820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 26)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

جب سے میشا انمول کو نور کے گھر جانے کا بول کے گئی تھی تب سے ہی انمول اسکے پیچھے پڑ گئی تھی۔۔۔ جس وجہ سے ان لوگوں نے دو دن بعد ہی نور کے گھر جانے کا پلین بنا لیا تھا۔۔۔ اور اب انمول میشا اور حماد تینوں نور کے گھر کے راستے پہ روا دوا تھے۔

سیف بلکل تم پہ گیا ہے ۔۔ ایک دم بےصبرہ۔۔۔۔ حماد ڈرائیو کے دوران بیک مرر میں انمول کو دیکھتے بولا۔

تو آپ کیوں جل رہے ہیں۔۔۔ آپ بھی مجھ پہ چلے جاتے۔۔ وہ اسکی جانب دیکھتی مزے سے بولی۔

شکر ہے میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔۔۔ ورنا زور میری ممانی جان سے عزت افزائی ہو رہی ہوتی۔۔۔ سامنے دیکھتے حماد نے اسے چڑایا۔

وہ پیار پیار میں ڈانٹتی ہیں۔۔۔ انمول مسکراتی گردن اکڑا کے بولی تو حماد نے او کی شیپ میں ہونٹوں کو گول کیا۔

جیسے میں تو کچھ جانتا ہی نہیں ہوں۔۔۔ حماد نے چھیڑا۔

کوئی تو موقع چھوڑ دیا کریں آپ دونوں بحث کا۔۔۔ میشا نے مسکرا کے کہا تو وہ دونوں بھی ہنس دیئے۔

بہن اسہی نوک جھوک میں ہی تو زندگی کا مزہ ہے۔۔۔ انمول پیچھے سے میشا کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے بولی تو میشا نے مسکراہٹ کے ساتھ ہاں میں سر ہلا دیا۔

بلکل سہی کہا۔۔۔ حماد نے بھی انمول کی بات سے اتفاق کیا

ایسے ہی کٹھی میٹھی گفتگو کے درمیان وہ لوگ نور کے گھر پہنچ گئے۔

کون۔۔۔۔ انمول کے دروازہ بجانے پہ اندر سے نور کی آواز آئی۔

سسرال والے۔۔۔ انمول نے آواز لگائی تو پیچھے کھڑے حماد اور میشا زیر لب مسکرائے۔

اسلام و علیکم۔۔۔ نور نے دروازہ کھولتے انہیں اندر آنے کی جگہ دی۔

وعلیکم اسلام کیسی ہو اور میرے بچوں کی شادی میں کیوں نہیں آئیں۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی انمول نے خیریت دریافت کرتے ساتھ شکواہ بھی کیا۔

ہم گاؤں گئے ہوئے تھے بس اس لیئے نہیں آنا ہوا۔۔۔ انہیں اندر لاتی نور نے وضاحت دی جس پہ انمول نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا

اپ لوگ بیٹھی میں امی کو بلاتی ہوں۔۔۔ نور انہیں کہتی جانے لگی تھی کہ اتنے میں مہتاب بیگم ڈرائنگ روم میں داخل ہوئیں۔

کون آیا ہے نور۔۔۔ وہ کہتی اندر آئیں تو سامنے ان تینوں کو بیٹھے دیکھ خوشی سے ان سے ملیں۔

صفدر صاحب گھر پہ نہیں ہیں کیا۔۔۔ دعا سلام کے بعد حماد نے پوچھا۔۔۔

جی وہ نماز پڑھنے گئے ہوئے ہیں بس آتے ہی ہوں گے۔۔۔ انہوں نے بتایا تو حماد ہاں میں سر ہلا گیا۔۔۔ جب کے نور کمرے سے باہر نکل گئی۔

ہم نے سوچا اب تو کافی دن ہوگئے ہیں تو کیوں نا ہم اپنی امانت مانگنے آجائیں ۔۔۔ میشا نے خوش اخلاقی سے کہا ۔

جب کے مہتاب بیگم اسکی بات کا مطلب سمجھ گئیں تھیں۔

وہ آپکی ہی امانت ہے آپ لوگ جب چاہے لے جا سکتے ہیں۔۔۔ انہوں نے دھیرے سے کہا کہ اتنی دیر میں صفدر صاحب بھی اگئے۔

حماد سے ملتے وہ بھی وہیں بیٹھ گئے۔

صفدر صاحب آج ہم شادی کی تاریخ مانگنے آئے ہیں۔۔۔ حماد نے حتمی لہجے میں کہا تو صفدر صاحب نے اپنی بیگم کی جانب دیکھا جنہوں نے آنکھوں کے اشارے سے ہاں کہا تھا۔

