Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 25)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 25)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
انمول گھر پہ ہے۔۔۔ میشا انمول سے بات کرنے اسکے گھر آئی ہوئی تھی جب گھر میں ایک دم خاموشی دیکھتے اسنے لاونچ میں کام کرتی ملازمہ سے پوچھا۔
جی وہ اپنے کمرے میں ہیں۔۔۔ ملازمہ نے ادب سے جواب دیا تو میشا انمول کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
ٹھک ٹھک۔۔۔ میشا دروازے پہ دستک دیتی کمرے میں داخل ہوئی تو انمول کو کمرے میں ٹہلتے فون پہ بات کرتے پایا۔
انمول نے میشا کو دیکھتے ہاتھ کے اشارے سے اندر آنے کا کہا۔۔۔ تو میشا اندر آتی بیڈ پہ بیٹھ گئی۔
اچھا وردہ میں بعد میں بات کرتی ہوں تم سے۔۔۔ انمول فون بند کرتی میشا کی جانب متوجہ ہوئی۔
وردہ کا فون تھا بتا رہی تھی کہ وہ لوگ کل مری جارہے ہیں ۔۔۔ اور پھر وہاں سے ناران کاغان اور بھی کافی جگہ جائیں گے گھومنے کے لیئے۔۔۔ انمول میشا کے سامنے بیٹھتی اسے بتانے لگی۔
یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔ اللہ اسے خوش رکھے۔۔۔ میشا نے مسکرا کے دعا دی جس پہ انمول نے دھیرے سے آمین کہا۔
تم بتاؤ آج اس غریب کے گھر کا پتہ کیسے بھول گئیں۔۔۔ ورنا تم تو اپنے گھر میں قید ہو کے رہ گئی ہو۔۔۔ سامنے کے سامنے ہی تم مہینوں میں آتی ہو۔۔۔ انمول نے تیوری چڑھائے پوچھا تو میشا مسکرا دی۔
یار تم تو جانتی ہوں نا۔۔۔ پھوپھا اور پھوپھو کے انتقال کے بعد حماد کتنے اداس ہوگئے تھے۔۔۔ ہمارا گھر کتنا خالی ہو گیا ہے۔۔۔ بس اس لیئے میں نہیں آتی ۔۔۔حماد جلدی گھر آجاتے ہیں اور پھر وہ مجھے کہیں جانے نہیں دیتے۔۔۔ کہتے ہیں آگر میں بھی چلی جاؤں نا تو گھر انہیں کاٹنے کے لیئے دوڑتا ہے۔۔۔ اس لیئے میں نے ہر جگہ آنا جانا ترک کر دیا ہے۔۔۔ میشا نے رسان سے وجہ بتائی جسے سمجھتے انمول ہاں میں سر ہلاگئی۔
خیر میں یہ کہنے آئی تھی کہ ایک دو دن میں نور کے گھر چلنا ہے شادی کی بات کرنے۔۔۔ میشا نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔
ایک دو دن کیا ہم آج ہی چلتے ہیں۔۔۔ انمول فورن بولی
ابھی تو وردہ اور بسام کی شادی ہوئی ہے کچھ دن ٹھہر کے جائیں گے۔۔۔ میشا نے سمجھانا چاہا لیکن انمول کہاں کسی کی سمجھتی تھی۔
بھئی جو کام جتنا جلدی ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے۔۔۔ اس لیئے میری مانوں تو ہم آج ہی چلتے ہیں۔۔۔ انمول نے اپنی بات پہ زور دیا۔
اففف انو۔۔۔ اسہی وجہ سے حماد مجھے منا کر رہتے تھے کہ میں تمہیں ابھی نا بتاؤ ورنا تم ہتھیلی پہ سرسو جما لیتی ہو۔۔۔وہی اچھا تھا اسہی دن بتاتی تمہیں جس دن جانا تھا۔۔۔ میشا نے ماتھے پہ ہاتھ مارتے کہا تو انمول نے اسکی بات پہ اسے گھورا۔
جاؤ اب میں بھی نہیں جاؤ گی تم لوگوں کے ساتھ ۔۔۔ خود ہی چلے جانا اور رکھ آنا شادی کی تاریخ اکیلے ہی۔۔۔ انو خفگی سے بولی تو میشا فکر مند ہوئی۔
