820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 18)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

آج وردہ کو مایوں بیٹھے دوسرا دن ہو گیا تھا۔۔۔ کل بسام کی بارات تھی لیکن وردہ کی ابھی سے بس ہوگئی تھی۔۔۔ انمول نے اس پہ مایوں بیٹھنے کے بعد کافی پابندیاں لگادی تھیں۔۔۔ وہ اسے گھر سے باہر یہاں تک کے لان میں بھی نہیں جانے دیتی تھی۔۔۔ اس کا کہنا تھا مایوں کی دلہن پہ مہندی اور اپٹن کی خوشبو سے جن عاشق ہو جاتے ہیں اس لیئے اسنے وردہ کے لان میں جانے پہ بھی پابندی لگا دی تھی۔

لیکن گھر میں رہ رہ کے وردہ کا اب دم گھٹنے لگا تھا اس لیئے اسنے سب سے چھپ کے کہیں باہر جانے کا پلین بنایا۔۔۔ اسنے جلدی سے اپنا فون اٹھایا اور تحریم کو کال ملائی۔

تحریم بھی چار دن سے مایوں بیٹھی ہوئی تھی اس لیئے وردہ نے اس بیچاری کو بھی اپنے ساتھ کھلی فضا میں لے جانے کا سوچا۔

ہیلو ریم کیسی ہو۔۔۔ کیا کر رہی تھی ۔۔۔ سو تو نہیں گئیں تھیں نا۔۔۔ کال ریسیو ہوتے ہی وردہ کے لاتعداد سوال شروع ہوگئے۔

میں مہندی سوکھا رہی تھی۔۔۔ اسکے اتنے سارے سوالوں کے جواب میں تحریم نے مختصر جواب دیا۔

سوکھ گئی۔۔۔۔ وردہ نے پھر پوچھا۔

ہاں تقریباً۔۔۔ تحریم اپنے مہندی سے سجے ہاتھ دیکھتے بولی۔

تو پھر ٹھیک ہے پانچ منٹ کے اندر تم چھپ کے دروازے پہ آجاؤ میں آرہی ہوں تمہیں لینے۔۔۔ وردہ نے فورن حکم جارہی کیا۔۔۔ جیسے سنتے تحریم اچھل پڑی۔

اس وقت مگر کیوں سب ٹھیک تو ہے نا۔۔۔ تحریم فورن پریشانی ہوئی۔۔اسے سمجھ نہیں آیا رات کے دو بجے وردہ کو کہاں جانا ہے۔

ہاں سب ٹھیک ہے بس میرا دم گھٹ رہا ہے اس لیئے کہیں آؤٹنگ پہ چلیں گے ۔۔۔ وردہ نے وجہ بتائی۔

وردہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔ کل میری بارات ہے اور تم بھی ابھی مایوں میں ہو ۔۔۔ اس طرح ہمارا گھر سے باہر نکلنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ تحریم نے اسے سمجھایا۔

میں گھر میں رہ رہ کے پک گئی ہوں۔۔۔ دو دن ہو گئے میں نے کھلی فضا میں سانس نہیں لیا۔۔۔ اور تم،،، تم تو مجھ سے پہلے کی مایوں بیٹھی ہوئی ہو کیا تم بور نہیں ہوئیں گھر میں رہ رہ کے۔۔۔ وردہ نے حیرت سے استفسار کیا۔

میں پہلے کون سا زیادہ باہر جاتی تھی۔۔۔ تحریم مسکراتے ہوئے بولی ۔

او ہاں تم تو ہو ہی بوڑھی روح،،، خیر مجھے کچھ نہیں سننا میں آرہی ہوں تمہیں لینے فٹافٹ دروازے پہ آجاؤ آگر نہیں آئیں نا تو یاد رکھنا اچھا نہیں ہوگا۔۔۔ اوکے ۔۔۔ وردہ نے جلدی سے دھمکی دیتے تحریم کو بولنے کا موقع دیئے بغیر فون بند کردیا۔۔۔

