820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 17)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

وردہ۔۔۔ دروازہ تھوڑا سا کھلا دیکھ ابتسام نوک کرتے اندر داخل ہوا۔

جی بابا۔۔۔ آپ اس وقت میرے کمرے میں کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتے۔۔۔ وردہ جو صوفے پہ بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی فورن کھڑی ہوئی۔

مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔۔۔ کمرے میں آپکی ماں تھی جس کے سامنے کوئی بات کرنا مطلب اپنی شامت خود بلانے جیسا ہے اس لیئے میں خود ہی یہاں چلا آیا۔۔۔ ابتسام اسکو اپنے حصار میں لیئے صوفے پہ بیٹھا۔

ایسی کیا بات ہے بابا۔۔۔ اسنے تجسس سے پوچھا۔

پہلے یہ بتاؤ ٹرپ کیسا گزرا،،، مزا آیا گھوم پھر کے ۔۔۔ ابتسام نے پیار سے پوچھا۔

جی بابا بہت مزا آیا ۔۔۔۔ اور آپ کو پتہ ہے میں نے بہت سارے پیسے بھی خرچ کیئے ہیں،،، خوب شوپنگ کی ہے میں نے۔۔۔ وردہ نے مزے سے کہا تو وہ دھیرے سے مسکرایا۔

اچھا بیٹا اب میں جو پوچھ رہا ہوں اسکا جواب مجھے سچ کی صورت میں چاہیئے۔۔۔ ابتسام سنجیدہ ہوا۔

بابا میں کبھی آپ سے جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔ وہ خفگی سے بولی تو ابتسام ہلکا سا قہقہہ لگا اٹھا۔

میں جانتا ہوں میری بیٹی کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔ وہ اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے شفقت بھرے لہجے میں بولا تو وہ مسکرا دی۔

اچھا بیٹا یہ بتاؤ پرسوں تمہارے اکاؤنٹ میں ایک بہت بڑی رقم جمع ہوئی تھی۔۔۔ تو وہ رقم آئی کہاں سے کس نے جمع کروائی تھی۔۔۔ اور پھر اگلے دن ہی وہ رقم نکال بھی لی ہے آپ نے۔۔۔ نے بہت نرمی سے سوال کیا۔۔۔ جس وقت رقم ٹرانسفر ہوئی تھی اسکے کچھ وقت بعد ہی ابتسام کے پاس ساری ڈیٹیلز آگئیں تھیں ۔۔۔ اتنی بڑی رقم دیکھ کے ابتسام کافی پریشان ہوگیا تھا وہ وردہ سے جبھی بات کرنا چاہتا تھا لیکن اسکی ٹرپ خراب نا ہو اس لیئے اسکے واپسی آنے کا انتظار کرنے لگا اور آج جب وہ واپس آگئی تھی تو وہ رات میں اس سے اکیلے بات کرنے آیا تھا۔

بابا وہ رقم دلاور خان نے ٹرانسفر کی تھی۔۔۔ وردہ نے سیریس ہو کے کہا تو دلاور خان کا نام سنتے ابتسام چونکا تھا۔

دلاور خان مطلب فہد کے والد۔۔۔ ابتسام نے کنفورم کرنا چاہا جس پہ وردہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

مگر وہ تمہیں کہاں ملے۔۔۔ ابتسام نے قدرے حیرت سے پوچھا۔

بابا وہ مجھے لندن میں ملے تھے اور۔۔۔۔۔۔۔ پھر وردہ اسے اس دن دلاور خان سے ہوئی سب باتیں بتاتی چلیں گئیں لیکن اسنے اپنی ماں کے بارے میں کی گئی باتوں کو چھپا دیا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی اسکا باپ اسکی ماں سے کرنا پیار کرتا ہے ۔۔۔ آگر وہ اسے دلاور خان کی انمول کو لے کے سوچ کا بتا دیتی تو ممکن تھا کہ ابتسام غصے میں آکے اس شادی سے انکار کر دیتا۔۔۔ اس لیئے وہ یہ بات گول کر گئی۔

یہ دلاور خان کبھی باز نہیں آئے گا۔۔۔ ابتسام شدید غصہ سے مٹھیاں بھیجے سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔ اس کا دل کر رہا تھا ابھی لندن جا کے وہیں دلاور خان کی جان لے لے۔

