہے سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ بسام نے فکرمندی سے پوچھا اسے دامل کی آواز میں ایک بےچینی سی لگ رہی تھی۔
ہاں ہاں سب ٹھیک ہے ،،، اچھا چلو میں بعد میں فون کرتا ہوں۔۔۔ دامل نے اسے مطمئن کرتے فون بند کردیا مگر وہ خود کافی پریشان ہوگیا تھا۔
کیا ہوا دامل کچھ پتہ چلا وردہ کا۔۔۔ فہد فورن کھڑے ہوتے اسکے پاس آیا۔
نہیں ڈیڈ وہ وہاں بھی نہیں ہے۔۔۔ شیرخان کی دھمکیوں کی وجہ سے دامل پہلے ہی بہت پریشان تھا اور اب وردہ کی گمشدگی اسے اور زیادہ پریشان کر رہی تھی۔
تم ایسا کرو اسکی کسی دوست وغیرہ سے رابطہ کرو کیا پتہ وہاں چلی گئی ہو ۔۔۔ فہد نے مشورہ دیا۔
میرے پاس اسکی کسی دوست کا نمبر نہیں ہے۔۔۔ لیکن آپ پریشان نہیں ہوں میں جاتا ہو اسے ڈھونڈنے اور اپنے لوگوں کو بھی اسکی تلاش پہ لگا دیتا ہوں۔۔۔ دامل ہڑبڑی میں کہتا جلدی سے باہر کی جانب بھاگا۔۔
ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو انہوں نے ایک نئے رشتے کی شروعات کی تھی اور اب وردہ کا اچانک غائب ہو جانا اسے حد سے زیادہ پریشان کر رہا تھا
وہ ابھی گھر سے باہر نکلتا اس سے پہلے ہی وردہ اسے اندر آتی نظر آگئی۔
وردہ کہاں چلی گئیں تھیں تم۔۔۔ اور فون بھی تمہارا گھر پہ تھا۔۔۔ حد ہوتی ہے غیر ذمیداری کی۔۔۔ جانتی ہو ہم کتنا پریشان ہوگئے تھے ۔۔۔اسکے اندر آتے ہی بغیر سوچے سمجھے دامل اس پہ برس پڑا۔
آپ اندر چلیں میں بتاتی ہوں ۔۔۔ وردہ اسکا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتی پیار سے بولی تو دامل جبڑے بیجھے اسکے پیچھے بڑھ گیا۔
وردہ بیٹا کہا چلی گئیں تھی آپ بغیر بتائے۔۔۔ جانتی ہو ہم سب کتنا پریشان ہوگئے تھے۔۔۔ اسے دامل کے ساتھ لاونچ میں داخل ہوتے دیکھ فہد نے بےچینی سے پوچھا۔
میں جانتی ہوں میری غلطی ہے مجھے بتا کے جانا چاہیئے تھا ۔۔ لیکن وہ بس میری ایک دوست کا اچانک فون آگیا تو میں اس سے ملنے چلی گئی ۔۔۔ سوری ڈیڈ آپ میری وجہ سے پریشان ہوئے۔۔۔ وہ پشیمانی سے کہتی فہد سے بھی سوری کرنے لگی جو اسکے آنے سے اب پرسکون لگ رہا تھا۔
بیٹا اب آئندہ اگر کہیں بھی جاؤ تو گھر میں کسی کو بتا کے جانا۔۔۔ فہد نے نصیحت کی جس پہ وہ احترام سے جی کہہ گئی۔
کیا تم گارڈز اپنے ساتھ لے کے گئیں تھیں۔۔۔ دامل نے ائبرو اچکائے پوچھا۔۔۔ جس پہ وردہ نے معصومیت سے نفی میں سر ہلادیا۔
تم گھر سے باہر کہاں سے گئیں تھیں۔۔۔ دامل نے پھر سوال دغا۔
پچھلے دروازے سے۔۔۔ وردہ نے منمنائی۔
حد ہے۔۔۔ دامل غصے سے کہتا سیدھے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
چلو ہوگیا یہ ناراض۔۔۔ جاؤ بیٹا دیکھوں اسے ۔۔۔ فہد گہری سانس بھرتے مسکرا کے بولا تو وہ سیدھے اوپر بڑھ گئی ۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو دامل آنکھوں پہ بازو رکھے بیڈ پہ لیٹا ہوا تھا۔