جب کے بیچاری تحریم تو اسکی دھمکی سے ڈرتی جلدی سے الماری سے چادر نکلنے لگی۔

وردہ ایک بڑی سی چادر میں اچھے سے منہ چھپائے ادھر ادھر نظریں دوڑاتی دبے پاؤں سیڑیاں اترنے لگی۔۔۔ نیچے آکے اسنے ایک بار لاؤنچ میں پورا گھوم کے دیکھا کہ کہیں اسے کوئی دیکھ تو نہیں رہا لیکن چاروں طرف خاموش پا کہ وہ آرام سے باہر نکلی۔

دروازہ کھولو بغیر آواز پیدا کیئے,,, آگر اتنی سی بھی آواز آئی تو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔۔ وردہ چوکیدار کو دھمکی دیتی گاڑی میں بیٹھ کے بہت ہی احتیاط سے گاڑی اسٹار کرگئی۔

چوکیدار نے اسکے کہے کے مطابق بغیر آواز پیدا کئے آہستہ آہستہ بڑا دروازہ کھولا تو وردہ نے بھی نظریں گماتے دھیرے سے گاڑی باہر نکلالتے تحریم کے گھر کی جانب لے گئی۔

اسنے تحریم کے دروازے پہ گاڑی روکی ہی تھی کہ تحریم بھی بڑی سی چادر میں لپٹی فورن باہر آئی۔

جلدی بیٹھو۔۔۔ وردہ اسے اشارہ کرتی بولی تو وہ ڈرتی ہوئی بیٹھ گئی۔۔۔ اس کے بیٹھتے ہی وردہ نے گاڑی آگے بڑہا لی۔

وردہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ آگر کسی کو پتہ چل گیا کہ ہم اتنی رات میں باہر نکلے میں تو۔۔۔ تحریم نے خدشہ ظاہر کیا۔

ریم جب تمہارے ساتھ تمہاری بہادر نند موجود ہے تو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ ویسے تو کسی کو پتہ نہیں چلے گا اور آگر کسی کو پتہ چلتا بھی ہے تو میں ہوں نا،،، سب سمبھال لوں گی میں۔۔۔ وردہ کندھوں سے چادر آگے ڈالتی ریلکس ہوکے ڈرائیونگ کرتی بولی۔۔۔ تو تحریم بھی ہاں میں سر ہلا گئی۔

ویسے ہم جائیں گے کہاں۔۔۔ تحریم نے سامنے دیکھتے پوچھا۔

لونگ ڈرائیو پہ۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے کہا تو تحریم کھڑکی سے باہر ہاتھ نکلتی گہری سانس لیتی سکون سے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گئی۔

ابھی تحریم کو آنکھیں بند کیئے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ گاڑی کی اسپیڈ تیز ہوتی محسوس کر اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔

وردہ پاگل ہوگئی ہو۔۔۔ اسپیڈ کم کرو۔۔۔ تحریم نے خوف سے کبھی سڑک تو کبھی وردہ کو دیکھا۔

خالی سنسان سڑک پہ ان کی گاڑی کافی رفتار سے چل رہی تھی۔۔۔کھلی کھڑکی سے سرد ہواؤں کے جھونکے انکے اندر ایک کپکپی طاری کر رہے تھے لیکن وردہ کو تو کوئی فکر ہی نہیں تھی وہ تو بس اپنی مستی میں مست تھی۔۔۔ جب کے تحریم ڈر سے آدھی ہوگئی تھی۔

ہماری گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی ہے کتنا مزا آرہا ہے۔۔۔ وردہ نے بھی ایک ہاتھ گاڑی سے باہر نکالتے کہا۔

وردہ اسپیڈ ہلکی کرو۔۔۔ کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔۔۔ تحریم نے ڈرتے ہوئے کپکپاتی آواز میں کہا۔

سڑک بلکل خالی ہے ریم کچھ نہیں ہوتا تم انجوائے کرو بس۔۔۔ دروہ مزے سے بولی تو تحریم دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کرتی حلق تر کر کے رہ گئی۔۔۔ جانتی تھی وہ کسی کی مانتی تو ہے نہیں اس لیئے بحث کا کوئی فائدہ تھا ہی نہیں۔۔

