Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 2)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 2)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
تھوڑی دیر ہی گزری تھی جب ایک عورت اپنے ساتھ بچے کو لیئے انمول لوگوں کے گھر میں داخل ہوئی۔۔۔ چونکہ وہ اسہی سوسائٹی کی رہنے والی تھی اس وجہ سے چوکیدار نے اسے اندر آنے دیا تھا۔
جی آپ کون۔۔۔ شگفتہ بیگم اور نسرین بیگم دونوں لاونچ میں بیٹھی ہوئی تھی جب اس عورت کو غصے سے اندر آتے دیکھ نسرین بیگم نے پوچھا۔
ویسے تو آپ لوگ خاصے تمیزدار اور پڑھے لکھے لگتے ہیں لیکن شاید اپنی بیٹی کو تمیز سیکھانا بھول گئے ہیں۔۔۔ وہ عورت غصے سے انکا سوال نظرانداز کرتے غرائی۔۔۔ تو نسرین بیگم نے چونک کے حیرت سے شگفتہ بیگم کی طرف دیکھا جن کا انداز نسرین بیگم سے کم تھا۔
کس کی بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔ شگفتہ بیگم جان گئیں تھیں کہ وہ کس کی بات کر رہی ہیں کیونکہ پہلے بھی ایک دو بار انمول کی شکایت آچکی تھی لیکن اس بار انہیں نے پوچھنا بہتر سمجھا کیونکہ انکے حساب سے تو انو صبح سے گھر میں تھی تو پھر وہ کس کی بات کر رہی ہوں گی۔
آپ پوچھ تو ایسے رہی ہیں جیسے آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔۔۔ ایک ہی تو ہے آپ کے گھر میں انمول جس نے پورے محلے کا سکون برباد کر رکھا ہے۔۔۔بلائیں اسے میں اس سے خود نمٹوں گی۔۔۔ وہ عورت خاصہ غصے سے بولی تھی جب کے شگفتہ بیگم کا دل انمول کو پیٹنے کا چاہ رہا تھا۔
مگر اسنے اب کیا کیا ہے۔۔۔۔نسرین بیگم شگفتہ بیگم کے دھوا دھوا ہوتے چہرے کو دیکھ اس عورت سے پوچھنے لگیں۔
آپ اسے بلائیں تو،،،، پھر سب پتہ چل جائے گا۔۔۔ اس عورت کے کہنے پہ شگفتہ بیگم نے فورن انمول کو آواز لگائی۔۔۔ جو ڈائنگ روم میں بچوں کے ساتھ بیٹھی اسنیکس کھا رہی تھی۔
جی مما۔۔۔ انمول انکی آواز سنتے فورن آئی تھی۔۔۔۔ مگر سامنے انجان عورت لیکن ساتھ جانا پہچانا بچہ دیکھ اسنے ایک بار پھر خود کو لڑنے کے لیئے تیار کیا تھا۔
انو اب کیا کر کے آئی ہو تم۔۔۔ شگفتہ بیگم نے دانت پیسے۔۔۔ انہیں تو لگا تھا کہ شادی ہو جائے گی بچے ہوجائیں گے تو انمول کی شرارتیں ختم ہو جائے گی ۔۔۔ لیکن نہیں دو بچے ہونے کے بعد بھی اسکی شرارتوں میں کوئی فرق نہیں بڑا تھا بلکے اسکی شرارتیں اور بڑھ گئیں تھی۔۔ اور اب تو وہ اپنے ساتھ اپنے بچوں کو بھی شامل کر لیتی تھی۔
ارے یہ کیا بتائے گی میں بتاتی ہوں۔۔۔ اس نے میرے معصوم بچے کو مارا ہے ۔۔۔ اس عورت نے بھڑک کے کہا۔
ہاں تو اپنے بچے کو نہیں دیکھا کتنی زبان چلا رہی تھی۔۔۔
ماما آپ کو پتہ ہے اسنے مجھے پاگل کہا تھا۔۔۔ انمول عورت کو گھور کے کہتی اپنی ماں کی تیخی نظروں خود پہ محسوس کرتے انہیں وجہ بتانے لگی۔
تو اسنے کون سا کچھ غلط کہا تھا تم ہو ہی پاگل جب سے ہمارے محلے میں آئی ہو تب سے سب کا سکون برباد کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔ وہ عورت بھی دوبدو بولی۔
تو چلی جائیں یہ محلہ چھوڑ کے روکا کس نے ہے۔۔۔ چوری اوپر سے سینہ زوری والے محاورے پہ انمول نے پورا عمل کیا تھا۔
