Love You Zindagi Season 2 By Angel Arooj Readelle50318 Love You Zindagi Seson 2 (Episode 19)
Rate this Novel
Love You Zindagi Seson 2 (Episode 19)
Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj
ارے فہد اکیلے آئے ہو دامل نہیں آیا ساتھ۔۔۔ فہد کو اکیلے گھر میں داخل ہوتے دیکھ ابتسام نے ہاتھ ملاتے پوچھا۔
وہ آرہا تھا لیکن ایک ایمرجنسی آگئی جس کی وجہ سے وہ رک گیا۔۔۔ فہد نے بہانا بنایا۔۔۔ تو ابتسام اسکی جاب کو سمجھتے ہاں سر ہلا گیا۔
بارات کب تک لے کے نکلو گے ۔۔۔ فہد نے مہمانوں کو آتے جاتے دیکھ پوچھا۔
بس نکل ہی رہیں ہیں تم بھی گاڑی میں بیٹھوں میں زرا گھر سے سب کو نکالتا ہوں اتنی دیر ہو گئی ابھی تک باہر نہیں نکلے یہ لوگ۔۔۔ دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ ابتسام فہد سے کہتا اندر بڑھ گیا تو فہد بھی باہر کی جانب نکل گیا۔
چلیں بھئی جلدی کریں نکلیں سب باہر دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ ابتسام لاؤنچ میں کھڑے ہوتے بلند آواز میں بولا۔
بیٹا ہم تو تیار ہیں۔۔۔ نسرین بیگم اور شگفتہ بیگم دونوں وہاں آتی بولیں۔
ماموں میں نے مہمانوں کو گاڑیوں میں بیٹھا دیا ہے۔۔۔ سیف لاونچ میں داخل ہوتے بولا
اور دولہے صاحب کہاں ہیں۔۔۔۔ ابتسام نے ائبرو اچکائے پوچھا
وہ اپنے کمرے میں ہے, ممانی اسکی نظر اتار رہی تھیں آپ رکیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔ سیف کہتا آگے بڑھنے لگا جب ابتسام نے روک دیا۔
نہیں تم رہنے دو میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔ تم جاؤں بڑی ماما اور امی کو گاڑی میں بیٹھاؤ جب تک میں انہیں لے کے آتا ہوں۔۔۔ ابتسام کہا اوپر بڑھ گیا۔
وہ بسام کے کمرے میں داخل ہوا تو تینوں ماں بیٹا اور بیٹی سیلفی لے رہے تھے۔۔۔
واہ باہر بارات نکلنے کے لیئے تیار ہے اور تم لوگوں کی سیلفیاں ہی ختم نہیں ہو رہیں۔۔۔ ابتسام دروازے پہ کھڑا ماتھے پہ بل ڈالے بولا تو وہ لوگ اسکی آواز پہ پیچھے مڑے۔
بابا ڈریگن آئے نا آپ بھی ہمارے ساتھ سیلفی لیں۔۔۔ وردہ اسکا ہاتھ پکڑتے اندر لائی اور زبردستی اسے بھی سیلفی میں شامل کیا۔
ہو گیا اب چلو دیر ہو رہی ہے۔۔۔ ابتسام ہاتھ پہ بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھتے بولا۔
ہاں ہاں چلتے ہیں پہلے یہ تو بتائیں کیسے لگ رہے ہیں ہم لوگ۔۔۔ انمول ایک طرف بسام تو دوسری طرف وردہ کے کندھے پہ ہاتھ پھیلائے مسکرا کے پوچھنے لگی تو ابتسام نے اپنی کل کائنات کو مسکرا کے دیکھا۔