۔🌺🌺🌺

سر اب آپ کو گھر چلے جانا چاہیئے۔۔۔ آپ کی چھٹیاں منظور ہوگئی ہیں۔۔۔مجھے لگتا ہے اب آپ کا یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔ آپ جس کے انتظار میں یہاں بیٹھے ہیں مجھے لگتا ہے اسے پتہ چل گیا ہے آپ یہاں اسکی تاق میں بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ گاڑی کے بونٹ پہ چڑھ کے بیٹھا ہوا تھا جب اسکے ساتھ کھڑے اسپکٹر نے کہا۔

تم ٹھیک کہتے ہو راشد مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ شیرخان کو ہمارا پلین پتہ چل گیا ہے اس لیئے اسنے یا تو اپنا ارادہ بدل لیا یا پھر راستہ۔۔۔ وہ بونٹ سے جمپ لگا کے اترتے دائیں بائیں اندھیری سنسان سڑک کو دیکھ کے سنجیدگی سے بولا۔

خیر سر آپ کو شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ آپ گھر جا کے آرام کریں۔۔۔۔ آگر ہمیں کچھ پتہ چلتا ہے تو ہم ضرور آپ کو بتائیں گے اسپکٹر راشد نے کہا تو وہ سر ہلاتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا جو اس سے کچھ فاصلے پہ کھڑی تھی۔

ابھی وہ گاڑی کے پاس پہنچا ہی تھا کہ دور سے ایک گاڑی تیز رفتار سے آتی دیکھائی تھی۔۔۔ جسے دیکھتے اسکی تیوری چڑھی۔

راشد اس گاڑی کو روکو۔۔۔ وہ ماتھے پہ بل لیئے راشد سے بولا۔۔۔ تو راشد نے فورن اسکے حکم کی تعمیل کی۔

وردہ آرام سے۔۔۔ سامنے اچانک پولیس والے کو دیکھ تحریم چیخی ۔۔۔ جب کے وردہ نے ایک دم بریک لگایا۔۔۔ آگر تحریم نے سیٹ بیلٹ نا لگائی ہوئی ہوتیں تو یقیناً اسکا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتا۔

یہ پولیس والے کہاں سے آگئے بیچ میں۔۔۔ وردہ بدمزہ ہوئی۔

میڈ یہ کیا حرکت ہے اتنی تیز اسپیڈ میں کوئی گاڑی چلاتا ہے کیا۔۔۔ اسپکٹر نے سختی سے پوچھا۔

جی میں چلاتی ہوں۔۔۔ ورده نے بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو اسپکٹر راشد اسکی ڈھیٹائی پہ صبر کے گھونٹ بھر کے رہ گیا۔

راشد تم پیچھے ہو جاؤ میں دیکھتا ہوں۔۔۔ دامل کی آواز پہ وہ اسے گھورتے ہوئے پیچھے ہوگیا جب کے وردہ یہ آواز باخوبی پہچان گئی تھی۔۔۔۔

رات کے اس وقت جوان لڑکیوں کو یوں اکیلے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیئے۔۔۔ وہ کھڑکی پہ جھکتا وردہ کو پہچانتے اسکے ساتھ ڈری سہمی لڑکی کو بیٹھا دیکھ بولا۔

اپنے کام سے کام رکھو سمجھے۔۔۔ وردہ اسے دیکھ غصے سے کہتی گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی جب دامل تیزی سے گاڑی کی چابی نکالتے پیچھے ہوا۔

یہ کیا بدتمیزی ہے دو نمبر پولیس والے۔۔۔ وردہ غصے سے باہر نکلی تو تحریم بھی اسکے پیچھے ہی گاڑی سے نکلی۔

تمیز سے بات کریں۔۔۔ آپ لڑکی ہیں اس لیئے میں آپ کا لحاظ کررہا ہوں ورنا دو منٹ نہیں لگیں گے مجھے آپ کو اندر کرنے میں۔۔۔ دامل خود کو دو نمبر کہے جانے پہ اپنا غصہ ضبط کرتے چبا چبا کے بولا۔

ارے ہاتھ تو لگا کے دیکھاؤ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا سمجھتے ہو خود کو۔۔۔۔ بڑے ہی کوئی تیس مار خان ہوں نا ۔۔۔ ابھی آگر میں نے ایک فون تم سے اوپر کیا نا تو تمہاری چھٹی ہو جائے گی۔۔۔ وردہ آستینیں چڑھاتی فل لڑاکا انداز میں بولی۔