وہ انگلیاں مڑوڑتے اسکے پاس آ کے رکی۔
جالی A.S.P سوری۔۔۔ مجھے گارڈز لے کے جانا چاہیئے تھے اور گھر میں بتا کے بھی جانا چاہیئے تھا۔۔۔۔ وردہ دامل کا بازو ہلاتی دھیرے سے بولی تو دامل نے آنکھوں سے بازو ہٹاتے شکوہ کناہ نظروں سے دیکھا۔
تم جانتی ہو کے میرے کتنے دشمن ہیں اس وجہ سے ہی میں نے گارڈز کی ڈیوٹی لگائی ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔ پر جب مجھے پتہ چلا کے تم بغیر بتائے بغیر گارڈز کے گئی ہو تو جانتی ہو میری کیا حالت ہوگئی تھی ۔۔۔ دامل سیدھے ہوکے بیٹھتے سنجیدگی سے بولا تو وردہ اسکے پاس ہی بیٹھ گئی۔
کیا تم۔۔۔ میرا مطلب آپ کو مجھ سے محبت ہوگئی ہے جو میرے اچانک غائب ہونے پہ آپ کو پریشانی ہوگئی تھی ورنا مجھے تو لگا تھا میرے اچانک غائب ہونے پہ آپ خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے کہ چلو شکر ہے جان چھوٹی میری اس چڑیل سے ۔۔۔ روانی میں کہتے وہ پھر سے تم کہنے لگی تھی جب پھر دامل کی گھوری نے اسکے لفظوں کو درست کیا جس پہ وہ معصومیت سے اپنی بات پوری کرنے لگی۔
دامل نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنے سینے میں بھیجا تو وہ مسکرا کے اسکے گرد حصار بناگئی۔
ہاں کرنے لگا ہوں تم سے محبت۔۔۔ اب تم یہ پوچھو گی کب سے تو یہ میں خود بھی نہیں جانتا۔۔۔ بس ہوگئی انجانے میں تم جیسی سرپھری لڑکی سے محبت۔۔۔ دامل دھیرے سے مسکراتے اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا۔
وردہ اسے غور سے سن رہی تھی لیکن اسکے سرپھری کہنے پہ سینے سے سر اٹھاتی اسے گھورنے لگی جس بھی دامل کھل کے مسکرایا۔
اب تم بتاؤ کیا تم مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔۔ اسنے بےچینی سے پوچھا۔۔۔ وہ وردہ کے منہ سے اظہار محبت سنے کے لیئے کافی بےتاب تھا۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔ وہ نخرے ڈیکھاتی اس سے دور ہوئی۔
بتاؤ نا یار۔۔۔ دامل نے التجاہ کی
میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے نہیں پتہ۔۔۔ جس دن پتہ چلا کہ مجھے آپ سے محبت ہے اس دن سب سے پہلے آکے آپ کو بتاؤ گی۔۔۔ وردہ جذب کے عالم میں بولی۔
تو کیا تم مجھے تھوڑا بہت پسند بھی نہیں کرتیں۔۔۔ دامل نے بچوں کی طرح پوچھا جس پہ وردہ ہنس دی۔
ویسے میرے خیال بھی آپ سے کچھ الگ نہیں تھے۔۔۔ پہلے میں بھی آپ کو اکڑو، کڑوا کریلا ہی سمجھتی تھی ۔۔۔ اب بھی آپ بدلے نہیں ہیں۔۔۔ لیکن میں نہیں جانتی کہ میرے دل کی کیفیت کب بدلی۔۔۔ میں نہیں جانتی کہ مجھے محبت ہوئی ہے یا نہیں لیکن آپ کو کسی اور لڑکی کے ساتھ دیکھ کے میرے دل میں آپ کو کھونے کا ڈر جاگا تھا۔۔۔ میں ہمیشہ آپکے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔۔۔ آپ کے بغیر مجھے میری زندگی ویران لگتی ہے۔۔۔ میں کبھی آپ کو یہ بات نا بتاتی اگر آپ مجھ سے اظہار محبت نا کرتے تو۔۔۔ وردہ مسکراتے ہوئے صاف گوئی سے بولی تو دامل نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھام کر پیشانی پہ بوسہ دیتے اسے اپنے ساتھ لگاتے سکون سے آنکھیں موند لیں۔