دیکھ رہی ہیں آپ کیسے زبان چل رہی ہے اسکی۔۔۔ ہم تیس سال سے یہاں رہ رہے ہیں آج تک ہماری کسی سے بحث تک نہیں ہوئی لیکن جب سے آپ لوگ یہاں آئے ہیں روز کوئی نا کوئی ہنگامہ ہوتا رہتا ہے۔۔. میں آخری بار کہہ رہی ہوں آگر آپ لوگوں نے اپنی بیٹی کو نہیں سمجھایا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ اس عورت نے انگلی دیکھاتے غصے سے دھمکی دی۔
او ہم تو ڈر گئے آپ کی دھمکی سے۔۔۔ انمول ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے بولی۔۔۔ تو پاس کھڑے سب بچے منہ پہ ہاتھ رکھے ہنس دیئے۔
انو چپ کرجاؤ۔۔۔ شگفتہ بیگم نے تنبیہ کیا۔
میڈم اپنی دھمکیاں اپنے پاس رکھیں۔۔۔ اور برائے مہربانی یہاں سے تشریف لے جائیں۔۔۔ کیونکہ میں نے ابھی ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا اس لیئے میرے اندر بلکل بھی ائنرجی نہیں ہے آپ سے بحث کرنی کی۔۔۔ اور اگر آپ کا زیادہ ہی موڈ ہے لڑنے کا تو مہربانی کر کے رات کے کھانے کے بعد آئے گا۔۔۔ چلو بچوں ہم اپنے اسنیکس فنش کریں۔۔۔۔ انمول اطمینان سے کہتی بچوں کو لیئے واپس ڈائنگ روم کی جانب بڑھ گئی۔
اسکی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں۔۔۔بچی ہے کچھ بھی بول دیتی ہے۔۔۔ شگفتہ بیگم نے شرمندگی سے کہا۔
بچی نہیں بچوں کی اماں ہے۔۔۔ اس پہ ایسی حرکتیں سوٹ نہیں کرتیں بہتر ہے سمبھال لیں ورنا اسنے کوئی کثر نہیں چھوڑی آپ لوگوں کو شرمندہ کروانے میں۔۔۔ خیر میرا کام تھا سمجھانا وہ میں نے کر دیا آگے آپ لوگوں جانیں۔۔۔۔ وہ عورت مفت مشہور دیتی اپنے بچے کو لیئے باہر نکل گئی جب کے شگفتہ بیگم غصے سے بھری ڈائنگ روم کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔ انکا غصہ دیکھ نسرین بیگم جلدی سے انکے پیچھے لپکیں۔
انو۔۔۔ کب سدھرو گی۔۔۔ اس بڑھاپے میں بھی ہمیں لوگوں کے سامنے شرمندہ کروانے سے باز نہیں آؤ گی۔۔۔ کس کس سے تمہارے کیئے کی معافی مانگے گے ہم۔۔۔آج شگفتہ بیگم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا۔۔۔ ڈائنگ روم میں آتے ہی انہوں نے انمول کو بازو سے پکڑ کے اٹھایا تھا اور جھنجھوڑتے اپنے غصہ نکالا تھا۔
بھابھی بچی ہے چھوڑ دیں ۔۔۔ نسرین بیگم نے آگے بڑھتے اسکا بازو چھڑوانا چاہا لیکن انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
نہیں نسرین کوئی بچی نہیں ہے یہ۔۔۔ تم جانتی ہو نا آج کتنی شرمندگی اٹھانی پڑی ہے اس عورت کے سامنے۔۔۔۔ شگفتہ بیگم نے غم و غصے سے کہا۔
مما یہ آپ کیا کر رہیں ہیں۔۔۔ اور آپ کو کس نے کہا ہے لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوں ۔۔۔۔ آگر آپ لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوں گی تو لوگ آپ کو اور شرمنده کرنے کی کوشش کرئیں گے۔۔۔۔ انمول انہیں سمجھانے لگی جب کے بچے اپنی نانی کا غصہ دیکھتے ڈر کے خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے۔