جب کے سامنے کھڑی پیلے رنگ کے سوٹ میں اپنے کندھے تک آتی لڑکی کی دھمکیاں سنتے دامل کا خو،ن کھولا۔

راشد گاڑی میں بیٹھاؤ انہیں۔۔۔ دامل اپنا ضبط کھولے دھاڑا تو اسکی دھاڑ سنتے ایک پل کے لیئے وردہ کانپ گئی جب کے تحریم کو دیکھ کے تو لگ رہا تھا وہ ابھی رو جائے گی۔

نہ۔۔۔۔۔نہیں پلیز ایسا نہیں کریں ۔۔۔ یہ تو پاگل ہے کچھ بھی کہتی رہتی ہے۔۔۔ میں اسکی طرف سے سوری کہتی ہوں پلیز ہمیں جانے دیں۔۔۔ راشد کو آگے بڑھتے دیکھ تحریم فورن دامل کے سامنے آتی آنکھوں میں آنسو لیئے التجاہ کرنے لگی۔

اس چھوٹی لڑکی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ دامل کو بلکل اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔ وہ دیکھنے میں جتنی معصوم لگتی تھی اسکی باتوں سے دامل نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ واقعی ڈرپوک اور معصوم ہے۔

ریم پاگل ہوگئی ہو۔۔۔ اس جالی پولیس والے سے سوری کیوں کر رہی ہو۔۔۔ غلطی اس کی ہے اسنے ہمیں روکا ورنا ہم تو گزر رہے تھے نا بس یہاں سے ۔۔۔۔ نا یہ ہمیں روکتا اور نا ہی باتیں سنتا۔۔۔ وردہ اسے تیخی نظروں سے گھورتی غرائی۔

وردہ پلیز۔۔۔ تحریم اسکا بازو پکڑتی آہستہ میں کہتی اسے خاموش کروانے لگی۔

دیکھیں سر پلیز ہمیں جانے دیں آگر ہمارے گھر پہ پتہ چل گیا کہ ہم رات کے اس وقت گھر سے باہر ہیں تو بہت ڈانٹ پڑے گی۔۔۔ پلیز ہمیں جانے دیں ہم آگے سے کبھی اوور اسپیڈ میں گاڑی نہیں چلائیں گے۔۔۔ تحریم نے ایک بار پھر التجاہ کی تو دامل نے گہری سانس بھری۔

ٹھیک ہے میں صرف آپ کی وجہ سے جانے دے رہا ہوں ورنا انہوں نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی حوالات میں جانے کی۔۔۔ دامل وردہ کے سرخ چہرے کو دیکھتے بولا تو وردہ تحریم کا خیال کرتے چپ ہی رہی۔

شکریہ۔۔۔۔ تحریم نے تشکر سے کہا۔

دامل نے چابی وردہ کی جانب بڑھائی تو وہ اسکے ہاتھ سے جھپٹنے والے انداز میں چابی لیتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔ اسکے پیچھے ہی تحریم بھی جلدی سے گاڑی میں بیٹھی۔

وردہ آہستہ چلانا۔۔۔ اسے گاڑی اسٹارٹ کرتے دیکھ تحریم نے ٹوکا۔۔۔ تو وردہ پہلے اسے گھورتی پھر شیشے کے پار جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑے دامل کو گھورتی ناک چڑہاتی تیز اسپیڈ میں ہی گاڑی بھگا لے گئی۔۔۔۔

تیزی سے گاڑی کو آگے بڑھتے دیکھ دامل اس سرپھری اور ڈھیٹ لڑکی کی ڈھیٹائی پہ سر جھٹک کے رہ گیا۔

۔🌺🌺🌺

وہ جس طرح دبے پاؤں گھر سے نکلی تھی بلکل اسہی طرح واپس بھی آگئی تھی۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اسنے غصے سے اپنا فون بیڈ پے پھینکا تھا۔

سمجھتا کیا ہے خود کو ۔۔۔ دو نمبر پولیس والا۔۔۔ جب دیکھو میرے سامنے آجاتا ہے۔۔۔ میرا بس چلے تو میں اسے اس دنیا سے ہی غائب کردوں۔۔۔ وہ غصے سے ادھر ادھر ٹہلتی دامل کو سنا رہی تھی۔