انمول اور وردہ سیم کلر کے لائٹ پنک سوٹ میں نارمل سی جیولری اور میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھیں جب کے بسام بلیک شیروانی پہ سر پہ سرخ کلہ سجائے بہت جاذب لگ رہا تھا۔
ماشاءاللہ میری دنیا بہت خوبصورت لگ رہی ہے ایک ساتھ۔۔۔ اللہ تم تینوں کو نظر بد سے بچائے۔۔۔ ابتسام مسکرا کے بولا تو تینوں نے آہستہ سے آمین کہا۔
چلیں اب دیر ہو رہی ہے۔۔۔ بسام کے کہنے پہ وہ لوگ کمرے سے نکل گئے۔۔۔
اور پھر تھوڑی ہی دیر میں فل بینڈ باجے کے ساتھ وہ لوگ بارات لے کے روانہ ہوگئے تھے۔
۔![]()
![]()
![]()
آدھے گھنٹے کا سفر طے کر کے اس وقت بارات ہال کے سامنے موجود تھی۔۔۔ چاروں طرف آتشبازی ہو رہی تھی۔۔۔ بینڈ باجے بجائے جارہے تھے۔۔۔ بسام پر سے نوٹ نچھاور کیئے جارہے تھے۔
وہ لوگ بارات لے کے اندر بڑھے تو حنان نے راستہ روک لیا۔
کیا ہے بھئی راستہ کس خوشی میں روکا ہے۔۔۔ وردہ کمر پہ ہاتھ ٹکائے پوچھنے لگی۔
ویسے تو یہ رسم سالیوں کی ہوتی ہے لیکن اب جب آپ کی کوئی سالی نہیں ہے تو یہ رسم میں یعنی آپ کا اکلوتا سالا اس رسم کو سر انجام دے گا۔۔۔ اس لیئے فٹافٹ پچاس ہزار نیک میرے ہاتھ پے رکھ دیں۔۔۔ حنان اسکے سامنے ہاتھ کیئے اترا کے بولا تو ان سب کا منہ کھلا
ابے سالے شکل ہے تیری پچاس ہزار کی چل ہٹ سامنے سے ایک پیسہ نہیں دینے والا میں۔۔۔ بسام نے اسے صاف ہری جھنڈی دیکھائی۔
پھر میں بھی دیکھتا ہوں کیسے بغیر پیسے دیئے اندر جاتے ہیں آپ جیجا جی۔۔۔ حنان دونوں بازو پھیلائے پھیل کے دروازے کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
دیکھو بیٹا ابھی ہٹ جاؤ دیر ہورہی ہے ۔۔۔ ہم یہ سارے معاملات بعد میں دیکھ لیں گے۔۔۔ وردہ نے پیار سے پچکارا۔
چھوٹا بچہ سمجھا ہوا ہے کیا مجھے آپ نے ۔۔۔ جو میں آپ کی چکنی چھبڑی باتوں میں آجاؤ گا۔۔۔ حنان نے بھی حساب برابر کیا تو وردہ دانت پیس کے رہ گئی۔
لو بسام حنان کو نیک دے دو۔۔۔ ان لوگوں کی بحث کو ختم کرنے کے لیئے ابتسام نے پیسے نکالتے بسام کو دیئے جس نے حنان کو آنکھیں دیکھاتے پیسے تھما دیئے۔
شکریہ جیجا جی آپ اب اندر آسکتے ہیں۔۔۔ حنان دانت نکالتے پیسے لیتا سائڈ میں ہوگیا۔
ان لوگوں کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ ان پہ پھولوں کی بارش کی جارہی تھی۔۔۔ اسٹیج پہ جانے تک ان پہ پھول برستے رہے تھے۔۔۔
بسام کو اسٹیج پہ بیٹھاتے ہی نکاح کا شور اٹھا اور پھر کچھ ہی دیر میں دائم مولوی صاحب کے ساتھ برائڈل روم میں سرخ دلہن کے جوڑے میں گھبرائی ہوئی تحریم کے پاس موجود تھا۔
