820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 21)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

آپ وردہ کو کمرے میں چھوڑ آئیں اور دامل تم میرے ساتھ آؤ زرا۔۔۔ فہد ملازمہ سے کہتے دامل سے مخاطب ہوتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا جب کے ملازمہ وردہ کو لیئے دامل کے روم کی جانب بڑھ گئی۔

گھر میں کوئی عورت تو تھی نہیں جو کوئی رسم کرتے۔۔۔ اس لیئے وردہ کو گھر لاتے سیدھے اسکے کمرے میں بھیج دیا تھا۔۔۔ اور فہد خود دامل کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔۔ جب کے دلاور خان تو گھر میں داخل ہوتے ہی تھکن کا بہانا بناتے سیدھے اپنے کمرے میں جا کے بند ہوگئے تھے۔

وردہ نے کمرے میں قدم رکھا تو بھینی گلاب کے پھولوں کی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی۔۔۔ جسے اسنے ایک لمبی سانس کھینچتے اپنے اندر اتارا تھا۔

بیگم صاحبہ آپ کو کچھ چاہیئے۔۔۔ ملازمہ نے ادب سے پوچھا۔

نہیں۔۔۔ وردہ کمرا دیکھتی نفی میں سر ہلا کے بولی تو ملازمہ جی کہتی دروازہ بند کرتی کمرے سے نکل گئی۔

واہ کافی اچھی پسند ہے جالی A.S.P کی ۔۔۔وردہ بیڈ پہ بیٹھتی پورے کمرے کا جائزہ لیتی وہاں موجود ہر ایک قیمتی اور خوبصورت چیز کو دیکھتی دامل کی پسند کو داد دینے لگی۔

اففف یہ ڈوپٹہ ۔۔۔ وردہ بھاری دوپٹے سے تنگ آتی اسے اتار کے سائڈ پہ رکھتی سکون سے بیٹھ پہ آڑھی ترچھی لیٹ گئی۔۔۔۔

سارے دن کی تھکن کی وجہ سے کب اسکی آنکھ لگی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔

۔ 🌺🌺🌺

دامل یہ لو یہ وردہ کو منہ دیکھائی کا تحفہ دے دینا۔۔۔ فہد نے الماری سے ایک سیٹ نکالتے اسکی جانب بڑھایا ۔

مگر ڈیڈ یہ تو موم کا تھا نا۔۔۔ اپنی ماں کا سیٹ دیکھتے دامل نے سوالیہ نظروں سے فہد کو دیکھا۔

ہاں لیکن اب یہ اس کی بہو کا ہوگا۔۔۔ لو وردہ کو دے دینا۔۔۔ دامل نے جیولری کیس اسکے ہاتھ میں تھمایا جسے دامل خاموشی سے تھامتا کمرے سے نکل گیا۔

سیڑھیاں چڑھتے دامل اپنے کمرے میں داخل ہوا تو سب سے پہلی نظر دوپٹے سے بےنیاز بیڈ پہ سوئی وردہ پہ گئی۔۔۔ جسے دیکھتے دامل میسمرائز ہوا۔۔۔ وہ سوتے ہوئے اتنی پیاری اور معصوم لگ رہی تھی کے دامل کے قدم خود با خود اسکی جانب اٹھنے شروع ہوئے تھے۔

وہ بیڈ کے پاس پہنچتے بےخودی سے اسے دیکھے جارہا تھا لیکن جب وردہ نے کروٹ بدلی تو جیسے وہ ایک دم ہوش کی دنیا میں واپس لوٹتا خود کو ملامت کرنے لگا۔

اٹھو لڑکی۔۔۔۔اسکے وجود سے نظریں چراتے اسنے سنجیدگی سے تھوڑی بلند آواز میں اسے پکارہ۔

وردہ کی چونکہ ابھی کچی نیند تھی اس وجہ سے وہ اسکی ایک تیز آواز پہ ہی ہڑبڑا کے اٹھ کے بیٹھ گئی تھی۔