بابا ماضی میں ایسا کیا ہوا تھا جو دلاور خان کا رویہ ہمارے ساتھ ایسا ہے۔۔۔ اور وہ کیوں بار بار ماما اور فہد انکل کا ایک ساتھ ذکر کر رہے تھے۔۔۔ وردہ نے تجسس سے پوچھا اور یہاں ابتسام شش و پنج میں مبتلا ہو گیا کہ وہ بتائے یا نا بتائے کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ماضی بچوں کے سامنے آئے لیکن جو چند ایک باتیں وردہ کے سامنے آئیں تھی اس کی وجہ سے اب وہ اس سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اس لیئے ایک گہری سانس بھرتے اسے ماضی بتانے کا فیصلہ کیا۔

بیٹا یہ بات میں صرف آپ کو بتا رہا ہوں ۔۔۔ آپ نے مجھ سے وعدہ کرنا ہے یہ بات کسی کو نہیں بتاؤ گی۔۔۔ ابتسام نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے وعدہ چاہا۔

پکاہ وعدہ میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔ وردہ نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے کہا تو وہ اسے ماضی بتاتا چلا گیا۔۔۔ جیسے سن کے وردہ کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں تھیں۔

بیٹا وہ آدمی بےحس ہے۔۔۔ جو اپنے بیٹے کی خوشیوں کا خیال نا رکھ سکا ۔۔۔ جس کے لیے اسکے بیٹے سے زیادہ ضروری اسٹیٹس تھا ایسے آدمی سے کبھی اچھے کی امید نا کرنا اور جتنا ہو سکتے دور رہنے کی کوشش کرنا۔۔۔ ابتسام کو دلاور خان پہ غصے کے ساتھ افسوس بھی ہو رہا تھا جو اس عمر میں بھی اپنی غلطی ماننے کے بجائے وہیں پرانی باتیں لیئے بیٹھا تھا جس میں غلطی بھی سراسر اسہی کی تھی۔

آپ فکر نہیں کریں بابا آپ کی بیٹی بہت بہادر اور سمجھدار ہے ایسے لوگوں کو اچھے سے ہنڈل کرنا جانتی ہے۔۔۔ وردہ نے فخر سے گردن اکڑا کے کہا تو ابتسام نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرا۔

خوش رہو۔۔۔ لیکن یہ تو بتایا نہیں کہ پچاس کروڑ جیسی بڑی رقم آپ نے کہاں خرچ کی ہیں۔۔۔ ابتسام نے پوچھا تو وردہ کے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکراہٹ آئی۔

آپ مجھ پہ یقین رکھیں بابا اس میں سے ایک پیسہ بھی میں نے خود پہ خرچ نہیں کیا۔۔۔ سارے پیسے اسے اسکے اصل حقداروں کے پاس بھیج دیا ہے۔۔۔ وردہ نے مسکرا کے کہا تو ابتسام نے اس سے آگے اور کچھ نہیں پوچھا۔

مجھے اپنی بیٹی پہ پورا یقین ہے وہ جو بھی کرے گی ٹھیک ہی کرے گی۔۔۔ چلو اب سو جاؤ کل تحریم کے گھر پہ جانا ہے مہندی لے کے۔۔۔ ایک تو تمہاری ماں بھی نا سارے کام الگ الگ رکھ کے بیٹھ گئی ہے تاکہ شادی لمبی چلے۔۔. اور وہ تمہارے دائم انکل اور فہد انکل وہ دونوں بھی اس کی ہاں میں ہاں ملا کے بیٹھ گئے۔۔۔ چمچے کہیں کے۔۔۔ ابتسام نے تپ کے کہا۔۔۔

بابا آپ ایسے نہیں کہہ سکتے انہیں۔۔۔اتنے اچھے تو ہیں دائم انکل اور فہد انکل۔۔۔ وردہ نے فورن منہ بناتے شرارت سے کہا۔

ہاں بہت اچھے۔۔۔ جب دیکھو تمہاری ماں کے سامنے اپنے نمبر بڑھاتے رہتے ہیں۔۔۔ ابتسام نے سر جھٹکا۔

او تو آپ جیلس ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ وردہ نے اسے چھیڑا۔