یااللہ مجھے کبھی اس کی آب شکل نہیں دیکھائے گا۔۔۔ وہ صوفے پہ بیٹھتی آسمان کی جانب دیکھ کے بولی اور پھر ساتھ ہی سامنے رکھا پانی سے بھرا گلاس ایک ہی سانس میں انڈیل گئی۔

ہووووو۔۔۔۔ مجھے امید ہے اب وہ مجھے کبھی نہیں دیکھے گا۔۔۔ وردہ خود کو ہی مطمئن کرتی اٹھ کے بیڈ پہ لیٹتی سکون سے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔

مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ جس کی شکل کبھی نا دیکھنے کی دعا کی ہے اب ساری زندگی ہی اسے اسکی شکل دیکھنی ہے۔

۔🌺🌺🌺

بسام اٹھو آج تمہاری بارات ہے۔۔۔۔ سیف بسام کے کمرے میں داخل ہوتے اسے کمبل تانے سوئے دیکھ ایک جھٹکے سے اس پہ سے کمبل کھینچ کے بولا۔

ابھی تو اس میں وقت ہے یار۔۔۔ بسام کروٹ لیتے نیند میں بڑبڑایا۔

ابے دوپہر کا ایک بج رہا ہے۔۔۔۔ سیف نے بلند آواز میں کہا تو بسام ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔

کیا ایک بج گیا اور کسی نے مجھے اٹھایا بھی نہیں ۔۔۔ بسام گھڑی پہ ٹائم دیکھتے چھلانگ لگا کے بیڈ سے اترا۔

اب تو میں نے جگا دیا نا۔۔۔ اب جا جلدی فریش ہو جا پھر چلنا بھی ہے تیری ڈینٹنگ پینٹنگ کروانے۔۔۔ سیف کے شرارت سے کہنے پہ وہ اسے پیٹ میں کہنی مارتا جلدی سے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں گھس گیا تو سیف بھی ہنستے ہوئے بیڈ پہ لیٹتے اسکے نکلنے کا انتظام کرنے لگا۔

بسام پانچ منٹ میں فریش ہوکے آیا تو سیف کو اپنی جگہ سوئے دیکھ حیران ہوا۔

او بھائی اٹھ۔۔۔ یہاں سونے آیا تھا کیا۔۔۔۔ چل جلدی کر چلنا بھی ہے۔۔۔ بسام بالوں میں کنگھا کرتے سیف کو ہاتھ پکڑ کے اٹھاتے زبردستی کمرے سے نکل گیا۔۔۔ جب کے سیف نیند سے اٹھائے جانے پہ سخت بدمزہ ہوا تھا۔

۔🌺🌺🌺

شام ہوتے ہی بارات نکلنے کی تیاری مکمل ہوگئی تھی۔۔۔ ابتسام نے فہد کو بھی فون کر کے بتا دیا تھا کہ وہ لوگ ہال کے لیئے نکلنے والے ہیں۔۔۔

فہد اور دامل دونوں تیار ہوکے انمول کے گھر کے لیئے نکل ہی رہے تھے جب گھر میں دلاور خان کو داخل ہوتے دیکھ دونوں چونکے۔

لگتا ہے میں غلط وقت پہ آگیا ۔۔۔ تم دونوں تو بارات میں جانے کے لیئے تیار لگ رہے ہو۔۔۔ دلاور خان ان دونوں کے مقابل کھڑے ہوتے بولے۔

دادا جان آپ نے بتایا نہیں کے آپ آج آنے والے ہیں۔۔۔ دامل آگے بڑھتے خوشی سے انکے گلے لگا جب کے دامل نے تو انہیں دیکھتے ہی نظریں پھیر لیں تھیں۔

آگر میں بتا کے آتا تو اپنے پوتے کے چہرے پہ یہ خوشی کیسے دیکھتا۔۔۔۔ دلاور خان دامل کا کندھا ٹھپٹھپاتے بولے تو وہ مسکرا دیا۔

تم کیسے ہو بیٹا۔۔۔ باپ کو بتایا بھی نہیں اس کے پوتے کی شادی کرنے سے پہلے۔۔۔ دلاور خان نے فہد کو گلے لگانے کے لیئے قدم اسکی جانب بڑھائے لیکن وہ اپنے قدم پیچھے لے گیا۔۔۔