کی۔۔۔ کیا۔۔۔۔ اسنے گھبراتے ہوئے پوچھا۔

یہ لو تمہاری منہ دیکھائی۔۔۔ دامل نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے روکھے انداز میں جیولری کیس اسکی جانب بڑھایا۔

منہ دیکھائی دے رہے ہو کوئی احسان نہیں کر رہے جو اتنا ایٹیٹیوڈ دیکھا رہے ہو۔۔۔ وردہ ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ سے کیس تھامتی اسے گھور کے ایک نظر دیکھنے کے بعد ڈیٹ دیکھنے لگی۔

اس سے فرصت سے وہاں بیٹھ کے دیکھو۔۔۔ ابھی ہٹو میرے بیڈ سے مجھے سونا ہے۔۔۔ دامل اسے سیٹ میں مگن دیکھ سرد لہجے میں بوتا تو وردہ کے ماتھے پہ بل پڑے۔

یہ میرے بیڈ سے کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔ کیا تم بھول رہے ہو میں تمہاری بیوی ہوں اور اب سے اس بیڈ پہ تو کیا اس کمرے میں موجود ایک سوئیں پہ بھی میرا پورا حق ہے۔۔۔ تو تم کوئی نہیں ہوتے مجھے یہاں سے ہٹانے والے۔۔۔ وردہ پورے بیڈ پہ اپنا شرارہ پھیلاتی حق سے بولی۔۔۔ جب کے دامل پھر سے اسکے تم کہنے پہ ضبط کر کے رہ گیا۔

وہ ابھی نئی آئی تھی اس لیئے وہ کچھ کہہ نہیں رہا تھا ۔۔۔ ورنا وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اسے کیسے سیدھا کرنا ہے۔

شاید تمہیں کم سنائی دیتا ہے میں نے ہٹنے کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ مجھے سونا ہے۔۔۔ دامل دانت پیس کے بولا۔

ہاں تو سو جاؤ ۔۔۔ وردہ بیڈ پہ پھیلا شرارہ ایک طرف سے ہٹاتی خالی جگہ کی طرف اشارہ کر کے بولی۔

وردہ کی دی گئی تھوڑی سی جگہ کو دیکھتے دامل غصے سے الماری سے اپنے کمرے لیتا واشروم میں گھستے دروازہ ٹھا کر آواز کے ساتھ بند کر گیا

اونہہ نخرے تو دیکھو کیسے ساتویں آسمان پہ پہنچے ہوئے ہیں۔۔۔ پر کوئی نہیں میں بھی وردہ ہوں سارے نخرے نکال نا دیئے تو کہنا۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتی ڈوپٹہ اٹھائے بیڈ سے اتری۔

ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ کے اسنے ایک ایک کرتے اپنی جیولری اتارنی شروع کی۔

یہ گھل کیوں نہیں رہی۔۔۔ پازیب کا لاک کھولنے کی کوشش کرتی جھنجھلا کے بولی کے اتنی دیر میں واشروم کا دروازہ کھولتے دامل باہر نکلا۔

سنو زرا یہ کھول دو مجھے سے کھل نہیں رہی۔۔۔ بیڈ کی جانب بڑھتے دامل کے قدم وردہ کی بات سنتے رکے تھے۔

نہیں کھل رہی تو زبان سے کاٹ دو۔۔۔ مجھے امید ہے جیسے قینچی کی طرف تمہاری زبان چلتی ہے نا یہ چاندی بھی کاٹ دے گی۔۔۔ دامل طنز کرتا اسے دیکھے بغیر اپنی جگہ پہ لیٹ گیا۔۔۔ مگر وردہ کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ پڑھ گیا تھا۔