تحریم کے سر پہ ہاتھ رکھتے دائم نے نکاح شروع کرنے کی اجازت دی۔۔۔
تحریم کی رضامندی پوچھے جانے پہ اسنے تین بار قبول ہے کہتے خود کو بسام کے نام کر دیا۔
ہمیشہ خوش و آباد رہوں بیٹا۔۔۔ دائم اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتا آنکھوں سے نمی صاف کرتے باہر نکل گیا۔۔۔
بہت بہت مبارک ہو میری بیٹی۔۔۔ اللہ تمہیں اور بسام کو سدا خوش رکھے۔۔۔ ماہی نے آگے بڑھتے اسکا ماتھا چومتے نم آواز میں دعا دی تو تحریم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
مولوی صاحب کے باہر آتے ہی انہیں نے بسام کی رضامندی پوچھی جس پہ اسنے بغیر دیر کیئے قبول ہے کہا تو اسکی جلد بازی دیکھتے اسٹیج پہ موجود لوگ اپنی ہنسی روک نہیں پائے تھے۔
بسام کی طرف سے نکاح قبول ہوتے ہی چاروں طرف مبارک بادی کی ادائیں بلند ہوئی تھیں۔
مبارک ہو بھابھی جی۔۔۔ چلیں آجائیں آپکی نند آپ کو باہر لے جانے کے لیئے لینے آئی ہے۔۔۔ آپ کے سیاں جی بےتاب ہیں آپکے دیدار کے لیئے۔۔۔ وردہ برائیڈل روم میں داخل ہوتی سر جھکائے بیٹھی تحریم کو دیکھ شوخی سے بولی تو وہ جھنپ گئی۔
اسکی شرم پہ وہ مسکراتی ہوئی اسے اپنے ساتھ باہر لائی ۔۔۔۔
وردہ کے ساتھ اپنی محبت کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ بسام نے دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا۔
بسام نے ہاتھ آگے کرتے اسے اسٹیج پہ چڑھنے میں مدد کی تھی۔۔۔ دونوں ساتھ اتنے پیارے لگ رہے تھے کے انمول بار بار انکی نظر اتار رہی تھی۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔ بسام تھوڑا اسکی جانب جھکتے دھیمی آواز میں بولا۔
آپ بھی۔۔۔ اسکے تعریف کرنے پہ تحریم مسکراتے ہوئے خود بھی اسکی تعریف کرتی جھکے سر کو مزید جھکا گئی۔
تمہیں اپنے نام کا ہار سنگھار کیئے دیکھ میرے اندر کرنا سکون پھیل گیا ہے اس بات کا تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتیں۔۔۔ بسام اسکے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ محبت سے بولا تو وہ آگے سے کچھ کہہ ہی نا سکی۔
اہم اہم۔۔۔۔ باقی باتیں گھر جا کے کر لینا ابھی کھانا کھالیں۔۔۔ وردہ ہاتھوں میں بریانی کی پلیٹ لیئے انکے ساتھ ہی آ بیٹھی۔
وردہ کے بیٹھتے ہی اسٹیج پہ بھی کھانا لگا دیا گیا تھا اور پھر کھانے سے فارغ ہوتے ہی رخصت کا شور اٹھا۔۔۔
حنان نے اپنی بہن کو قرآن کے سائے میں رخصت کیا تھا۔۔۔ تحریم دور تو نہیں جا رہی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنے ماں باپ سے مل کے خوب روئی تھی۔۔۔۔