ہاں ہو رہا ہوں۔۔۔۔ ابتسام نے بھی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا تو وردہ کی ہنسی نکل گئی۔۔۔

وردہ کو ہنستے دیکھ وہ بھی ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا گیا۔۔۔

۔🌺🌺🌺

پہلا الارم بجتے ہی تحریم کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔ وہ خوشی کے مارے ویسے ہی پوری رات ٹھیک سے نہیں سوئی تھی اور اب بھی الارم بجتے ہی آٹھ گئی تھی۔

وہ اٹھتے کے ساتھ ہی فورن اپنے کپڑے لیئے واشروم میں گھس گئی۔

وہ گیلے بالوں کو تولیہ سے سکھاتی بیڈ پہ رکھا اپنا دوپٹہ لیئے نم بالوں کو پشت پہ بکھرا چھوڑے کمرے سے نکل گئی۔

وہ نیچے آئی تو جیسے ہر طرف رونق لگی ہوئی تھی۔۔۔ اسکے ننیال والے آچکے تھے وہ سب سے باری باری ملتی دعا لینے لگی جب گھر میں وردہ داخل ہوئی۔

ہائے یہاں تو بڑے رونق میلے لگے ہوئے ہیں۔۔۔ وہ ہاتھ میں پکڑے بیگز ٹیبل پہ رکھتی سب کو سلام کر کے تحریم کے برابر میں بیٹھ گئی۔

فکر نہیں کرو کل تمہارے گھر میں بھی لگنے والے ہیں۔۔۔ تحریم نے دھیرے سے کہا۔۔۔ تو وہ آنکھیں گھما گئی۔

یہ دیکھ لینا تمہاری مہندی اور بارات دونوں کا سامان ہے اس میں۔۔۔ ویسے تو مما خود دینے آتیں لیکن وہ بابا کے ساتھ کیٹرین والوں کے پاس گئی ہوئی ہیں اور باقی سب بھی گھر کے کام میں مصروف تھے بس میں ہی ایک ویلی تھی تو سوچا میں خود ہی جا کے دے آتی ہوں۔۔۔ وہ ملازمہ سے جوس کا گلاس لیتی سکون سے تفصیل سے بولی تو سب مسکرا دیئے۔

یہ تو بہت اچھا کیا کہ آپ آگئیں ویسے بھی اب اپکا یہاں آنا جانا بھی کم ہوجائے گا۔۔۔ ماہی پیار بھرے لہجے میں بولی۔

ہمم یہ تو ہے ۔۔۔ اچھا ریم تمہیں پالر کب جانا ہے۔۔۔ ماہی کو جواب دیتے اسنے تحریم سے پوچھا۔

وہ گھر ہی آئے گی۔۔۔ تحریم کے بتانے پہ وہ ہاں میں سر ہلا گئی ۔۔۔ کچھ دیر اور وہاں رکتے وہ واپسی کے لیئے نکل گئی۔۔۔ تو تحریم بھی اپنی تیاری کرنے کے لیئے بیگز اٹھاتی اپنے کمرے میں چل دی۔

۔🌺🌺🌺

وہ لوگ تیار شیار ہوئے تحریم کے گھر جانے کے لیئے بلکل تیار تھے جب ابتسام نے کہا

مما یہ تو ناانصافی ہے۔۔۔ مجھے بھی ساتھ جانا ہے۔۔۔ بسام نے منہ بسورے کہا۔۔۔ مہندی کے فنگشن انمول کے کہنے پہ سب کے الگ الگ رکھے گئے تھے۔۔۔ اسکا کہنا تھا اسکی شادی پہ ابتسام اور اسے ایک ساتھ مایوں بیٹھایا گیا تھا جب کے اسکا ارمان تھا کہ اسکی الگ سے مایوں گی جائے۔۔۔ پر اسکا یہ ارمان پورا نا ہو سکا جیسے وہ اب اپنے بچوں پہ پورا کر رہی تھی۔

بسام گھر کا خیال رکھنا ہم جلدہی واپس آجائیں گے۔۔۔ انمول اسکی بات پہ کان دھرے بغیر بولی تو وہ اپنی ماں کو دیکھ کہ رہ گیا۔