جیسی آپ لوگوں کی مرضی ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے بس شادی کی تیاریوں میں تھوڑا وقت لگے گا اس لیئے شادی چار مہینے بعد رکھیں تو زیادہ اچھا ہوگیا۔۔۔ صفدر صاحب نے رسان سے اپنی بات انکے سامنے رکھی۔

صفدر صاحب ہمیں جہیز نہیں چاہیئے۔۔۔ الحمدللہ سے ہمارے گھر میں ہر چیز موجود ہے بس ہمیں آپ کی بیٹی چاہیئے جو ہمارے گھر آکے ہماری زندگی خوشگوار کر دے اس کے علاوہ ہمیں کچھ نہیں چاہیئے۔۔۔ حماد نے مسکراتے انکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے کہا تو انہوں نے تشکر سے اسے دیکھا۔

نور کی شادی کی تیاری تو وہ لوگ کر ہی رہے تھے۔۔. لیکن پھر بھی اس مہنگائی میں صفدر صاحب جیسے سفید پوش مڈل کلاس آدمی کے لیئے جہیز کا انتظام کرنا کافی مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ بڑے گھر میں رشتہ کر رہے تھے تو وہ ان کے حساب سے اپنی بیٹی کو جہیز دینا چاہتے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے ایک دو جگہ سے قرض لینے کی بھی کوشش کی تھی لیکن کوئی بھی انکی معمولی سی کریانے کی دکان دیکھتے انہیں قرض دینے کے لیئے تیار نا تھا۔۔۔ اس وجہ سے وہ کافی دنوں سے بہت پریشان تھے وہ گاؤں جا کے وہاں موجود اپنی ایک زمین بھی بیچ آئے تھے لیکن اس کے پیسے بھی کافی نہیں تھی پر ابھی حماد کی بات سنتے انہوں نے دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا۔

ہاں آپ لوگوں کو جہیز جیسی فضول چیزوں میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے بس دو جوڑی کپڑوں میں ہماری بیٹی کو ہمارے ساتھ رخصت کر دے گا۔۔۔ میشا کے کہنے پہ مہتاب بیگم آسودگی سے مسکرا دیں۔۔۔

اتنے اچھے اخلاق پہ مہتاب بیگم کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔

ارے آپ خوشی کے موقع پہ رو کیوں رہی ہیں۔۔۔ انمول نے انہیں اپنے ساتھ لگایا۔

آج کے زمانے میں آپ جیسے مخلص اور اچھے اخلاق والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔۔۔غریب ہونے کے باوجود آپ لوگ ہمارے گھر رشتہ لے کے آئے اور اب بغیر جہیز کی مانگ کیئے ہماری بیٹی کو عزت سے رخصت کروا کے بھی لے کے جائیں گے۔۔۔ میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کروں اتنا کم ہے۔۔۔ مہتاب بیگم آنسوں صاف کرتی بولیں۔

ضمیر ضمیر کا فرق ہوتا ہے بہن۔۔۔ جن لوگوں کے دل میں خوف خدا نہیں ہوتا وہ لوگ امیر غریب میں فرق کرتے ہیں۔۔۔ ورنا امیر بھی انسان ہے اسے بھی مرنا ہے اور غریب بھی انسان ہے اسنے بھی ایک دم مرنا ہے۔۔۔ حماد نے رسان سے کہا۔

اچھا چلیں یہ سب باتیں چھوڑیں اور شادی کی تاریخ رکھیں۔۔۔ انمول ماحول کو چینج کرتے چہک کے بولی۔

میرے خیال میں اگلے مہینے کی چار تاریخ کیسی رہے گی۔۔۔ حماد نے تاریخ بتاتے صفدر صاحب سے انکی رائے جاننی چاہی۔

جیسے آپ لوگوں کو ٹھیک لگے۔۔. صفدر صاحب نے سب ان پے ہی چھوڑ دیا۔

ٹھیک ہے تو پھر اگلے ماہ کی چار کو بارات ہوگی اور پانچ کو ولیمہ۔۔۔ ڈن۔۔۔ انمول نے کہا تو سب نے اثبات میں سر ہلا دیا جب کے دروازے کے باہر کھڑی نور شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ کچن میں بھاگ گئی۔

اسنے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے اتنے اچھے گھر سے اسکا رشتہ آئے گا۔۔۔ ساس سسر سے لے کے اس خاندان کا ہر فرد ہی بہت اچھا تھا۔۔۔ اور سیف اسے تو وہ جانتی تھی ۔۔۔ وہ جتنا اللہ کا شکر ادا کرتی اتنا کم تھا۔۔۔ جو اسے اتنے اچھے لوگوں سے نواز رہا تھا۔

۔🌺🌺🌺

یہ لو اپنی چیزیں۔۔۔ وہ تھکا ہارا صوفے پہ بیٹھتے چیزوں کا شاپر اور گاڑی کی چابی ٹیبل پہ وردہ کے سامنے رکھتے بولا۔