دائم اور ماہی نے بھی اسے کافی دعائیں دیتے بسام کے ساتھ رخصت کر دیا تھا۔
۔![]()
![]()
![]()
بسام کوئی بھی ناٹک کیئے بغیر فورن میرا نیگ نکال دو۔۔۔ کیونکہ میں بہت تھک چکی ہوں کل میری بھی شادی ہے اور میں نہیں چاہتی کے اپنی شادی والے دن میں نیند سے اونگتی رہوں اس لیئے سیدھی شرافت سے مجھے نیک دو اور تم لوگ بھی اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔ آخر تم لوگ بھی تو تھک گئے ہوں گے نا۔۔۔ اور بےچاری تحریم کو دیکھو زرا اسنے کتنا ہیوی ڈریس پہنا ہوا ہے اوپر سے ناجانے کب سے بیٹھی ہوگی ایک ہی جگہ پہ،،، وہ بیچاری بھی تھک گئی ہے۔۔۔ اپنا نہیں تو اسکا ہی خیال کرتے جلدی سے پیسے دے دو۔۔۔ وردہ کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی پہلے حکم دینے والے انداز میں پھر تحریم کی جانب اشارہ کرتے معصومیت سے بولی تاکہ وہ اسکے کہنے پہ جلدی پیسے دے یا نا دے لیکن تحریم کی تھکن کا سوچتے ضرور جلدی پیسے دے گا۔۔۔ اور ہوا بھی یہی تھا بسام نے ایک منٹ بھی ضائع کیئے بغیر وردہ کے ہاتھ میں ایک مخملی باکس رکھ دیا تھا۔
جیسے وردہ نے فورن گھول کے دیکھا تو اس میں بہت ہی پیارا برسلیٹ موجود تھا۔۔۔۔ بسام نے اس کے لیئے یہ پہلے سے ہی بنوا کے رکھا ہوا تھا۔
واؤ بہت پیارا ہے۔۔۔ چلو اب تم لوگ بھی اپنے کمرے میں جا سکتے ہو۔۔۔ وردہ مسکرا کے کہتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تو ان دونوں نے بھی اندر کمرے میں قدم ریکھا۔
رکو,,, ادھر آؤ۔۔۔۔ تحریم کو بیڈ کی جانب بڑھتے دیکھ بسام اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے شیشے کے سامنے لایا اور دراز سے ایک جیولری کیس نکالتے تحریم کے ہاتھ میں تھمایا جس پہ اسنے ناسمجھی سے بسام کی جانب دیکھا۔
کھولو۔۔۔ بسام کے کہنے پہ اسنے مخملی جیولری کیس گھولا تو اس میں بہت ہی خوبصورت گولڈ کا سیٹ موجود تھا۔۔۔
یہ تو بہت پیارا ہے ۔۔۔ تحریم نے اس پہ ہاتھ پھیرتے دل سے تعریف کی۔
تم سے کم ہی ہے۔۔۔ بسام نے مسکراتے ہوئے ہوئے اس میں سے نیکلس نکالتے تحریم کے گلے کی زینت بنایا۔۔۔
سب سے پہلے میرے رب کا شکریہ جس نے میری محبت کو میرے نکاح میں دیا اور پھر تمہارا شکریہ جس نے میری محبت قبول کرتے میرا ساتھ دیا۔۔۔ بسام اسکے گرد بازوں کا گھیرا بناتے اسکے کان میں گھمبیر لہجے میں بولا تو تحریم کے دل نے اسپیڈ پکڑی۔۔۔گرم سانسوں کے لمس سے اپنے جسم میں ایک کپکپی طاری ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔ چہرہ ایک دم اناری ہوا۔
بسام دھیرے سے سیدھا ہوتے اسکے دوپٹے سے پنز نکالنے لگا تو وہ گھبراگئی۔