اسکی بےرخی پہ دلاور خان تڑپ کے رہ گئے۔۔۔ اتنے سالوں بعد تو وہ اپنے بیٹے سے روبرو مل رہے تھے لیکن ان کے بیٹے نے انہیں گلے بھی نہیں لگنے دیا۔

انہیں تم نے بتایا ہے شادی کا۔۔۔ فہد نے سرد لہجے میں دامل سے پوچھا۔

اسے کچھ مت کہوں اس نے کچھ نہیں بتایا مجھے ۔۔۔ پر میں بھی تمہارا باپ ہوں تمہارے ہر منٹ کی خبر رکھتا ہوں۔۔۔ اور پھر یہ تو میرے پوتے کی شادی کا معاملہ تھا میں کیسے بےخبر رہ سکتا تھا اس سے۔۔۔ دامل کے کہنے سے پہلے ہی دلاور خان بول پڑے تھے۔۔۔ لیکن فہد نے انکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

دامل میں باہر تمہارا انتظار کر رہا ہوں آجاؤ ہمیں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ فہد کوئی بھی جواب دیئے بغیر باہر نکلنے لگا جب دلاور خان کی بات پہ اسے قدم روکنے پڑے۔

میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔۔۔ بھئی آخر ہمارے پوتے کے سالے کی شادی ہے اچھا ہے میں بھی سب سے مل لوں گا۔۔۔ دلاور خان کی بات پہ فہد نے مڑ کے پہلے انہیں پھر دامل کو دیکھا۔

دامل نے فہد کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا دیکھا۔۔۔ اسے لگا جیسے وہ دلاور خان کو وہاں لے کے جانا نہیں چاہتا۔

دادا جان آپ تھکے ہوئے ہوں گے آپ آرام کریں جب تک ہم واپس آجائیں گے باقی رہی ملاقات کی بات تو آپ میری بارات والے دن سب سے مل لے گا۔۔۔ دامل نے انہیں رسان سے جانے سے روکنا چاہا لیکن دلاور خان تو جیسے ٹھان کے آئے تھے کہ وہ آج کسی کی بات نہیں مانے گے۔

ارے نہیں بیٹا میں بلکل بھی تھکا ہوا نہیں ہوں ۔۔۔ ہم چلتے ہیں۔۔ دیکھو میں تیار بھی ہوں۔۔۔ دلاور خان اپنے کوٹ کو ٹھیک کرتے بولے تو فہد نے ضبط ڈے منٹھیاں بھیجیں۔۔۔ جسے دامل نے باخوبی محسوس کیا تھا۔

دادا جان آگر آپ فریش ہیں تو ہم دونوں ساتھ ٹائم اسپنڈ کرتے ہیں نا۔۔۔ کتنے دن ہوگئے ہم نے ساتھ بیٹھ کے گپ شپ نہیں کی۔۔۔ڈیڈ آپ چلیں جائیں اور میری طرف سے معذرت کر لے گا۔۔۔ دامل بات سمبھالنے کے لیئے پہلے اپنے دادا سے اور پھر نرمی سے اپنے ڈیڈ سے بولا۔۔۔ جس پہ فہد محض ہاں میں سر ہلاتا تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔

وہ آج ہر حال میں دامل کو اپنے ساتھ لے کے جانا چاہتا تھا لیکن دلاور خان کے بیچ میں ٹانگ اڑانے پہ اسے دامل کی بات مانتے اکیلے ہی جانا پڑا۔۔۔۔ وہ جانتا تھا دلاور خان آگر کسی کی بات سنتے ہیں تو وہ انکا پوتا ہے اس لیئے وہ دامل کو چھوڑ کے اکیلے ہی ہال کے لیئے نکل گیا تھا۔

دادا جان آپ کمرے میں جا کے فریش ہو جائیں جب تک میں کچھ کھانے کا لے کے آتا ہوں ۔۔۔ دامل کے پیار سے کہنے پہ وہ اوکے کہتے اپنے پرانے کمرے کی جانب بڑھ گئے۔۔۔ تو دامل بھی کچن میں ملازم کو کھانے کا کہنے چلا گیا۔

۔🌺🌺🌺