بس انمول بہت سن لی تمہاری باتیں۔۔۔ بہت کروا لیا تم نے ہمیں سب کے سامنے شرمندہ۔۔۔ چلو پہلے کی بات تو اور تھی لیکن اب شوہر بچوں والی ہوگئی ہو کچھ تو ہوش کے ناخن لو۔۔۔ لوگ کیا سوچیں گے کہ ہم نے یہ تربیت کی ہے تمہاری۔۔۔ آج کے بعد اگر تم نے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کی یا کسی سے زبان چلائی تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ شگفتہ بیگم غصے سے اسکا بازو جھٹکتی ڈائنگ روم سے نکل گئیں۔
وہ شاید اس پہ کبھی اتنا غصہ نا کرتیں لیکن کل وہ اپنی دوست کے گھر سے ہوکے آئیں تھی جس کی بیٹی کافی سگھڑ اور سیدھی سادھی تھی۔۔۔ جو پورا گھر سمبھالتی تھی۔۔۔ لیکن جب وہ انمول کو دیکھتی تو انکے دل میں بھی یہی چاہ اٹھتی کے انکی بیٹی بھی سب کچھ سنبھالے جیسے اور دوسری لڑکیوں کی تعریف ہوتی ہی ایسے ہی انکی بیٹی کی بھی ہو ۔۔۔ بس اسہی بات کا غصہ آج انہوں نے انمول پہ اتار دیا تھا۔
بیٹا بھابھی تھوڑا غصے میں ہیں تم ان کی بات کا برا نہیں ماننا۔۔۔ نسرین بیگم اسکی آنکھوں میں نمی دیکھتی پیار سے بولیں۔
کوئی بات نہیں چچی۔۔۔ مما ہیں کچھ کہہ بھی دیا تو کیا ہوا۔۔۔ میرے بھلے کے لیئے ہی کہا ہے۔۔۔ خیر میں نے انہیں کھانا کھلا دیا ہے بس تھوڑا سا بچہ ہے وہ آپ دیکھ لے گا مجھے کچھ کام یاد آگیا ہے میں وہ دیکھ کے آتی ہوں۔۔۔ انمول آنسو پیچھے دھکیلتی ضبط سے مسکرا کے کہتی تیزی سے ڈائنگ روم سے نکل گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
مما۔۔۔۔ شام سے رات ہوگئی تھی لیکن انمول اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی۔۔۔ جب بہت وقت بعد بھی وہ باہر نا آئی تو بچے خود کمرے میں آگئے تھے۔۔۔
جی بیٹا۔۔۔ اسنے پیار سے دونوں کو اپنے پاس بلایا۔
مما آپ سیڈ ہیں۔۔۔ بسام نے معصومیت سے پوچھا۔
نہیں بیٹا میں بلکل سیڈ نہیں ہوں۔۔۔ انمول اسکے معصومیت بھرے انداز پہ مسکراتی اسکا گال چوم گئی۔
نانو نے آپ کو ڈانٹا تھا تو کیا آپ رو رہی تھیں۔۔۔ وردہ اسکے افسردہ چہرے پہ اپنے ننھے ننے ہاتھ رکھتی فکرمندی سے پوچھنے لگی۔
میں کیوں رونگی۔۔۔۔ نانو تو بڑی ہیں اور پھر آپکی مما کی مما ہیں تو مما تو ڈانٹ دیتی ہیں اس میں رونے والی کون سی بات ہے۔۔۔۔۔ وہ اسکے دونوں ہاتھ اپنی ہاتھ میں لیتی اسکا بھی گال چوم کے بولی۔
اچھا یہ بتاؤ سیف اور تحریم گئے۔۔۔ انمول دونوں کو اپنے ساتھ لگاتی پوچھنے لگی۔
جی وہ تو کب کے چلے گئے۔۔۔ بسام نے جواب دیا۔
مما کھیلیں۔۔۔ پلو فائٹ کریں۔۔۔ وردہ نے آکسائیڈ ہوتے پوچھا۔
نہیں بیٹا ابھی مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے انکے سر میں درد ہے اس لیئے میں ابھی نہیں کھیل سکتی۔۔۔ اسنے پیار سے انکار کیا۔
مما آپ کے سر میں درد ہے میں دبا دوں۔۔۔ وردہ کے فکرمندی سے کہنے پہ انمول کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔ اسے بے ساختہ اپنا بچپن یاد آیا ۔۔۔ جب گھر میں کوئی نہیں تھا اور اسکی ماں کو بہت تیز بخار ہوگیا تھا۔۔۔ وہ اس وقت محض چھ سال کی تھی لیکن اسنے اپنی عقل سے اپنی ماں کے سر پہ نل کے پانی کی پٹیاں رکھیں تھی۔۔۔ وہ اتنی چھوٹی عمر میں ہی اپنی ماں کے لیئے فکرمند ہوگئی تھی اور آج اسکے بچے اسکے لیئے فکر مند ہورہے تھے۔