میٹھائی کے ٹوکرے اور مہندی کے تھال لیئے وہ لوگ تحریم کے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔۔۔ اس کے جاتے ہی بسام فورن چھت پہ آیا تھا۔۔۔ اور جھانک جھانک کے دائم کے گھر میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔

کافی کوششوں کے بعد اسے سرخ دوپٹے کی چھاؤں میں تحریم حنان کے ساتھ آتی دیکھائی دی۔

پیلے اور گلابی رنگ کی فراک پہ ملٹی دوپٹہ سر پہ لیئے بالوں کی چھوٹی کیئے ہلکے سے میک اپ میں وہ سیدھا بسام کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔ بسام کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کے اس تک پہنچ جائے۔۔۔ اسنے ابھی نظر بھر کے دیکھا بھی نہیں تھا کہ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔۔۔ اسنے پھر سے ادھر ادھر ہو کے دیکھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکام ہوتے صبر کے گھونٹ بھرتا نیچے اگیا۔

دوسری طرف مہندی زور و شور سے جاری تھی۔۔۔ فہد بھی آگیا تھا لیکن آج بھی شامل نہیں آیا تھا۔۔۔ ہر کوئی یک دوسرے سے خوش گپوں میں مصروف تھا۔۔۔ حنان خوب بھگڑے ڈال رہا تھا جس پہ سب کے کافی منا کرنے کے باوجود وردہ اسکا پورا ساتھ دے رہی تھی۔

چلو بچوں بس یہ ڈانس ختم کرو اور چل کے کھانا کھالو۔۔۔ ماہی انکے پاس آتی بولی تو وہ لوگ اوکے کہتے اسٹیج کی جانب بڑھ گئے جہاں تحریم اکیلی بیٹھی تھی۔

حنان اور وردہ دونوں نے تحریم کے ساتھ مل کے کھانا کھایا۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد وہ لوگ اپنے گھر کے لیئے نکل گئے۔

گھر آتے ہی سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لیئے چلے گئے تھے کیونکہ کل بھی ایک مصروفیت بھرا دن تھا ۔۔۔ کل وردہ اور بسام کی مایوں تھی۔۔۔ اس لیئے سب ہی آرام کرنے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔

۔🌺🌺🌺

نیا سورج طلوع ہوتے ہی گھر میں تیاریاں شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔ کسی کو گھر کی سجاوٹ تو کسی کو اپنی چیزوں کی فکر تھی۔۔۔

آج مایوں تھی اور دو دن بعد بسام کی بارات تھی۔۔۔ دامل کو ابھی تک چھٹیاں نہیں ملیں تھی جس کی وجہ سے اسنے مایوں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا۔۔۔ جبھی اب وردہ اور بسام کو مایوں بیٹھایا جا رہا تھا۔

مما میری چپل نہیں مل رہی۔۔۔ آہ۔۔۔ وردہ بھاگتی ہوئی لان میں سجاوٹ کرواتی انمول کے پاس آئی لیکن اس سے پہلے ہی اسکا زور سے پاؤں کا انگوٹھا دروازے کی چوکھٹ سے ٹھکا تھا۔

آنکھیں نہیں ہیں وردہ سمبھل کے نہیں چل سکتیں۔۔۔ اسے پاؤں پکڑے اچلتے دیکھ انمول نے ڈانٹتے لان سے کرسی منگواتے اسے اس پہ بیٹھایا۔

یہ دروازہ یہاں کس نے لگوایا ہے اسے یہاں سے ہٹوادیں۔۔۔ وردہ دروازے پہ ہاتھ مارتی غصے سے بولی۔

تمہاری آنکھوں کا علاج نا کروادیں۔۔۔ انمول نے طنز کیا تو وہ منہ بسور گئی۔

اب یہ گندی گندی شکل نا بنوں ۔۔۔۔ بتاؤ کیا نہیں مل رہا تھا۔۔۔ انمول اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیئے شرارت بولی تو وہ ہلکے سے ہنس دی۔

میری چپل نہیں مل رہی کب سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔ وردہ نے بےچارگی سے پوچھا۔

میرے کمرے میں رکھی ہے۔۔۔ اس کا ایک نگ ہٹ گیا تھا وہی لگانے اپنے کمرے میں لے گئی تھی۔۔۔ انمول آرام سے کہتی واپس اپنے کام میں لگ گئی تو وردہ بھی اوکے کہتی اٹھ کے واپس اندر بھاگی لیکن اس سے پہلے ہی ایک بار پھر اسکے پاؤں کی چھوٹی انگلی​ چوکھٹ میں لگی تھی۔