می میں نکا۔۔ل لوں گی۔۔۔ گھبراہٹ سے لفظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کے ادا ہوئے تھے۔
ششششششش۔۔۔ مجھے کرنے دو۔۔۔ بسام اسکے ہونٹوں پہ انگلی رکھتے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالتے اسے خاموش رہنے کا کہتے اپنے کام میں لگ گیا ۔۔۔ جب کے تحریم سے اب کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ اسکی قربت پہ وہ کانپنے لگی تھی۔
بسام نے دھیرے سے دوپٹہ اسکے سر سے اتارتے صوفے پہ پھینکا اور ایک جھٹکے سے تحریم کو اپنی باہوں میں اٹھا لیا۔
اس اچانک ہوئی حرکت پہ وہ ایک دم بھوکھلاتی بسام کے سینے میں چہرہ چھپاگئی۔
آئی لو یو تحریم۔۔۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں زندگی کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لا کے رکھ دوں گا۔۔۔ کبھی تمہیں کوئی دکھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ اسے بیڈ پہ لیٹاتے نرمی سے لب اسکی پیشانی پہ رکھتے محبت سے چور لہجے میں بولا تو تحریم نے اپنی باہیں اسکے گلے میں حائل کرتے سکون سے آنکھیں موند لیں۔۔۔ جب کے بسام اسکی خود سپردگی پہ مسکراتے ہوئے سارے فاصلے مٹاتا چلا گیا۔
۔![]()
![]()
![]()
وردہ اٹھو بیٹا دیر ہو رہی ہے تمہیں پالر جانا ہے۔۔۔ انمول وردہ کے کمرے میں داخل ہوئی اسکی رات کی بکھری چیزیں سمیٹتی بولی۔
ناجانے کب بڑی ہوگی۔۔۔ پورا کمرا بکھیر رکھا ہے۔۔۔ وردہ اٹھو ۔۔۔۔ انمول زمین پہ ادھر ادھر بڑی اسکی سینڈل اٹھاتی وردہ کو پکارنے لگی۔
انمول کی پکار سنتے وردہ نے لیٹے لیٹے ہی انگڑائی لی اور پھر کروٹ بدل کے پھر سوگئی۔
وردہ پالر نہیں جانا کیا۔۔۔ایک تو تم نے پہلے سے مہندی بھی نہیں لگوائی۔۔۔ اب آج مہندی بھی لگواؤ گی اور تم دیر کرے جارہی ہو۔۔۔ اب کی بار انمول نے اسے جھنجھوڑ دیا تھا۔
میں اٹھ چکی ہوں مما۔۔۔میں سو نہیں رہی بس میری آنکھیں بند ہیں ۔۔۔ وردہ ہاتھ کھڑا کر کے بولی۔
آنکھیں بند ہیں کی بچی اٹھو بارہ بج رہے ہیں ایک بجے پالر بھی جانا ہے جلدی کرو اٹھو جلدی۔۔۔ انمول نے ایک ہی جھٹکے سے اسے سیدھا کر کے بیٹھا دیا تو وردہ نے برا سا منہ بنایا۔
مما ابھی تو ایک گھنٹہ پڑا ہے تھوڑی دیر میں اٹھتی ہوں نا۔۔۔ وردہ آنکھیں بند کیئے ہی کہتی واپس لیٹنے لگی لیکن انمول نے اس سے پہلے ہی فورن اسے پکڑتے لیٹنے سے روکا۔
ہاں جیسے میں تو تمہیں جانتی ہی نہیں ہوں نا کہ تم کتنی سست ہو۔۔۔تمہیں اگر ابھی سے نا اٹھاوں نا تو تم تو وقت نکلنے کے بعد بھی سوتی رہو۔۔۔۔ انمول نے طنز کیا تو اسے بادل ناخواستہ اٹھنا ہی پڑا