ساری چیزیں ہیں نا۔۔۔ وہ شاپر میں جھانکتی پوچھنے لگی۔

ہمم سب ہے۔۔۔ تمہاری چیزوں کے چکر میں اتنا گھوما ہوں نا کے پوچھو ہی نہیں۔۔۔دامل سنجیدگی سے بولا

میں پوچھ بھی نہیں رہی۔۔۔ وردہ اپنی چیزیں نکالتے لاپرواہی سے بولی تو دامل نے اسے گھورا۔

جاؤ میرے لیئے چائے بنا کے لاؤ۔۔۔ دامل اپنا ماتھا مسلتے بولا۔

باہر سے ہی پی کے آجاتے وردہ چپس کا پیگٹ کھولتی مزے سے بولی۔۔۔ تو دامل نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔

وردہ۔۔۔ اسنے سختی سے پکارہ تو وردہ منہ بناتی اٹھ کے کچن کی جانب بڑھ گئی۔

وہ وردہ کی چیزیں لینے جانا تو نہیں چاہتا تھا لیکن وردہ میڈم کا کہنا تھا آگر وہ نا گیا تو وہ خود ه چلی جائے گی۔۔۔ دامل جانتا تھا وہ سرپھری جو کہہ رہی ہے وہ کر بھی گزرے گی۔۔۔اس لیئے دامل کو جانا پڑا تھا۔۔۔۔

شیرخان کی دھمکی کے بعد دامل اسے اکیلے ہٹ سے باہر نکلنے نہیں دینا چاہتا تھا وہ لوگ جب سے یہاں آئے تھے دامل کسی کی نظریں مسلسل خود پہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔ اس لیئے وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔

چائے کے انتظار میں وہ صوفے کی پشت پہ سر رکھ گیا۔۔۔ جب کچھ دیر بعد اسے وردہ کی آواز آئی۔

سنو۔۔۔ وہ کچن سے نکلتی سیدھے اسکے سر پہ کھڑی ہوتی بولی۔

ہمم بولو۔۔۔ صوفے کی پشت پہ سر رکھے اسنے بھی بےزاریت سے جواب دیا۔

دودھ پھٹ گیا ہے اس لیئے چائے نہیں بن سکتی۔۔۔ اسنے ہاتھ باندھے عطلاح دی۔

کیا مگر کیسے پھٹا۔۔۔ وہ جو کب سے بیٹھا چائے کا انتظار کر رہا تھا ایک دم چونک کے سیدھا ہوا۔۔۔۔ اسے اس وقت چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی اور یہ لڑکی اتنی دیر میں آکے کہہ رہی تھی کہ دودھ پھٹ گیا ہے۔

میں فرج میں رکھنا بھول گئی تھی۔۔۔ وہ بے نیازی سے بولی۔

یہ تمہاری غلطی ہے اس لیئے مجھے نہیں پتہ مجھے کہیں سے بھی کچھ بھی کرکے کیسے بھی چائے بنا کے دو۔۔۔ وہ اسے گھور کے بولا تو وہ سوچ میں پڑھ گئی اور پھر جب بولی تو سامنے والے کو غصہ دلا گئی

کیا کروں۔۔۔ کیا دودھ کو سوئیں دھاگے سے سی دوں۔۔۔ وہ معصوم شکل بنائے آنکھیں پٹپٹا کے بولی تو مقابل بیٹھے شخص نے غصہ ضبط کرتے مٹھیاں بھیجیں۔

زہر لگتی ہو جب ایسی معصوم شکل بنا کے فضول بکواس کرتی ہو تو۔۔۔ وہ ہر لفظ کو چبا چبا کے بولا۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کے سامنے کھڑی لڑکی کو کہیں غائب کردے۔

تو تم کون سا مجھے شہد لگتے ہو۔۔۔ کڑوے کریلے۔۔۔ اسنے ناک چڑائی۔

ایک تو پتہ نہیں ڈیڈ نے تم میں ایسا کیا دیکھ لیا جو تمہیں میرے متھے مار دیا۔۔۔ ایک آنکھیں نہیں بھاتیں مجھے تو تم۔۔۔ سرد آہ بھرتے جیسے افسوس سے بولا تھا۔

تو دوسری آنکھ سے کوشش کرو مجھے یقین ہے اللہ کرم ضرور کرے گا۔۔۔ وہ دوبدو بولی۔

تم مجھے کبھی بھا ہی نہیں سکتیں چاہے میں ایک آنکھ سے دیکھو یا دونوں آنکھوں سے۔۔۔ کیونکہ تم جیسی منہ پھٹ اور بدتمیز لڑکی کبھی میری آئڈیل نہیں تھی۔۔۔ وہ سنجیدگی سے کہتا ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھائے تیزی سے باہر نکل گیا۔