آہ ه ه ہ ہ ۔۔۔۔۔۔

اب کہاں مار لی۔۔۔ انمول اسکی چیخ سنتے فورن آئی۔

مما یہ دروازہ ہٹوادیں یا میرا پاؤں کٹوادیں۔۔۔ وہ انگلی سہلاتی پیر پٹختی اندر بڑھ گئی۔

ہاہاہاہا پاگل لڑکی ۔۔۔ انمول ہنستی ہوئی واپس اپنے کام میں لگ گئی۔

۔🌺🌺🌺

شام ہوتے ہی سب مہمان آنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ انمول اور بسام بھی تیار ہوئے سب مہمانوں سے مل رہے تھے۔۔۔

فہد کے خاندان میں تو زیادہ کوئی تھا نہیں نا ہی وہ زیادہ کسی سے رکھتا تھا اس لیئے وہ اکیلا ہی وردہ کی مہندی لے کے آیا تھا جب کے دائم کی فورن فیملی آچکی تھی۔

بسام نے وائٹ شلوار قمیض پہ براؤن واسکٹ پہنی تھی جب کے وردہ نے پیلے اور ہرے رنگ کا غرارہ پہنا تھا۔۔۔ دونوں بہن بھائی ایک ساتھ سرخ دوپٹے کے سائے میں ایک طرف انمول اور دوسری طرف ابتسام کے ساتھ اسٹیج تک آئے تھے۔۔۔

سب سے پہلے فہد نے رسم کا آغاز کیا تھا۔۔۔ اس کے بعد سب باری باری آتے رسم کر رہے تھے۔

ادھر ہو۔۔ بسام نے اسے ہلکی سی کہنی مارتے کہا۔

بسام کے بچے اپنے ہاتھ زرا قابو میں رکھو ۔۔۔ اور جتنی جگہ ملی ہے اس میں ہی خوش رہو۔۔۔ دروہ کم آواز میں دانت پیس کے بولی۔

بھئی مجھے جگہ نہیں مل رہی۔۔۔ بسام دبا دبا چیخا۔

تو کس نے کہاں تھا کھا کھا کے اتنے موٹے ہو جاؤ۔۔۔ آنے والے لوگوں سے مسکرا کے مبارکبادی وصول کرتے مزے سے بولی۔

تم ہوں گی موٹی کہیں کی۔۔۔ بسام فورن تپ کے اسکے کندھے سے کندھا مارتے بولا۔۔۔ تو بدلے میں وردہ نے بھی اسے گھورتے ہوئے زور سے کندھا مارا۔

کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو کیوں بھری محفل میں لڑ رہے ہو۔۔۔ انمول ان دونوں کو ایک دوسرے کو کندھا مارتے دیکھ ان کے پاس آکے بولی۔

پہلے اسنے شروع کیا تھا۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کی طرف انگلی کرتے مہمانوں کا خیال کیئے بغیر بلند آواز میں بولے۔۔۔ تو سب لوگ انکی جانب متوجہ ہوئے۔

آواز کم کرو دونوں ۔۔۔ ایک رکھ کے لگاؤں گی نا دونوں کے ساری لڑائی نکل جائے گی۔۔۔ جا رہی ہوں میں نیچے اور وہاں سے بیٹھ کے تم دونوں پہ ہی نظر رکھوں گی آگر تم دونوں میں سے ایک بھی مجھے لڑتا ہوا نظر آیا تو بغیر مہمانوں کی پرواہ کیئے دونوں کے کان کے نیچے ایک ایک لگاؤں گی سمجھ گئے دونوں۔۔۔ انمول سختی سے دونوں کو کہتی اسٹیج سے اتر گئی۔

تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سب کچھ۔۔۔ وردہ منہ بنا کے بسام سے بولی تو وہ بھی اونہہ کر کے خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔۔

اپنی ماں کو وہ دونوں ہی جانتے تھے اس لیئے دونوں نے اسہی میں بہتری سمجھی کے پٹنے سے بہتر ہے وہ لوگ خاموش ہوکے بیٹھ جائیں۔

۔🌺🌺🌺