مما آج میری شادی ہے لیکن آپ مجھے آج بھی ڈانٹ رہی ہیں۔۔۔ وردہ منہ بسورے الماری سے کپڑے لیتی واشروم میں گھس گئی۔
بےفکر ہو جاؤ بیٹا میں تمہیں تمہارے بچوں کے سامنے بھی ایسے ہی ڈانٹوں گی۔۔۔ انمول پیچھے سے ہانگ لگاتی مسکراتی دی۔
اسے بےساختہ اپنا وقت یاد آیا تھا جب وہ بھی شگفتہ بیگم کے ڈانٹنے پہ ایسے ہی گلا کرتی تھی۔۔۔ اور آج اسکی بیٹی بھی ایسے ہی بچوں کی طرح اس سے گلا کر رہی تھی۔
وقت بڑی تیری سے گزر گیا تھا۔۔۔ آج اسکی بیٹی اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ وہ رخصت ہونے جا رہی تھی۔۔۔ انمول پورے کمرے پہ ایک نظر دوڑاتی آنکھوں میں آئی نمی پوچھنتی کمرے سے نکل گئی۔
۔![]()
![]()
![]()
واہ جی واہ بہو کے آتے ہی بیٹی کو بھول گئے آپ لوگ۔۔۔ میرے بغیر ہی ناشتہ شروع کردیا۔۔۔ وردہ ڈائنگ روم میں آتی سب کو ناشتہ کرتے دیکھ مسنوعی افسوس سے بولی۔
ظاہر ہے اب تو ویسے بھی تمہاری شادی ہونے والے ہے آج تو ویسے بھی تم اس گھر سے چلی جاؤں گی پھر رہنا تو تحریم نے ہی ہے نا اس گھر میں تو ہم ابھی سے عادت ڈال رہے ہیں تمہارے بغیر ناشتہ کرنے کی۔۔۔ناشتہ کرتے انمول نے اسے چھیڑا۔
بابا دیکھ رہے ہیں مما ابھی سے مجھے پرایا کر رہی ہیں۔۔۔ وردہ نے رونے والی شکل بنائی تو ابتسام فورن تڑپ گیا۔۔۔ وہ کب کسی اپنے کو روتے دیکھ سکتا تھا۔۔۔ اسنے تو کبھی انمول کو رونے نہیں دیا تو وردہ تو پھر اسکے جگر کا ٹکڑا دی وہ کیسے اسے روتے دیکھ سکتا تھا۔
نہیں میرا بچہ آپ کی مما کا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ آپ کی بعد میں بھی وہیں جگہ رہے گی اس گھر میں جو پہلے تھی سمجھیں۔۔۔۔ ابتسام نے پیار سے کہا تو وہ مسکرادی۔۔۔ جب کے دل چاہ رہا تھا وہ جی بھر کے روئے۔۔ آج وہ جانے والی تھی اپنا گھر اپنے ماں باپ کو چھوڑ کے دوسرے گھر جانے والی تھی دل پھوٹ پھوٹ کے رونے کا کر رہا تھا لیکن وہ خود پہ ضبط کیئے بیٹھی رہی۔
اچھا تحریم تم بتاؤ اس کنجوس نے تمہیں منہ دیکھائی پہ کیا دیا۔۔۔ ویسے مجھے اس سے زیادہ کی امید تو نہیں ہے لیکن پھر بھی ایک آت چاندی کی انگوٹھی تو دی ہوگی نا۔۔۔ وردہ نے بات بدلتے بسام کو چڑایا تو بسام نے اسے گھورا۔
انہوں نے مجھے یہ سیٹ دیا ہے۔۔۔ تحریم نے پہنا ہوا سیٹ دیکھایا۔۔۔ جو بسام نے اسے منہ دیکھائی میں دیا تھا۔
یہ تو گولڈ کا لگ رہا ہے۔۔۔ پر نہیں اس نے ضرور سونے کا پانی چڑوایا ہوگا۔۔۔ وردہ نے ایک بار پھر چھیڑا۔۔