اونہہ کہہ تو ایسے رہا ہے جیسے اس جیسا سڑیل، اکڑو، بد دماغ، دو نمبر پولیس والا میرا آئڈیل تھا۔۔۔ وہ بھی سر جھٹکتی کمرے کی جانب چل دی۔

۔🌺🌺🌺

دو دن بعد۔۔۔

دامل کی صبح آنکھ کھلی تو وردہ کمرے میں موجود نہیں تھی جب کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔

وردہ۔۔۔ دامل نے اسے آواز لگائی۔۔۔ پر جب کوئی جواب نا آیا تو وہ خود اٹھتے اپنی جیکٹ پہن کے کمرے سے باہر نکلا۔

وہ کمرے سے باہر آیا تو مین گیٹ کھلا ہوا تھا۔۔۔ وہ سمجھ گیا وہ باہر گئی ہے۔۔. اسنے وردہ کو بہت بار اکیلے باہر جانے سے منا کیا تھا لیکن وہ سنتی ہی کب تھی اسکی ۔۔۔

وہ سرد آہ بھرتے باہر آیا تو وردہ سامنے ہی گرل کے پاس کھڑی تھی۔۔۔ وہ پلیک جینز پہ بلیک گھٹنوں تک آتی کرتی پہلے بالوں کی ہائی پونی ٹیل کیئے اپنے گرد سردی سے بچنے کے لیئے وائٹ شال اوڑھے ہوئے تھی۔

دامل اسے دیکھتے آگے بڑھا اور اسکے ساتھ جا کے کھڑا ہو گیا

میں نے منا کیا تھا نا کہ اکیلی باہر نہیں نکلنا۔۔۔ دامل سنجیدگی سے سامنے موجود جنگلات کو دیکھتے بولا۔

یہاں کی صبح یہاں کی شام کتنی اچھی ہے نا۔۔۔ میرا تو دل کرتا ہے ہر صبح ہر شام ان پہاڑیوں کو دیکھتے ان جنگلات کی ہریالی سے لطف اندوز ہوتے یہاں بیٹھ کے چائے پیا کروں۔۔۔ وردہ اسکی بات نظرانداز کرتی۔۔۔ ٹھنڈی ہوا میں گہرا سانس بھرتی بولی تو دامل نے اسکے چہرے کو دیکھا۔۔

پرنور خوبصورت چہرہ۔۔۔ جس پہ ایک سکون چھایا ہوا تھا۔۔۔ سفید رنگت پہ سردی سے سرخ ہوتی ناک الگ ہی نظر آرہی تھی۔۔. دامل اسے بےخودی کے عالم میں دیکھتا رہا۔

وہ لوگ آج مری سے آگے نکلنے والے تھے۔۔۔ لیکن وردہ کا مری سے جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا۔

ایک بات بتاؤ جالیA.S.P یہ کھائی کتنی گہری ہوگی۔۔۔ وردہ نیچے گہری کھائی کو دیکھتی معصومیت سے پوچھنے لگی۔

چھلانگ لگا کے دیکھ لو۔۔۔ آگر بچ گئیں تو سمجھ جانا زیادہ گہری نہیں ہے اور آگر نا بچیں تو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ کتنی گہری اور خطرناک ہے۔۔۔ دامل اطمینان سے بولا تو وردہ نے اسے گھور کے دیکھا۔

مجھے اپنی زندگی سے محبت پیار ہے اس لیئے میری جگہ تم چھلانگ لگاؤ گے۔۔۔ وردہ نے اترا کے کہا تو دامل نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔ مطلب اس لڑکی کو کتنا بھی کہ دو مگر وہ تم کہنے سے باز نہیں آئے گی۔

اس کھائی میں آواز لگا کے دیکھتے ہیں کے کتنی گونجتی ہے۔۔۔ وردہ نے اکسائٹمنٹ​ سے کہا جب کے دامل کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

یہ بچپنا تم ہی کرو۔۔۔ دامل کے کہنے پہ وہ کندھے اچکاتی نیچے کی جانب منہ کر کی چیخی۔

لو یو زندگیییییی۔۔۔۔۔ سنسان جنگل میں اسکی آواز کافی دور تک گونجی تھی۔۔۔۔ جیسے سنتے وہ بہت خوش ہوئی تھی۔

ہو گیا اب آجاؤ اندر سامان پیک کرلو پھر نکلنا بھی ہے۔۔۔ دامل مشکل سے اسکے چہرے سے نظریں ہٹا کے کہتا اندر بڑھ گیا تو وہ بھی ایک مسکراتی نظر چاروں طرف ڈالتی اسکے پیچھے ہولی۔

۔🌺🌺🌺