نہیں میرا بچہ اس کی ضرورت نہیں ہے آپ دونوں ٹی وی دیکھو پھر بابا آجائیں گے تو ہم سب مل کے کھانا کھائیں گے۔۔۔
ہم نے کھانا کھا لیا ہے ہمیں دادو نے کھانا کھلا دیا ہے۔۔۔ بسام نے بتایا۔
اچھا ٹھیک ہے جب تک آپ لوگ تھوڑی دیر کارٹون دیکھ لو۔۔۔ انمول انہیں صوفے پہ بیٹھاتی ٹی وی میں کارٹون لگاتے بولی۔۔۔۔ تو وہ دونوں بھی شرافت سے اسے تنگ کئے بغیر ٹی وی دیکھنے لگے۔۔۔ ان دونوں کے ساتھ ہی انمول بھی بیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر گزری تھی جب ابتسام کمرے میں داخل ہوا۔
ارے واہ آج تو بہت سناٹا ہے کمرے میں۔۔۔۔ ان تینوں کو صوفے پہ بیٹھے ٹی وی میں مگن دیکھ اسنے شرارت سے کہا۔
مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا اس لیئے ہے ۔۔۔۔ بسام نے کہا تو ابتسام نے پریشانی سے انمول کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
کیا ہوا ہے انو۔۔۔ وہ فکرمندی سے اسکے ساتھ صوفے پہ بیٹھتا اسکا ماتھا چیک کرنے لگا کے کہیں اسے بخار تو نہیں ہے لیکن وہ تو بلکل ٹھنڈی پڑی تھی۔
کچھ نہیں بس سر میں تھوڑا سا درد ہے خیر آپ فریش ہو جائیں پھر کھانا کھائیں گے۔۔۔۔ آپ کے انتظار میں میرے پیٹ میں موجود چوہے بھوک سے مر گئے ہیں۔۔۔ انمول نارمل لہجے میں بولی لیکن اسکی آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی جو ہمیشہ ابتسام کو دیکھنے کو ملتی تھی اور یہ چیز ابتسام نے بہت اچھے سے نوٹ کی تھی۔۔۔ لیکن وہ کچھ بھی کہے بغیر یا پوچھے بغیر صرف ہاں میں سر ہلاتے اپنے کپڑے لیئے جو انمول پہلے ہی نکال چکی تھی لیتا واشروم میں گھس گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ نیچے سب کے ساتھ ڈائنگ ٹیبل پہ موجود تھے۔۔۔ سب کھانا کھا رہے تھے لیکن ساتھ ساتھ حیران بھی تھی کہ آج انمول کافی تمیز سے کھا رہی تھی۔۔
انمول کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ ابتسام مشکوک ہوا۔
جی سب ٹھیک ہے آپ کھانا کھائیں۔۔۔ اسنے آہستہ آواز میں کہتے اسکی توجہ کھانے کی طرف کروائی۔۔
انو بیٹا کیا بات ہے آج آپ کے انداز کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں۔۔۔ بلال صاحب اپنا کھانا چھوڑ اسکی جانب متوجہ ہوئے۔۔۔ شگفتہ بیگم نے اسکی طرف دیکھا تھا جو واقع چند گھنٹوں میں بدلی بدلی لگ رہی تھی۔۔۔ طریقے سے اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا تو وہ بھی نوٹ کر چکیں تھی لیکن کہا کچھ نہیں تھا۔
ایسا کچھ نہیں ہے بابا۔۔۔ اسنے مسکرا کے کہا۔
میں بتاتی ہوں کے کیا ہوا ہے۔۔۔ شگفتہ بیگم اسے دیکھتی بولی اور شروع سے لے کر آخر تک پوری بات بتادی۔
میں نے کون سا اسے کسی غلط بات پہ ڈانٹا ہے ۔۔۔ سہی کہا ہے جو بھی کہا ہے۔۔۔۔ کب تک یہ بچی بنی رہے گی۔۔۔ شادی شدہ ہوگئی ہے بہت سی زمیداریاں ہیں اس پہ لیکن اسے کہاں فکر ہے۔۔۔ شگفتہ بیگم خفگی سے بولی جب کے وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی۔
شگفتہ آپ نے لوگوں کے لیئے ہماری بیٹی کو ڈانٹا۔۔۔ آپ کو اسکی شرارتوں سے مسئلہ ہے ۔۔۔۔ آپ اسکی خامیاں تو دیکھ رہی ہیں لیکن اسکی خوبیاں نہیں دیکھ رہیں۔۔۔ بلال صاحب سخت لہجے میں بولے۔