بہت ہو گیا لڑکی تم اب میری نئی نویلی بیوی کے سامنے بےعزتی کر رہی ہو ۔۔۔ بسام نے اسے گھور کے کہا جس پہ وردہ آنکھیں گھماگئی۔
ہاں جیسے بڑی تمہاری پہلے عزت تھی نا جو اب بےعزتی کر رہی ہوں میں۔۔۔ وردہ مزے سے بولی تو بسام دانت پیس کے رہ گیا۔
اچھا مما میں پالر جارہی ہوں اور تحریک تم پانچ بجے تک پالر آجانا اوکے۔۔۔ وردہ کھڑی ہوتی پہلے انمول اور پھر تحریم سے بولی۔
بیٹا سہی سے ناشتہ تو کرلو۔۔۔ شگفتہ بیگم نے کہا۔
نہیں نانو رات کو دیر سے ہی تو کھانا کھایا تھا اس لیئے زیادہ نہیں کھایا جائے گا ابھی۔۔۔ خیر آپ لوگ ایک بار جلدی جلدی سے مجھ سے گلے مل لیں کیوں کے اس کے بعد تو مجھے پالر سے سیدھے ہال اور ہال سے سیدھے سسرال جانا ہے۔۔۔ وردہ نسرین بیگم کے گلے لگتی بولی تو اسکی بات سنتے سب کی آنکھیں نم ہوئیں۔
مما آپ ایسے روئیں گی تو مجھے بھی رونا آجائے گا۔۔۔ وردہ انمول کو اپنے ساتھ لگائے بھرائی آواز میں بولی۔۔۔ انمول جو اپنی شادی میں بھی نہیں روئی تھی جو اپنے والدین کو کہہ رہی تھی کہ وہ کون سا دور جا رہی ہے جو وہ لوگ رو رہے ہیں پر آج جب اپنی بیٹی رخصت ہو رہی ہے تب پتہ چل رہا ہے کہ بیٹی کو رخصت کرتے وقت ماں باپ کے دل پہ کیا گزر رہی ہوتی ہے۔
بیٹا تم اس گھر سے رخصت ہو رہی ہو تو یہ نہیں سمجھنا کے تمہارا ہم پہ یا اس گھر پہ حق ختم ہو گیا ہے ۔۔۔ تمہارا ہم پہ اور اس گھر پہ حق تھا, ہے اور رہے گا۔۔۔ ابتسام اسکا ماتھا چومتے شفقت سے بولا تو اسنے بہت مشکل سے اپنے آنسوں کنٹرول گئے۔
یار اب میرے ساتھ لڑے گا کون۔۔۔ تمہاری بھابھی تو ہے ہی بور۔۔ میں کس سے لڑ کے انٹرٹین ہوا کروں گا۔۔۔ بسام اسے اپنے ساتھ لگاتا منہ بسور کے بولا تو وہ نم آنکھوں سے ہنس دی۔
خبر دار جو میری بھابھی کو کچھ بولا تو وہ بہت پیاری اور معصوم ہیں۔۔۔ اور رہی بات لڑنے کی تو اسکی فکر نہیں کرو۔۔۔ روز فون پہ لڑ لیا کروں گی یا آفس آکے تمہارا یہ شوق پورا کر دوں گی۔۔۔ وردہ ہلکے سے اسکے پیٹ میں مکاہ مارتی آنکھیں دیکھا کے بولی تو وہ مسکرا دیا۔
باقی سب سے ملتی وہ ایک نظر پورے گھر پہ ڈالتی آنکھیں صاف کرتی باہر نکل گئی۔۔۔
وہ جتنی آنکھیں صاف کر رہی تھی اتنی بار ہی آنکھیں واپس بھر جاتیں۔۔ اور پھر آخر کار اسنے تنگ آکے گاڑی میں بیٹھتے آنسوں کو بہنے دیا۔۔۔
وہ جب بھی کسی کو رخصت ہوتے دیکھتی تھی تو یہی سوچتی تھی پتہ نہیں کیوں لوگ رخصتی پہ روتے ہیں بعد میں بھی تو ملتے ہی رہتے ہیں نا گھر والوں سے لیکن آج جب وہ خود اس وقت سے گزر رہی تھی تب اسے پتہ چل رہا تھا کہ اپنوں سے دور ہونا کتنا مشکل اور دکھ بھرا ہوتا ہے۔
۔![]()
![]()
![]()