غصے میں آکے اسنے اتنی تیز پازیب کھینچی کے اسکا لاک ہی ٹوٹ گیا۔۔۔

اس دو نمبر پولیس والے کی طرح یہ لاک بھی دو نمبر تھی۔۔۔ وہ ٹوٹے ہوئے لاک کو دیکھتی باآواز بلند دامل کو سنانے کے لیئے بولی ۔۔۔ تو آنکھوں پہ ہاتھ رکھے لیٹے دامل نے باخوبی اسکی آواز سنتے تھوڑی سی آنکھ کھول کے اسے دیکھا تھا جو اب اپنے جوڑے سے الجھ رہی تھی۔

ایک تو شوہر بھی نکما ہے یہ نہیں کہ بیوی کی تھوڑی سی مدد ہی کردے ۔۔۔۔

اففف اللہ کیسے ٹی وی میں ہیروئن ایک پن نکالتی ہیں اور سارے بال کسی آبشار کی طرح لہرا جاتے ہیں اور ایک یہ میرے بال ہیں جس میں سے پنز ہی نہیں نکل رہیں ۔۔۔ اور کھلنے کے بعد مجھے پورا یقین ہے میرے بالوں میں چڑیا کا گھونسلہ بنا ہوا ہوگا۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتی منہ بنا کے بولی تو دامل اسکی باتیں سنتے نفی میں سر ہلاتا آنکھیں موند گیا۔

جانتا تھا اب تو یہ روز کا معمول ہوگا وردہ جو اس گھر میں آگئی تھی اس لیئے وہ اسکی باتوں پہ کان دھرنے کو فوقیت دیتے کی بجائے اسنے اپنی نیند کو فوقیت دی تھی۔

۔🌺🌺🌺

انو کیا ہوگیا ایسے کیوں بیٹھی ہو۔۔۔ تم نے چینج کیوں نہیں کیا ابھی تک۔۔۔۔مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد ابتسام کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی بیڈ پہ انمول منہ لٹکائے بیٹھی تھی۔

کچھ نہیں۔۔۔ انمول نے نفی میں سر ہلایا۔

آگر اس طرح اداس بیٹھنا تھا تو نہیں کرتیں وردہ کی شادی اتنی جلدی۔۔۔ تمہیں ہی اتنی جلدی پڑی تھی اور اب اداس ہو رہی ہو۔۔۔ ابتسام اپنی گھڑی اتارتے بولا

میں وردہ کی وجہ سے اداس نہیں ہو رہی۔۔۔ انمول نے گردن گھما کے بتایا۔

پھر کیوں منہ پہ بارہ بج رہے ہیں۔۔۔ ابتسام اسکے برابر میں بیٹھتا آنکھیں چھوٹی کیئے بولا۔

آج میں اتنا اچھا تیار ہوئی تھی لیکن مہمانوں کو دیکھنے کے چکر میں، میں نے ایک بھی تصویر نہیں بنوائی بس وردہ کے ساتھ ایک دو کھینچیں ہیں ۔۔۔ وہ منہ بنائے بولی تو ابتسام کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے جو اتنی سی بات پہ اداس ہورہی تھی۔

میری ایکسٹرا معصوم بیوی آگر تم نے جب تصویر نہیں بنوائی تو میں اب بنا دیتا ہوں فون میں۔۔۔ بعد میں ہم فون سے تصویریں نکلوا لیں گے۔۔۔ ابتسام نے جیب سے فون نکالتے آئیڈیا دیا جیسے سنتے انمول خوش ہوگئی۔

ہاں یہ ٹھیک ہے چلیں بالکنی میں چلتے ہیں وہاں اچھی تصویریں آئیں گی۔۔۔ انمول فورن اسکا ہاتھ پکڑے بالکنی میں لے گئی۔

اور پھر ابتسام نے اسکی کئی تصویریں الگ الگ زاویوں سے کھینچیں۔۔۔

لو اتنی سی بات تھی بس اور تم منہ لٹکا کے بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔ ابتسام اسکے گرد بازو پھیلاتا بولا۔

تھینک یو ابتسام۔۔۔ انمول بھی اسکے گرد اپنا حصار بناتی اسکے سینے پہ تھوڑی ٹکائے اسکے چہرے کو دیکھنے لگی۔