دامل۔۔۔۔ کافی دیر ویسے ہی بیٹھے رہنے کے بعد وردہ نے اسے پکارہ جب کے اسکے منہ سے اپنا نام سنتے دامل کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
کہوں دامل کی جان۔۔۔ وہ محبت سے چور لہجے میں بولا تو وردہ کو ایک دم شرم آگئی ۔
وہ مجھے آپ کو سوری کہنا تھا اپنی آج والی حرکت کی وجہ سے۔۔۔۔ مجھے ریئلائز ہوگیا ہے کہ میں نے آج کچھ زیادہ ہی اوور کر دیا تھا۔۔۔ مجھے پہلے آپ کی اور انسپکٹر زویا کی بات سنی چاہیئے تھی نا کہ آپ پہ شک کرنا چاہیئے تھا اور نا ہی زویا کے کردار پہ انگلی اٹھانی چاہیئے تھی۔۔۔ وردہ شرمندگی سے بولی جب کے اسکو اپنی غلطی ریئلائز ہوگئی دامل کے لیئے یہی کافی تھا۔
میری تو چلو خیر ہے لیکن تم زویا سے معافی مانگ لینا۔۔۔ اسکا بہت دل دکھا ہوگیا۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کے لیئے کوئی اپنے دل میں میل رکھے اس لیئے اپنی طرف سے اسکا دل ایک دم صاف کردینا ہممم ۔۔۔۔ دامل پیار سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے سمجھانے لگا
میں اس سے سوری کر آئی ہوں۔۔۔ وردہ کے کہنے پہ دامل نے چونک کے اسکی جانب دیکھا۔
کب۔۔۔۔ اسنے حیرت سے پوچھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی۔۔۔ میں نے کہا تھا میں اپنی ایک دوست کی طرف گئی تھی پر میں اپنی دوست کی طرف نہیں بلکے زویا کی طرف گئی تھی اس سے سوری کرنے۔۔۔ وردہ نے اطمینان سے بتایا تو دامل نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔
اور تمہیں اسکا اڈرس کہاں سے ملا۔۔۔ دامل نے آئبرو اچکائے استفسار کیا۔
انسپکٹر راشد سے۔۔۔ وردہ نے پھر سکوں سے بتایا
اور راشد سے کب ملیں تم۔۔۔ میں تو اسٹیشن میں ہی تھا آج پورا دن ۔۔۔ اسنے پھر ائبرو اچکائے ہی سوال کیا
میں نے صبح ہی اسکا نمبر لے لیا تھا۔۔۔ وہ اسکی اچکی ہوئی آبرو ٹھیک کرتی مسکرا کے بولی ۔
اس نے تمہیں زویا کے گھر کا اڈرس دیا ہے اور یہ بات راشد نے مجھے بتائی ہی نہیں۔۔۔ بتاتا ہوں میں کل راشد کو اچھے سے ۔۔ دامل ماتھے پہ بل ڈالے بولا۔
جالیA.S.P خبردار جو آپ نے اسے کچھ بھی کہا تو۔۔۔ میں نے ہی منا کیا تھا راشد کو کے وہ آپ کو کچھ نا بتائے۔۔۔ وردہ فورن انگلی دیکھا کے بولی تو دامل نے اسکی وہی انگلی پکڑتے چوم لی جس پہ وردہ نے فورن اپنے ہاتھ پیچھے کہنچا۔
بس زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ جائیں جا کے فریش ہوکے آئیں جب تک میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔ وردہ کھڑی ہوتی اس سے دور ہوئی جس پہ دامل نے اسے گھورا۔