یار انو تم نہیں چلو گی تو پھر مزاہ کیسے آئے گا۔۔۔ اور ویسے بھی وہ لوگ ہم سے زیادہ تمہیں جانتے ہیں۔۔۔ میشا نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے اسے چلنے کے لیئے راضی کرنا چاہا لیکن انو نے فورن نفی میں سر ہلا دیا۔
آؤ گی، جاؤ گی تو تمہیں بھی جان جائیں گے۔۔۔ اب میرا ہاتھ چھوڑو اور جا کے چاچی سے مل لو وہ بھی تمہیں بہت یاد کرتی ہیں۔۔۔ انمول اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکالتے اٹھ گئی۔
اسے اٹھتے دیکھ میشا بھی اسکے ساتھ ہی کھڑی ہوئی۔۔۔۔
یار میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔ وہ تو حماد نے مزاق میں کہا تھا میں بس وہی بتا رہی تھی۔۔۔ میشا اسکے سامنے آتی اسے منانے لگی۔
میں جانتی ہوں تم سب مجھ سے تنگ آئے ہو ۔۔۔ انمول نے اپنے نا نظر آنے والے آنسوں صاف کیئے۔
انو یار میں کہہ تو رہی ہوں بس مزاق تھا۔۔۔ میشا کو لگا وہ سچ میں رو رہی ہے اس لئے بےچارگی سے بولی تو اسکی شکل دیکھتے انمول کی ایک دم ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
ہاہاہا یار تم تو پریشان ہی ہوگئیں میں تو مزاق کر رہی تھی۔۔۔ انمول اسکی رونے والی شکل دیکھتے بیٹ پکڑے ہنسی اور ہنستی ہی چلی گئی۔
بہت بدتمیز ہو تم ۔۔۔ جاؤ میں تم سے بات ہی نہیں کرتی۔۔۔ میشا ناراضگی سے کہتی رخ موڑ گئی۔
میں حماد بھائی نہیں ہو اس لیئے مجھ سے امید نہیں رکھنا کہ میں تمہیں مناوں گی ۔۔۔ انمول نے سیریس انداز میں کہا تو میشا کا منہ کھلا۔
انووووو۔۔۔۔ میشا صدمے سے چیخی تو انمول ہنستی ہوئی اسکے گلے لگ گئی۔
ہاہاہا میری پیاری سی بہنا۔۔۔ زرا مسکرا تو دونا۔۔۔ انمول اسکے گال کھینچتی شرارت سے بولی تو میشا بھی ہنس دی۔
۔![]()
![]()
![]()
جیسے ہی صبح کی پہلی کرن نکلی تھی وردہ کی خود با خود آنکھ کھول گئی تھی۔۔۔ اسے جانے کی کچھ زیادہ ہی اکسائٹمنت تھیں اس لیئے وہ صبح ہی اٹھ کے بیٹھ گئی تھی۔
وہ رات کو ہی ساری پیکنگ کر چکی تھی اور فہد سے کہ کے اسنے شام کی بجائے دوپہر ایک بجے کی اسلام آباد کی فلائٹ کر والی تھی۔۔
دامل کے اٹھنے سے پہلے ہی اسنے اٹھ کے اسنے دامل کے کپڑے بھی تیار کر دیئے تھے اور خود بھی تیار ہونے لگ گئی تھی۔
جالیA.S.P اٹھ جاؤ دیر ہو رہی ہے ہمیں۔۔۔ دامل کو کروٹ لیتے دیکھ وردہ نے آواز لگائی۔۔۔ جس سے دامل نے زرا سی آنکھیں کھول کے اسے دیکھا ۔
وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی میک اپ کر رہی تھی۔۔۔ دامل نے اسے دیکھتے نظریں گھڑی کی جانب کیں جو صبح کے دس بجا رہی تھی۔
اسے اتنی جلدی اٹھے دیکھ دامل کو حیرت ہوئی تھی۔۔۔ کہاں وہ نیند کی پکی دیر سے اٹھنے والی اور آج وہ اتنی جلدی اٹھ کے بیٹھ گئی تھی۔
تم اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی ہو۔۔۔ فلائٹ تو ایک بجے کی ہے۔۔۔ دامل بیک گراؤنڈ سے ٹیک لگا کے بیٹھا۔
مما کہتی تھیں کسی کام میں دیر نہیں کرنی چاہیئے جو کام جتنی جلدی ہو سکے اسے کر لینا چاہیئے۔۔۔ اس لیئے میں نے جلدی اٹھ کے تمہارے کپڑے اور باقی ساری چیزیں بھی نکال دیں ہیں اور اب میں سکون سے تیار ہو رہی ہوں تا کہ وقت پہ تیار ہو سکوں۔۔۔ وردہ بلش لگاتی اسے تفصیل سے بتانے لگی تو اسنے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلادیا۔