ہائے تمہارے منہ سے اپنا نام سنے کا شرف بہت کم حاصل ہوتا ہے لیکن جب بھی حاصل ہوتا ہے دل کے سارے تار ہلا جاتا ہے۔۔۔ وہ اسکی پیشانی پہ لب رکھتا اسے اپنے ساتھ اندر لیئے بڑھ گیا۔

۔🌺🌺🌺

نئی جگہ ہونے کی وجہ سے صبح وردہ کی آنکھ جلدی گھل گئی تھی۔۔۔

اسکی جیسے ہی آنکھ کھلی سب سے پہلے اسکی نظر دامل پہ پڑی تھی جو شرٹ لیس اسکی طرف کروٹ لیئے سورہا تھا۔

پیشانی پہ بکھرے بال، کھڑی ناک جس پہ ہمیشہ غصہ رہتا تھا، ہلکی ہلکی بیئرڈ، موچھوں تلے عنابی لب۔۔۔ وردہ کافی دیر تک اسکے چہرے کو دیکھتی رہی۔۔۔

کھڑوس ہے تو ہنڈسم ۔۔۔ باڈی بھی اچھی خاصی بنائی رکھی ہے ورنا تو زیادہ طر پولیس والوں کی اتنی بڑی تھون ہوتی ہے۔۔۔ وردہ اسکا کسرتی بدن دیکھتی اٹھ کے بیٹھی۔

یہ کیا ابھی تو صرف نو بجے ہیں اور میں اتنی جلدی اٹھ گئی کیا کروں اب۔۔۔ ایک کام کرتی ہوں تھوڑا سا گھر کا چکر کر کے آجاتی ہوں۔۔۔ وردہ گھڑی میں ٹائم دیکھتی کھلے بالوں کو جوڑے میں قید کرتی فریش ہونے واشروم میں گھس گئی۔۔۔ پانچ منٹ بعد وہ فریش ہو کے آئی۔۔۔۔ بیڈ پہ رکھا اپنا دوپٹہ لیتی کمرے سے نکل گئی۔

وہ ہر طرف نظریں گھماتی نیچھے آئی۔۔۔۔

گھر تو کافی اچھا ہے۔۔۔ کچن بھی دیکھ لیتی ہوں کہ کیسا ہے۔۔۔ لیکن مجھے کھانا بنانا تو آتا ہی نہیں ہے پھر کچن دیکھ کے کیا کروں گی۔۔۔ اففف وردہ تو بھی کتنی پاگل ہے ضروری تھوڑی ہے کھانا بنانا آئے تبھی کچن میں جا سکتے ہیں کبھی کھانے کا بولنے بھی تو جایا جا سکتا ہے نا۔۔۔وہ خود سے کہتی کچن ڈھونڈتی آخر کچن تک پہنچ ہی گئی۔

ارے تم اتنی صبح صبح آگئیں۔۔۔ وہ کچن میں داخل ہوئی تو سامنے ہی ملازمہ کھڑی ٹماٹر کاٹ رہی تھی۔

جی بیگم صاحبہ ہمیں بڑے صاحب نے آج جلدی آنے کا کہا تھا۔۔۔ملازمہ نے بتایا تو وہ سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا گئی۔

آپ کو کچھ چاہیئے۔۔۔ اسے فرج کھولتے دیکھ ملازمہ نے پوچھا۔

نہیں۔۔۔ وردہ کے کہنے پہ ملازمہ واپس اپنے کام میں لگ گئی۔

اچھا یہ بتاؤ تم یہاں کب سے کام کر رہی ہو۔۔۔ وہ ہر کیبنٹ گھولتی اسکا جائزہ لیتی ملازمہ سے پوچھنے لگی۔