میرا تو دل کر رہا ہے میں تمہیں کھا جاؤ۔۔۔ دامل نے زومعنی لہجے میں کہا جس کا مطلب وردہ تو بلکل نہیں سمجھی تھی۔
کیا آپ آدم خور ہیں۔۔۔ وردہ نے آنکھیں پھاڑے معصومیت سے پوچھا۔
نہیں تو ۔۔۔ دامل نے ناسمجھی سے کہا۔
تو پھر آپ مجھے کیوں کھائیں گے۔۔۔ وردہ آنکھیں پٹپٹا کے بولی تو دامل اسکی بات سمجھنے پر سر پیٹ کے رہ گیا۔
میری ایکسٹرا معصوم بیوی تم جاؤ کھانا لگاؤ ۔۔۔۔ پہلے میں کھانا کھاؤں گا پھر تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہیں کیوں اور کیسے کھاؤں گا ۔۔۔ وہ معنی خیزی سے کہتا وردہ کا گال تھپتھپاتے واشروم میں کھس گیا جب کے پیچھے وردہ اسکی باتوں کا مطلب سمجھتے سرخ پڑھتی جلدی سے کمرے سے نکل گئی۔
ان دونوں کے بیچ کے فاصلے ختم ہوکے دونوں کو ایک کر چکے تھے لیکن آنے والا وقت کس نے دیکھا تھا۔۔۔ کب کیا ہوجائے یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا ۔۔۔ ایسے ہی وہ دونوں بھی اپنے کل سے انجان اپنے آج کو انجوائے کر رہے تھے۔
۔![]()
![]()
![]()
(کچھ دن بعد)
سیف کی شادی کی تیاریاں شروع ہوگئیں تھی ۔۔۔ ایک ہفتے بعد سیف کی مایوں تھی۔۔۔ وردہ آج میشا کی طرف جا رہی تھی اسکی تیاری میں مدد کروانے۔۔۔
راستے میں وہ میشا کی پسند کا ریڈ ویلویٹ کیک لینے کے لیئے ایک بیکری پہ رکی تھی۔۔۔ جب اسے وہاں زویا ملی۔
ارے زوہا تم ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ وردہ نے خوش اخلاقی سے حال چال پوچھا۔
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔۔۔ زویا نے مسکرا کے کہا۔۔۔ جب سے وردہ نے اس سے سوری کیا تھا تب سے ان دونوں میں کافی اچھی بات چیت ہوگئی تھی۔
میں ایک دم فٹ فاٹ۔۔۔ وردہ کے کہنے پہ وہ مسکرائی۔
ایک منٹ۔۔۔۔ وردہ ایک منٹ کا کہتی کیک اور انمول کے لیئے کچھ چوکلیٹ پیک کراتی اسکے ساتھ باہر آئی۔
کہاں جا رہی ہو تم۔۔۔ زویا اسکے ساتھ چلتی پوچھنے لگی
میں اپنی پھوپھو کے گھر جا رہی ہوں۔۔۔ وردہ اسکے ساتھ اپنی گاڑی تک آتی بتانے لگی۔
تم آج کل آفس نہیں جا رہیں ۔۔۔ زویا نے پھر سوال کیا
جارہی ہوں لیکن. جلدی آجاتی ہوں۔۔۔ اور آج مجھے پھوپھو کے یہاں جانا تھا اس لیئے اور بھی جلدی آگئی۔۔۔ اصل میں میرے کزن کی شادی ہونے والی بس اسہی کی تیاریوں میں مصروف ہوں۔۔۔ میں تمہیں بھی کارڈ دوں گی۔۔۔ تم آؤ گی نا۔۔۔ وردہ دوستانہ لہجے میں استفسار کرنے لگی
ضرور۔۔۔ زویا کے ہامی بھرنے پہ وہ کھل اٹھی۔
زویا یار میں ایک بار پھر تم سے سوری کرتی ہوں اس دن کے لیئے۔۔۔ پتہ نہیں اس دن مجھے کیا ہوگیا تھا ۔۔۔ بس غصے میں سب بولتی چلی گئی اور مجھے سہی غلط کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ وردہ نے ایک بار پھر شرمندگی سے معافی مانگی۔