اب تم بھی اٹھ جاؤ۔۔۔ میں نہیں چاہتی ہمیں تمہاری وجہ سے دیر ہو۔۔۔ وردہ لائٹ پنک لب اسٹک لگاتی دامل کو دیکھے بغیر بولی ۔
جب کے اسکے پھر سے تم کہنے پہ دامل کا دماغ گھوما تھا۔۔۔ اسنے ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھتے اس تک پہنچتے اسکا بازو پکڑ کے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
اس اچانک افتاد پہ وردہ کے ہاتھ سے لب اسٹک زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔
یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔ وردہ اپنی لب اسٹک کو نیچے گرے دیکھ غصے سے اسے گھورنے لگی۔
میرے ہزار بار منا کرنے کے باوجود بھی تم نے میری بات نہیں مانی۔۔۔ کتنا بولا تھا کہ تم نہیں کہنا لیکن تمہاری سمجھ میں کہاں آتی ہے نرمی سے کہی جانے والی بات۔۔۔ اس لیئے اب سزا کے لیئے تیار ہو جاؤ۔۔۔ دامل سختی سے اسکے دونوں بازوں کو پکڑے غصے سے سرخ آنکھیں اسکی بےخوف آنکھوں میں گاڑے سرد لہجے میں بولا تو ایک دم وردہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔
انہی لبوں سے مجھے تم کہتی ہو نا۔۔۔ دامل اسکے آدھے لب اسٹک سے سجے لبوں پہ انگلی رکھتے معنی خیزی سے بولا تو وردہ اسکی بات کا مطلب سمجھتی اس سے اپنا آپ چھڑوانے لگی جس کی وجہ سے دامل نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
وردہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکے بدلتے رنگ دیکھ رہی تھی۔۔۔
چھو۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔ اسکی انتہا کی قربت پہ وردہ کے الفاظ ٹوٹ پھوٹ کے ادا ہوئے تھے۔
آج تو سزا دیئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ دامل گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے لبوں پہ جھکنے ہی لگا تھا کہ دروازہ بج گیا۔
دامل کا دھیان دروازے کی طرف گیا تو اسکی پکڑ کمزور ہوئی جس کا وردہ فائدہ اٹھاتی فورن واشروم میں گھس گئی۔
کون۔۔۔ دامل اپنا غصہ ضبط کرتے پوچھنے لگا۔
صاحب جی بڑے صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔ باہر سے ملازمہ کی آواز آئی۔
آرہا ہوں۔۔۔ دامل کہتا ایک نظر واشروم کے بند دروازے کو دیکھتے باہر نکل گیا۔۔۔
دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پہ وردہ نے واشروم کا دروازہ کھولتے تھوڑا سا جھانک کے دیکھا۔۔۔خالی کمرہ دیکھتے وہ گہری سانس بھر کے باہر آئی۔
اونہہ ٹھرکی A.S.P وہ زمین پہ پڑی اپنی لب اسٹک اٹھاتی ڈریسنگ کے پاس ائی۔۔۔
کچھ دیر پہلے دامل کی حرکت یاد کرتے جسم میں ایک کپکپی طاری ہوئی جس پہ وہ سر جھٹکتی اپنے کام میں لگ گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
دادا جان اور فہد سے ملنے کے بعد وہ لوگ ائرپورٹ کے لیئے نکل گئے تھے۔۔۔ دامل کی صبح والی حرکت کے بعد وردہ نے دوبارہ اسے مخاطب کرنے کی غلطی نہیں کی تھی جب کے دوسری طرف دامل نے بھی زیادہ اس سے بات نہیں کی تھی۔
صبح جلدی اٹھنے کی وجہ سے وردہ فلائٹ میں بیٹھتے ہی سوگئی تھی۔