کوئی خوبی نظر آئے تو دیکھوں نا۔۔۔ شگفتہ بیگم نے سر جھٹکا۔
آپ کو اسکی خامیاں نکالنے سے فرست ملے تو اسکی خوبیاں نظر آئیں نا۔۔۔ آپ کی بیٹی دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں ہے اور فخر ہے کے وہ دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں ہے۔۔۔ دوسری لڑکیاں گھر سمبھالتی ہیں۔۔۔ لیکن میری بیٹی نے سب کو سنبھال رکھا ہے سب کے چہروں پہ مسکراہٹ لانے کی وجہ بنتی ہے۔۔۔ میری بیٹی لوگوں کا سامنا کرنا جانتی ہے۔۔۔مجھے فخر ہے کہ میری بیٹی لوگوں سے ڈر کے چپ رہنے والوں میں سے نہیں ۔۔۔ اپنا دفاع کرنا جانتی ہے۔۔۔ اگر اسے سو لوگوں کے بیچ میں اکیلے بھی کھڑا کرو تو مجھے یقین ہے وہ اوروں کی طرح کبھی گھبرائے گی نہیں بلکے ڈٹ کرمقابلہ کرے گی۔۔۔ یہ ہے میری بیٹی ۔۔۔۔ بلال صاحب کے لہجے میں انمول کے لیئے محبت ہی محبت تھی۔۔۔ اپنے بابا کی بات سنتے انمول کی آنکھیں بھر آئیں تھی جب کے شگفتہ بیگم کو چپ لگ گئی تھی۔
تایا ابو بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں بڑی ماما۔۔۔ انمول چاہے کتنی ہی شرارتی کیوں نا ہو لیکن وہ لوگوں کا احساس کرنا جانتی ہے۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے انمول کی شرارتوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں نہیں چاہتا کے وہ کبھی بھی بدلے کیونکہ اگر وہ بدل گئی تو یہ گھر سناٹوں کی زد میں آجائے گا ۔۔۔ اور رہ گئے کام کاج تو اس کے لیئے گھر میں ملازم رکھے گئے ہیں تاکہ آپ کو یا کسی کو بھی کوئی کام نا کرنا پڑے۔۔۔ ابتسام نے بھی انہیں سمجھایا ۔۔۔۔ اور ابتسام کی بات سنتے انمول کے کب سے رکے آنسو بہہ نکلے۔۔۔
نہیں بیٹا روتے نہیں ہیں۔۔۔ نسرین بیگم جو انمول کے برابر میں بیٹھی تھی فورن اسے اپنے ساتھ لگا گئیں۔
ماما آگر آپ کو میرا انداز پسند نہیں ہے تو میں وعدہ کرتی ہوں کے میں خود کو بدل لوں گی۔۔۔ انمول رونے کے درمیاں بولی۔
نہیں بیٹا۔۔۔ تمہارے بابا اور ابتسام بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ آگر تم بدل گئیں تو اس گھر کا کیا ہوگا ہم لوگوں کا کیا ہوگا جسے شرارتی انمول پسند ہے۔۔۔ میں نے جو بھی کہا بس غصے میں کہہ دیا ہو سکے تو مجھے معا۔۔۔
نہیں ماما آپ ایسا نہیں کہیں۔۔۔ آپ مجھ سے بڑی ہیں میری ماں ہیں پورا حق رکھتی ہیں مجھے ڈانٹنے کا۔۔۔ بس میں ہی کچھ زیادہ ہی اموشنل ہوگئی تھی۔۔۔ انمول اپنی ماں کے معافی مانگنے سے پہلے ہی انکے ہاتھ تھامتی انکی آنکھوں سے اپنی آنکھوں سے نکلے آنسو صاف کرتی مسکرا کے بولی تو سب لوگوں کے چہرے کھل اٹھے۔
چلیں اب بیٹھ کے کھانا کھائیں فضول میں مجھے بھی رلا رہی ہیں اور خود بھی رو رہی ہیں۔۔۔ انمول اپنی پہلے والی ٹون میں لوٹتی منہ بناکے بولی۔
ویسے آپس کی بات ہے رونے کے بعد جو منہ پہ گلو آتا ہے وہ کمال کا ہوتا ہے۔۔۔۔ انمول انکھیں پٹپٹاتی معصومیت سے بولی تو ڈائنگ ٹیبل پہ سب کے قہقہے بلند ہوئے۔
گھر کا ماحول ایک بار پھر خوشگوار ہوگیا تھا۔