ہمیں یہاں کام کرتے بس ہفتہ ہی ہوا ہے۔۔۔ ہم سے پہلے یہاں مرد ملازم ہوا کرتے تھے پر اب جب آپ آئی ہیں تو بڑے صاحب نے سارے مرد ملازموں کو دوسرا کام دے دیا ہے جب کے اب گھر کے سارے کاموں کے لیئے ملازمہ رکھیں ہیں۔۔۔ ابھی تھوڑی ہی دیر میں زرینہ بھی آجائے گی وہ بھی میرے ساتھ ہی کام کرتی ہے۔۔۔ ملازم نے تفصیل سے بتایا۔

اچھااااا۔۔۔۔ وردہ اچھا کو لمبا کھینچتی ایک گلاس پانی پیتی کچن سے نکل گئی۔

وہ لاؤنچ میں آئی تو اسکی نظر دامل کی فیملی فوٹو پہ گئی۔۔۔ جس میں دامل کی ماں کی بھی تصویر تھی۔

ہمم تو آپ ہیں دامل کی مما۔۔۔ واہ آنٹی آپ تو کافی خوبصورت ہیں۔۔۔ ویسے ماننا بڑے گا آپ کا بیٹا اپنے بابا سے زیادہ ہنڈسم ہے لیکن لگتا ہے آپ نے اسے کریلے کھا کے پیدا کیا تھا تبھی اتنا کڑوا ہے اور منہ سے ہر وقت آگ اگلتا رہتا ہے۔۔۔پر کوئی نہیں میں ہوں نا ایک دن اس ٹیڑھے آدمی کو ایک دم سیدھا کردوں گی۔۔۔ وردہ دامل کی ماں کی تصویر سے ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ حقیقت میں اسکے سامنے ہوں۔

ارے آپ مجھے گھور کیوں رہی ہیں۔۔۔ میں نے کچھ غلط تو نہیں کہا ۔۔۔ اچھا چلیں سوری نئی بہو سمجھ کے معاف کردیں۔۔۔ وردہ نے کان پکڑے۔

کیا معاف کیا,,,, تھینک یو۔۔۔ اب میں چلتی ہوں باقی کا گھر بھی تو دیکھنا ہے نا۔۔۔ وردہ ایک فلائنگ کس تصویر کی جانب دیتی باہر نکل گئی۔۔۔ اس بات سے انجان کے اسکے کمرے میں نا ہونے کی وجہ سے دامل اسے باہر دیکھنے آیا تھا اور اسکی ہر بات اوپر کھڑا سن بھی چکا تھا۔۔۔ لیکن وہ تو اپنی مستی میں مگن دامل کہ شکایتیں اسکی ماں سے لگاتی جا چکی تھی جس پہ دامل بھی سر جھٹک کے رہ گیا تھا۔

۔🌺🌺🌺

وہ باہر لان میں آئی تو وہاں دلاور خان پہلے سے ہی موجود ٹہل رہے تھے۔۔۔۔ انہیں دیکھتے وردہ کے چہرے پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔

ارے دادا جی آپ اتنی صبح یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔ وردہ آکے پاس آتی معصومیت سے پوچھنے لگی تو اسکی آواز پہ دلاور خان کے چلتے قدم رکے تھے۔

انہوں نے اسے غصے سے گھورا جس پہ وردہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا گئی۔

ایسے کیا دیکھ رہے ہیں دادا جی۔۔۔ انکے گھورنے پہ وہ انجان بنتی بولی

لڑکی تم نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔۔۔ وہ غصے سے دبا دبا غرائے۔

ہیںںںںں میں نے کب دیا۔۔۔۔ وردہ حیرت سے پوچھتی انجان پن کی حد کر گئی۔

اسکے انجان بنے پہ دلاور خان نے مٹھیاں بھیجیں۔

تم اپنی بات سے پھری ہو لڑکی۔۔۔ تم نے کہا تھا تم شادی سے انکار کر دو گی جس کے بدلے تم نے مجھ سے پچاس کروڑ بھی لیئے تھے ۔۔. مگر تم نے شادی سے انکار نہیں کیا۔۔۔ وہ سرد لہجے میں اپنے سامنے مطمئن سے کھڑی لڑکی کو دیکھتے بولے۔۔۔

میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا تا۔۔۔ وردہ سوچنے والے انداز میں بولی تو انہیں آگ لگی۔

تم نے کہا تھا۔۔۔ وہ دھاڑے تھے لیکن انکی آواز اتنی کم تھی کے کوئی سن نہیں سکتا تھا۔

کوئی ثبوت۔۔۔ وردہ نے اطمینان سے پوچھا تو وہ خاموش ہی رہے ۔۔۔ وہ کہتے بھی تو کیا انکے پاس کوئی ثبوت موجود ہی نہیں تھا۔

میں نے کوئی ثبوت نہیں رکھا یہ میری سب سے بڑی غلطی ہے لیکن اب مجھے میرے پچاس کروڑ واپس چاہیئں جو تم نے شادی سے انکار کرنے کے لیئے مجھ سے لیئے تھے پر اب جب تم نے شادی سے انکار نہیں کیا تو میرے پیسے واپس کرو ۔۔۔ وہ سختی سے بولے لیکن وردہ کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی جو دلاور خان کو اور آگ لگانے کا کام کر رہی تھی۔

وہ پیسے تو میرے پاس نہیں ہیں۔۔۔ وردہ نے سکون سے کندھے اچکاتے کہا۔

کہاں گئے میرے پیسے۔۔۔ وہ حیران ہوئے تھے کہ اتنی بڑی رقم کیسے کوئی اتنی جلدی اڑا سکتا ہے۔

وہ تو میں نے ٹرسٹ کو دے دیئے۔۔۔ وردہ مسکرا کے بولی تو دلاور خان کو جھٹکا لگا۔

کیا تم نے میرے حق حلال کے پیسے ٹرسٹ کے حوالے کر دیئے۔۔۔۔ انہیں نے بہت مشکل سے اپنی آواز کو کم رکھا تھا ورنہ انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے کھڑی لڑکی کو کہیں غائب کردیں جو انکے پیسے ٹرسٹ کو دے کے اتنے اطمینان سے کھڑی انہیں بات رہی تھی۔

دادا جان حق حلال کے پیسے تھے تبھی ٹرسٹ کو دیئے ہیں آگر حرام کے ہوتے تو میں ان پیسوں میں خود آگ لگاتی۔۔۔ وردہ کا اطمینان عابل دید تھا۔

یہ تم نے اچھا نہیں کیا لڑکی۔۔۔ اس کی قیمت تمہیں ادا کرنی ہوگی۔۔۔ وہ اسے انگلی دیکھاتے وارن کرنے لگے۔

یہ میں نے اچھا نہیں بہت اچھا کیا ہے ۔۔۔ آپ کے حق حلال کے پیسوں سے کسی کی مدد ہو جائے گی تو شاید آپ کے گناہ بھی کچھ کم ہوجائے۔۔۔ دیکھا جائے تو اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے لیکن اپ ہیں کے ابھی بھی مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں۔۔۔ لیکن میں بھی آپ کی دھمکیوں کا بہت احترام کرتی ہوں اس لیئے آپ کو جو کرنا ہے کر لیں میں ہر چیز کے لیئے تیار ہوں۔۔۔ پر فلحال تو مجھے ابھی تیار ہونے جانا ہے اس لیئے میں چلتی ہوں۔۔. وردہ مزے سے اپنی بات کہتی انہیں بولنے کا موقع دیئے بغیر اندر بڑھ گئی پیچھے دلاور خان صرف اپنا غصہ ضبط کرتے رہ گئے۔

وہ ایک چھوٹی سی لڑکی سے ہار گئے یہ ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔جس کے نتیجے میں انکے دماغ میں کافی خطرناک پلینز آرہے تھے جس پہ وہ جلد ہی عمل بھی کرنے والے تھے۔

۔🌺🌺🌺