اٹھ جاؤ۔۔۔ جب دیکھو سو جاتی ہو۔۔۔ فلائٹ لینڈ ہوتے ہی دامل نے اسے جگایا تو وہ ایک بھرپور انگڑائی لیتی اٹھی۔
ائرپوٹ سے باہر نکلتے ہی دامل کو ایک آدمی نے گاڑی کی چابی دی۔۔۔ جس سے وہ لوگ آگے کا راستہ طے کرنے والے تھے۔
دونوں گاڑی میں بیٹھتے ایک اور طویل سفر کے لیئے نکل گئے تھے۔۔۔ ہمیشہ کی طرح گاڑی میں بیٹھتے ہی وردہ پھر سے سوگئی تھی۔
پانچ گھنٹے کے لمبے سفر کے بعد وہ لوگ مری میں موجود دامل کے ہٹ پہنچنے والے تھے جب وردہ اپنی نیند اچھے سے پوری کرتے اٹھ گئی۔
کتنا سفر بچا ہے۔۔۔ پورے سفر میں یہ پہلی بار تھا جو وردہ نے اسے مخاطب کیا تھا۔
پہنچنے والے ہیں بس۔۔۔ دامل ڈرائیو کرتے بولا۔
بڑی جلدی پہنچ گئے۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلا راستے کا۔۔۔ وردہ آسمان پہ پھیلتے اندھیرے کو دیکھتے بولی تو دامل نے اسے گھورا۔
اسنے تو پورا سفر سو کے گزارا تھا۔۔۔ سفر تو اکیلے دامل نے کیا تھا ۔۔۔ پر دامل نے اسے کچھ کہا نہیں۔۔۔ جانتا تھا کہنے کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔
وہ لوگ اپنی منزل پہ پہنچے تو وردہ گاڑی سے نکلتی ٹھنڈی فضا میں گہرا سانس بھر کے اپنے سوئے ہوئے اعضاء کو سکون بخشنے لگی
وہ اردگرد کے منظر کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ چاروں طرف درخت تھی جو رات کی تاریکی میں رات کا ہی حصہ لگ رہی تھی۔۔۔ تیز آواز کے بعض پتوں کی چڑچڑاہٹ رات کے اس ماحول میں سر بکھیر رہی تھی۔
اندر آجاؤ ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔۔ دامل گاڑی سے سامان اندر لے جاتے اسے لون کے سوٹ میں بغیر کسی جیکٹ یا شال کے دیکھتے بولا تو وہ اسکے پیچھے اندر بڑھ گئی۔
وہ چھوٹے سے لکڑی کے بنے ہٹ میں داخل ہوئی۔۔۔ جس میں ارابر برابر دو کمرے تھے کمروں کے رائٹ سائڈ پہ اوپن کچن تھا جس کے سامنے ایک چھوٹا سا ٹی وی لاؤنچ تھا۔۔۔ وردہ ایک طائرانہ نظر پورے ہرٹ پہ دوڑاتی دامل کے پیچھے ایک کمرے میں داخل ہوئی۔
کمرا زیادہ بڑا نا سہی لیکن چھوٹا بھی نہیں تھا۔۔۔ ایک ڈبل بیڈ تھا جس کے سامنے دو سنگل صوفے رکھے ہوئے تھے۔۔ رائٹ سائڈ واشروم تاج جس کے برابر میں الماری رکھی ہوئی تھی اور الماری کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل رکھی ہوئی تھی۔۔۔ وردہ کو یہ چھوٹا سا پیارا سا ہٹ بہت پسند یہاں تھا جس کا اظہار اسنے دامل سے بھی کر دیا تھا
یہ ہٹ تو بہت ہی اچھا ہے۔۔۔ میرا تو دل کر رہا ہے میں همیشہ کے لیئے یہیں رک جاؤ۔۔۔ وردہ بیگ سے اپنے اور دامل کے کپڑے نکالتے جیکٹ اتارتے دامل کو دیکھتے بولی تو وہ بس سر ہلا کے وہ گیا۔
وردہ اپنے کپڑے لیئے فریش ہونے چلی گئی۔۔۔ جب کے دامل تھکن سے چُور بیڈ پہ لیٹ کے وردہ کے نکلنے کا انتظام کرنے لگا۔
دس منٹ بعد وردہ فریش ہو کے باہر آئی تو دامل اپنے کپڑے لیتا فریش ہونے چلا گیا۔
جتنی دیر میں وہ فریش ہو کے آیا تھا اتنی دیر میں وردہ تیار بھی ہوگئی تھی۔
چلیں میں تیار ہوں۔۔۔ اسکے واشروم سے نکلتے ہی وردہ فورن صوفے سے کھڑی ہوئی۔