وردہ وہ بات اسہی دن ختم ہوگئی تھی۔۔۔ اس لیئے اب تمہیں سوری بولنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں۔۔۔
اور میں جانتی ہوں تمہیں اس دن غصہ کیوں آیا تھا۔۔۔ کیونکہ تم سر سے بہت پیار کرتی ہو اس لیئے انہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کے تمہیں ایک دم غصہ آگیا تھا ۔۔۔ زویا نے اطمینان سے کہا۔
ہممم شاید۔۔۔ وردہ کندھے اچکاتی مسکرائی۔
اچھا اب میں چلتی ہوں مجھے ڈیوٹی پہ بھی جانا ہے۔۔۔۔ زویا وردہ سے ملتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی تو وردہ نے بھی میشا کے گھر کی راہ لی۔
۔![]()
![]()
![]()
ماما۔۔۔ وردہ پہلے سیدھے انمول کی طرف آئی تھی۔۔۔ اسنے گھر میں داخل ہوتے ہی انمول کو پکارہ تھا
وردہ تم یہاں اچانک کیسے۔۔۔ انمول جلدی سے اپنے کمرے سے نکلتی اسکے گلے لگی۔
میں پھوپھو کی طرف جانے کے لیے آئی ہوں۔۔۔ وردہ اس سے الگ ہوتے بولی
کیوں۔۔۔ انمول نے حیرت سے استفسار کیا۔
کیونکہ ہم دونوں کو نور کی کچھ شوپنگ پہ جانا تھا۔۔۔ اس لیئے پھوپھو نے مجھے بلایا ہے۔۔۔ وردہ کیک ٹیبل پہ رکھتی اسکے ساتھ بیٹھتی بتانے لگی۔
تمہارے ساتھ ہی کیوں جانا تھا وہ میرے ساتھ بھی تو جاسکتی تھی نا۔۔۔ انمول نے خفگی سے کہا۔
وہ آپ کے ساتھ ہی جاتیں لیکن ہمیں نور کی پسند کی کچھ چیزیں لینی ہیں۔۔۔ اب پھوپھو نور کو اپنے ساتھ شوپنگ پہ لے کے جاتی ہیں تو وہ تکلف میں اپنی پسند کی شوپنگ کرنے کے بجائے سب پھوپھو کی پسند کا ہی لے لیتی ہے اس لیئے آج ہم دونوں نور کو اپنے ساتھ شوپنگ پہ لے کے جائیں گے۔۔۔ نور کی مجھ سے دوستی ہے تو شاید وہ میرے ساتھ تھوڑا بےتکلف ہو کے شوپنگ کر لے۔۔۔ اس لیئے پھوپھو نے مجھے بلایا ہے۔۔۔ وردہ نے تفصیل سے بتایا تو انمول نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلادیا۔
یہ کیا ہے۔۔۔ انمول کیک کا شاپر دیکھتی پوچھنے لگی۔
پھوپھو کے لیئے انکا فیوریٹ کیک اور آپ کے لیئے آپ کی پسند کی چوکلیٹس۔۔۔۔ وردہ نے شاپر سے چاکلیٹس نکال کے انمول کو دیں ۔
ارے واہ ۔۔۔ انمول خوش ہوگئی تھی اپنی پسندیدہ چوکلیٹس دیکھ کے۔
سب کہاں ہیں مما۔۔۔ بڑا سناٹا ہو رہا ہے آج۔۔۔ وردہ گھر میں خاموشی کا راج دیکھتے پوچھنے لگی
تحریم اپنے گھر گئی ہوئی ہے اور چاچی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے اس لیئے وہ دوائی لے کے اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں۔۔۔ اور ماما بابا کسی رشتےدار کے گھر جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔۔۔ انمول نے سب کے بارے میں بتایا تو وردہ سر ہلا گئی۔
وہ دونوں ماں بیٹی بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب بلال صاحب اور شگفتہ بیگم تیار ہوئے وہاں آئے۔
ارے واہ ہماری بیٹی آئی ہے آج۔۔۔ بلال صاحب نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا
کیسے ہیں آپ دونوں ۔۔۔ وہ دونوں سے کھڑے ہوکے ملی۔
ہم ٹھیک ہیں۔۔۔۔ تم آپ سناؤ آپ کیسی ہو اور گھر میں سب کیسے ہیں۔۔۔ شگفتہ بیگم نے شفقت سے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
سب اچھے ہی۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے جواب دیا
چلو بیٹا پھر آکے ملاقات ہوتی ہے۔۔۔ ابھی ہمیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بلال صاحب رسان سے کہتے باہر کی جانب قدم بڑجا گئے۔
مگر آپ دونوں جائیں گے کس میں ڈرائیور کو تو میں نے بازار بھیجا ہے کچھ سامان لینے۔۔۔ انکے باہر نکلنے سے پہلے انمول بول پڑی۔
جب تمہیں پتہ تھا ہم جائیں گے تو کیا ضرورت تھی ڈرائیور کو بھیجنے کی۔۔۔ شگفتہ بیگم نے ڈانٹا۔
مما آپ میری بیٹی کے سامنے مجھے نہیں ڈانٹ سکتیں۔۔۔ انمول نے منہ بنایا۔
تم کام کیوں کرتی ہو پھر ایسے۔۔۔ شگفتہ بیگم نے اسے گھورتے ہوئے کیا تو اسنے معصوم شکل بنا کے بلال صاحب کی طرف دیکھا جب کے وردہ اپنی ماں کا چہرہ دیکھتی اپنی ہنسی روک رہی تھی
بیگم چھوڑو آپ اسے ہم لوگ کیب میں چلے جائیں گے۔۔۔ بلال صاحب نے بات ختم کرتے کہا۔
ارے نانا نانی آپ لوگوں کو کیب میں جانے کی کیا ضرورت ہے۔۔ میری گاڑی ہے نا آپ لوگ اس میں چلے جائیں۔۔۔ میں تو ویسے بھی پھوپھو کے ساتھ جاؤں گی شوپنگ پہ۔۔۔ اس لیئے آپ بےفکر ہو کے میری گاڑی لے جائیں۔۔۔ وردہ نے صلاح دی۔
مگر بیٹا میں گاڑی کیسے چلاؤں گا۔۔ اس عمر میں مجھ سے گاڑی نہیں چلتی۔۔۔ بلال صاحب نے مسئلہ بیان کیا۔
میرے گارڈز ہیں نا آپ ان میں سے ایک کو اپنے ساتھ لے جائیں۔۔۔ وردہ نے فورن حل نکالا۔
میں کہتی ہوں جانے کی ضرورت ہی کیا ہے رہنے دیں جانے کو ہم گھر پہ ہی سب ساتھ بیٹھ کے گپے ماریں گے۔۔۔ انمول نے بیچ میں فورن اپنی رائے دی۔
تم چپ رہو۔۔۔ شگفتہ بیگم کے ڈپٹنے پہ وہ سانس بھر کے رہ گئی۔
مگر بیٹا ہم کیسے تمہارے گارڈز لے کے جا سکتے ہیں انہیں تو آپ کی حفاظت کے لیئے رکھا گیا ہیں ۔۔۔ بلال صاحب نے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔۔۔ انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ دامل کے رکھے گئے وردہ کی حفاظت کے لیئے گارڈ کو اپنے ساتھ لے جائیں۔
میں کون سا پانچوں کو لے جانے کا کہہ رہی ہون۔۔۔ ایک گارڈ سے کچھ فرق نہیں پڑھتا۔۔۔ چلیں آجائیں میں آپ کو چھوڑ کے آتی ہوں باہر۔۔۔ وردہ اٹل انداز میں کہتی بغیر کسی کی سنے باہر نکل گئی تو بلال صاحب اور شگفتہ بیگم کو بھی باہر جانا ہی پڑا۔
ان لوگوں کے باہر نکلتے ہی انمول گہری سانس بھرتے صوفے پہ بیٹھ گئی۔۔۔ اسکا دل ایک دم سے گھبرا رہا تھا۔۔۔ جسے وہ بار بار جھٹک رہی تھی۔۔۔ اپنے دل کی کیفیت سے پریشان ہوتے اسنے چوکلیٹ کھولتے کھانا شروع کردی تا کہ اسکا دھیان بٹ جائے۔
۔![]()
![]()
![]()