کہیں جانا ہے کیا۔۔۔ دامل تولیہ سے بال رگڑتے ناسمجھی سے پوچھنے لگا۔
مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ کچھ کھانے نہیں چلنا کیا۔۔۔ وردہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
کچن میں سارا سامان موجود ہے تم کچھ بھی بنا کے کھا لو۔۔۔ میرا کچھ کھانے کا دل نہیں ہے میں بس آرام کروں گا۔۔۔دامل پہلے سے ہی یہاں سارے انتظام کروا چکا تھا اس لیئے سکون سے کہتا تولیہ صوفے پہ پھیکتے پھیل کے بیڈ پہ لیٹ گیا۔
مجھے کچھ بنانا نہیں آتا۔۔۔ وردہ نے سکون سے کہا جب کے اسے کافی چیزیں بنانی آتی تھیں۔۔۔ لیکن وہ یہ بات دامل کو بتانا نہیں چاہتی تھی ورنا پھر وہ ہمیشہ ہی اسے خود سے کچھ بنانے کا کہہ دیتا ۔۔۔ اس لیئے وردہ نے اسے کچھ نہیں بتایا تھا۔
یہاں نیٹ چلتا ہے ۔۔۔ یو ٹیوب پہ کوئی آسان سی ریسپی دیکھ لو۔۔۔ اور ہاں مجھے ایک کپ چائے بنا دو ۔۔۔ فرج میں دودھ رکھا ہوا ہے۔۔۔۔ دامل اطمینان سے اسے مشورہ دیتا ساتھ اپنے لیئے چائے کی فرمائش بھی کر گیا۔
میں سفر سے تھک کے آئی ہوں ۔۔۔ اس لیئے میں کچھ نہیں بنا رہی۔۔. اٹھو اور باہر چلو بھوک لگ رہی ہے مجھے بہت تیز۔۔۔ وردہ مٹھیاں بیچنے بولی۔۔۔ تو دامل نے اسے آئیبرو اچکائے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو سیریسلی تم سفر سے تھک کے آئی ہو ۔۔۔
اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو، اٹھو۔۔۔ وردہ اسے خود کو گھورتے دیکھ جھنجھلا کے بولی۔
میں سارے راستے آرام کرتا آیا ہوں اس لیئے تھک گیا ہوں۔۔۔ آگر تمہیں جانا ہے تو اکیلی چلی جاؤ اور آگر نہیں جانا تو کچن میں سب ہے کچھ بنا لو۔۔۔ اور آگر وہ بھی نہیں کر سکتیں تو چپ چاپ یہاں آکے سو جاؤ ۔۔۔ لیکن مجھے تنگ مت کرو۔۔۔ دامل اسے کافی آپشنز دیتا آنکھیں موند گیا تو وردہ بھی غصے سے اپنا کوٹ پہنتی ہٹ سے نکل گئی۔
مین گیٹ بند ہونے کی آواز پہ دامل نے گہری سانس بھرتے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی پھر اٹھ کے جیکٹ پہنتے اسکے پیچھے گیا۔
سرپھری۔۔۔ اسے خالی راستے پہ اکیلے چلتے دیکھ وہ اسکے پیچھے ہو لیا۔
جب کے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے وہ سمجھ گئی کہ یہ دامل ہی ہوگیا اس لیئے بغیر پیچھے مڑے چلتی رہی۔
اب چلتی ہی رہوں گی یا کہیں رکو گی بھی۔۔۔تمہیں تو بھوک لگ رہی تھی نا بہت تیز۔۔۔ کافی ریسٹورینٹ پیچھے نکل گئے لیکن جب وہ نا رکی تو دامل نے اسے مخاطب کیا۔
تمہیں کیا تم رہتے ہٹ میں کیوں آئے میرے پیچھے۔۔۔آرام کرتے سکون سے۔۔۔ وردہ پیچھے مڑتی انجانے میں ہی لیکن اس سے شکوہ کر گئی۔
بیوی ہو تم میری۔۔۔ تمہاری حفاظت کرنا میرا فرض ہے۔۔۔ ایسے انجان جگہ پہ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔ اب بغیر کوئی سوال کیئے آجاؤں میرے پیچھے۔۔۔ دامل سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھ گیا تو وردہ بھی بغیر کوئی سوال کیئے اسکی بات پہ مسکراتی اسکے پیچھے ہولی۔
دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیئے جگہ بن رہی تھی لیکن دونوں ہی اس بات سے انجان تھے۔۔۔
۔![]()
![]()
![]()
